منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-08-30 11:07:14    102 Views آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں  /  محمد اسحاق قریشی

آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں

آگاہ رہیں 
دین اسلام واحد دین ہے جو بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک ہو بہو ویسا ہی پہنچا ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دور میں تھا۔
یہ وہ واحد دین ہے جسے اللہ نے کامل و اکمل کیا اور وہ واحد دین ہے جس پر اللہ عزوجل راضی ہوا۔
" اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا" 
(سورۃ المائدہ:3)
یہ وہ واحد دین ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہے اور اس کے علاوہ سبھی ادیان و مذاہب مردود ہیں
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (آل عمران:85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
تو زرا سوچیئے 
ایسا دین جس کی خود اللہ عزوجل تکمیل فرما رہا ہو، جس سے خود رب کائنات راضی ہو اور جس کے علاوہ کوئی بھی دین بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہو، کیا اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ہو سکتی ہے ؟
کیا ایسے دین کے بنیادی عقائد و معاملات اور عبادات و احکامات میں کسی بھی قسم کی تحریف اور تغیر و تبدل ممکن ہے َ؟
ایک ایسا دین جو ساڑھے چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے جس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل وقوع پذیر نہ ہوا نہ ہو گا اور نہ ہو سکے گا، اس کی حقانیت میں شبہہ ممکن ہے؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والے اپنے اپنے عہد کے صادق ترین اور سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار لوگ تھے جن کی زبانیں کذب جیسے فعل سے ساری زندگی پاک و صاف رہیں، وہ تحریف شدہ ہو سکتا ہے ؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والوں کی اول تا آخرمکمل سوانح حیات محفوظ ہے ان کی ثقاہت و فقاہت، حفظ و عدالت اور صادق و امین ہونے کی ہزارہا گواہیاں موجود ہیں وہ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
اس قدر متقی و پرہیزگار سلف صالحین اور خلف پر جھوٹ باندھ کر کبھی ان کی خدمات کو تشکیک کی نظر سے دیکھنا اور کبھی انہیں معاذ اللہ مجوسی سازش قرار دینا ظلم نہین تو اور کیا ہے ؟
اور حد یہ کہ دین اسلام کے نماز جیسے بنیادی اور اہم ترین رکن کی حثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کرنا کہ نماز جیسا اہم ترین رکن دین معاذ اللہ زرتشت مذہب سے لیا گیا، یہ ذہنی پسماندگی، دل کے اندھے پن اور بے جا تعصب کی کارستانی نہیں تو اور کیا ہے ؟
کیا اللہ عزوجل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کے کامل و اکمل اور محبوب دین جس سے وہ راضی ہوا اس میں مشرکوں اور کفار کی رسومات بطور دین رواج پا جائیں اور پوری کی پوری امت مسلمہ اجماعی طور پر ان کا اہتمام کرے اور ان پر دین کے نام سے عمل پیرا ہو ؟
ہرگز نہیں !
ایسا ہر گز ممکن نہیں 
اس لیئے منکرین حدیث نام نہاد اہل قرآن کے بھیس میں چھپے نیم ملحدوں کے گھناؤنے کردار سے آگاہ رہیں اور دین کے متعلق ان کی پھیلائی گئی تشکیک سے ذہن کو آلودہ مت ہونے دیں 
آگاہ رہیں کہ وہ دین جو اللہ کا محبوب دین ہے اس میں کبھی شرکیہ اور کفریہ اعمال بطور دین رواج نہین پا سکتے 
آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں !!!

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار