منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-26 23:52:43    87 Views سوشل میڈیا اور دینی طبقہ  /  محمد اسحاق قریشی

سوشل میڈیا اور دینی طبقہ

تحریر:  مولوی انوار حیدر

احباب سے گذارش ہیکہ اِس پوسٹ کو اپنی پیاری سی فیسبک وال پہ شیئر کردیجیئے تاکہ یہ پیغام زیادہ سے دوستوں تک باالخصوص مدارس کے نئے فضلاء تک پہنچ سکے تقریباً ایک عشرہ (دس سال قبل) سوشل میڈیا پہ مستشرقین،
مستغربِین، قادیانی، سیکولرز و لبرلز، متجددین، اور ملحدین نے بتدریج اپنا فکری اور تشہیری کام شروع کیا، صدیوں پرانے گِھسےپِٹے بوگس سوالات حل شدہ اعتراضات کو نئے عنوانات کیساتھ پیش کرتے اور کم علم مسلمانون کو شک میں ڈال جاتے، اِس طرف سے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے اکثر نوجوان تھے اور اکثریت اپرکلاس سوسائٹی سے تھی، عموماً تب یہاں پہ دینی تعلیم سے واقفیت رکھنے والے لوگ بہت کم تعداد میں ہوتے تھے، ضرورت تھی کہ اِس منفی پروپیگنڈے کا ٹھوس جواب دیا جائے، پہلے مرحلہ میں ہماری یونیورسٹیز سے تعلق رکھنے والے ماسٹر لیول کے کچھ احباب اور دیگر طلباء اِس طرف متوجہ ہوئے، عقیدے کی سچائی کے یقین کیساتھ یہ لوگ یہاں بِھڑگئے جیسا کہ دوستوں سے سنا ہے یہاں دنوں ہفتوں تک مباحثے جاری رہتے، کئی یادگار اور نتیجہ خیز مناظرے اور مکالمے یہاں وقوع پذیر ہوئے، چند سال بعد انڈرائڈ موبائل کے آنے سے سوشل میڈیا تک عوامی طبقات کی رسائی نسبتاً آسان ہوگئی، اِس کا منفی استعمال تو بہرحال زیادہ پھیلا لیکن ایک بڑی تعداد سنجیدہ لوگوں کی بھی اِس طرف متوجہ ہوئی، یہاں موجود مخالفانہ مواد بہت سارے لوگوں کیلئے نیا تھا، کچھ بیچارے مطالعہ اور تحقیق کی جستجو میں تشکیک کا شکار ہوتے گئے، کچھہ اعوذبااللّٰہ پڑھ کے کنارہ کرتے گئے تو کچھ بسم اللّٰہ پڑھ کے رد کرنے اور جواب دینے میں جُٹ گئے، حق و باطل کی اِس معرکہ آرائی میں ہر طرح کے نتیجے نکلے، نقصان بھی اٹھانا پڑا اور فتوحات بھی حاصل ہوتی رہیں، بغیر کسی لگی لپٹی کے کہنا پڑیگا کہ اِس معرکہ کے اولین کارکنان عصری تعلیمی اداروں سے ہی تعلق رکھتے تھے، دینی مدارس کے طلباء اور فضلاء بہت بعد میں سوشل میڈیا پہ آئے، جب آئے تو اول اول اُنہیں اپنے روایتی موضوعات تک ہی محدود رہنا پڑا، بین المسالک موضوعات ہی اُن کا مدعا موضوع اور خطبہ تھے، لیکن ایک ہی پلیٹ فارم پہ قریب میں استشراقیت، جدیدیت و غامدیت، تشکیک و الحاد کے زیادہ اہم موضوعات زیرِبحث تھے، چنانچہ بتدریج یہ حضرات بھی اُدھر جانے لگے، ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا پہ بین المسالک مباحثے عروج پہ ہوتے تھے، ایک دوسرے کے رد کیلئے مضبوط ترین گروپ بنائے ہوئے تھے، لیکن جب مشترکہ عقائد و عمومی فکری مفادات پہ بیرونی حملہ آرائی دیکھی تو محنت کا رخ پھرنے لگا، گفتگو کا دائرہ بین المسالک موضوعات سے نکل کر بین المذاہب موضوعات پہ جا پہنچا، ایک دوسرے کے فریق باہم رفیق بن گئے، ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے، اور یہ ایک یادگار سنگم تھا جب دو تعلیمی نظاموں سے تعلق رکھنے والے مختلف مسالک کو فالو کرنے والے ایک رخ پہ آگئے، سابقہ نسبتیں فراموش ہونے لگیں اور سابقہ جھگڑے مِٹنے لگے، عصری اور دینی ۔ ۔ تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والوں نے متحد ہوکر بےدینی، تشکیک اور الحاد کے آگے ایک مضبوط دیوار کھڑی کردی، الحمدللہ اُسی اتفاق کی برکت ہے کہ آج سوشل میڈیا کے خصوصاً اردو حلقہ میں دینی فکر کا دعوےٰ مضبوط پوزیشن اختیار کرچکا ہے، کوئی بھی سوال کہیں سے بھی سامنے آئے درجنوں بندے اُس کا جواب دینے کیلئے دستیاب ہوتے ہیں، اگلی بات اور آخری بات چونکہ سوشل میڈیا پہ وقفہ اور چھٹی کا کوئی امکان نہیں تو متواتر ایک لیول برقرار رہنے سے کام یکسوئی اختیار کرگیا، جمود بھی محسوس ہونے لگا، احباب بتاتے ہیں بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ مہینوں پہلے ہوچکی بحث کے سوالات کسی نے دوبارہ چھیڑدیئے تو بوریت محسوس ہونے لگتی ہے، اگر کسی نے دلیل قبولنے سے انکار کیا تو فرسٹریشن محسوس ہونے لگی، ایسے مواقع پہ ذمہ دار اور پرانے لوگ تو کنارہ کرجاتے لیکن نوآموز بعض مرتبہ الجھ پڑتے اِس سے بعض مرتبہ نقصان بھی ہوا مقابل آدمی بجائے سمجھنے کے مایوس ہوکے ہٹ گیا، یا کبھی مخالف ہی ہوگیا جبکہ سال دوہزار سولہ سترہ میں اِن تمام طبقات میں اور تمام موضوعات پہ ناگہانی طور پہ یکدم تیزی آگئی، ہر طرف سے تابڑتوڑ بحث مباحثےشروع ہوگئے، اکثر مواقع پہ الحمدللّٰہ نتیجہ مثبت ہی جارہا ہے لیکن کام کی وسعت اور تیزی کے مدنظر اب محسوس ہونے لگا ہے کہ دینی فکر کیلئے کام کرنے والوں کو سوشل میڈیا پہ نئے سرے سے صف بندی کی ضرورت ھے اور اِس کیلئے دینی مدارس اور دینی تنظیمات سے تعلق رکھنے والی معتبر شخصیات جید علماء کی پہلے سے زیادہ تعداد کو یہاں متوجہ کرنا ضروری ہوگیا ھے، الحمدللّٰہ مدارس میں ایسے بہت علماءِ کرام موجود ہیں جو بات کو علمی منطقی انداز میں مدلَّل طور پہ احسن انداز میں سمجھاسکتے ہیں، اُنہیں اِس طرف متوجہ کرنا ہے کہ حضرت یہاں بھی آپکی ضرورت ہے، بقدرِ فرصت تھوڑا بہت وقت سوشل میڈیا پہ دیدیا کریں، کسی نہ کسی کو علمی فائدہ ضرور پہنچیگا آپکو اجر ملیگا، اِس کے ساتھ ساتھ درسِ نظامی سے فارغ ہونے والے نئے فُضلاء کو بھی اِس طرف متوجہ کیا جانا چاہیئے، ہاں نئے آنے والوں کو یہاں کی نزاکتیں اور چلاکیاں بتانا نہ بھولئییگا یہاں موجود پرانے احباب سے مزید سنجیدگی، یکسوئی اور توجہ کی اپیل ہے کہ اِس سلسلہ میں آپ بھی اپنا کردار ادا کیجیئے، نیکی کر دریا میں ڈال صلہ اور اجر اللّٰہ دیگا

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار