منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-26 01:13:40    126 Views تحریک استشراق کا آغاز  /  محمد اسحاق قریشی

تحریک استشراق کا آغاز

 اگرچہ لفظ استشراق نومولود ہے لیکن تحریک استشراق کا آغاز بہت پہلے ہی ہو چکا تھا۔ اہل مغرب کی اسلام دشمنی کی تاریخ کا آغاز حضرت محمد ﷺ پر غار حرا میں پہلی وحی کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ اہل مغرب سے یہاں میری مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں جو مشرکین مکہ کے بعد اسلام کے دوسرے مخاطب تھے۔ یہود و نصاری کی کتب و صحائف میں آخری سمانے میں آنے والے ایک نبی کا ذکر بڑی صراحت اور واضح نشانیوں کے ساتھ مذکور تھا۔ وہ اپنی کتابوں اور انبیاء بنی اسرائیل کی پیش گوئیوں کی روشنی میں ایک آنے والے نبی کے منتظر تھے اور ان کو اس حد تک اس نبی کی آمد اور مقام آمد کا یقین تھا کہ انہوں نے مدینہ منورہ کو اپنا مرکز بنا لیا تھا اور عربوں کو اکثر جتلاتے رہتے تھے کہ عنقریب ہمارا ایک نبی آنے والا ہے اور ہم اس کے ساتھ مل کر سارے عرب پر غلبہ حاصل کر لیں گے ۔ جیسا کہ قرآن مجید اس کو یوں بیان کرتا ہے :۔

وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ

(البقرة:89)

اور اس سے پہلے وہ کفار پر فتح مانگا کرتے تھے، پھر جب ان کے پاس وہ چیز آئی جسے انہوں نے پہچان لیا تو اس کا انکار کیا، سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

اللہ عزوجل نے فرمایا کہ یہودی اور عیسائی اپنی کتابوں میں بیان کردہ نشانیوں کے لحاظ سے حضرت محمد ﷺ کو یقینی طور پر بطور نبی جانتے اور پہچانتے تھے جیسا کہ ارشاد ہے کہ :۔

 

الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ

(البقرة:146)

وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی تھی وہ اسے(محمد ﷺ) پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور بے شک کچھ لوگ ان میں سے حق کوچھپاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں۔

بنی اسرائیل چونکہ اپنے آپ کو اللہ کی پسندیدہ قوم سمجھتے تھے اور اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ اپنی تمام تر نافرمانیوں کے باوجود وہ جنت میں جائیں گے اور یہ کہ وہ خدا کی چہیتی قوم ہیں ۔جب ان کی تمام تر خوش گمانیوں کے برعکس اللہ عزوجل نے اپنے آخری نبی ﷺ کو بنی اسماعیل میں مبعوث فرمایا تو یہود نے فرشتہ جبرائیل علیہ السلام کو اپنا دشمن قرار دے دیا کہ انہوں نے دانستہ وحی یہود کے بجائے بنی اسماعیل کے ایک فرد محمد ﷺ پر نازل کر دی ہے۔ چنانچہ اس جلن اور حسد کی وجہ سے انہوں نے جانتے بوجھتے آپ ﷺ کا انکار کر دیا۔ اسی حسد اور جلن نے یہود و نصاری کو مسلمانوں کا دشمن بنا دیا۔

چنانچہ اسی پس منظر کے باعث مغربی مفکرین بلعموم اسلام کے بارے میں منفی انداز فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور اسلام کے تمام تعمیری کاموں کو نظر انداز کر کے صرف انہی پہلوؤں پر زور دیتے ہیں جن کے ذریعے وہ لوگوں میں اسلام کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا سکیں

چنانچہ اسی حسد کی وجہ سے عیسائیوں اور یہودیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیئے ہر ایک حربہ آزمایا لیکن ناکام رہے۔ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیئے گئے معاہداے کی خلاف ورزی کی پاداش میں یہود کو مدینہ سے نکال دیا گیا اور ان کی نسلی و علمی برتری کا نشہ ٹوٹ گیا۔ اسلام کے شاندار اور تابندہ نظریات کے آگے ان کی ایک نہ چلی بلکہ یہود و نصاری کے مذہبی اور روحانی مرکز بیت المقدس پر بھی مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ظہور اسلام کے ایک سو سال مکمل ہونے سے پہلے ہی اسلام اپنے آپ کو دنیا میں ایک روشن خیال، علم دوست، شخصی آزادیوں کے ضامن، عدل و انصاف، رواداری اور احترام انسانیت جیسی خوبیوں سے متصٖ دین کے طور پر منوا چکا تھا۔اور یہ کامیابی یہود و نصاری کو ہر گز گوارا نہ تھی۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری کی ریشہ دوانیوں کا آغاز حیات نبوی ﷺ میں ہی ہو چکا تھا ۔ لیکن ان کارروائیوں کا عملا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ مسلمان ذہنی اور علمی لحاظ سے یہود و نصاری سے کہیں آگے تھے اس لیئے دشمنان دین کی سرگرمیاں زیادہ تر جنگ و جدل تک ہی محدود رہیں لیکن اس محاذ پر بھی مسلمانوں کی برتری قائم رہی اور اسلامی ریاست کی حدود پھیلتی گئیں یہاں تک کہ یہود و نصاری کے مذہبی مقامات بیت المقدس وغیرہ بھی مسلمانوں کے قبضے میں آ گئے۔ خیر القرون کے خاتمے کے بعد یہود و نصاری کے پروردہ لوگوں نے مسلمانوں میں غلط عقائد و نظریات کو فروغ دینا شروع کر دیا مسلمانوں کے باہمی اختلافات کو بھڑکایا اور غلط فہمیاں پیدا کرنا شروع کیں۔

پہلا آدمی جس نے باقاعدہ طور پر اسلام کے خلاف تحریری جنگ شروع کی وہ جان آف دمشق یوحنا دمشقی 749ء تھا۔ جو خلیفہ ہشام کے زمانے میں بیت المال میں ملازم تھا۔ اس نے ملازمت ترک کر دی اور فلسطین کے ایک گرجے میں بیٹھ کر مسلمانوں کی تردید میں کتابیں لکھنے لگا۔  اس نے اسلام کے خلاف دو کتب " محاورہ مع المسلم" اور "ارشادات النصاری فی جدل المسلمین" لکھیں۔ یہ دونوں تصانیف اسی مقصد کے تحت لکھی گئی تھیں جس کے تحت مستشرقین نے تصنیفات کے انبار لگا دیئے ہیں اس لیئے ٰوحنا دمشقی کی مساعی کو تحریک استشراق کا نقطہ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اس تحریک کا آغاز 1312ء میں ہوا جن فینا میں کلیسا کی کانفرنس ہوئی جس میں یہ طے کیا گیا کہ یورپ کی جامعات میں عربی، سریانی، اور عبرانی زبان کی تدریس کے لیئے چئیرز مقرر کی جائیں ۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ تحریک دسویں صدی میں شروع ہوئی جب فرانسیسی پادری جربرٹ ڈی اوریلیک(Gerbert d’Aurillac) حصول علم کے لیئے اندلس گیا اور وہاں کی جامعات سے فارغ التحصیل ہونے لے بعد 999ء سے لیکر 1003ء تک پوپ سلویسٹر ثانی کے نام سے پاپائے روم کے منصب پر فائز رہا۔ اسی طرح بعض نے اس کا آغاز 1229ء سے قرار دیا ہے جب قشالیہ (Castile)کے شاہ الفانسو دہم نے 1229ء میں مرسیا (Murcia) میں اعلی تعلیم کا ایک ادارہ قائم کیا اور مسلم، عیسائی اور یہودی علماء کو تصنیف و تالیف اور ترجمے کا کام سونپا۔

اسی طرح بعض کے نزدیک اس تحریک کا بنی پطرس تھا جو کلونی فرانس کا رہنے والا تھا۔ اس نے اسلامی علوم کے تراجم کے لیئے مختلف علماء پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی جس میں مشہور انگریزی عالم رابرٹ آف کیٹن بھی تھا اس نے قرآن مجید کا پہلا لاطینی ترجمہ کیا جس کا مقدمہ پطرس نے لکھا۔ اہل مغرب نے سمجھ لیا تھا کی مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے انہیں علمی میدان میں مسلمانوں کو شکست دینی ہو گی۔ اس لیئے انہوں نے مختلف طریقے اختیار کیئے ایک طرف اپنے اہل علم کو مسلمانوں کے علوم و فنون سیکھنے پر لگا دیا اور دوسری طرف مسلمانوں میں ان کے افکار کو دھندلانے کی کوشش کی ۔ 1539ء میں فرانس، 1632ء کیمبرج اور 1638ء میں آکسفورڈ میں عربی و اسلامی علوم کی چیئرز قائم کی گئیں۔ 1671ء میں فرانس کے شاہ لوئی چہار دہم نے تمام اسلامی ممالک سے اپنے کارندوں کے ذریعے سے مخطوطات اکٹھے اور سلسلے میں تمام ممالک میں موجود سفارت خانوں کو ہدایت کی کہ اپنے تمام افادی و مالی وسائل استعمال کریں ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار