منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-23 07:42:55    155 Views کیا قرآن میں جدت کا فقدان ہے  /  محمد اسحاق قریشی

کیا قرآن میں جدت  کا فقدان  ہے

اعتراض : قرآن حکیم میں جدت کا فقدان ہے
جواب:۔ مستشرقین نے قرآن حکیم کے متعلق یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیمات میں کوئی چیز نئی نہیں ۔ مستشرقین میں عام طور پر یہ فقرہ مشہور ہے کہ " قرآن حکیم میں جو کچھ جدید ہے وہ صحیح نہیں اور جو صحیح ہے وہ جدید نہیں "
مستشرقین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کی جو تعلیمات یہود و نصاریٰ سے اخذ کی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن جو باتیں آپ ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کی ہیں وہ صحیح نہیں ۔وہ اپنے اسی نظریے کو ذہن میں رکھ کر قرآن حکیم  کی تعلیمات کا منبع تلاش کرنے کے لیئے عہدنامہ قدیم و جدید کا مطالعہ کرتے ہیں۔جب انہیں قرآن حکیم کی کوئی بات سابقہ صحف سماویہ کے مطابق نظر آتی ہے تو بڑی خوشی سے اعلان کرتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ بات فلاں جگہ سے اخذ کی ہے تاکہ قاری یہ محسوس کرے کہ قرآن حکیم اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ نے دیگر کتب سماویہ سے نقل کر کے اس کو تصنیف کیا ہے۔مستشرقین صحف سماویہ کے علاوہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کی روایات، مکی زندگی کے رسوم و رواج اور جاہلی عرب شاعری میں بھی ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جن کو قرآن حکیم کا منبع قرار دیا جاسکے۔
مستشرقین سے ایک سوال ہے کہ انہوں نے یہ اصول کہاں سے حاصل کیا کہ سچ وہی ہوتا ہے جو نیا ہو یا دین وہی سچا ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے انسانی معاشرے میں موجود تمام عقائد، نظریات، روایات اور معمولات کو یکسر ملیامیٹ کر دے ۔اور پھر ان کے کھنڈروں پر عمارت نو تعمیر کرے؟ کیا اصلاحی تحریکیں وہی سچی ہوتی ہیں جو جو معاشرے کی ہر قدر کو ،صحت و سقم کی تمیز کے بغیرملیامیٹ کر دیں اور پھر نظریات، اخلاق، اقدار اور روایات کا وہ مجموعہ پیش کریں جس کی پہلے کہیں نظیر نہ ملتی ہو؟

یہ بات سچ ہے کہ اسلام کی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو نئی نہیں مگر یہ بات بھی غلط ہے کہ اسلام نے یہ سب کسی انسانی ذریعے سے حاصل کیں۔ اسلام نے یہ دعوی کب کیا ہے کہ جو تعلیمات اس نے پیش کیں وہ اس سے پہلے کسی نبی یا رسول نے پیش نہیں کیں؟ اسلام کا تو دعوی ہی یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور اکرم ﷺ تک تمام انبیاء و رسل عظام ایک ہی پیغام کے علمبردار رہے۔ حق ناقابل تغیر ہوتا ہے وہ زمانے کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔جو بات حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں بھی حق تھی ۔جو بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھی حق تھی ۔چونکہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام حق ہی کے علمبردار تھے تو ان کے پیغامات میں موافقت ایک قدرتی بات ہے۔

دور حاضر میں موجودقرآن کے علاوہ دیگر صحف سماویہ میں جو تضاد نظر آتا ہے وہ اس لیئے نہیں کہ پیغمبران کرام ایک دوسرے سے متضاد پیغامات لے کر آئے تھے بلکہ اس لیئے ہے کہ یہود و نصاریٰ نے صدیوں اپنے صحائف کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔اگر آج بھی اصل انجیل، زبور اور تورات مل جائیں تو ان کی بنیادی تعلیمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات میں سرمو فرق نظر نہ آئے۔تفصیلات کے معمولی اختلافات زمانے کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں۔اور ان میں عین حکمت ہے۔
قرآن حکیم تو بار بار اعلان فرما رہا ہے کہ وہ باقی صحف سماویہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔اگر اس کی تعلیمات اور اس سے قبل صحف سماویہ کی تعلیمات میں فرق ہو تو یہ ان کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے؟ اسلام میں تو ایمان بالرسات اور ایمان بالکتب کا مطلب ہی یہی ہے کہ رسالت کے پورے ادارے اور الہامی کتابوں کے مکمل سلسلے پر ایمان لایا جائے۔کوئی بھی مسلمان صرف حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر ایمان بالرسالت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا بلکہ اسے دیگر تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ایمان بالکتب  کے لیئے صرف قرآن پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان مجملاََ یہ عقیدہ رکھے کہ سابق انبیاء و رسل پر جو نازل ہوا وہ بھی برحق ہے۔گویا اسلام کے ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتب کاتقاضا ہی یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی دین کے علمبردار ہوں اور تمام کتب سماوی کا منبع ایک ہی ہو۔

اگر مستشرقین کے اعتراض کے مطابق کسی کتاب کے منز ل من اللہ ہونے کا یہ معیار ہو کہ اس کی تعلیمات کسی دوسری کتاب کی تعلیمات سے مشابہ نہ ہوں تو ایمان بالکتب ممکن ہی نہیں رہتا۔اس صورت میں تو ایمان بالکتب کے لیئے یہ نئی اصطلاح استعمال کرنی ہو گی کہ تمام انبیاء و رسل کے پیروکار صرف ایک ہی کتاب پر ایمان رکھیں۔اس سے نہ صرف مسلمان متاثر ہوں گے بلکہ خود مستشرقین کے لیئے بھی مسئلہ بن جائے گا۔
ہم مستشرقین سے پوچھتے ہیں کہ اگر انہیں اناجیل کی کوئی بات تورات سے مشابہ نظر آ جائے تو کیا وہ اس بنا پر اناجیل کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر دیں گے اور اسے تورات سے نقل شدہ کتاب قرار دیں گے ؟؟؟
اگر نہیں اور یقیناََ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ انجیل کی تعلیمات کی سابقہ کتب سے مشابہت کے باوجود اس کے کلام الٰہی ہونے پر کوئی حرف نہ آئے اور اگر قرآن میں کوئی بات سابقہ صحف سماوی سے مشابہ نظر آ جائے تو اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر کے اسے سابقہ کتب کی نقل قرار دے دیا جائے ؟؟؟

ہمارا ایمان ہے کہ تمام کتب جو انبیاء و رسولوں پر نازل ہوئیں سب برحق تھیں سب کا پیغام اور تعلیمات ایک تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب کسی دوسری کتاب کی نقل نہ تھی ۔بلکہ ہر کتاب بذریعہ وحی اللہ عزوجل نے اپنے ایک برگزیدہ بندے اور رسول پر نازل فرمائی تھی۔

مستشرقین اگر ایک اصول بنا کر اسے تمام کتابوں پر لاگو کر دیں تو انہیں اعتراض کرنے کا قطعاََ کوئی موقع نہ ملے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن حکیم پر اعتراض کرنے کے لیئے مستشرقین جو اصول وضع کرتے ہیں ان اصولوں سے وہ ان کتابوں کو مستشنٰی سمجھتے ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق منزل من اللہ ہیں۔یہ دوغلی پالیسی نہ علم ہے نہ معروضیت ۔ اس لیئے مستشرقین کے یہ جانبدارانہ اور یک طرفہ فیصلے قطعاََ درخو اعتناء نہیں ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار