منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-30 05:33:04    125 Views اخلاق حسنہ کی اہمیت  /  محمد اسحاق قریشی

اخلاق حسنہ کی اہمیت

الحمد للہ رب العالمین ۔ والصلوٰۃ والسلام علیک یا سیدالانبیاء و المرسلین 
اما بعد
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 
دین اسلام اخلاق حسنہ پر زور دیتا ہے اور بداخلاقی بدزبانی سے منع کرتا ہے 
 حضور اکرم ﷺ بھی اخلاق حسنہ کو محبوب رکھتے تھے چنانچہ آپ ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ :
"ان من احبکم الی احسنکم اخلاقا"
 میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہترین ہوں ( بخاری ٣٧٥٩) 
 ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کے حامل شخص کی ان الفاظ میں تعریف وتحسین کی ہے
"ان من خیارکم احسنکم اخلاقا"
تم میں بہترین وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں (بخاری ٣٥٥٩)
کامل ایمان کی نشانی یہ بیان فرمائی :
"اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا"
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)
اخلاق حسنہ اپنانے والے کو بشارت دی 
"ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم"
 مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)
نیز فرمایا "مامن شئی اتقل فی المیزان منحسن الخلق"
احسن خلق سے زیادہ باوزن ترازو میں کوئی چیز نہ ہوگی۔
نبی ﷺ نے اپنی بعثت کا مقصد بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ: 
 بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاق۔ یعنی ’’میں مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘ 
حضور ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کے بارے میں قرآن مجید کی شہادت یہ ہے کہ: 
اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔ 
’’بے شک آپ اخلاق کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں۔‘‘ 
 حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اَحْسَنَ النَّاسِ خُلْقًا رسول اللہ ﷺ تمام انسانوں سے اعلیٰ اخلاق رکھتے تھے۔ (متفق علیہ) 
 اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں حسن اخلاق کو اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔۔۔ وہیں معاملات کو بخوبی انجام دینے پر زور دیا، اچھی صفات سے متصف ہونے کی تاکید کی ہے اور بدخلقی کی مذمت کی ہے اس کے بھیانک اور مہلک نتائج سے خبردار کیا ہے اور بدخلق شخص سے اپنی بیزاری اور ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس موضوع کی چند احادیث ملاحظہ ہوں.

حضرت عائشہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم”
 اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبضوض شخص وہ ہے جو ضدی قسم کا اور جھگڑالو ہو (ترمذی٢٩٧٦)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“المؤمن غیرکریم والفاجر خب لئیم”
مومن بھولا بھالا اور شریف ہوتا ہے اور فاجر چالاک اور کمینہ ہوتا ہے(ترمذی ١٩٦٤٤ البانی نے اسے صحیح قرار دیا ہے)

ایک اور روایت میں ہے کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“ان اللہ لیبغض الفاحش البذیء”
اللہ تعالٰی بےحیا اور فحش گو شخص سے نفرت کرتا ہے (ترمذی ٢٠٠٢٢ صحیحہ الالبانی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
“البذاء من الجفاء والضفاء فی النار”
 فحش گوئی (اللہ سے) بدعہدی ہے اور بدعہدی جہنم میں (لےجانے والی) ہے (ترمذی ٢٠٠٩صحیحہ البانی)
 بد اخلاقی ، بدزبانی اور فحش گوئی کی مذمت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا:

"میری امت میں تو مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز ڈھیر ساری نمازیں، روزے اور زکوتیں لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس حال میں آئےگا کہ کسی کو گالی دی، کسی پہ تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا۔ پس (ان مظالم کے قصاص میں) اس دعوے دار کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ اگر حساب پورا ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں، تو ان (دعوے داروں) کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور پھر وہ سر کے بل آگ میں ڈال دیا جائےگا۔"

"جس نے اپنے بھائی پر کوئی ظلم کیا ہو۔ عزت کے معاملہ میں یا کسی بھی چیز کے بارے میں۔ وہ آج کے دن ہی اس سے معاف کرا لے، اس سے پہلے کہ اس کے پاس نہ دینار ہوں نہ درہم (کیونکہ اس دن) جتنا ظلم اس نے کیا، اتنی اس کی نیکیاں مظلوم کو دے دی جائیں گی اور نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کی برائیاں اس پر لاد دی جائیں گی۔"

(بخاری و مسلم )
 مندرجہ بالا احادیث کی روشنی میں اپنے آپ کو پرکھیں کہ دین اسلام ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے اور ہم کس راہ پر چل رہے ہیں ۔ 
 اللہ عزوجل ہم سب کو اپنے محبوب ﷺ کی سنتیں اور اخلاق حسنہ اپنانے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور روز قیامت حضور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے آمین ثم آمین 
وما علینا الا البلاغ المبین 
 اللھم صلی علی سیدنا و مولانا محمد عدد ما فی علم اللہ صلوٰۃ دائمۃ بدوام ملک اللہ

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار