منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-13 03:24:59    44 Views حفاظت قرآن اور اغیار کی گواہی  /  محمد اسحاق قریشی

حفاظت قرآن اور اغیار کی گواہی

 کلام پاک جب نازل ہو رہا تھا اس زمانے میں عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔کتاب نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ شعراء وغیرہ کا کلام لوگ زبانی یاد رکھا کرتے تھے۔وہ بھی گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ذہنوں سے مفقود ہو جاتا۔حتیٰ کہ مذاہب عالم کی مقدس کتابیں بھی وقت کے ہاتھوں محفوظ نہ رہیں۔ اکثر تو وہ زبان جس میں یہ نازل ہوئی تھیں ختم ہو گئیں۔ مثلاََ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جنہیں آسمانوں کی طرف اٹھائے ہوئے تقریباََ دو ہزار سال ہوئے ان کے خطبات ناپید ہیں ۔ان کی تالیف کردہ انجیل کہیں بھی نہیں اور جو ہے وہ ان کے پیروکاروں کی لکھی باتیں ہیں۔وہ بھی ترجموں میں ، اصل زبان جس میں یہ لکھی گئی وہ بھی ختم ہو چکی۔باقی مذاہب کی کتابوں کا بھی یہی حال ہے۔اس پس منظر میں قرآن حکیم فرقان حمید اعلان کرتا ہے :۔ 
"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ"
 ہم ہی اس پیغام کو نازل کرنے والے ہیں اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ (سورۃ الحجر آیہ 9)
 یہ ایک بہت بڑی پیشنگوئی تھی۔وقت قرآن کریم کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا۔بلکہ اس سے عربی زبان کو دوام مل گیا ہے۔قرآن حکیم کے غیر مسلم ناقدین کے نزدیک بھی قرآن حکیم اپنے حروف،الفاظ،آیات،سورتوں کی ترتیب غرض ہر لحاظ سے وہی ہےجو دنیا کو ختم الرسل حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے دیا تھا۔اللہ عزوجل نے اس کی حفاظت کو کاغذ، قلم اور پرنٹنگ کے سپرد کرنے کے بجائےیہ کام لوگوں کے دلوں کو سونپ دیا۔اور اسے یاد رکھنا اتنا آسان بنا دیا کہ چھ سات سال کے بچوں کو بھی قرآن حکیم زبانی یاد ہو جاتا ہے۔چنانچہ آج بھی دنیا میں لاکھوں لوگ حافظ قرآن ہیں۔ مطلب یہ کہ جب تک دنیا میں انسان باقی ہے قرآن باقی ہے۔
 یہ قرآن پاک کا زندہ معجزہ ہے کہ کٹر سے کٹر مخالفین بھی اس کی صحت پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔لیکن ان کے بیانات میں کچھ نہ کچھ حد تک خبث باطن ضرور ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن حکیم کے متعلق چند مخالفین کے اقوال درج ذیل ہیں:۔
11۔ہیری گیلارڈ ڈارمن لکھتا ہے کہ "قرآن پاک کے بیانات جو مسلمانوں کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ پر اللہ عزوجل نے وحی کے ذریعے نازل کیئےوہ اپنے معنی میں ہر زمانے کے لیئے پکے معجزات کی طرح ہیں"
22۔فرانسیسی مصنفہ لوراویسیا والر لکھتی ہے کہ "قرآن پاک کے کتاب قدسی ہونے کا یہی ایک ثبوت کافی ہے کہ زمانہ اس میں زیر و زبر تک کا تغیر نہ لا سکا" 
33۔روڈی پیرٹ لکھتا ہے کہ "ہمارے پاس ایسا کوئی سبب نہیں جو ہمیں یہ اعتقاد رکھنے پر مجبور کرے کہ قرآن میں کوئی ایک بھی آیہ ایسی ہے جو حضرت محمد ﷺ سے مروی نہیں"4۔ انگریز پروفیسر اے جی ایبرےجس نے قرآن کریم کا ترجمہ بھی کیا، نے یہ دلیل پیش کی کہ"اہل مغرب کے دلوں میں قرآن پاک کے متعلق جو غلط فہمیاں ہیںاس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تک قرآن پاک کے صحیح تراجم نہیں پہنچے۔اور مغرب کے سکالروں کو صحیح طور پر کسی نے یہ نہ سمجھایا کہ وہ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیئے کیا طریقہ کار اختیار کریں۔وہ جس طرح تورات و انجیل کو پڑھتے ہیں یہ طریقہ قرآن سمجھنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکتا"
5۔ "ایکس لیورزون “ فرانسیسی فلاسفر کا قول ملاحظہ فرمائیے:
 ”قرآن ایک روشن اور پرحکمت کتاب ہے، اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ ایسے شخص پرنازل ہوئی جو سچا نبی تھا اور خدا نے اس کو بھیجا تھا۔“
6۔ ”ریورنڈ میکسوئیل کنگ“ لکھتا ہے کہ
 ”قرآن الہامات کا مجموعہ ہے، اس میں اسلام کے قوانین، اصول اوراخلاق کی تعلیم اور روز مرہ کے کاروبار کی نسبت صاف ہدایات ہیں۔ اس لحاظ سے اسلام کو عیسائیت پر فوقیت ہے کہ اس کی مذہبی تعلیم اور قانون علیحدہ چیز نہیں ہیں۔“

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار