منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-29 05:56:16    147 Views منکرین حدیث اور منافق  /  در صدف ایمان

منکرین حدیث اور منافق

کافی عرصہ سے میں بہت ہی میٹھی بنی ہوئی ہوں مطلب کہنے کا یہ ہے اصلاح ہی اصلاح لکھ رہی ہوں... لیکن اخلاقی و کردار کی اصلاح اب کچھ دن سے کچھ احباب کا تقاضہ تھا کہ کچھ خالصتاً اسلام کے لیے لکھا جائے خاص کر  "منکرین احادیث" کے لیے لیکن اس پر ماشاء اللہ میرے بہن بھائی کام کر رہے ہیں ہیں اور بہترین کر رہے ہیں... تو اس پر بس اپنا ما فی الضمیر بیان کروں گی.... جب میں پڑھتی کہ فلاں صاحب علم صاحب نے اپنے علم کے زعم میں انکار کردیا.... بہت حیرت بھی ہوتی ہے مگر  اب نہیں ہورہی کیونکہ ابھی ابھی میں ایک موضوع پڑھا منافق کا اور سچ بات  یہ ہے کہ پڑھ کر ایک یہ بات واضح ہوگئ منافق  اور منکرین احادیث دونوں یک صفات کے حامل ہیں...... 
کہ یہ صاحب علم و استدلال ان کے لیے صرف ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے... "علم و دولت سنبھالنا سب کے بس کی بات نہیں اوقات کیسے نہ کیسے دکھائی جاتی ہے دولت میں سدھ بدھ کھولتی ہے اور علم کے زعم میں شعور" 
اور یہی حال اُن صاحبِ علم و دانشور  منافق اسکالرز کاہے جیسا کہ 
قرآن پاک کی روشنی میں منافقین کی تقریبا6 اقسام بیان کی گئیں ہیں
منافقین کی اَقسام
#پہلی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے برحق ہونے کے قائل تھے لیکن اس کی خاطر نہ اپنے مفادات کی قربانی کے لئے تیار تھے اور نہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے کے لئے لہذا کچھ خود غرضی و مفاد پرستی اور کچھ بزدلی ان کے سچا مسلمان ہونے کے راستے میں حائل تھی۔
#دوسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو دل سے قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض سازش اور فتنہ و شر کے لئے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے۔ یہ اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔

#تیسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے اقتدار و حکومت کے باعث مفاد پرستانہ خواہشات کے تحت اسلام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن مخالفینِ اسلام سے بھی اپنا تعلق بدستور قائم رکھے ہوئے تھے تاکہ دونوں طرف سے حسبِ موقع فوائد بھی حاصل کر سکیں اور دونوں طرف کے خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔

#چوتھی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو ذہنی طور پر اسلام اور کفر کے درمیان متردد تھے۔ نہ انہیں اسلام کی حقانیت پر کامل اعتماد تھا اور نہ وہ اپنی سابقہ کفر یا جاہلیت پر مطمئن تھے وہ اوروں کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو گئے تھے لیکن اسلام ان کے اندر راسخ نہیں ہوا تھا۔

#پانچویں_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو حق سمجھے ہوئے دل سے اس کے قائل تو ہو چکے تھے لیکن پرانے اوہام و عقائد اور رسم و رواج کو چھوڑنے، دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کرنے اور اوامر و نواہی کے نظام پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان کا نفس تیار نہیں ہو رہا تھا
#چھٹی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو توحید، احکامِ الٰہی اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانے کی حد تک تو تسلیم کرتے تھے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور وفاداری سے گریزاں تھے۔ نہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و سیادت دل سے ماننے کو تیار تھے اور نہ آپ کی حاکمیت و شفاعت۔ اس میں وہ اپنی ہتک اور ذلت محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تعلق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ذاتِ ربانی تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔( بحوالہ. منافق کی علامات) 
اب  قرآن کی روشنی میں موجود علامات ان آج کے  اسکالرز(غامدی،  کاری واری وغیرہ) میں مل رہی ہے  یہ وہ منافق ہیں جو اسلام کو جانتے بھی ہیں پہچانتے بھی ہیں مگر ان کا عَالمْ "منافق ِ وقت" ہونے کے ساتھ ساتھ "عَالمِ ابلیس" کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ابلیس بھی سب جانتا تھا "توحید" کو بھی "درجہ آدم علیہ السلام" کو بھی تب بھی منکرِ سجدہ ہوا تھا... اور منافقین کا بھی یہی عمل رہا سب کچھ جانتے تھے پہچانتے تھے مگر دل کو  راسخ ایمان نہ کرسکے..... اور یہی حال ان ماڈرن اور نیم ماڈرن اسلامک اسکالرز کا ہے کہ  
  بے چارے اسلام کے دامن میں پناہ گزین بھی ہیں، اسلام سے استفادہ بھی لیتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، اپنے آپ کو پیشواِ اسلام کہتے ہوئے اسی اسلام کے نام پر پلتے بھی ہیں، اور پھر کم ظرفی، صفت ابلیس، بےایمانی و منافقت دکھاتے ہوئے اسی اسلام میں غلطیاں نکالنے لگتے ہیں..... کیا کہنے ان کے... اس اسلام سے روشناس کروانے والے نبی علیہ الصلاۃ التسلیم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے کلمات کا انکار کر کے صاحب علم بن کر  تعریفات سمیٹتے ہیں......

قرآن پاک میں ارشاد ہے 
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا.

النساء، 4: 115

‘‘اور جو شخص رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo’’

یہ آیت ویسے تو بنیادی طور پر پر اجماع پر دلالت کرتی ہے  آیتِ متذکرہ اور مندرجہ بالا احادیث سب اجماعِ اُمت کے واجب ہونے کی متقاضی ہیں۔ اس لیے اہلِ اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر قرآن و سنت کے بعد ‘‘اجماع’’ کو تیسرے ماخذِ شرعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اجماع اُمت یا مسلمانوں کے اکثریتی طبقے کے اتقاقِ رائے سے مراد امت کے جہلاء اور محض عوام ہی کے اکثریت کا بغیر دلیل کے کسی مسئلے پر مجتمع ہونا نہیں ہے۔ کیونکہ عوام کو ازخود مسائل کا صحیح علم بھی نہیں ہوتا جب اُمت کا اکثریتی طبقہ کسی دینی موقف پر متفق ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد علماء راسخین اور مجتہدینِ اُمت کی تحقیق و تصریح یا اہلِ علم کا تعامل و تواتر ہی ہوتا ہے۔ اہلِ علم کے قبولِ عام کی بنا پر اس شرعی مؤقف کو امتِ مسلمہ کی اکثریت بھی قبول کر لیتی ہے۔
لہٰذا اس مسئلے پر ذہن با لکل صاف ہونا چاہیے کہ اُمّتِ مسلمہ کے اکثریتی طبقے کا اجماع ازخود واقع نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اجماع ہمیشہ اہلِ علم و اجتہاد کی اکثریت کے نزدیک کسی مسئلے پر ‘‘تلقی بالقبول’’ کی بنا پر واقع ہوتا ہے یہی وجہ ہلے کہ اجماعِ امت یا سوادِ اعظم پر مبنی مذہب کو شریعت نے مذہبِ حق قرار دیا ہے۔
 اجماعِ صحابہ یا صحابہ کے اکثریتی طبقے کا اتفاق رائے اس لیے آج بھی شرعاً حجت ہے کہ اس کی بنیاد بھی اہلِ علم صحابہ کا اجتہاد ہوتا تھا۔ جو ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں واقع ہوتا۔ جب اسے تمام یا اکثر صحابہ قبولِ عام ہو جاتا تو وہی اجتہاد، اجماع قرار پاتا۔ اور اسی کو سوادِاعظم کا مسلک کہا جاتا تھا تعاملِ صحابہ یا آثارِ تابعین کے متعدد نظائر و شواہد اسی طور واقع ہوئے ہیں۔
لہٰذا اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکثریتی طبقے کو قرآن و سنت کے خلاف اور گمراہ تصور کرنا دراصل اپنی آمریت کو قرآن و سنت یا اسلام کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش ہے۔ اس لیے اسے قرآن مجید نے منافقت قرار دیا۔

فلهذا دور حاضر کے قابل اسکالرز میرا کہنے کا مطلب ہے  منافق ِ وقت، ان کی خود کی نظر میں دانشور ِ وقت سے کہنا یہ کہ 

اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْا اِنَّا مَعَکُمْ.
کی تفسیر بغور مطالعہ فرمائیں(اپنی خود کی کی ہوئی تفسیر نہیں پڑھنی....) اور سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع کو بھی پڑھ لیں..... اور پھر 
اپنے نفس کو سمجھائیں جو آپ کو شیطان بن کر ملتا ہے اور آپ نفس کی تسکین یا دیگر جو بھی مفادات ہیں  ان سے قاطع نظر دین اسلام کے لیے کام کریں نہ کہ 
 اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کے ذہن و ایمان خراب کرنے کی کوشش کی جائے....

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار