منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-02 11:42:19    144 Views خصوصیاتِ رمضان  /  صباءسعید

خصوصیاتِ رمضان

خصوصیاتِ رمضان

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ماہ مقدس نیکیوں کی موسلادھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
تقویٰ نام ہی اس چیز کا ہے کہ تمام برائیوں سے انسان نفرت کرنے لگے اور نیکیوں کی طرف لپک کر جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ سے کسی نے پوچھا کہ اے امیر المومنین تقویٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا کیا تیرا گزر کبھی خاردار جھاڑیوں سے ہوا ہے؟ تو وہاں سے کیسے گزرتا ہے؟
عرض کی کہ اپنے دامن کو سمیٹ کر، کانٹوں سے بچ کر گزرتا ہوں کہ کہیں خاردار کانٹوں کی وجہ سے میرا جسم زخمی نہ ہو جائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا یہی تقویٰ ہے کہ مسلمان اس دنیا میں گناہوں سے اپنے دامن کو بچا کر گزر جائے اور آخرت کا رختِ سفر باندھ لے.
روزوں کی فرضیت کے بیان میں.
* يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن
َسورہ البقرہ(183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔
* ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا." مجھے بتایے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں. تو آپ ص نے فرمایا: "رمضان کے مہینے کے" (بخاری : 1891)
روزوں کی فضیلت کے بیان میں.
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان(یعنی جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں". (بخاری : 1899- مسلم : 1079)
* ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا " جو شخص ایمان کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں " (بخاری : 2014- مسلم 709)
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔
(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776)
* ’’روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔‘‘
(صحیح الجامع،حدیث 3866 )
* ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری، الجھاد والسیر ، باب فضل الصوم فی سبیل اللہ، ح ۰ 284 وصحیح مسلم، الصیام، فضل الصیام فی سبیل اللہ۔۔۔ح:1153)
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام ’’ رَیّان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘
(صحیح البخاری، الصوم، باب الریان للصائمین، ح : 1896وکتاب بدء الخلق، ح: 3257 وصحیح مسلم، باب فضل الصیام،ح: 1152)
روزہ کی اہمیت:
*روزہ اسلامی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔
*روزے جسمانی صحت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ اسے بڑھاتے ہیں۔
*روزوں سے دل کی پاکی، روح کی صفائی اورنفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔
*روزے ، دولت مندوں کو،غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔
*روزے ، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتے ہیں۔
*روزے ملکوتی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو کمزور کرتے ہیں۔
*روزے جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیوں کا خوگر بناتے ہیں۔
*روزوں سے بھوک اور پیاس کے تحمل اور صبر و ضبط کی دولت ملتی ہے۔
*روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔
*روزے سے بہت سے گناہوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں۔
*روزے نیک کاموں کیلئے اسلامی ذوق و شوق کو ابھارتے ہیں۔
*روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو ریاونمائش سے بری ہے۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار