منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-29 04:40:34    392 Views حجاب کسے کہتے ہیں؟  /  ثمرینہ علی

حجاب  کسے  کہتے  ہیں؟

دورِ حاضر میں پردہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج پردہ یا حجاب کی بہت سی صورتیں رائج ہیں جن میں سرِ فہرست سر کو اسکارف سے ڈھانپنا ہے۔ بعض خواتین سر تا پاوں عبایا یا برقع میں ملبوس ہوتیں ہیں حتی کہ ہاتھوں کو بھی دستانوں اور پیروں کو موزوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔ کچھ تو اسکن ٹائٹ زرق برق عبایا کو ہی پردہ گردانتی ہیں ، کچھ تو صرف دوپٹے سے سر ڈھانپ کر ہی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ پردہ ہوگیا اور کچھ ایسی ہیں جن کے نزدیک حج و عمرہ کا پردہ ہی پردہ ہے اور بعض ایسی ہیں جن کے نزدیک '' پردہ تو صرف آنکھوں کا ہوتا ہے'' ۔
اس طرح حجاب یا پردے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں ۔ 
اس مضمون میں ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل پردہ کیا ہے؟ 
عام طور پر ستر اور حجاب میں فرق نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ شریعت کی رو سے یہ مختلف ہیں ۔ 
حجاب اور ستر کے درمیان فرق : 
الستر (مصدر) کا بنیادی معنی محض کسی چیز کو چھپانا ہے۔ اور ستر اور سترۃ ہر اس چیز کو کہتےہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ مقاماتِ ستر سے مراد انسانی جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں شریعت نے دوسرے انسانوں سے ہر حالت میں چھپانا واجب قرار دیا ہے۔
مرد کا ستر اسکی ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ۔ اور عورت کا ستر پورا جسم ماسوائے شہرہ اور ہاتھوں کے ستر میں شمار ہوتیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا۔ میں نے کہا یہ تو میرا بھتیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حجاب دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی حائل ہونے والی چیز کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ اور جب تمہیں (نبی کی بیویوں سے) کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ سورہ احزاب ۳۳ 
گویا حجاب ستر کے علاوہ اضافی چیز ہے جس کا تعلق غیر محرم یا اجنبی مرد سے ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ستر فی نفسہ ضروری ہے چاہے کوئی موجود ہو یا نہ ہو جبکہ حجاب فی نفسہ ضروری نہیں جب تک دیکھنے وال غیر محرم موجود نہ ہو۔ 
اللہ تعالی نے سورہ احزاب اور سورہ نور کے ذریعے مسلمانوں کو احکامِ ستر و حجاب سے روشناس کروایا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں '' جلباب'' اور سورہ نور کی آیت 31 میں '' خمر '' کا ذکر ہوا ہے۔
جلباب کہتے ہیں بڑی چادر یا عبایا سے مشابہ چیز کو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے جبکہ خمر کے معنی چھوٹے دوپٹے کے ہیں جو کہ عورتیں گھروں میں اوڑھا کرتیں تھیں۔ 
سورہ احزاب آیات ٣٣ میں ارشاد باری تعالی ہے :

 وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا
اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے
۔

اس آیت میں پردے احکامات سب سے پہلے نبی ﷺ کے گھرانے کو دئیے گئے کیونکہ آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنا مقصود تھا۔ اور ویسے بھی اصلاح کا عمل دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے شروع کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں تنبیہہ کر دی گئی کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرائش نہ دکھاتی پھرو۔ اس کے لیے خاص لفظ استعمال کیا گیا ہے تبرج۔۔ 
تبرج کیا ہے ؟؟ 
تبرج میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔
اپنے جسم کے محاسن کی نمائش۔
 زیورات کی نمائش اور جھنکار۔
 پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش۔ 
 رفتار میں بانکپن اور نازو ادا۔ 
 خوشبویات کا استعمال ۔ 
ان سب باتوں سے منع فرما دیا گیا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں چہرے کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا :

يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ '' ید نین علیھن من جلا بیبھن '' سے مراد چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹنا ہے، تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے ''دنی یدنی'' کا معنی قریب ہونا بھی ہے اور جھکنا اور لٹکنا بھی۔ '' ادنی ''کے معنی ہیں قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا۔۔۔ اب اگر قرآن کے الفاظ ہوتے'' ادنی الیھن من جلا بیبھن'' تو ان میں اس بات کی گنجائش ہوتی کہ اس کے معنی اپنی چادروں کو اپنے جسموں کی طرف قریب کرلیں یا بکل مار لیں ۔۔ لیکن قرآن کے الفاظ ہیں'' یدنین علیھن من جلابیبھن'' جس کا معنی لا محالہ کسی چیز کو لٹکانا ہی ہو سکتا ہے ۔ ادنی کے ساتھ علی کا صلہ اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں میں مخصوص کر دیتاہے۔ جب لٹکانا یا نیچے کرنا معنی ہو تو اس کا مطلب چہرہ کا گھونگھٹ نکالنا ہی ہوگا۔
اس ضمن میں واقعہ افک سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے جو کہ بخاری میں مذکور ہے۔۔۔ میں اسی جگہ بیٹھی رہی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں ایک شخص صوان بن معطل اسلمی اس مقام پر آیا اور دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ اس نےمجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اتنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا۔ اس نے مجھ کو پہچان کر انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ گھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ ۔۔ الفاظ ہیں'' فخمرات وجھی بجلبابی''۔۔۔ اگر چہرہ خارج ہے تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے اس کا مطلب غلط سمجھا تھا؟
بعض افراد چہرہ اور ہاتھوں کے استثناء کے لیے سورہ نور کی آیت 31 وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا پیش کرتے ہیں لیکن یہ توجیہہ بھی اس صورت میں غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت میں حجاب کی رخصتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے نا کہ حجاب کی پابندیوں کا ۔۔۔ یعنی کن محرم رشتوں سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔ گویا اللہ تعالی عورتوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے کہ اگر بڑی چادر یا برقعہ کے باوجود کسی اتفاق سے عورت کی زینت ظاہر ہو جائے تو اسمیں مضائقہ نہیں ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت اس پر متفق ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے تو اس حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر چیز مانگ لیا کرو بلکہ کہا ہے من وراء حجاب یعنی حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ : عورت احرام کی حالت میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ نسائی
اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے حکم کے بعد عورتوں نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو چھپانا شروع کردیا تھا جبھی تو حالتِ احرام میں استثنی کا حکم جاری ہوا۔ اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو اس حکم کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی ۔ 
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے'وہ فرماتی ہیں کہ(حج کے دوران) قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے جلباب اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکالیتی تھیں اور جب وہ قافلے آگے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کو کھول دیتی تھیں۔ سنن ابی داود اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے عورت کو پسند کرنے کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔۔ اگر چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو اس اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی تھی۔ 
امہات المومنین رضی اللہ وعنہا چہرہ کا پردہ کرتی تھی حالانکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں تھیں اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح بھی نہ کر سکتا تھا۔ اگر ان کو چہرے کے پردے استثنی نہیں تھا تو پھرعام مسلمان عورتوں کو کیونکر ہو سکتا ہے؟ 
اگر اس ضمن میں مختلف آئمہ اکرام رحمتہ اللہ کے اقوال کا جائیزہ لیا جائے تو اگرچہ چہرے کے پردے کے بارے میں اختلافات موجود ہیں لیکن وہ صرف اس حد تک ہیں کہ چہرے کا پردہ لازم ہے یا شریعت کی رو سے موجب ثواب یا مسنون ہے۔ پردے سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے اور جو فقہا چہرے کے پردے کو لازمی قرار نہیں دیتے وہ بھی یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ چہرے یا ہتھیلی پر کوئی زینت کا سامان نہ ہو۔ اگر ہو تو اس کا چھپانا واجب قرار دیا گیا ہے۔ 
احکامِ ستر و حجاب کی استثنائی صورتیں درج ذیل ہیں : 
کسی قسم کے اتفاقیہ امر میں احکامِ ستر و حجاب لاگو نہ ہونگے۔ مثلاََ ہوا سے چہرہ ننگا ہو جانا یا کسی پر نظر پڑنا یا اتفاقاََ کسی مرد کا سامنے آ جانا۔ 
کسی لازمی ضرورت جیسے رشتہ کے لیے چہرہ دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔ یا علاج کروانے کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ عریاں کیا جاسکتا ہے۔ 
کسی اضطراری حالت مثلاََ پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدور کرنے کی صورت میں پردے نہ کرنے کی گنجائش ہے، کسی حادثے کی صورت میں یا جنگ کی صورت میں بھی پردہ نہ کرنے پر مواخذہ نہیں ۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالتِ احرام کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے احکام زمان اور مکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ۔ جیسے عرفہ میں ظہر و عصر کا ایک ساتھ پڑھنا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ عشاء کے وقت ادا کرنا ۔ اسی طرح شریعت نے دورانِ احرام پردے میں تخفیف کردی کہ عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے بلکہ کھلا رکھے ۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کہ البتہ کسی نامحرم کے سامنے آنے پر وہ اپنے چہرے کو چھپا لے تاکہ اس جگہ بدنگاہی اور بے پردگی نہ ہو۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا قطعاََ دشوار نہیں ہے کہ '' حجاب یا پردہ '' کی اصل صورت کیا ہے اور کن حالتوں میں اس سے استثنی ہے نیز ہم جو پردہ کرتے ہیں وہ کس حد تک اسلامی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
استفادہ 
قرآن پاک 
احکام ستر و حجاب ۔۔ مولانا عبدالرحمان کیلانی

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار