منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-29 04:43:01    62 Views عبادت سے عبودیت تک۔۔۔  /  ثمرینہ علی

عبادت  سے  عبودیت  تک۔۔۔

ابنِ تمیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں '' عبادت سے مراد اللہ تعالی کی تمام پسندیدہ و محبوب، ظاہری و باطنی اقوال و افعال ہیں '' 
یاد رہے تمام پسندیدہ و محبوب ، چاہے ظاہری ہوں یا باطنی ''اقوال و افعال''
کچھ لوگوں کے نزدیک نماز ادا کرنا، روزہ رکھنا ، حج کرنا اور دیگر فرائض ادا کرنا ہی عبادت ہے جبکہ کچھ لوگ صرف '' انسانیت '' کی خدمت کرنے کو ہی عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ 
عبادت یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا سے کٹ کر کونوں کھدروں میں اللہ اللہ کی مالا جپی جائے بلکہ اپنی پوری زندگی کو اللہ اور اس کے حکم کے مطابق بسر کرنے کا نام عبادت ہے۔
ہماری عبادت کی انتہا یہ ہے کہ ہماری انگلی کی جنبش بھی اللہ کے مقرر کردہ حکم کے مطابق ہو۔ اپنے اختیار و اقدارکو اللہ کے حکم کے مطابق سر انجام دینا، جائیز و ناجائیز کی حدود کا خیال رکھنا، رستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹا دینا، بیمار کی خدمت ، اس کے بندوں کی خدمت کرنا، کسی کی دل آزاری سے بچنا، غیبت و جھوٹ سے بچنا سب عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ 
اپنا محاسبہ کرنے بیٹھے تو ہم نے صرف نماز، روزہ، زکوۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی کو عبادت سمجھ لیا ہے ، اور ان کی ادائیگی کے بعد سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا جبکہ اصل عبادت تو یہ ہے کہ ہم دنیا ہر کام کو عبادت سمجھ کر سر انجام دیں خواہ اس کا تعلق مذہب سے ہو یا معاشرے سے، معشیت سے ہو یا سیاست سے ، انفرادی زندگی سے یا اجتماعی زندگی سے۔
گویا عبادت اس کیفیت کا نام ہے جو پوری زندگی کے اعمال و افعال پر محیط ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار