منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-31 15:52:59    238 Views اللہ کی اطاعت کس لیے  /  صباءسعید

اللہ کی اطاعت کس لیے

اللہ کی اطاعت کس لیے؟
اسلام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی, رسم و رواج کی, دنیا کے لوگوں کی, غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرے.
اللہ اور اسکی رسول ﷺ کی اطاعت پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟
ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا محتاج ہے ؟ نعوذ باللہ کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانے کی خواہش رکھتا ہے کہ جیسے دنیا کے حاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور اسی طرح خدا بھی کہتا کہ میری اطاعت کرو؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے. وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے. دنیا کے حاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے. اس کو ہم سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں. اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور ہماری کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی حاجت نہیں. وہ پاک ہے. کسی کا محتاج نہیں. دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے. اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے. وہ ہم سے صرف اسلیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کی اس میں ہماری بھلائی ہے. وہ نہیں چاہتا کی جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا پھر کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کو سامنے سر جھکائے. وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے زمین پر اپنی خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہے. اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کے اَسفَلُ السّافِلِینَ میں جاگرے. اسلیے وہ فرماتا ہے کہ تم میری اطاعت کرو, اور ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اسکو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا. اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں عزت حاصل کر سکو گے.
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُ
وْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْم(256)
 اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)

دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے.
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ پاک ہی کی وہ ذات ہے جہاں سے روشنی مل سکتی ہے. اللہ علیم و بصیر ہے. وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے. وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ حقیقی نفع کس چیز میں ہے اور حقیقی نقصان کس میں. وہ بے نیاز بھی ہے. اسکی اپنی کوئی غرض ہے ہی نہیں. اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ ہمیں دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے. اسلیے وہ پاک بے نیاز جو کچھ بھی ہدایت دے گا. بے غرض دے گا اور صرف ہمارے فائدے کے لیے دے گا. پھر اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے. ظلم کا اس ذات پاک میں شائبہ تک بھی نہیں ہے. اسلیے وہ سراسر حق کی بنا پر حکم دے گا. اسکے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے. کہ ہم خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کر جائیں.

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار