منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-23 07:48:27    177 Views پنک کلر کی گڑیا  /  محمّد سلیم

پنک کلر کی گڑیا

راحت علی ہاسپٹل کے زچہ بچہ وارڈ کے باہر بڑی بے چینی سے کھڑے تھے ۔ ان کی زندگی میں بہار آنے والی تھی اور انہیں اس بہار کا بے صبری سے انتظار تھا ۔ الٹراساؤنڈ کے ذریعے انہیں پہلے ہی پتہ تھا کہ آنے والا کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ننھی پری ہو گی ۔ مگر وہ خوش تھے ۔ بہت خوش ۔ اپنی حیثئیت سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے میں مصروف تھے ۔ معمولی نوکری تھی ۔ جمع پونجی کچھ خاص نہیں تھی ۔ جو بچی ابھی اس دنیا میں آئی نہیں تھی اس کے کپڑے خریدے جا چکے تھے ۔ اس کے فیڈر سے لے کر پیمپرز تک ہر چیز خریدی جا چکی تھی ۔ دوائیوں اور ہسپتال کے سارے اخراجات ملا کر اب تک قریباً بیس ہزار روپے خرچ ہو چکے تھے ۔ انہوں نے دس ہزار تک کا تخمینہ لگایا ہوا تھا ۔ مزید پیسے ایک دوست سے ادھار پکڑے تھے ۔ کوئی بات نہیں خوشی کے موقعوں پر اتنا خرچہ تو ہو ہی جاتا ہے ۔ پھر ایک خوش خبری اور ساتھ ہی نرسوں اور آیاؤں کی قطار ۔ سب کی تھوڑی تھوڑی خدمت ضروری تھی ۔ سب کو مٹھائی کے پیسے دیئے تو ایک ننھی منی سی پری کو گود میں لینا نصیب ہوا ۔ گود میں لیتے ہی کلیجے کو ٹھنڈ پڑ گئی ۔ پیسے پورے ہو گئے ۔

آج راحت علی صاحب کی بیٹی کی پہلی سالگرہ تھی ۔ زیادہ خرچہ افورڈ نہیں کر سکتے تھے ۔ آفس سے کچھ پیسے ایڈوانس پکڑ کر ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی تھی ۔ کچھ اپنے رشتے دار کچھ بیگم کے اور بس ۔ اس وقت وہ کھلونوں کی دکان میں کھلونے دیکھنے میں مصروف تھے ۔ محدود پیسوں میں انتخاب اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ کم قیمت کے کھلونے ان کو پسند نہیں آ رہے تھے ۔ جو پسند آرہے تھے وہ مہنگے بہت تھے ۔ آخر ایک پنک کلر کی گڑیا پہ ان کی نگاہیں ٹک گئیں ۔ میری بیٹی کو یہ بہت پیاری لگے گی ۔ تھوڑی مہنگی تھی مگر بہت پیاری تھی ۔ ایک سال کی سارہ پنک کلر کے فراک میں اپنی سالگرہ پہ بالکل پری لگ رہی تھی ۔ پنک کلر کی گڑیا دیکھ کر اس کا چہرہ دمک اٹھا اور راحت علی صاحب کے پیسے پورے ہو گئے ۔

 سارہ چار سال کی ہو چکی تھی ۔ اس کی عمر کی تمام بچیوں نے اسکول جانا شروع کر دیا تھا ۔ وہ بھی فرمائش کرنے لگی تھی ۔ "بابا ! میرا یونیفارم کب لائیں گے ؟" "آج ہی لاؤں گا بیٹا ۔" وہ اپنے دوست کی دکان پہ موجود تھے ۔ کچھ قرضہ درکار تھا ۔ ان کا دوست ان کو کبھی مایوس نہیں کرتا تھا ۔ بعد میں وہ تھوڑا تھوڑا کر کے چکا دیتے ۔ اگلی صبح ان کی پیاری بیٹی نئے یونیفارم اور نئی کتابوں کے ساتھ اسکول جا رہی تھی ۔ سارہ بہت خوش تھی ۔ راحت علی صاحب کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ تھی ۔ ان کے پیسے پورے ہو گئے تھے ۔

 ہر سال نئے اخراجات ہر سال نئی کتابیں ۔ پھر سارہ کی ننھی منی خوشیاں پوری کرنے کے لئے اضافی اخراجات ۔ گھر کے دیگر اخراجات اس کے علاوہ تھے ۔ مگر راحت علی صاحب اپنی بیٹی کی خوشی دیکھ کر اپنی ہر مجبوری و غربت بھول جاتے تھے ۔ منازل پہ منازل طے کرتی سارہ آج کالج پہنچ چکی تھی ۔

"آپ کی سارہ کو محبت ہو گئی ہے ۔" بیگم کے جملے نے راحت علی صاحب کو چونکا دیا ۔ بچیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں ۔ "کون ہے وہ ؟" انہوں نے پوچھا ۔ "غلام مصطفیٰ کا بیٹا احسن ۔ اس کے کالج میں ساتھ پڑھتا ہے ۔" بیگم نے نام بتایا اور راحت علی صاحب کے قدموں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ۔ غلام مصطفیٰ ان کے محلے کا سب سے بدنام شخص تھا ۔ پرائز بونڈ کی پرچیوں کے حرام کاروبار سے پنپنے والا یہ شخص آج دنیا میں ایک مقام حاصل کر چکا تھا ۔ "سارہ کو پیار سے سمجھا دو ۔ مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ۔" انہوں نے فیصلہ سنایا ۔

"بابا ! آپ کون ہوتے ہیں میری قسمت کا فیصلہ کرنے والے ؟ احسن میری محبت ہے اور میں اپنی محبت پہ کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ میں نئے زمانے کی پڑھی لکھی لڑکی ہوں ۔ کوئی بھیڑ یا بکری نہیں جسے آپ اپنی مرضی سے کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیں گے ۔ اگر آپ اپنی مرضی سے میری شادی احسن سے نہیں کریں گے تو میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی ۔" سارہ کا جواب دو ٹوک تھا ۔ ایک پڑھی لکھی بیٹی کے آگے باپ لاجواب ہو چکا تھا ۔ زبان گنگ تھی ۔ سارہ اپنا فیصلہ سنا کر واپس اپنے کمرے میں جا چکی تھی اور راحت علی صاحب کو ہکا بکا چھوڑ گئی تھی ۔ اگلے دن صبح لوگوں کو کمرے سے ایک باپ کی لاش ملی ۔ جس کی زندگی کا سارا سرمایہ ڈوب چکا تھا ۔ موت کا سبب دل کی دھڑکن کا بند ہو جانا تھا ۔ لاش کے پاس ایک گڑیا پڑی تھی

 

پنک کلر کی گڑیا ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار