منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-09 14:21:15    43 Views الحاد ایک ذہنی خلجان  /  محمد اسحاق قریشی

الحاد ایک ذہنی خلجان

الحاد ایک شدید قسم کے ذہنی خلجان کا نتیجہ ہے

یہ ایک ایسا مرض ہے جس کا شکار ہوتا تو انسان ہے شکل و صورت، ہاتھ پاؤں سب کچھ انسانوں جیسا ہی ہوتا ہے لیکن یہ اپنے آپ کو انسان نہیں مانتا۔

بلکہ اصرار کرتا ہے کہ اسے انسان کی نہیں بلکہ بن مانس اور باندر کی اولاد مانا جائے۔

اسے آئینہ دکھا کر بڑا سمجھایا جاتا ہے کہ بھئی تم باندر نہیں بلکہ انسان ہو لیکن مجال ہے جو مان جائے ۔

اس کے دماغ میں اکثر خیالی واقعات کی بھی بھرمار رہتی ہے۔ عقلی اور منطقی بات اس کے دماغ سے میلوں دور رہتی ہےِ اس لیئے اس کے دماغ میں ہمیشہ الٹی سیدھی فلمیں چلتی رہتی ہیں

جن میں سے ایک ارتقاء نامی فلم ہے یہ فلم ملحدوں کے باکس آفس پر اتنی ہِٹ ہے کہ ہر ملحد ارتقاء ارتقاء کی مالا جپتا نظر آتا ہے۔

کیونکہ یہی ارتقاء نامی فلم انہیں ان کے "اصل باپ" کا پتا دیتی ہے اس لیئے یہ اس کے خلاف کچھ سن نہیں سکتے اگر کوئی دلیل سے سمجھانے کی کوشش کرے تو سیخ پا ہو جاتے ہیں۔

شدیدتحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ  جس کو ملحد اپنا جد امجد مانتے ہیں وہ خود ان ملحدین کے کرتوت دیکھ کر انہیں اپنی "اولاد" ماننے سے انکاری ہیں۔

  اور اکثر "چاچا ڈارون" کو کوستے نظر آتے ہیں جس نے تاریخ کا یہ عظیم ترین "بہتان" ان پر لگایا۔ کیونکہ بقول ان کے ان کی بھی معاشرے میں کچھ "عزت" ہے ۔

اب اس صورت حال میں ملحدین کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ ان کا اگلا متوقع ارتقائی "اَبّا" کون ہو گا اس کے بارے میں وثوق سے کچھ بھی کہا نہیں جا سکتا۔

ان کا اکثر رویہ باندر جیسا ہوتا ہے کہ یہ بات کرتے وقت ایک ٹاپک پر بات نہیں کرتے ۔

بلکہ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر گلاٹیاں مار مار کر اپنے آپ کو "باندر کی اولاد" ثابت کرنے کے جتن کرتے رہتے ہیں۔

اس نسل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ دوران ارتقاء اس میں تمام جانوروں کی رزیل صفات بھی ٹرانسفر ہوئی ہیں۔

جس کی وجہ سے کبھی کبھار ان کا رویہ کتوں جیسا ہوتا ہے جس کا ثبوت یہ اسلام جیسے آفاقی دین پر بھونک بھونک کر دیتے ہیں۔

اور کبھی ان کی حالت خنزیر جیسی ہوتی ہے ۔ جو گروہ کی شکل میں ہر طرف "شکار" کی تلاش میں رال ٹپکاتا نظر آتا ہے۔
عام طور پر ان کی کیفیت "گدھے" جیسی ہوتی ہے جو شیرکی کھال پہن کر گھومتے رہتے ہیں کہ کہیں پہچان نہ لیئے جائیں۔ چونکہ گیدڑ کی بزدلی بھی ان میں بدرجہ اتم موجود ہے

اس لیئے یہ منافقت کی چادر اوڑھے اپنی اصلیت چھپا کر معاشرے میں مسلمانوں جیسی وضع قطع بنا کر رہتے ہیں ۔

ان کا ایک تعجب آمیز اور شدید حیران کن نعرہ "انسانی حقوق" کا بھی سننے کو ملتا ہے ۔

یہ نعرہ سن کر کئی لوگ تو مارے حیرت کے انگلیاں دانتوں میں دبا لیتے ہیں کہ" ذات کا جانور اور بات انسانی حقوق کی "

ان میں کچھ "گینڈا نما آنٹیاں" بھی پائی جاتی ہیں  جن کو اور تو کوئی کام کاج ہوتا نہیں اکثر سڑکوں پر بیٹھ کر "موم بتیوں" سے" کھیلتی "نظر آتی ہیں۔

ان کا دماغ چونکہ بقول ان کے باندر کے دماغ کے ارتقاء کا نتیجہ ہے اس لیئے ان کی اپنی ایک الگ "سائنس "ہے۔

اور اس "سائنس" میں "انسانیت" کی فلاح و بہبود کے لیئے ان کی بے شمار" مفید اور حیرت انگیز دریافتیں" بھی ہیں۔کیونکہ ایجادات کے تو یہ قابل نہیں اس لیئے دریافتوں پر ہی اکتفاء کیئے بیٹھے ہیں

مثال کے طور پر  "نظریہ خود بخود" ان کی ایک ایسی حیرت انگیز اور ناقابل بیان "خوبیوں" بھری دریافت ہے جس کی مثال پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔
یہ دنیا کی واحد عجیب و غریب "مخلوق" ہیں جو خود بخود پیدا ہوئی ہیں !
یہ نظریہ ان کے بڑا کام آتا ہے ۔ جہاں مومن اپنے عقلی و منطقی دلائل سے ان ناطقہ بند کر دیتے ہیں وہاں یہ "نعرہ خود بخود" لگا دیتے ہیں !

ان کی ایک اور حیران کن دریافت پچھلے دنوں سامنے آئی جس کے مطابق"برقع وٹامن ڈی کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہے" ۔

ان کی اس دریافت نے تو "سائنسی دنیا" میں انقلاب برپا کر دیا۔

پوری دنیا کے سائنس دان اس عظیم دریافت کے بانی کو ہاتھوں میں چراغ لے کر ڈھونڈ رہے ہیں  تاکہ اس عظیم سائنس داند کی مناسب "خاطر تواضع" کی جا سکے۔

لیکن وہ عظیم "سائنس داند" شاید "شہرت و ناموری" کی تمنا نہیں رکھتے اس لیئے اس دن سے ہی گدھے کے سر سے سینگ کی مانند غائب ہیں!

اس کے علاوہ ان کی ایک فقید المثال دریافت سامنے آئی ہے کہ "پاکستان میں چاند پر جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ "مولوی" ہے"۔

اس دریافت نے تو جیسے ملحدوں کی دنیا ہی بدل کر رکھ دی ۔اب ہر ملحد اپنی نالائقی، نکمے اور پھوہڑ پن،کاہلی اور بیکاری کا ذمہ دار "مولوی" کو قرار دے کر بری الذمہ ہو سکتا تھا۔

اس دریافت کے نتیجے میں کچھ "نئے نویلے" ملحد اپنی ولادت نا مسعود تک کا ذمہ دار بھی "مولوی" کو قرار دیتے پائے گئے ۔

اکثر یہ نیند میں بھی مولوی،اسلام، برقعہ ، داڑھی وغیرہ بڑبڑاتے پائے گئے ۔

ان کی ایک اندھا دھند تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں ملحدین کی تعداد میں آئے روز اضافہ بھی ہو رہا ہے۔

ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر ہمارے کچھ "محققین" نے تحقیق کی ٹھانی ۔  نتیجہ یہ سامنے آیا کہ بھارت کے کسی شہر میں "اصل باندروں" کی آبادی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

اور چونکہ یہ ملحدین باندروں کو اپنا جد امجد مانتے ہیں (وہ الگ بات کہ باندر اس سے انکاری ہیں) اس لیئے ان کی آبادی میں اضافے کو یہ اپنی آبادی میں اضافہ گردانتے ہیں !

الحاد چونکہ ایک ذہنی عارضہ ہے اس لیئے اس عارضے کے متاثرین کی حالت بسا اوقات انتہائی قابل رحم ہوتی ہے !

انہیں امریکہ اور اتحادی ممالک کا انسانیت کا قتل عام نظر نہیں آتا لیکن عید الاضحیٰ پر غرباء و مساکین کی امداد ے لیئے دی جانے والی قربانی جانوروں پر "ظلم" لگتی ہے۔
انہیں مسلمانوں پر "بموں کی ماں" گرانے والے انسانیت کے چیمپئن لگتے ہیں اور اپنے دفاع میں ہاتھ اٹھانے والامظلوم مسلمان دہشتگرد!

انہیں دنیا میں ہر خرابی کے پیچھے اسلام  اور مسلمان نظر آتا ہے !
اگر آپ کو کہیں یہ مخلوق نظر آئے تو پانی میں بھگو کر آٹھ دس چھتر ماریں آدھے گھنٹے کے لیئے چھت سے لٹکا کر سرخ مرچوں کی دھونی دیں !
ایک فیصد امکان ہے کہ یہ مرض ان کی ٭٭٭ کے راستے باہر نکل آئے گا ! دوسری صورت میں جس طریقے سے پاگل کتے کا علاج کیا جاتا ہے وہ طریقہ آزمائیں
خود بھی ان سے نجات حاصل کریں اور دوسروں کو بھی ان سے نجات دلائیں!

 

 

 

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار