منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-23 07:45:38    92 Views قرون وسطیٰ کے مسلمان  /  محمد اسحاق قریشی

قرون وسطیٰ کے مسلمان

اہل مغرب جس دور کو قرون وسطیٰ کے نام سے یاد کرتے ہیں یہی دور طلوع اسلام اور اسلامی عروج و ارتقاء کا دور ہے۔اس دور میں مسلمانوں نے ایک طرف سیاسی اور عسکری فتوحات کے ذریعے ایک عالم کو اپنا زیر نگین بنایاتو دوسری طرف انہوں نے علم و تہذیب کے میدان میں وہ ترقی کی جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ ساتویں صدی عیسوی کے اوائل میں مدینہ طیبہ میں اسلامی ریاست کی ابتداء ہوئی۔اور نویں صودی عیسوی کے وسط تک اسلامی سلطنت کی حدود شمال میں بحیرہ اسود، جنوب میں ملتان، مشرق میں سمرقند اور مغرب میں جنوبی فرانس اور ساحل اوقیانوس تک پھیلی ہوئی تھیں۔اس زمانے میں بغداد، ایران ، مصر، سپین اور سسلی سے اسلامی علوم و فنون اور تہذیب و تمدن کی نورانی لہریں اٹھ رہی تھیں۔اور ایک عالم کو بقعہ نور بنا رہی تھیں۔مسلمان جہاں گئے وہاں خوبصورت عمارتوں، رنگا رنگ پارکوں،سڑکوں، نہروں، باغات، پلوں، تالابوں،مدرسوں اور کتب خانوں کا جال بچھا دیا۔انہوں نے دنیا بھر سے علمی شاہپارے اکٹھے کیئے۔ انہیں جہاں بھی کسی عالِم کی موجودگی کا علم ہوا ، اسے دربار خلافت میں لا کر علم کی خدمت پر مامور کر دیا۔
انہوں نے علماء کی حوصلہ افزائی کی جس کے نتیجے میں علماء نے یونان کے فلسفہ کو عربی میں منتقل کیا۔اس کی خامیاں تلاش کیں۔اور انہوں نے اس جامد فلسفہ کو اپنے مسلسل تجربات کے ذریعے انسانیت کی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی ان مسلسل کوششوں سے اسلامی شہروں اور ان شہروں میں بسنے والوں کی جو کیفیت تھی اس کی ایک جھلک پیش خدمت ہے :۔
عہد مامون (813- 833) میں بغداد کی آبادی دس لاکھ تھی ۔ جس میں تیس ہزار مساجد،دس ہزار حمام،ایک ہزار محل اور آٹھ سو اطباء تھے ۔نیز ایک دارالحکمت تھاجس میں ایران، عراق، شام،مصر اور ہندوستان کے سینکڑوں حکماء دنیا بھر کے علوم و فنون کو عربی میں منتقل کر رہے تھے ۔سڑکوں پر ہر روز گلاب اور کیوڑے کا عرق عرق چھڑکا جاتا تھا۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
ول ڈیوران لکھتا ہے کہ دمشق میں سو حمام،سو فوارے،پونے چھ سو مساجداور بے شمار باغات تھے ۔ آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد تھی۔شہر کاطول بارہ میل اور عرض تین میل تھا۔یہاں ولید اول(705-715) نے ایک مسجد تعمیر کرائی جس پر بارہ ہزار مزدور آٹھ سال تک کام کرتے رہے۔(ول ڈیوران "دی ایج آف فیتھ")
رابرٹ بریفالٹ لکھتا ہے کہ عربوں کے نفیس کتانی، سوتی، اونی  اور ریشمی لباس، بغداد کے حریر و پرنیاں، دمشقی مشجر، موصل کی ململ، غازہ کی جالی، غرناطہ کے اونی کپڑے، ایرانی تافتہ اور طرابلس کے شیفون نے یورپ کے نیم برہنہ  آبادی کو اعلیٰ لباس کا شوقین  بنا دیا۔اس قسم کے مناظر اکثر دیکھنے میں آئےکہ بشپ گرجے میں عبادت کر رہا ہے اور اس کی عبا پر قرآنی آیات کاڑھی ہوئی ہیں۔مرد تو رہے ایک طرف عورتیں بھی عربی قمیص اور جبہ بڑے شوق سے پہنتی تھیں۔سپین اور سسلی میں بے شمار کرگھے تھے۔ صرف اشبیلہ میں سولہ ہزار تھے۔قرطبہ میں ریشم بافوں کی تعداد ایک لاکھ تین ہزار تھی۔سسلی کے پایہ تخت میں تین ہزار سے زائد جامہ باف تھے۔ ان کی تیار کردہ عباؤں، قباؤں اور چادروں پر قرآنی آیات بھی رقم ہوتی تھیں۔جنہیں عیسائی بادشاہ اور پادری بڑے فخر سے پہنتے تھے۔سسلی میں عیسائی عورتیں نقاب اوڑھتی تھیں۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تشکیل انسانیت)۔
عبد الرحمٰن سوم (912-961) کے زمانے میں قرطبہ کی آبادی پانچ لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔اس میں سات سو مساجد،تین سو حمام، ایک لاکھ تیرہ ہزار مکانات،اکیس مضافاتی بستیاں اور ستر لائبریریاں تھیں۔اس میں شیشہ سازی اور چمڑہ رنگنے کے کارخانےتھے، مسلمانوں نے سسلی میں نہریں نکالیں، دور دراز سے شفتالو اور لیموں وغیرہ کے درخت منگوا کر لگوائے۔ کپاس اور نیشکر کو عام کیا۔ریشم کو رواج دیا ۔ تعمیرات میں سرخ و سفید پتھر استعمال کیا۔ نوکدار محرابوں، آرائشی طاقچوں،جالیوں اور میناروں کو مقبول بنایا۔ محلات و مساجد پر خط طغرائی میں آیات نویسی کا سلسلہ شروع کیا۔جابجا درسگاہیں اور کتب خانے قائم کیئے۔ایک سو تیرہ بندرگاہیں بنائیں اور وہاں کے لوگ اسلامی تہذیب سے اتنے متاثر ہوئے کہ ان کا لباس،تمدن، نظام تعلیم اور رہن سہن سب کچھ اسلامی سانچے میں ڈھل گیا۔(یورپ پر اسلام کے احسانات)
مسلمانوں کی بلند اخلاقی:۔
اسلام کی تعلیمات میں حسن اخلاق کوانسانیت کا زیور قرار دیا گیا ہے۔حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی  کا مفہوم ہے کہ تم میں سے حسین ترین شخصیت کا مالک وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔حضور اکرم ﷺ معلم اخلاق کی حثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن حکیم کی تعلیمات اور حضور اکرم ﷺ کے ارشادات نے امت مسلمہ کو جس بلند اخلاقی کے زیور سے آراستہ کیا، اس کی جھلک مسلمان معاشروں میں ہر دور میں عیاں نظر آتی رہی ہے۔دراصل یہی بلند اخلاقی مسلمانوں کا اصل ہتھیار رہاہے جس کی بدولت وہ دشمنوں کے دل جیتنے میں کامیاب رہے اور مفتوح اقوام کے دلوں میں اپنے لیئے عقیدت و احترام کا وہ جذبہ پیدا کیا  جس کی نظیر تاریخ اقوام و ملل میں ملنی محال ہے۔
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمان اہلیان شام سے جزیہ وصول کیا کرتے تھے۔ایک بار ایسا ہوا کہ مسلمان رومیوں کے دباؤ کی وجہ سے اس علاقہ کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔مسلمانوں کے سپہ سالار امین الامت حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے رومیوں سے وصول کردہ تمام جزیہ واپس کر دیا اور فرمایا کہ ہم نے یہ جزیہ تم سے اس شرط پر لیا تھا کہ ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ موجودہ حالات میں چونکہ ہم تمہاری حفاظت نہیں کر سکتے اس لیئے جزیہ واپس کر رہے ہیں۔
کیا رقت انگیز منظر تھا کہ مسلمان واپسی کے لیئے رخت سفر باندھ رہے تھے اور عیسائی مسلمانوں کو جاتے ہوئے دیکھ کر زار و قطار رو رہے تھے ۔ان کا پوپ انجیل ہاتھ میں پکڑ کر کہہ رہا تھا"اس مقدس کتاب کی قسم !اگر کبھی ہمیں اپنا حاکم خود مقرر کرنے کا اختیار دیا گیاتو ہم عربوں کو ہی منتخب کریں گے۔ (بحوالہ یورپ پر اسلام کے احسانات)
سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے قیصر رومنس کو شکست دے کر گرفتار کر لیا۔قیصر کو سلان کے سامنے پیش کیا گیا۔سلطان نے پوچھا اگر میں گرفتار ہو کر تمہارے سامنے پیش کیا جاتاتو تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے؟قیصر نے جواب دیا "کوڑوں سے تمہاری کھال کھینچ لیتا"۔ سلطان نے کہا مسلم اور عیسائی میں یہی فرق ہے۔ اس کے بعد قیصر کی خدمت میں بیش بہا تحائف پیش کیئے اور اسے بڑے احترام کے ساتھ رخصت کیا۔ (بحوالہ  ایج آف فیتھ) برطانیہ کے بادشا رچرڈ شیردل کو صلیبی جنگوں کا ہیرو تصور کیا جاتا ہے۔ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے خلاف مسلسل برسرپیکار رہا۔ایک مرتبہ جب وہ بیمار ہوا تو اس کی بیماری کے دوران سلطان صلاح الدین ایوبی اسے مفرحات اور پھل وغیرہ بطور تحفہ بھیجتا رہا۔
موسیو لیبان لکھتا ہے کہ "عربوں نے چند صدیوں میں اندلس کو مالی اور علمی لحاظ سے یورپ کا سرتاج بنا دیا" یہ انقلاب صرف علمی اور اقتصادی نہ تھا بلکہ اخلاقی بھی تھا۔ انہوں نے نصاریٰ کو انسانی خصائل سکھائے۔ان کا سلوک یہود و نصاریٰ کے ساتھ وہی تھا جو کہ مسلمانوں کے ساتھ تھا۔ انہیں سلطنت کا ہر عہدہ مل سکتا تھا ۔ مذہبی مجالس کی کھلے عام آزادی تھی۔یہ وہ سلوک تھا جس سے متاثر ہو کر صرف غرناطہ میں انیس لاکھ عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔اسی سلوک کی وجہ سے مسلمان جس بھی علاقے میں گئے وہاں ان کی شان و شوکت اور ان کے دین کی عظمت  کے پرچم صدیوں لہراتے رہے۔
مسلمانوں کی علم دوستی:۔
اسلام علم و عمل کا دین ہے۔اس کی الہامی کتاب کا جو پہلا جملہ نازل ہوا  وہ  "اقرا باسم ربک الذی خلق"(سورۃ العلق) تھا۔یعنی پڑھیئے اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے (سب کو) پیدا فرمایا۔قرآن حکیم نے بار بار علم کی عظمت کو بیان فرمایا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات سے مسلمانوں کے اندر علم سے محبت کا وہ جذبہ پیدا فرمایا جس کی وجہ سے ان کی کثیر تعداد نے اپنی زندگیاں علم کے لیئے وقف کر دیں۔انہوں نے اپنی مادی ضروریات سے بے نیاز ہو کرالہامی علم کے نور سے اپنے سینوں کو منور کیا۔انہوں نے قرآن حکیم کے ایک ایک لفظ کو اپنے سینے کے اندر محفوظ کیا اسے سپرد قلم کیا اور آئندہ آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کیا۔انہوں نے حضور اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کا مکمل  اور جامع ریکارڈ تیار کیا۔ جو بات آپ ﷺ کی زبان اقدس سے نکلی یا جو کام آپ ﷺ نے کیا وہ پوری محنت اور دیانتداری کے ساتھ آئندہ نسلوں کی طرف منتقل کیا۔
قرآن حکیم نے مسلمانوں کو انفس و آفاق میں غور و تدبر کرنے کا بار بار حکم دیا۔اور مسلمانوں نے اس ارشاد خداوندی کی تعمیل میں اپنی زندگیاں کائنات کے مخفی اور سربستہ رازوں کی کھوج لگانے میں صرف کر دیں۔جب یورپ جہالت کی تاریکیوں میں سر سے پاؤں تک ڈوبا ہوا تھا اس وقت مسلمانوں کی علمی حالت کیا تھی ، اس کی چند ایک جھلکیاں پیش خدمت ہیں۔
یزید اول کے بیٹے خالد نے ایک دارالترجمہ قائم کیا۔ جس میں ایک پادری ایرن نامی نگرانی پر مامور تھا۔ خود خالد بھی مصنف تھا۔اب الندیم نے الفہرست میں خالد کی چار کتابوں کے نام دیئے ہیں۔
عباسی خلفاء نے دنیا کے ہر حصے میں آدمی بھیجے جو کہ کتابوں کے انبار لے کر واپس آئے۔ جہاں بھر کے علماء اور حکماء دربار خلافت میں طلب ہوئے اور تصنیف و ترجمہ پر مامور ہوئے۔ ان لوگوں نے تھیلز(640 ق م) سے لیکر بطلیموس (151ء) تک  کی تصانیف عربی میں منتقل کر لیں۔جالینوس اور ارسطو کی شروحات لکھیں۔بطلیموس کے بعض مشاہدات پر تنقید کی ۔اور نہایت محنت سے ستاروں کے مقام وحرکت کی فہرستیں مرتب کیں۔ خسوف و کسوف کے اسباب بتائے۔زمین کی جسامت متعین کی۔کئی قسم کے اصطرلاب بنائے۔ علماء کے ساتھ بعض وزراء ، امراء اور سلاطین بھی  کتب خانوں اور رصد گاہوں میں جا بیٹھے۔ حکمت یونان جسے دنیا بھول چکی تھی ، پھر سے زندہ کیا۔قرطبہ سے سمرقند تک ہزاروں درسگاہیں تعمیر کیں۔ان میں طلبہ کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ بقول ول ڈیوران:"جغرافیہ دانوں، مؤرخوں،منجموں، فقیہوں، محدثوں، طبیبوں اور حکیموں کے ہجوم کے سبب سڑکوں پر چلنا مشکل تھا۔جب سلطان محمود غزنوی کو معلوم ہوا کہ خوارزم شاہ کے دربار میں البیرونی اور ابن سینا جیسے علماء موجود ہیں تو اس نے خوارزم شاہ کو پیغام بھیجا کہ یہ علماء اس کے پاس بھیج دیئے جائیں۔محمود کے دربار میں چار سو علماء و شعراء تھے۔
ایک دفعہ مامون نے قیصر روم کو لکھا کہ وہاں کے ایک حکیم لیونامی کو دربار خلافت میں بھیج دیجئے۔ اس کے عوض چالیس من سونا دیا اور دائمی صلح کا وعدہ کیا۔مامون علماء دارلحکمت کی تصانیف کو سونے میں تولتااور یہ سونا مصنف کو دے دیتا۔جب شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ بغداد کے دارالعلوم نظامیہ میں داخل ہوئے تو اس وقت زیر تعلیم طلبہ کی تعداد سات ہزار تھی۔اور اس میں ابھی مزید طلبہ کی گنجائش موجود تھی۔مرزا حیرت دہلوی اپنی کتاب (حیات سعدی) میں لکھتے ہیں کہ دارالعلوم نظامیہ ایک پورا شہر تھا۔لاتعداد کمرے اور ایک وسیع و عریض ہال جس میں دس ہزار انسان سما سکتے تھے۔دارالعلوم میں قرآن، حدیث، فقہ، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، اور دیگر کئی اقسام کے علوم کی تدریس کا پورا انتظام موجود تھا۔ایک شعبہ اجنبی زبانوں کا تھا جہاں یونانی، عبرانی، لاطینی، سنسکرت اور فارسی پڑھائی جاتی تھیں۔تیر اندازی، تیغ بازی اور گھڑ سواری کی بھی مشقیں کرائی جاتی تھیں۔
جب گیارہویں صدی میں اٹلی کا ایک پادری پٹیر نامی حصول علم کے لیئے سپین گیا تو اس نے قرطبہ اور غرناطہ کے ہر خطے میں طلبہ دیکھے جن میں انگریز بھی تھے ۔ اساتذہ کا سلوک بیرونی ممالک کے طلبہ سے بڑا مشفقانہ اور فیاضانہ تھا۔خلیفہ کے محل میں ایک بہت بڑا کتب خانہ تھا۔جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔وہاں کاتبوں، جلد سازوں،اور نقاشوں کا ایک گروہ بھی تھا جس کا کام کتابوں کو نقل کرنا اور جلد باندھنا تھا۔خلیفہ کے درجنوں قاصد دنیا بھر سے کتابیں جمع کرنے پر مامور تھے۔ جامعہ قرطبہ عربوں کی قدیم ترین یونیورسٹی تھی۔جس کی بنیاد عبد الرحمٰن سوم نے ڈالی تھی۔اس میں یورپ، افریقہ اور ایشیا سے طلبہ آتے تھے۔اس کی لائبریری میں چھ لاکھ کتابیں تھیں۔ اس کی فہرست چوالیس جلدوں میں تیار ہوئی تھی۔عربوں نے ایک درسگاہ طلیطلہ میں قائم کی تھی۔جہاں یورپ کے ہر حصے سے طلبہ آتے تھے۔اس کالج سے بڑے بڑے اہل قلم نکلےمثلاََ رابرٹ(1140ء)جس نے قرآن حکیم اور خوارزمی کے الجبرا کو لاطینی میں منتقل کیا۔مائیکل سکاٹ، ڈینیل مارلے اور ایڈل ہارڈ جنہوں نے عربوں سے علوم سیکھےاور پھر یورپ میں علم کی روشنی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مسلمانوں نے اٹلی اور فرانس کے مختلف شہروں میں بھی مدارس قائم کیئے جہاں مسلمان فلاسفہ کی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں۔مسلمانوں نے نہ صرف مدارس قائم کیئے، کتابیں لکھیں بلکہ خلفاء ، سلاطین اور امراء کی علم دوستی نے کتابوں سے محبت کو ملت اسلامیہ کی پہچان بنا دیا۔دنیائے اسلام میں جہاں ہر یونیورسٹی اور کالج کے ساتھ ایک بہت بڑا کتب خانہ قائم تھاوہاں بے شمار لوگوں کے ذاتی کتب خانے بھی تھے۔ان نجی کتب خانوں میں کتابوں کے قیمتی ذخائر موجود تھے ۔ چند ایک کتب خانوں کی تفصیل پیش خدمت ہے:۔
مشہور محدث ابن شھاب  الزہری (742ء) کی کتابیں اس قدر تھیں کہ جب وہ ایک کتب خانے میں منتقل کی گئیں تو کئی خچر اور خر استعمال ہوئے۔
حماۃ(شام) کے والی مشہور مؤرخ ابولفداء(1331ء) کے پاس بہت بڑا کتب خانہ تھا جس میں دو سو علماء و کاتبین کتابیں لکھنے اور نقل کرنے پر مامور تھے۔
جب نصیر الدین طوسی نے ایران کے ایک شہر مراغہ میں رصد گاہ قائم کی تو ساتھ ہی ایک لائبریری بھی بنائی جس میں کتابوں کی تعداد چار لاکھ تھی۔
حملہ تاتار کے وقت بغداد میں چھتیس سرکاری لائبریریاں تھیں۔اور ہر تعلیم یافتہ آدمی کے پاس  بھی کتب کا خاصا ذخیرہ تھا۔
جس زمانے میں عالم اسلام میں کتابوں کی یہ بہتات تھی اس زمانے میں عیسائیوں کی سب سے بڑی لائبریری کنٹر بری میں تھی جس میں صرف پانچ ہزار کتابیں تھیں۔اور دوسری بڑی کائبریری فرانس میں تھی جس میں کل پانچ سو ستر کتابیں تھیں۔بحوالہ ایج آف فیتھ۔
لطف کی بات یہ ہے کہ جس زمانے میں یورپ کی سب سے بڑی لائبریری صرف پانچ ہزار کتابوں پر مشتمل تھی ، ول ڈیوران اس زمانے کے متعلق بڑے فخر سے کہتا ہے کہ لائبریریوں کی یورپ میں کثرت تھی۔حالانکہ یہ وہی زمانہ ہے جب عالم اسلام میں لائبریریوں کی بہتات تھی اور ایک ایک لائبریری لاکھوں کتب پر مشتمل تھی۔
مسلمانوں کے علمی کارنامے:
مسلمانوں نے علم اور سائنس کی دنیا میں جو کارنامے سرانجام دیئےان کی فہرست بڑی طویل ہے۔یورپ نے اپنے دور عروج میں جو سائنسی ترقی کی ہے اس کی بنیادیں مسلمانوں ہی نے رکھی ہیں۔
کولمبس بحر اوقیانوس کو عبور کر کے امریکہ جا پہنچا تھا لیکن اس مہم کے لیئے اس نے جو" قطب نما "استعمال کیا تھا وہ مسلمانوں ہی کا ایجاد کردہ تھا۔اسی کی مدد سے مسلمانوں کے جہاز جدہ سے چین جاتے تھے۔اور اسی کی مدد سے واسکوڈے گاماہندوستان تک نکل گیا تھا۔
بارود جیسے اہل یورپ راجر بیکن کی ایجاد سمجھتے ہیں وہ راجر بیکن سے صدیوں قبل مسلمان استعمال کر رہے تھے۔
نویں صدی عیسوی میں قرطبہ کے مسلمان سائنس دان ابن فرناس نے عینک، میزان الوقت،اور اڑنے والی ایک مشین یعنی طیارہ ایجاد کر کے بنی نوع انسان کی مادی ترقی کی بنیادیں رکھ دی تھیں۔
سپین کی مصنوعات کو افریقہ اور ایشیا لے جانے والابحری بیڑہ ہزار جہازوں پر مشتمل تھا۔سینکڑوں بندرگاہوں سے بحری جہاز تجارتی مقاصد کے لیئے سپین کی بندرگاہوں پر لنگرانداز ہوتے تھے۔
ہم یہاں مسلمان سائنس دانوں کی دومحیر العقول ایجادات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ ان سے مسلمانوں کی سائنسی میدان میں مہارت  کا اندازہ لگایا جا سکے:۔
جرمنی کا بادشاہ فریڈرک عربی علوم و تہذیب کا دلدادہ تھا۔وہ پوپ کے حکم سے صلیبی جنگوں میں شامل ہوا۔مصر و شام کے بادشاہ محمد الکامل نے اس کا دوستانہ استقبال کیااور جب فریڈڑک رخصت ہوا تو الکامل نے اسے ایک کلاک بطور تحفہ دیا۔کلاک پر ایک چاند اور ایک سورج بنا ہوا تھا۔اور کلاک کے آفتاب و ماہتاب، آسمانی آفتاب و ماہتاب کی حرکت کے عین مطابق حرکت کرتے تھے۔موسم کی تبدیلی کے باوجود ان کی حرکت آسمانی سورج و چاند کی حرکت کے عین مطابق رہتی تھی۔
ترکستان کے ایک شہر نخشب میں حکم بن ہاشم نے ایک چاند بنایا تھاجو غروب آفتاب کے ساتھ نخشب کے ایک کنویں سے نکلتا۔ تقریباََ سو مربع میل کے ایک رقبے کو رات بھر منور رکھتااور طلوع آفتاب سے عین پہلے ڈوب جاتا۔ہر موسم میں اس کا طلوع و غروب سورج کی حرکت کے عین مطابق ہوتا۔یہ چاند ماہ نخشب کے نام سے اسلامی ادب میں خاصی شہرت رکھتا ہے۔(یورپ پر اسلام کے احسانات بحوالہ تمدن عرب)
مآخذ و مصادر:۔
ضیا النبی ﷺ از کرم شاہ الزہروی رحمۃ اللہ علیہ
یورپ پر اسلام کے احسانات
تمدن عرب
 ایج آف فیتھ
تشکیل انسانیت
طبقات ابن سعد
وفیات الاعیان
معرکہ مذہب و سائنس

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار