منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-13 03:59:56    103 Views قرآنسٹس اور قرآن  /  محمد اسحاق قریشی

قرآنسٹس اور قرآن

انگریزوں کے زمانے میں ہندوستان کے ایک شہر میں ایک صاحب ایک انگریز کلکٹر کے میر منشی تھے۔ کلکٹر اگرچہ انگریز تھا مگر اسے یہ زعم تھا کہ وہ اردو بہت اچھی طرح جانتا ہے۔چنانچہ وہ میر منشی سے کہا کرتا کہ ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں تو بیچارے منشی خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے کیونکہ ملازمت کا سوال تھا۔ ایک دن کلکٹر نے کسی بات پر جوش میں آ کر میز پر مکّا مارتے ہوئے کہا:
منشی جی! یقیناً ہم تم سے زیادہ اردو جانتے ہیں۔
اس بار منشی کو بھی جوش آ گیا، انھوں نے سوچ لیا کہ ملازمت رہے نہ رہے اسے جواب دے ہی دوں گا۔ انھوں نے بھی میز پر مکّا مار کر کہا:
صاحب بہادر! آپ اردو کی ابجد بھی نہیں جانتے۔
یہ سن کر انگریز کلکٹر بڑا حیران ہوا اور کہا :تم میرا امتحان لے لو۔
تو منشی جی نے کہا :اگر میں آپ کا امتحان لوں گا تو آپ بغلیں جھانکنے لگیں گے۔
 اب صاحب بہادر واقعی بغلیں جھانکنے لگا کہ اس کا کیا مطلب ہوا! بہت غور کیا مگر خاک سمجھ آتی۔ آخر اس نے کہا:
منشی جی! مجھے تین دن کی مہلت دو،میں اس کا مطلب بتا دوں گا۔
منشی جی نے کہا :تین دن نہیں سات دن کی مہلت لے لیجئے۔
 الغرض اس نے اس لفظ کو لغت میں تلاش کیا۔ مگر لغت میں کیا ملتا۔ لغت میں ’’بغل‘‘ مل گیا ’’جھانکنا‘‘ مل گیا مگر مفہوم نہیں ملا۔ آخر سات دنوں کے بعد اس نے کہا:
اس کا مطلب ہے کہ ہاتھ کو اٹھا کر بغل کو دیکھ لیا جائے۔
میر منشی ہنس پڑے،تب کلکٹر نے پوچھا : پھر اس کا مطلب کیا ہے؟
 میر منشی نے کہا : اس کا مطلب آپ کو میں اس شرط پر بتاؤں گا کہ اب آپ کبھی اردو دانی کا دعویٰ نہیں کریں گے۔
 چنانچہ اس نے اقرار کیا تو منشی نے بتایا کہ دراصل یہ جملہ تحیر سے کنایہ ہے یعنی اگر کلکٹر کا میں امتحان لوں تو وہ حیرت میں پڑ جائیں گے۔
 ٭ یہی حالت نام نہاد قرآنسٹ عرف منکرین حدیث کی ہے ان کا بھی دعویٰ ہے کہ یہ قرآن زیادہ جانتے اور سمجھتے ہیں پوری امت مسلمہ کی قرآن کے جس مفہوم تک رسائی نہ ہو سکی وہ چودھویں صدی کے ایک مجہول الحال شخص پرویز خان پر آشکار ہو گیا 
 یہ بھی اس اردو دانی کا دعویٰ رکھنے والے انگریز کی طرح لغات ہی کو اپنا سب کچھ مانے ہوئے ہیں اسی لیئے ہر جگہ ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں ہر جگہ بدترین تحریف کے مرتکب ہیں !

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار