منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-03 02:39:03    96 Views اقوام عالم اور توہین مذہب  /  محمد اسحاق قریشی

اقوام عالم اور توہین مذہب

 حضور سرور کائنات ﷺ کی دنیا میں بعثت کے وقت تک لوگ آزادی نام کی کسی چیز سے واقف تک نہ تھے۔آزادی منوں مٹی تلے دب چکی تھی۔عقول پر پردے پڑے ہوئے تھے۔ جہالت اور تاریکی کے تالے عقل کے دروازوں تک پہنچنے کی راہ میں حائل تھے۔آج جس علم و عقل پر دنیا نازاں ہے وہ سب انہی کے طفیل ہے جنہیں دنیا محمد ﷺ کے نام سے جانتی ہے۔انہوں نے دنیا میں بسنے والوں کو بتا دیا کہ سبقت کا میدان نیکی اور فضیلت ہے۔ بلندی اور فوقیت کی بنیاد اچھائی اور بھلائی ہے۔باہمی تعاون کی بنیاد مقاصد ہیں نہ کہ قوم، قبیلے، جنسیت اور رنگ۔ جس کے نتیجے میں مختلف ممالک، جنسوں، رنگوں اور نسلوں کے لوگ اکٹھے ہو کر پروان چڑھے۔انہوں نے تقویٰ، اعلیٰ اخلاق اور حسن سلوک کے ہزاروں منصوبوں کو پروان چڑھایا اور پھر اس دنیا میں حسین اقدار کی بہار کا آغاز ہوا۔
 جب رسول اللہ ﷺ کی حرمت و تقدس کے متعلق کوئی بات ہوتی ہے تویورپ کے بدمست ہاتھی تڑپ اٹھتے ہیں۔اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل ہونے لگتی ہے۔ غیظ و غضب کی حالت میں وہ اپنی انگلیوں کے پورے چبانے لگتے ہیں انہین آزادی اظہار رائے پر ضرب پڑتی نظر آتی ہے۔اور وہ اسے انسانیت پر ظلم قرار دیتے ہیں حالانکہ مذہبی عقیدتیں بڑی حساس اور نازک ہوتی ہیں ہر شخص جو کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے وہ اپنے مذہب اور بانی مذہب کے خلاف کچھ بھی سننے کا روادار نہیں ۔ اپنی مذہبی اقدار کو تحفظ دینے کی خاطر ہر دور میں لوگ اپنے مذہب کے خلاف باتیں کرنے والوں کے لیئے سزائیں مقرر کرتے رہےاور اپنے مذاہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کو قابل گردن زنی قرار دیتے رہے۔مذہب کے ساتھ ربط و تعلق شعوری طور پر ہو تو بانیان مذہب کی توہین کی سزا ہر جگہ قتل ہی رہی ہے۔البتہ ضمیر مردہ ہوجائے، مال و زر کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرنے لگے عیاشی و بدمستی ہی خیال و قلب میں جاگزیں ہوتو پھر سوچ کے دھارے بدل جاتے ہیں۔مردہ قلوب آزادی اظہار رائے،روشن خیالی اور جدٹ پسندی کے نام پر ہر چیز کو قبول کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ تاریخ کے اوراق سے مذاہب کی معروف و مقتدر شخصیات کی توہین کے حوالے سے سزا کا ایک جائزہ پیش خدمت ہے:۔
٭ قدیم عراق:۔
 نمرود اپنی سلطنت کی تمام تر وسعتوں کے ساتھ تخت نشین تھا۔لوگوں کی محنت کے بعد تمام اجناس اپنے خزانہ میں جمع کر لیتا ۔ اور بعد میں اپنے خدا ہونے کا اقرار لینے کے بعد لوگوں کو وہ غلہ فراہم کرتا۔یہ ظلم و تشدد اپنے عروج پر تھا۔لوگ نمرود کے علاوہ کئی بت بنا کر ان کی پرستش میں مصروف تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ان حالات کو ملاحظہ فرمایاتو قوم کو خدا وحدہ ُلاشریک کی عبادت کرنے کی دعوت دی اور بت پرستی سے منع فرمایا۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ 
سورۃ الانبیاء ( 52 ) 
 "جب انہوں نے اپنے چچا اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟"
اور پھر بلخصوص آپ علیہ السلام نے اپنے چچا کو مخاطب کر کے فرمایا:۔
اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ يَآ اَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا يَسْـمَعُ وَلَا يُبْصِرُ وَلَا يُغْنِىْ عَنْكَ شَيْئًا 
سورۃ مریم (42)
 "جب اپنے چچا سے کہا اے میرے چچا تو کیوں پوجتا ہے ایسے کو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے اور نہ تیرے کچھ کام آ سکے۔"
 کیونکہ آپ کا چچا بتوں کی پوجا کرتا تھا اور انہیں برگزیدہ سمجھتا تھا تو اس نے سخت سزا کا اعلان کرتے ہوئے کہا:۔
قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِـهَتِىْ يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ ۖ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُـمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِىْ مَلِيًّا 
سورۃ مریم (46)
 "کہا اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے، البتہ اگر تو باز نہ آیا میں تجھے سنگسار کردوں گا، اور مجھ سے ایک مدت تک دور ہو جا۔"
 صرف آپ کا چچا ہی نہیں بلکہ جب آپ نےقوم کے بت خانے میں جا کر بتوں کو توڑا اور بعد میں اپنی قوم کو اس معاملے میں لاجواب بھی کر دیا ۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ اب ابراہیم علیہ السلام کو کیا سزا دی جائے تو لوگوں نے کہا:۔
قَالُوا حَرِّقُوهُ وَانصُرُوا آلِهَتَكُمْ إِن كُنتُمْ فَاعِلِينَ 
سورۃ الانبیاء ( 68 ) 
 "(تب وہ) کہنے لگے کہ اگر تمہیں (اس سے اپنے معبود کا انتقام لینا اور) کچھ کرنا ہے تو اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو"
 یہ بات انہوں نے نہ صرف کہی بلکہ عملی طور پر بھی ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں پھینک دیا۔ رب قدیر کی قدرت سے وہ آگ ان کے لیئے سلامتی والی بن گئی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ کون سا فعل تھا جس کی وجہ سے آپ کی قوم نے آپ کو آگ میں پھینکا تو وہ سوائے اس کے کیا ہے کہ آپ نے ان کے بتوں کو توڑ کر انہیں خدا واحد کی عبادت کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے اسے اپنے بتوں کی توہین سمجھا ۔ اس سے ثابت ہوا کہ بت پرست اپنے بتوں کی گستاخی کی سزا قتل کا تصور رکھتے ہیں!
٭ قدیم مصر:
 فرعون مصر اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ تخت پر موجود تھا۔اور بنی اسرائیل ست قبطی کام لے رہے تھے اور فرعون لوگوں سے اپنے خدا ہونے کا اقرار لے رہاتھا۔لوگ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں گم ہو چکے تھے۔ان کی عقلیں جہالت و لاعلمی کے پردوں میں لپٹ کر رہ گئی تھیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کواللہ لایزال ولم یزل کی عبادت کی تبلیغ فرمائی۔ فرعون کی دماغی گندگی آسمان کو چھو رہی تھی ۔زہنی طور پر وہ مفلوج ہو چکا تھا شرک کی تاریکی اس کا مقدر بن چکی تھی۔وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں جادوگر لے آیا ۔ جب ان جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزات دیکھےتو وہ آپ پر ایمان لے آئے۔ فرعون یہ دیکھ کر سٹپٹا کر رہ گیا۔ اس نے جادوگروں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔
 قَالَ اٰمَنْتُـمْ لَـهٝ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۖ اِنَّهٝ لَكَبِيْـرُكُمُ الَّـذِىْ عَلَّمَكُمُ السِّحْرَۚ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۚ لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ وَّّلَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْـمَعِيْنَ 
سورۃ الشعراء (49)
 "کہا کیا تم میری اجازت سے پہلے ہی ایمان لے آئے، بے شک وہ تمہارا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا، البتہ میں تمہارا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔"
 وہ جادوگر فرعون کے کہنے پر میدان میں آئے تھےپھر فرعون ہی نے انہیں اس قدر سخت سزا دینے کا فیصلہ کیوں کیا۔ معلوم یہ ہوا کہ فرعون اور اس کی قوم یہ سمجھتی تھی کہ پیشوایان مذہب کی توہین کی سزا قتل ہے۔جادوگر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تو فرعون نے اسے اپنی اور اپنے بتوں کی توہین قرار دیتے ہوئے جادوگروں کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔
٭قدیم ایران:
 قدیم ایران میں مختلف ادوار میں مختلف حکومتیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔آریہ قوم، زرتشت،مزدک اور ساسانی لوگ ایران پر مختلف اوقات میں حکومت کرتے رہے۔نوشیروان بھی ایران کا حکمران رہا جو عدل و انصاف کے معاملے میں عالمی شہرت رکھتا ہے۔آج بھی مؤرخ اسے ایک عادل حکمران کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ ان کے ہاں عدل و انصاف کے کیا قوانین تھے اس کے متعلق مشہور مذہبی سکالر جناب پیر کرم شاہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : 
قانون میں تین قسم کے افعال کو جرم قرار دیا گیا تھا۔ 
 وہ جرم جو خدا کے خلاف ہوں یعنی جب ایک شخص مذہب سے برگشتہ ہو جائے یا اعتقاد میں بدعت پیدا کرے
 وہ جرم جو بادشاہ کے خلاف ہوں جب ایک شخص بغاوت یا لڑائی کرے یا جنگ میں پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے
وہ جرم جو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف ہوں۔
پہلی اور دوسری قسم کے جرائم کی سزا فوری موت تھی۔ اور تیسری قسم کے جرائم  کی سزا بعض صورتوں میں عقوبت اور بعض صورتوں میں موت ہوتی تھی۔
(ضیاء النبی جلد اول ص 96)
 مذکورہ بالا سطور سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ قدیم ایران میں مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین قابل مواخذہ جرم تھا اور اس کی سزا فوری موت مقرر تھی۔یعنی وہ لوگ جو مذہبی طور پر اس قدر پست خیال تھے کہ آگ اور مختلف مورتیوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نزدیک بھی پیشوایان مذہب کی گستاخی یا توہین کی سزا موت تھی ۔
٭ قدیم ہندوستان:۔
ہندوستان کی تاریخ  پانچ ہزار سال پہلے سے تہذیب کی روشنی پر پھیلی ہوئی تھی۔ہندوستان کی زیادہ تر آبادی ہندوؤں پر مشتمل تھی ۔اہل مغرب کی اصطلاح کے مطابق ہندوازم کو مذہب نہیں کہا جا سکتاکیونکہ یہ ہر قسم کے عقیدہ کو اپنانے کے لیئے تیار ہوتا ہے ۔ علامہ البیرونی نے اپنی زندگی کا ایک حصہ ہندوستان میں گزاراتحقیق و جستجو کر کے ہندوستان کے حالات اکٹھے کیئےوہ ہندوؤں کے بارے میں اپنی تحقیق "ما للھند" مین رقم طراز ہیں :۔
 "بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ وہ اپنے علاوہ سب کو ملیچھ(ناپاک) سمجھتے ہیں۔کسی غیر کے ساتھ مباحثہ ، مناظرہ حتی ٰ کہ تبادلہ خیال تک ان کے نزدیک ناجائز ہے باہمی نکاح، نشست و برخاست اور خورد و نوش کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔اگر کوئی اجنبی ان کا مذہب قبول کرنا چاہے تو اسے بھی اپنے مذہب میں داخل نہیں کرتے۔" 
 مزید فرماتے ہیں کہ سب سے گھٹیا طبقہ شودروں کا تھا ۔ یہ مشہور کے کہ ان کا باپ شودر(گھٹیا انسان) اور ان کی ماں برہمن دونوں نے باہمی زنا کیا اس سے یہ طبقہ پیدا ہوا اس لیئے یہ انتہائی گھٹیا لوگ ہیں۔ان کو اجازت نہیں کہ وہ شہروں اور عام بستیوں میں آباد ہوں۔ان کے لیئے یہ بھی پابندی تھی کہ وہ نہ تو اپنے مذہب کا وید خود پڑھ سکتے تھے اور نہ ہی ان محفلوں میں شرکت کر سکتے تھے جہاں وید پڑھا جاتا ہے مبادا کہ وید کے مقدس کلمات شودروں کے کانوں کے پردہ سے ٹکرائیں۔اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ ویش یا شودر نے وید سنا ہے تو برہمن اسے حاکم وقت کے پاس پیش کرتے جو سزا کے طور پر ان کی زبانیں کاٹ دیتا۔
(ضیاء النبی جلد اول)
 جو لوگ مذہب کے بارے میں اتنے غیر سنجیدہ ہوں کہ چاند، سورج، پتھر کی مورتیاں اور ہر اعلیٰ چیز کا بت بنا کر پوجنا شروع ہو جائیں اور ان سے امیدیں وابستہ رکھیں وہ بھی اپنی مذہبی کتاب تک کو اتنا مقدس اور متبرک سمجھتے ہیں کہ اپنے ہی ہم مذہب کو اسے سننے تک کی اجازت نہین دیتے۔اگرچہ یہ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے کہ کوئی کسی مذہب پر ایمان رکھے اور اسے اس مذہب کی مقدس کتاب کو پڑھنا تو درکنار چھونے اور سننے تک کی اجازت نہ ہو۔اسے مذہبی گراوٹ کے علاوہ اور کیا نام دیا جا سکتا ہے۔لیکن اس سے یہ بات بھی واضح ہے کہ مذہبی کتاب سننے کی اس قدر سخت سزا ہے تو مذہبی پیشوا کے خلاف بات کرنے والے کی بھی ان کے نزدیک یہی سزا ہو گی کہ اسے قتل کر دیا جائے۔
٭ مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین کی سزا:
چین کے فوجداری قوانین کے مطابق بدھ مت کے بانی مہاتما بدھ کے مجسمے کی توہین  کرنا جرم ہے۔ اس جرم کے مرتکب شخص کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔ایسے ہی ایک شخص کو سزا موت سنا کر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔وانگ ہونگ نامی شخص اور اس کا ساتھی صوبہ سی چوان کے ایک مندر میں چھپ گئے اور رات کے وقت آری کی مدد سے مہاتما بدھ کے مجسمے کا سر کاٹ کے لے گئے۔جس پر مجرم کو گرفتار کر لیا گیا اور انتیس مارچ کو عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مذکورہ شخص کو سزا موت سنا دی اور اس کا سر قلم کر دیا گیا۔
(روزنامہ جنگ 6 اپریل 1990)
 حیرت تو اس بات پر ہے کہ بتوں، کاہنوں اور مجسموں کی توہین کی سزا قتل ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا تو توہین رسالت کے قانون پر اس قدر اعتراض اور واویلہ کیوں؟
٭ یہودیت میں توہین مذہب کی سزا:
 یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کے پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اور اپنی کتب کے الہامی ہونے کے قائل ہیں۔انہوں نے اپنی خواہشات کے تابع ہو کر آسمانی کتب میں تغیر و تبدل بھی کیااور اپنی مرضی کے قانون بھی بنائے لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں مذہبی عقائد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں موجود ہیں۔
 "اور بنی اسرائیل سے خطاب کر کے کہہ کہ جس انسان نے اپنے خدا پر لعنت کی اس کا گناہ اس کے سر ہو گااور جو کوئی بھی خداوند کے نام پر کفر بکے گا ضرورقتل کیا جائے گاساری جماعت اسے ضرور سنگسار کرے خواہ وہ پردیسی ہو یا دیسی جس کسی نے بھی خداوند کے نام پر کفر بکا ضرور قتل کیا جائے گا" 
(کلام مقدس احبار باب 24 فقرات 15-16)
 خواہ پردیسی ہو یا دیسی اس جملے سے وضاحت ہو رہی ہے کہ جو کوئی بھی ہو اگر توہین مذہب کرے گا اسے قتل کیا جائے گا۔حالانکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ پردیسی شخص تو یہودی مذہب سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حیرت اس بات کی ہے کہ غیر مسلم کو توہین مذہب کی وجہ سے سزا موت پر واویلہ مچانے والوں کی زبانوں پر یہاں بولتے ہوئے نجانے کیوں تالے لگ جاتے ہیں !
توہین رسالت کی سزا: عیسائیت کے ایک مبلغ  استیفانس پر یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ اسلام کی توہین کا الزام لگایا اور پھر مقدمہ عدالت میں چلا گیا اور اسی جرم میں اس شخص کو قتل کر دیا گیا۔
 اس پر انہوں نے بعض کو سکھایا جو یہ کہیں کہ ہم نے اس کو موسیٰ علیہ السلام اور خدا کی نسبت کفر گوئی کرتے سنا ہے ۔ پھر وہ عوام، بزرگوں اور فقیہوں کو ابھار کر اس پر چڑھ گئے اور اسے گرفتار کر کے عدالت عالیہ لے گئے اور جھوٹے گواہوں کو کھڑا کیا۔جنہوں نے یہ کہا کہ یہ شخص مقدس مقام اور شریعت کے خلاف باتیں کرنے سے باز نہیں آتا۔(رسولوں کے اعمال باب 4 فقرات 11-14)
 توہین ہیکل کی سزا:حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی تبلیغ کرنے والے شخص پولوس پر یہودیوں نے مذہبی عقائد اور مذہبی مقامات کی توہین کا الزام لگا کر اس کے بھی قتل کا مطالبہ کیا تھا۔پولوس ان آدمیوں کو لے کر اور دوسرے دن ان کے ساتھ پاک ہو کر ہیکل میں داخل ہوا اور خبر دی کہ تطہیر کے ایام پورے نہ ہوں گے جب تک ہم میں سے ہر ایک کی نذر نہ چڑھائی جائے۔لیکن جب وہ سات دن پورے ہونے کو تھے تو آسیہ (مقام کا نام) کے یہودیوں نے اسے ہیکل میں دیکھ کر سب لوگوں کو ابھارااس پر ہاتھ ڈالے اور چلائے اے اسرائیلی مردو !مدد کرو یہ وہی آدمی ہے جو ہر جگہ سب امت اور شریعت اور اس کے مقام کے خلاف تعلیم دیتا ہےاور اس کے علاوہ غیر قوموں کو بھی ہیکل میں لایا اور اسے ناپاک کیاہے ۔ کیونکہ انہوں نے تروفمس افسی کو اس کے ساتھ شہر میں دیکھا تھا اس لیئے یہ خیال کیا کہ یہی اس کو ہیکل میں لایا ہے ۔ تمام شہر میں ہنگامہ ہوا اور لوگ دوڑ کر جمع ہوئے اس کو گھسیٹ کر ہیکل سے باہر نکالااور فوراََ دروازے بند کر لیئے۔جب وہ اس کے قتل کے درپے تھے تو سپاہ کے قائد کو خبر ملی کہ تمام یروشلم میں فساد بپا ہے ۔ وہ اسی دم سپاہیوں اور صوبیداروں کو لے کر ان پر دوڑ آیا۔ اور وہ قائد اور سپاہیوں کو دیکھ کر پولوس کو پیٹنے سے باز آئے۔ تب قائد نے قریب آ کر اسے گرفتار کیا اور دو زنجیروں میں باندھنے کا حکم دیا۔اور پوچھا کہ یہ کون ہے اور اس نے کیا جرم کیا ہے۔ ہجوم میں سے بعض کچھ چلائے اور بعض کچھ۔جب وہ شور کے سبب صحیح طریقے سے دریافت نہ کر سکا تو حکم دیا کہ اسے قلعے لے چلو۔ جب سیڑھیوں تک پہنچا تو ہجوم کی زبردستی کی وجہ سے سپاہیوں کو اسے اٹھا کر لے جانا پڑا کیونکہ عوام کا یہ ہجوم چلاتا ہوا اس کے پیچھے پڑا تھا تاکہ اس کا کام تمام کرے ۔
(رسولوں کے اعمال باب 21 فقرات27-36)
یوم سبت کی توہین کی سزا:۔
یوم سبت یعنی ہفتہ کا دن دین موسوی میں انتہائی  مقدس دن ہے۔اور یہودیوں کے لیئے ہفتہ کے دن کوئی بھی کام کرنا ممنوع ہے۔(اسی لیئے یہود و نصاریٰ نواز حکومت کے اسلام کے سیدالایام جمعہ کے دن کی چھٹی ختم کر کے یہودیوں کی تقلید میں ہفتہ اور عیسائیوں کی تقلید میں اتوار کو سرکاری چھٹی کا دن مقرر کیا ہے) وہ اس برکت والے دن عبادات کو اپنے معمولات میں شامل کرنا ضروری خیال کرتے ہیں۔اور کسی کام کاج کو اس دن برا جانتے ہیں۔اور جو کوئی اس دن کام کرے یہودیوں کے نزدیک یہ یوم سبت کی توہین ہے۔اور اس کی سزا قتل ہے!
 "پس تم سبت کو مانوکیونکہ وہ تمہارے لیئے مقدس ہے۔اور جو کوئی اس کو توڑے ضرور قتل کیا جائےاور جو کوئی اس مین کچھ کام کرے تو وہ شخص اپنی قوم میں سے خارج کیا جائے۔ چھ دن تم اپنا کام کاج کرو اور ساتواں دن آرام کا سبت خدا کے لیئے مقدس ہے۔جو کوئی سبت کے دن کام کرے ضرور قتل کیا جائے۔" 
(کلام مقدس خروج باب31 فقرات 14-15)
 اور خروج ہی کے دیگر مقامات پر یہ سزا الفاظ کے کچھ فرق کے ساتھ یوں بیان کی گئی ہے کہ "تب موسی ٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کی تمام جماعت کو اکٹھا کیاان سے کہا وہ باتیں جن کا کرنے کا خداوند نے حکم دیا ہے وہ یہ ہیں چھ دن تو اپنا کام کاج کر۔ساتواں دن تمہارے لیئے مقدس ہو گا خداوند کے لیئے آرام کا سبت جو کوئی اس میں کام کرے گا قتل کیا جائے گا۔تم سب اپنے مکانوں میں سبت کے دن آگ مت جلاؤ۔
(کلام مقدس خروج باب 35 فقرات 1-3)
یہودیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر الزام:۔
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام خالق کائنات کے برگزیدہ نبی ہیں ۔ اللہ عزوجل نے انہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔لیکن یہودیوں نے آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔اور آپ پر یہ الزام تراشی شروع کر دی کہ آپ شریعت موسوی کی مخالفت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔انجیل میں اس الزام کو اپنے انداز میں بیان کیا گیا
کاہن اعظم نے اس سے کہا میں تمہیں زندہ خدا کی قسم دیتا ہوں اگر تو المسیح  ہے خدا کا بیٹا تو ہم کو بتا دے یسوع نے اس سے کہا تو نے خود ہی کہہ دیا ہے بلکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم ابن انسان کو القادر کے دائیں بیٹھا اور آسمانوں کے بادلوں پر آتا دیکھو گے ۔ اس پر کاہن اعظم نے یہ کہہ کر اپنے کپڑے پھاڑے کہ اس نے کفر بکا ہے۔اب ہمیں گواہوں کی کیا ضرورت ہے دیکھو تم نے ابھی یہ کفر سنا ہے اب تمہاری کیا رائے ہے ۔ انہوں نے جواب مین کہا وہ قتل کے لائق ہے ۔
(مقدس متی باب 26 فقرات63-66)
مقدس یوحنا میں اس بات کو اس طرح نقل کیا گیا ہے 
 جب سرداروں ، کاہنوں اور پیادوں نے اسے دیکھا تو چلا کر کہا صلیب دے صلیب ۔ پیلاطس نے ان سے کہا تم ہی اسے لے جاؤ اور صلیب دو۔ کیونکہ میں اس میں کچھ قصور نہیں پاتا۔ یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہماری ایک شرع ہے اور اس شرع کے مطابق یہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بتایا ہے۔
(مقدس یوحنا باب 19فقرات 6-7)
 ان اقتباسات سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام پر ابن اللہ ہونے کا الزام لگایا اور یہ بات کہ اب سے تم ابن انسان کو الخ اس لفظ ابن انسان سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے ابن الہٰ ہونے کا انکار کیا لیکن بعد کے عیسائیوں نے خود ہی عقیدہ تثلیث گھڑ لیا ۔ اس اقتباس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی قوم کو وحدانیت کا درس دیا یہ شرکیہ عقائد ان قوموں کے اپنے گھڑے ہوئے ہیں ۔
٭ رومن قانون:۔
 قانون موسوی کے مطابق قبل مسیح توہین ایام، مقدس ایام اور تورات کی بے حرمتی کی سزا قتل مقرر تھی ۔ رومن ایمپائر کے شہنشاہ جسٹینین کا اقتدار اسلام سے قبل 528 صدی عیسوی کے زمانہ میں رہا۔ یہ عادل مزاج شخص تھا ۔ اس نے رومن قوانین کو نئے سرے سے مرتب کیا۔اس نے جب دین مسیحی قبول کیا تو قانون موسوی کو منسوخ کر کے انبیاء بنی اسرائیل کے بجائے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین اور انجیل کی تعلیمات سے انحراف کی سزا موت مقرر کی ۔اس دور سے قانون توہین مسیح یورپ کی حکومتوں کے آئین میں شامل ہو گیا ۔
(انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا)
٭ رشین لاء:۔
روس میں جب بالشویک انقلاب کے بعد کمیونسٹ حکومت برسراقتدار آئی  تو سب سے پہلے انہوں نے دین و مذہب کو سیاست و ریاست سے بلکل الگ اور خارج کر دیا۔اس کے بعد بھی یہاں سزا موت برقرار رہی لیکن اہانت مسیح کے جرم میں نہیں بلکہ مسیح کی جگہ اشتراکی امپریلزم کے سربراہ نے لے لی ۔اسٹالن جو رشین ایمپائر کا سربراہ بن بیٹھا تھا اس کی اہانت تو بہت بڑی بات تھی اس سے اختلاف رائے رکھنا بھی سنگین جرم تھا۔ ایسے سر پھرے لوگوں کے سر کچل دیا کرتے تھے جس کی مثال لنین کے ساتھی ٹروٹسکی کی خونچکاں موت کی صور ت میں موجود ہے۔ جو اپنی جان بچانے کی خاطر روس سے بھاگ کر امریکہ پناہ گزین تھا۔یا ایسے مجرموں کو سائبیریا کے بیگار کیمپوں میں موت کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایسی اذیتناک سزاؤں اور موت کی گرم بازاری نے زار روس کے دور کی سیاہ عقوبتوں کو بھی بھلا دیا۔(قانون توہین رسالت)
٭ برطانیہ کا قانون:
 برطانیہ کے قانون میں اگرچہ جسمانی سزا مذہب سے انحراف کر کے بدل دی گئی ہے لیکن اہانت مسیح کی سزا کامن لاء کے تحت قابل تعزیر جرم ہے۔ اگر توہین زبانی ہو تو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے اور اگر تحریری ہو تو ایسی تحریر بطور ثبوت پیش کرنا ضروری ہے ۔ اور جرم ثابت ہونے پر حکومت برطانیہ ایسے شخص کے تمام شہری حقوق بھی سلب کر لیتی ہے۔
٭ امریکہ کا قانون:۔
 امریکہ اور اس کی سیکولر ریاستوں میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگاگرچہ مختلف مزاہب سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے۔حکومتی نظم و نسق بھی تقریباََ انہی کے ہاتھوں ہے تو امریکہ کی سپریم کورٹ نے سٹیٹ بنام موکس ایک فیصلہ کیا جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کا ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
 "اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور سٹیٹ ایک دوسرے سے علیٰحدہ ہیں اور ان میں باہمی کوئی ربط و تعلق نہیں لیکن اسلام ، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروان کے مقابل پیروان مسیح کی تعداد زیادہ ہے اور حکومت کی زمام کار انہی کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ زندگی میں ان کا اثر رسوخ ہے۔اور عیسائیت ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا مذہب ہے اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے طرز حکومت کی تشکیل میں دین و مذہب کا بڑا ہاتھ رہا ہے ۔اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام و تکریم سے ہےجو یہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر سے علیٰحدہ نہ ہونے والالازمی حصہ ہے۔
(بحوالہ قانون توہین رسالت)
٭ قانون پاکستان:۔
 پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے اسلامی تشخص کی بقاء کی خاطر یہ ملک حاصل کیا۔ اس کے حصول کے لیئے لاکھوں قربانیاں دیں اور اس کی بنیادوں میں یہ سوچ کر اپنا لہونچھاور کیاکہ آئیندہ نسلیں دامن مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا رشتہ برقرار رکھ سکیں۔اور نغمات محبوب کی خوشبو سے یہ سارا چمن مہک اٹھے ۔قیام پاکستان کے پہلے مختصر عرصے کو چھوڑ کر اگرچہ حکمران پاکستان اغیار کے ہاتھو کھلونا بنے رہے لیکن بعد میں علماء دین کی انتھک محنت اور کوششوں کی بدولت ناموس رسالت کے حوالے سے ایک قانون مرتب کیا گیا جو 295 سی کے نام سے جانا جاتا ہے۔
پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرنا:
 تفصیل:۔ جو کوئی بھیالفاظ کے ذریعے چاہے زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعےیا کسی تہمت، کنایہ یا درپردہ تعریض کے ذریعے بالواسطہ یا بلا واسطہ رسول پاک حضرت محمد ﷺ کے نام کی توہین کرے گاتو اسے سزا موت دی جائے گی اور وہ جرمانے کا مستوجب ہو گا۔(میجر ایکٹ ص 400 مرتبہ ایس اے حیدر)

دنیا کے تمام مذاہب اور ریاستوں میں ان کے مذہب کی مقتدر شخصیات کی توہین کی پاداش میں سزائیں مقرر ہیں۔ وہ لوگ جو سیکولرازم کے حامی ہیں جن کا دین مذہب سے کوئی واسطہ نہیں وہ بھی اپنے لیڈروں کی توہین کو ناقابل برداشت سمجھتے ہیں۔دنیا کے تمام خطوں میں جرم بغاوت کا قانون موجود ہے جس کی سزا موت مقرر ہے۔جو لوگ اس الزام کے تحت گرفتار ہوں انہیں گیس چیمبرز اور الیکٹرک چیئرز جیسے وحشیانہ اور اذیت ناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔یا انتہائی خوف ناک عقوبت خانوں میں انہیں تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔نائن الیون کے بعد گوانتانا موبے میں بے گناہ لوگوں پر ظلم و تشدد کے جو پہاڑ ڈھائے گئے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔لیکن جب تاجدار انبیاء محسن انسانیت، رسول معظم ، جان عالمین ، حضرت محمد ﷺ کی حرمت و ناموس کے لیئے پاکستان میں قانون بنایا گیا تو اس کے بعد سے یورپ کے صاحبان حل و عقد اس پر نشتر زنی کر رہے ہیں اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان کے وہ ارباب اختیار، لبرل ازم کے حامی سکالر اور موم بتی مافیا جو انگریز کے تلوے چاٹنے کو ایک مقدس فریضہ سمجھتے ہیں وہ بھی اس قانون سے خائف نظر آتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہر جگہ توہین و بغاوت کی سزا موت موجود ہے تو پھر فقط توہین رسالت کے قانون ہی پر اس قدر واویلہ کیوں ؟؟؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمانوں کے آقا ختم الرسل حضرت محمد ﷺ  جن کے نام پر مسلمان اپنی جان و مال آل اولاد اور ہر چیز قربان کرنے کو اپنا حاصل زندگی سمجھتے ہیں ان کی عزت و حرمت پر کیچڑ اچھالنے والے ملعون قانون کی گرفت سے آزاد رہیں ۔ قانون توہین رسالت پر اعتراض دین و ملت سے غداری بلکہ خود اپنی فہم و عقل کا انکار ہے 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار