منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-06-01 03:24:14    60 Views تاجدار انبیاء ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں  /  محمد اسحاق قریشی

تاجدار انبیاء ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں

یہود و نصاریٰ کا اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے بغض و عناد کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ اور اسلام کے متعلق جو زہر اگلا تاریخ کے صفحات  ان سازشوں اور حربوں سے بھرے پڑے ہیں۔مغربی علماء ، دانشور اور مصنفین نے پیغمبر اسلام ﷺ اور اسلام کے خلاف اتنے گمراہ کن اور جھوٹے پروپیگنڈے پھیلائے کہ اسلامی معاشرت و قوانین کے متعلق غلط تصورات رواج پا گئے۔کہیں تو مسلمانوں کو دہشتگرد اور جنگجو دکھایا گیاجس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہےاور کہیں براہ راست حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کیئے گئے۔لیکن اس حقیقت کے ادراک پر قلب و جان فرط مسرت سے جھومنے لگتے ہیں کہ ہر صدی ، ہر عہد اور ہر دور کے صاحب ادب و فن نے اپنا بہترین اثاثہ فکر بارگاہ نبوی ﷺ کی نذر کیا ہے۔ ہر قرن میں چشم فلک نے تمام مذاہب کے اہل قلم کے قافلوں کو ارض طیبہ کی جانب بڑھتے دیکھا ۔مسلم ہی نہیں غیر مسلم بھی ، اپنے ہی نہیں بلکہ بیگانے بھی سرور کونین ﷺ کی بارگاہ اقدس میں عقیدت کے نذرانے پیش کرتے نظر آتے ہیں اور "رویندر جین" کا یہ شعر اس صورت حال کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے:۔
"آپ کے ماننے والوں میں ضروری تو نہیں صرف شامل ہوں مسلمان رسول اکرم ﷺ"حضور اکرم ﷺ کو اپنی جان، مال ، اولاد  سے بھی بڑھ کر محبوب رکھنا مسلمان کے ایمان کی تو دلیل ہے ہی مگر ایک غیر مسلم کا بارگاہ نبوی ﷺ میں اظہار عقیدت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ  اس کا ذوق پاکیزہ اور بصیرت بے عیب ہے کیونکہ آفتاب کو اگر کوئی آفتاب کہہ کر پکارے تو آفتاب پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شخص کی بصیرت ابھی زندہ ہے۔
ذیل میں ہم ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جو باوجود غیر مسلم اور اسلام کے سخت مخالف ہونے کے حق بات کہنے پر مجبور ہو گئے
1۔ تھامس کارلائل:۔اس نے "ہیرو اینڈ ہیرو ورشپ" کے نام سے ایک کتاب لکھی  جو 1841ء میں شائع ہوئی ۔وہ لکھتا ہے کہ:
"کہتے ہیں کہ اس مذہب کی عمارت جھوٹ پر کھڑی کی گئی ہے۔میں کہتا ہوں کہ جھوٹا آدمی اینٹوں کی معمولی سی عمارت بھی کھڑی نہیں کرسکتا چہ جائیکہ وہ ایک مذہب کا بانی ہو اور جس نے ایک تہذیب کی بنیاد رکھی ہو۔معمولی عقل کا آدمی بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ جب تک تعمیر کرنے والے شخص کو مٹی چونے اور کام میں استعمال ہونے والی اشیاء کے خواص کا علم نہ ہو ایسے شخص کا بنایا گیا مکان ، مکان نہیں مٹی کا ڈھیر ہو گاجو دھڑام سے نیچے آ گرے گا ۔ ایسا مکان بارہ صدیوں تک قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی کروڑوں انسان اس میں سما سکتے ہیں۔مگر یہ مکان(اسلام کی عمات) تو اتنے طویل عرصے سے قائم ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کی شخصیت ، ان کے اقوال و ہدایت کی صداقت پر ایمان رکھنے والےانسان ہماری طرح ہی ذی شعور اور صاحب فراست ہیں اور ہماری ہی طرح دست قدرت کی صناعی کا نمونہ ہیں۔ان بندگان خدا کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک دوسر ےمقام پر حضور اکرم ﷺ پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگر ہم حضرت محمد ﷺ کو (معاذ اللہ ) حریص اور سازشی قرار دیں اور ان کی تعلیمات کو بے بصیرتی اور نادانی قرار دیں تو یہ ہماری سخت حماقت اور جہالت ہو گی ۔انہوں نے سادہ اور غیر مرصع جو پیغام دیا وہ برحق تھا وہ پردہ غیب سے ابھرنے والی حیران کن آواز تھی اس کا نہ کوئی قول جھوٹ نکلا نہ کوئی فعل غلط ثابت ہوا نہ ان کی گفتگو بے معنی تھی  اور نہ ہی ان جیسی کوئی مثال پہلے موجود تھی ۔وہ زندگی کا ایک روشن جلوہ تھا جو سینہ فطرت سے اس لیئے ظہور پذیر ہوا کہ دنیا کو منور کر ڈالے کیونکہ اس کائنات کا خالق اس کے ذریعے سے اس دنیاکو اندھیروں سے نجات دلانا چاہتا تھا۔ وہ جو پیغام سرمدی لے کر آئے اس کی اہمیت اور عظمت اپنی جگہ مسلم ہے نبی کریم ﷺ پر ایسا کوئی الزام ثابت نہیں کیا جا سکا۔نبی ﷺ کے منہ سے جو بات نکلتی ہے ہمارا ضمیر گواہی دیتا ہے کہ وہ برحق ہے اس جیسے الفاظ کسی عام انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ اس کی زندگی کا مقصد و مدعا  اس کے ہر لفظ اور ہر حرکت سے عیاں ہوتا ہے سنی سنائی باتوں سے وہ قطعاََ بے گانہ ہوتا ہے اس کا دل سچائیوں کا امین اور حقائق کی روشنیوں سے منور ہوتا ہے۔اس کی باتیں الہامی ہوتی ہیں ۔بالفاظ دیگر وہ کائنات کے حقیقی اسرار سے آگاہی رکھتا ہے۔ اس کی ہر بات ترجمان حقیقت ہوتی ہے۔اس سے پہلے بھی انبیا ء کرام علیہم السلام پر وحی آتی رہی ہے لیکن اب کی بار وحی آخری اور تازہ ترین ہے کیا یہ نبی ﷺ اس خدا کا بندہ نہیں؟ ہم اس کی باتوں کو کیسے سنی ان سنی کر سکتے ہیں۔
(تھامس کارلائل  انتہا درجے کا متعصب مستشرق ہونے کے باوجود یہ اعترافات کرنے پر مجبور ہوا )
2۔ مائیکل ہارٹ:۔
مائیکل ہارٹ ایک امریکی ادیب اور عیسائیت کا پیروکار تھا۔ اس نے "
The 100”کے نام سے عہد ساز شخصیتوں کے کارناموں پر مشتمل ایک کتاب لکھی۔ جس میں اس نے حضرت محمد ﷺ کو سرفہرست رکھا اور اس کی وجہ یوں لکھی: "اگر مارکونی ریڈیو ایجاد نہ کرتا تو چند سالوں بعد کوئی دوسرا آدمی یہ کارنامہ سرانجام دے سکتا تھا۔سپین کا برنانڈو اگر منظر عام پر نہ آتا تب بھی سپین میکسیکو پر قبضہ کر لیتا۔ ماہر حیاتیات چارلس ڈارون اگر تحقیق و جستجو نہ کرتا تب بھی نظریہ ارتقاء چند سالوں میں دنیا کے علم میں آ جاتا۔ لیکن حضرت محمد ﷺ وہ شخصیت ہیں کہ جو کارنامے انہوں نے سرانجام دیئے کسی دوسرے کے ہاتھوں انجام نہ پا سکتے تھے ۔"
3۔ ہمفرے:
یہ ایک برطانوی جاسوس تھا اور سلطنت اسلامیہ کا شیرازہ منتشر کرنے کی اس نے بے حد کوششیں کیں ایک مسلمان کا روپ دھار کر ملت اسلامیہ میں زہر گھولتا رہا۔اس کے باوجود سید عالم ﷺ کی ذات اقدس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار یوں کرتا ہے :"بہرحال میں حضور اکرم ﷺکی قدر و منزلت اور بزرگی کا قائل ہوں۔ بے شک آپ ﷺ کا شمار ان بافضیلت افراد میں ہوتا ہے جن کی کوششیں تربیت بشر کے لیئے ناقابل انکار ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے" (ہمفرے کے اعترافات)
4۔ نپولین بونا پارٹ:
یہ 1799ء میں فرانس کا صدر منتخب ہوا اور 1804ء میں شہنشاہ بن گیا۔ تاریخ اسے فاتح اعظم کے نام سے یاد کرتی ہے۔حضور سید عالم ﷺ کو ان الفاظ کے ساتھ خراج تحسین پیش کرتا ہے :
"حضرت محمد ﷺ کی ذات گرامی ایک مرکز ثقل تھی  جس کی طرف لوگ کھنچے چلے آتے تھے۔ان کی تعلیمات نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیااورایک گروہ پیدا ہو گیا جس نے چند ہی سالوں میں اسلام کا غلغلہ نصف دنیا میں بلند کر دیا۔ اسلام کے ان پیروکاروں نے دنیا کو جھوٹے خداؤں سے چھڑا لیا انہوں نے بت سرنگوں کر دیئے۔حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں نے پندرہ سو سالوں مین کفر کی اتنی نشانیوں منہدم نہ کی تھیں جتنی انہوں نے پندرہ سالوں میں کر دیں۔حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی ہستی بہت ہی بڑی تھی "(پیغمبر اسلام ﷺ غیر مسلموں کی نظر میں )
5۔ڈاکٹر ڈی رائٹ:
حضرت محمد ﷺ صرف اپنی ذات اور قوم ہی کے لیئے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیئے ابر رحمت تھے ۔تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس قدر مستحسن طریقے سے انجام دیا ہو۔ (اسلامک ریویو اینڈ مسلم انڈیا فروری 1920ء)
6۔ کونٹ ٹالسٹائی:۔
اس میں کسی قسم کا بھی شک و شبہ نہیں کہ حضور اکرم ﷺ ایک عظیم المرتب مصلح تھے۔جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی  آپ ﷺ کے لیئے یہ فخر کیا کم ہے کہ آپ امت کو نور حق کی طرف لے گئے اور اسے اس قابل بنا دیا کہ وہ امن و سلامتی کی گرویدہ ہو جائےاور زہد و تقویٰ کی زندگی کو ترجیح دینے لگے ۔ آپ ﷺ نے اسے انسانی خونریزی سے منع فرمایا اس کے لیئے حقیقی ترقی و تمدن کی راہیں کھول دیں۔ اور یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جو اس شخص سے انجام پا سکتا ہے جس کے ساتھ کوئی مخفی قوت ہواور ایسا شخص یقیناََ اکرام و احترام کا مستحق ہے
(حمایت اسلام لاھور 1935ء)
7۔ ڈاکٹر ای اے فریمن:
اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمد ﷺ بڑے پکے اور راست باز ریفارمر تھے ۔ (معجزات اسلام)
8۔مسٹر سار مستشرق:
قرون وسطیٰ میں جب یورپ میں جہل کی موجیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں عربستان کے شہر سے نور تاباں کا ظہور ہواجس نے اپنی ضیاء باریوں سے علم و ہنر اور ہدایت کے چھلکتے ہوئے نوری دریا بہا دیئے۔ اسی کا طفیل ہے کہ یورپ کو عربوں کے توسط سے یونانیوں کے علوم و فلسفے نصیب ہو سکے (صوت الحجاز ذی قعدہ 1353ء)
9۔ ڈاکٹر لین پول:
اگر حضرت محمد ﷺ سچے نبی نہ تھے تو دنیا  میں کوئی برحق نبی آیا ہی نہیں ۔ (ہسٹری آف دی مورش ایمپائر یورپ)

10۔ ڈاکٹر بدھ ویر سنگھ دہلوی:

محمد صاحب ﷺ ایک ایسی ہستی تھے اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر جن کے عقیدہ کے لحاظ سے وہ ایک پیغمبر تھے دوسرے لوگوں کے لیئے ان کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھانے والی اور سبق آموز ثابت ہوئی ہے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

11۔ سوامی برج نارائن سنیاسی بی اے:

حقیقت بہرحال حقیقت ہے ۔اگر بغض و عباد کی پٹی آنکھوں سے ہٹا دی جائے تو پیغمبر اسلام ﷺ کا نورانی چہرہ ان تمام داغ دھبوں سے پاک و صاف نظر آئے گاجو بتلائے جاتے ہیں۔سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ خدا نے پیغمبر اسلام ﷺ کو تمام کائنات کے لیئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا ہے اور کائنات میں عالم انسان، عالم حیوان، عالم نباتات اور عالم جمادات سب شامل ہیں ۔(نقوش رسول نمبر ص 487)

12۔ کملا دیوی بی اے بمبئی:

اے عرب کے مہاپرش آپ وہ ہیں جن کی شکشا سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور کی بھگتی کا دھیان پیدا ہوا۔بے شک آپ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کر دی کہ ایک ہی سمے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آتما کے سدھار کا کام بھی کرتے تھے۔آپ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچایااور اس کے حقوق مقرر کیئے۔آپ نے اس دکھ بھری دنیا میں شانتی اور امن کا پرچار کیااور امیر و غریب سب کو ایک سبھا میں جمع کیا۔ (الامان دہلی 17 جولائی 1932ء)

13۔ بابو جگل کشور کھنہ :

حضرت محمد ﷺ کی لائف اور آپ ﷺ کی بنیادی تعلیمات کے متعلق جان کر ہر شخص اس نتیجہ پر باآسانی پہنچ سکتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دنیا پر بہت احسانات کیئے ہیں۔اور دنیا نے آپ ﷺ کی تعلیمات سے بہت فائدہ اٹھایا۔صرف ملک عرب پر ہی آپ ﷺ کے احسانات نہیں بلکہ آپ ﷺ کا فیض تعلیم و ہدایت دنیا کے ہر گوشے میں پہنچا۔ غلامی کےخلاف سب سے پہلی آواز حضرت محمد ﷺ نے بلند کی  اور غلاموں کے بارے میں ایسے احکام جاری کیئے کہ ان کے حقوق بھائیوں کے برابر کر دیئے۔آپ نے عورتوں اور استریوں کے درجہ کو بلند کر دیا۔سود کو قطعاََ حرام قرار دے کر سرمایہ کاری کی جڑ پر ایسا کلہاڑا مارا کہ اس کے بعد پھر یہ درخت اچھی طرح پھل پھول ہی نہ سکا۔سود خوری ہمیشہ کے لیئے ایک لعنت ہی رہی ہے۔مساوات کی طرف ایک ایسا عملی اقدام کیا کہ اس سے قبل دنیا اس سے ناآشنا اور ناواقف تھی ۔حضرت محمد ﷺ نے نہایت پرزور طریقے سے توہمات کے خلاف جہاد کیااور نہ صرف اپنے پیروؤں کے اندر سے اس کی بیخ و بنیاد اکھاڑ پھینکی بلکہ دنیا کو ایک ایسی روشنی عطا کی کہ توہمات کے بھیانک چہرے اور اس کی ہیئت کے خدوخال سب کو نظر آگئے۔(رسالہ مولوی ربیع الاول 1351ء)

14۔بی ایس رندھاوا ہوشیارپوری:

حضرت محمد ﷺ کو جتنا ستایا گیا اتنا کسی بھی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیاایسی حالت میں کیوں نہ محمد صاحب ﷺ کی رحمدلی، شفقت اور مروت علی المخلوقات کی داد دو ں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر اٹھا لیئے مگر اپنے ستانے والے اور دکھ دینے والے کو اف تک نہ کہا۔بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں ۔ اور طاقت و اقتدار مل جانے پر بھی ان سے انتقام نہ لیا ۔ بانیان مذاہب میں سب سے زیادہ کسی پر ظلم اور ناانصافی کی گئی ہے تو پیغمبر اسلام ﷺ پر۔اور کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کو ایک خونخوار اور بے رحم انسان دکھایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو ان سے نفرت دلائی جائے۔اس کا بڑا سبب یہ ہوا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی لائف پر تنقید کرنے والوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام کی صحیح سیرت کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی بلکہ سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں کو سرمایہ بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ کر دی۔اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کے لیئے اپنے اندر اگر کوئی جرات و ہمت پاتے تو ضرور اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے،

(حوالہ مذکور)

15۔ سوامی لکشمن رائے :

مفسر راز حیات حضرت محمد ﷺ کے سوا تاریخ عالم کے تمام صفحات زندگی اس قدر صحیح تفسیر کرنے والی کسی دوسری شخصیت عظمیٰ کے بیان سے خالی ہیں۔ وہ کون سی اذیتیں تھیں جو کفرستان عرب کے کافروں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت میں عرب کے اس بت شکن پیغمبر کو نہیں دیں۔وہ کون سے انسانیت سوز مظالم تھے جو عرب کے درندوں نے اس رحم و ہمدردی کے مجسمہ پر نہیں توڑے۔ وہ کون سے زہرہ گداز ستم تھے جو جہالت کے گہوارے میں پلنے والی قوم نے اپنے سچے ہادی پر روا نہیں رکھے۔مگر انسانیت کے اس محسن اعظم کی زبان فیض ترجمان سے بجائے بددعا کے دعا ہی نکلی ۔غیر مسلم مصنفوں کا برا ہو جنہوں نے قسم کھالی ہے کہ قلم ہاتھ میں لیتے وقت عقل کو چھٹی دے دیا کریں گے  اور آنکھوں پر تعصب کی ٹھیکری رکھ کر ہر واقعہ کو اپنی کج فیمی اور کج نگاہی کے رنگ میں رنگ کر دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔آمکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں اور ان کے گستاخ اور کج رقم قلموں کو اعترافات کرتے ہی بنتی ہے کہ واقعی اس نفس کش پیغمبر ﷺ نے جس شان استغناء سے دولت، شہرت ، عزت اور حسن کی طلسمی طاقتوں کو اپنے اصولوں پر قربان کیا وہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں ۔ عرب کے سربرآوردہ  بزرگوں نے اپنے عقائد باطلہ کی حفاظت کے لیئے اس آفتاب حقانیت کے سامنے جس کی ہر ایک کرن کفر سوز تھی ، ایک دوسرے سے بلکل متضاد اور مخالف راستے رکھ دیئے ۔اور ان کو اختیار دے دیا گیا کہ ان میں سے جو راستہ چاہیں حسب خواہش اختیار کر لیں۔ ایک طرف ریگستان عرب کی حسین سے حسین عورتیں  دولت کے انبار اور عزت و شہرت کی دستار قدموں میں نثار کرنے کو تیار تھیں اور دوسری طرف ذرہ ذرہ مخالفت کے طوفان اٹھا رہا تھا۔قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں آوازے کسے جاتے تھے نجاستیں پھینکی جاتی تھیں راستے میں کانٹے بچھائے جاتے تھے ۔ تاریخ عالم اس حقیقت غیر مشتبہ پر شاہد عادل ہے کہ اس کے اوراق کو تزکیہ نفس کے ایسے فقید المثال مظاہرہ کا بیان کبھی نصیب میسر نہیں ہوا۔اس حق کوش پیغمبر کو جس کا مدعا نفس پروری سے کوسوں دور تھا دولت کی جھنکار اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکی  شہرت کی طلسمی طاقت اس کے دل کو فریب نہ دے سکی  حسن اپنی تمام دل آویزوں سمیت نظر التفات سے محروم رہا۔ انہوں نے بلا تامل فیصلہ کن لہجہ میں کہہ دیااگر آپ لوگ چاند اور سورج کو میری گود میں لا کر ڈال دیں تو بھی میں تبلیغ حق سے باز نہیں آؤں گا۔
(نقوش رسول نمبر صفحہ 453)

16۔ وشوانرائن:۔

دولت، عزت اور جاہ و حشمت کی خواہش سے  آنحضرت ﷺ نے اسلام کی بنیاد نہیں ڈالی ۔ شاہی تاج ان کے نزدیک ذلیل اور حقیر شئے تھی۔تخت شاہی کو آپ ٹھکراتے تھے دنیاوی وجاہت کے طالب نہ تھے ۔ ان کی زندگی کا مقصد تو موت و حیات کے اہم زاویوں کا پرچار تھا۔0مدینہ جولائی 1932ء)

17۔ گاندھی:
وہ (رسول اکرم ﷺ) روحانی پیشوا تھے بلکہ ان کی تعلیمات کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں۔ کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا ایسا جامع اور مانع پیغام نہیں سنایا جیسا  کی پیغمبر اسلام نے ۔
(ایمان پٹی ضلع لاہوراگست 1936ء)

18۔میجر آرتھر گلن لیونارڈ:

حضرت محمد ﷺ نہایت عظیم المرتبت انسان تھے ۔ وہ ایک مفکر اور معمار تھے انہوں نے اپنے زمانہ کے حالات کے مقابلہ کی فکر نہیں کی  اور جو تعمیر کی وہ صرف اپنے زمانہ ہی کے لیئے نہیں کی  بلکہ رہتی دنیا تک کے مسائل کو سوچا اور جو تعمیر کی  وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے کی ۔ (نقوش رسول نمبر )

19۔ ڈاکٹر شیلے:

حضرت محمد ﷺ گزشتہ اور موجودہ سبھی انسانوں سے افضل اور اکمل تھے اور آئیندہ ان کی مثال پیدا ہونا محال بلکہ ناممکن ہے ۔ (نقوش رسول نمبر)

20۔ سر فلیکڈ:

حضرت محمد ﷺ کی عقل ان عظیم ترین عقلوں میں سے تھی ۔جن کا وجود دنیا میں عنقاء کا حکم رکھتا ہے ۔ وہ معاملہ کی تہہ میں پہلی ہی نظر میں پہنچ جایا کرتے تھے ۔ اپنے خاص معاملات میں نہایت ایثار اور انصاف سے کام لیتے۔ دوست و دشمن، امیر و غریب، قوی و ضعیف ہر ایک کے ساتھ عدل و مساوات کا سلوک کرتے۔

21۔ جان ڈیون پورٹ:

حضور سرور عالم ﷺ کے حسن و جمال کے بارے میں رقمطراز ہیں

آپ ﷺ کی شکل شاہانہ تھی خدوخال باقاعدہ اور دل پسند تھے۔آنکھیں سیاہ اور منور تھیں۔بینی ذرا اٹھی ہوئی، دہن خوبصورت تھادانت نوتی کی طرح چمکتے تھے ۔ رخسار سرخ تھے  آپ ﷺ کی صحت نہایت اچھی تھی آپ کا تبسم دلآویز اور آواز شیریں اور دلکش تھی ۔(نقوش رسول نمبر)

اس کے علاوہ دنیا کی عظیم غیر مسلم شخصیات میں  یوکمباؤمائنٹ (بدھ لیڈر)،مانگ تونگ پیشوا بدھ مذہب،جارج برنارڈ شاہ، رابندر ناتھ،ٹیگور،ایس مارگو لیوتھ،مسٹر سکاٹ،جارج سیل،کونسٹن ورجیل جارجیو،کرنل سائکس،شیو پرساد،وہبی لکھنوی،رگھوناتھ خطیب سرحدی،جوش ملیسانی،تلوک چند محروم،نریش کمار شاد،ویاشنکرنسیم، عزت سنگھ عیش دہلوی،پنڈت ہری چندر اختر، نردیو سنگھ اشک دہلوی،بی ڈی اہلیہ بوڑ سنگھ، رام پیار لکھنوی،اروڑہ رائے، سالک رام سالک،شنکر لال ساقی،کنور مہندر سنگھ،بیدی سحر،سردار شیر سنگھ شمیم،بابا افضل کاشی،لالہ شنکر داس جی،فراق گھور کھپوری اور دیگر سیکڑوں اشخاص شامل ہیں ۔نثر کے علاوہ غیر مسلم شعراء نے بھی بارگاہ نبوی ﷺ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ۔ ان اشعار میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ عقیدت و وارفتگی کا اقرار بھی ہے  اور حضور اکرم ﷺ کی آفاقی اور دائمی نبوت کا دلکش اظہار بھی ہے اور اسلام کی عظمتوں کا اعتراف بھی ۔ان میں پنڈت بال مکند عرش ملیسانی، چرن سرن نازمانک پوری،مہاراجی سرکشن پرشاد،رویندر جین رویندر،جان رابٹ جان،پنڈت جگن ناتھ پرشاد آنند،کالکا پرشاد،پنڈت رگھوندرراؤ تخلص جذب، لالہ امر چند جالندھری تخلص قیس، اودھے ناتھ لکھنوی تخلص نشتر، چوہدھری دلو رام کوثری، امر ناتھ ساحر شامل ہیں۔انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں دلی عقیدت کے اظہار کے ساتھ اقوام عالم کو یہی سبق دیا کہ حضور سید عالم ﷺ صرف مسلمانوں ہی کے راہبر و راہنما نہیں بلکہ آپ ﷺ عالم انسانیت کے تاجداراور ہر دور کے پیشوا ہیں۔ان اشخاص کی عقیدت سے حضور سرور کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ پوری کائنات کے مرکز نگاہ ہیں  اور ہر شخص آپ ﷺ کی داد رسی کا منتظر رہتا ہے ۔ان لوگوں نے جس ہستی بالا صفات کو خراج عقیدت پیش کیا اس کی عزت و عظمت کا سورج تاابد روشن رہے گا۔ بلکہ آنے والے ہر دور میں جو شخص بھی ہٹ دھرمی، تعصب اور بغض سے ہٹ کر سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ کرے گا وہ عظمت رسول ﷺ کاپاسبان بن جائے گااور سید کائنات ﷺ کی آفاقیت اور مرکزیت کا قائل نظر آئے گا۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار