منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-05-23 07:29:09    360 Views قرآنی آیات کے ناسخ منسوخ ہونے پراعتراض  /  محمد اسحاق قریشی

قرآنی آیات کے ناسخ منسوخ ہونے پراعتراض

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار