منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-29 09:06:19    127 Views مستشرقین کے اہداف و مقاصد  /  محمد اسحاق قریشی

مستشرقین کے اہداف و مقاصد

1۔ دینی اہداف:۔ یہودی و عیسائی ج سکہ خود کو اللہ کی پسندیدہ قوم قرار دیتے تھے اور آنے والے نبی کے منتظر تھے تاکہ اس کے ساتھ مل کر ساری دنیا پر قبضہ کیا جائے لیکن جب ان کی نافرمانیوں اور بدکاریوں کے باعث فضیلت کے منصب سے محروم کر کے نبوت و رسالت کی ذمہ داری بنو اسماعیل کے ایک فرد حضرت محمد ﷺ پر ڈال دی تو وہ حسد، بغض اور جلن سے اپنے حواس کھو بیٹھے اور باوجود آپ ﷺ کو نبی کی حثیت سے پہچان لینے کے آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کر دیا۔ اسلام چونکہ انتہائی سرعت سے عرب سے نکل کر دنای کے ایک بڑے حصے پر چھا گیا تھا اس لیئے یہود و نصاری کو یہ خظرہ محسوس ہوا کہ اگر اسلام اسی رفتار سے پھیلتا رہا تو کہیں ان کا دین بلکل ہی ختم نہ ہو جائے چنانچہ انہوں نے سوچا کہ ایک طرف اسلامی تعلیمات پر شکوک کے پردے ڈالے جائیں اور اسے ناقص، ناکام اور غیر الہامی فلسفہ قرار دیا جائے اور دوسری طرف یہودیوں اور عیسائیوں کو اسلام قبول کرنے سے روکا جائے اور تمام دنیا میں اپنے مذہب کا پرچار کیا جائے اس کام کے لیئے انہوں نے پادریوں کی تربیت کی اور مسلم ممالک سے اسلامی علوم کی کتب جمع کر کے ان میں کمزوریاں تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ذات، ازواج، قرآن مجید، احکام، سیرت صحابہ ہر چیز کو ہدف بنایا اور اس میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں میں اتحاد و اخوت ختم کر کے ان میں نسلی، لسانی اور علاقائی تعصبات کو ابھارنے کی کوشش کی
2. علمی اہداف:۔ اگرچہ مستشرقین میں کچھ منصف مزاج لوگ بھی موجود ہیں جو کبھی کبھی کوئی صحیح بات بھی منہ سے نکال لیتے ہیں لیکن چونکہ یہ بات ان کی تربیت میں شامل ہو چکی ہے کہ عیسائیت ہی صحیح دین ہے اس لیئے وہ اسلامی تعلیمات کو ہمیشہ اپنے انداز سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صدیوں پر محیط اسلام دشمن پروپیگنڈا کی وجہ سے مغربی عوام کے اذہان اسلام کے بارے میں کوئی صحیح بات آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ ان کے علماء و فضلاء نے علمی تحریکوں اور تحقیق و جستجو کے نام پر صرف اسلام مخالف مواد جمع کیا ہے۔ یہودی و عیسائی جو ہمیشہ سے ایک دوسرے کے جانی دشمن رہے ہیں لیکن مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لیئے صدیوں کی دشمنی بھول کر ایک ہو چکے ہیں وہ ہر اس کام پر متفق ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ مختلف ادارے اور انجمنیں بنا کر مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیئے سائنسی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ اسلام چھوڑنے والوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے مسلمان عورتوں میں آزادی کے نام پر بے پردگی اور بے راہ روی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ غریب ممالک میں عیسائی تنظیمیں فلاحی کاموں کی آڑ میں عیسائیت کا پرچار کر رہی ہیں۔ مسلمان ممالک کے پالیسی ساز اداروں پر اثر انداز ہو کر تعلیمی نصاب اور طریق تعلیم کو اپنی مرضی کے مطابق کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے ۔
3۔ اقتصادی و معاشی اہداف:۔ اگرچہ استشراق کی اس تحریک کا آغاز اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے لیئے ہوا تھا، لیکن بعد میں اس کے مقاصد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اہل مغرب نے مسلم ممالک کی تکنیکی مہارت حاصل کرنے کے لیئے اور اپنے معاشی مفادات اور تجارتی معاملات کو بہتر بنانے کے لیئے عربی زبان اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا مطالعہ کیا۔ مسلم ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھایا اور مقامی طور پر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی کہ ان ممالک کے وسائل مکمل طور پر نہ سہی، کسی حد تک اہل مغرب کے ہاتھوں می چلے جائیں۔ مشرق کو اہل مغرب سونے کی چڑیا قرار دیتے تھے۔ مغرب جب صنعتی دور میں داخل ہوا تو اس کی نظر مشرق میں موجود خام مال کے ذخیروں پر تھی اسی لیئے تمام ممالک نے مختلف مشرقی ممالک میں اپنے اثر و رسوخ اور نفوذ کو بڑھانے کے لیئے ان کو اپنی کالونیاں بنانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں تمام غیر اخلاقی حربے استعمال کیئے گئے۔ چنانچہ ایک انگریز ادیب "سڈنی لو" نے اپنے ہم قوموں کے رویے کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے:۔
" مغرب کی عیسائی حکومتیں کئی سالوں سے امم شرقیہ کے ساتھ جو سلوک کر رہی ہیں اس سلوک کی وجہ سے یہ حکومتیں چوروں کے اس گروہ کے ساتھ مشابہت رکھتی ہیں جو پرسکون آبادیوں میں داخل ہوتے ہیں، ان کے کمزور مکینوں کو قتل کرتے ہیں اور ان کا مال و اسباب لوٹ کر لے جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ حکومتیں ان قوموں کے حقوق پامال کر رہی ہیں جو آگے بڑھنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔ اس ظلم کی کیا وجہ ہے جو ان کمزوروں کے خلاف روا رکھا جا رہا ہے۔ کتوں جیسے اس لالچ کا جواز کیا ہے کہ ان قوموں کے پاس جو کچھ ہے وہ ان سے چھیننے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ یہ عیسائی قوتیں اپنے اس عمل سے اس دعوی کی تائید کر رہی ہیں کہ طاقتور کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کمزوروں کے حقوق غصب کرے" (ضیاء النبی ﷺ بحوالہ الا ستشراق وجہ للاستعمار)
4۔ سیاسی اور استعماری اہداف: ۔ اتفاق سے جب یہود و نصاری کی اجتماعی کوششوں اور کچھ مسلمانوں کی اپنی کمزوریوں کے نتیجے میں مسلمان زوال کا شکار ہوئے تو اسی اثناء میں مغرب میں علمی و سائنسی ترقی کا آغاز ہو رہا تھا۔ کچھ اسلام دشمن مفکرین و مصنفین اور کچھ صلیبی جنگوں کے اثرا ت کے تحت اہل مغرب مسلمانوں کو اپنا بدترین دشمن گردانتے تھے۔ ان کی ساری جدوجہد اسلام کے روشن چہرے کو مسخ کرنے، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی شخصیات کو ان کے مقام و مرتبے سے گرانے اور قرآن و حدیث میں شکوک و شبہات پیدا کرنے میں صرف ہو رہی تھی ۔ اسلام سے اس دشمنی اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے خوف نے یہود و نصاری کو ایک ایسے نہ ختم ہونے والے خبط میں مبتلاء کر دیا جو اسلام کے خاتمے کے بغیر ختم ہونے والا نہ تھا۔انہوں نے ایک طرف تو مسلمانوں کو دینی اور اخلاقی لحاط سے پست کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف ایسا منصوبہ بنایا کہ مسلمان دوبارہ کبھی اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو سکیں۔ سابقہ تجربات کی بدولت ان لوگوں کو بخوبی علم ہو چکا تھا کہ مسلمانوں کو جنگ و جدل سے ختم کرنا ناممکن ہے اس لیئے انہوں نے متبادل طریقوں سے مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ طویل منصوبہ بندی کے بعد مسلمانوں کی قوت اور طاقت کی بنیادوں کو جان کر ان کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ علماء و محققین کے پردے میں مسلم ممالک میں اپنے تربیت یافتہ لوگوں کو بھیج کر مسلمانوں کی دینی حمیت، اتحاد و اخوت، جہاد، پردہ اغیرہ جیسی امتیازی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی مختلف قسم کے علاقائی، نسلی، لسانی اور مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ پہلے مرحلے میں مسلمانوں کے مذہبی و سیاسی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے بعد اپنے اثر و نفوذ میں اضافہ کر کے کمزور ممالک کو اپنی طفیلی ریاستوں کی صورت دے دی۔ اس طرح ایک طرف تو مسلمان ہر لحاظ سے کمزور ہو گئے اور دوسری طرف ان کے تمام وسائل پر یہود و نصاری کا قبضہ ہو گیا۔ جرمن مفکر پاؤل شمٹ نے اپنی کتاب میں تین چیزوں کو مسلمانوں کی شان و شوکت کا سبب قرار دیتے ہوئے ان پر قابو پانے اور انہیں ختم کرنے پر زور دیا ہے
1. دین اسلام،اس کے عقائد، اس کا نظام اخلاق، مختلف رنگوں نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں رشتہ اخوت استوار کرنے کی صلاحیت
 2. ملت اسلامیہ کے طبعی وسائل
3. مسلمانوں کی روز افزوں عددی قوت۔۔۔۔۔!!!
اگر یہ تینوں قوتیں جمع ہو گئیں، مسلمان عقیدے کی بناء پر بھائی بھائی بن گئے اور انہوں نے اپنے طبعی وسائل کو صحیح استعمال کرنا شروع کر دیا تو اسلام ایک ایسی مہیب قوت بن کر ابھرے گا جس سے یورپ کی تباہی اور تمام دنیا کا اقتدار مسلمانوں کے میں چلے جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔۔۔۔!!!

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار