منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-08-28 01:35:29    98 Views اختلاف کا سلیقہ  /  ابو عبد اللہ

اختلاف کا سلیقہ

معاشرے میں رہنے والے ہر انسان کی ذہنی استعداد دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر ایک کا علمی مقام، ذہنی صلاحیتیں اور سوچنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہے۔ اس وجہ سے معاشرے کے افراد کا بعض اوقات آپس میں اتفاق رائے ممکن نہیں ہوتا۔ ہر ایک شخص یا گروہ اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور رہن سہن کا طریقہ وضع کرتا ہے۔ اور یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں کی رائے سے اتنی آسانی کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا۔ وہ دنیا کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اختلاف کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ بعض اختلاف محمود ہوتے ہیں اور بعض مبغوض۔ کسی معاملے میں دلیل کے ساتھ اختلاف محمود ہے لیکن حق واضح ہو جانے اور مخالف دلیل کے باوجود اختلاف مبغوض ہے۔
فہم دین کے متعلق اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین بعض معاملات میں اپنے اپنے علم و فہم کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ لیکن اس اختلاف کے باوجود کبھی بھی انہوں نے دوسروں کو مطعون نہیں کیا اور نہ ہی دوسروں پر اپنے فہم کے مطابق عمل کرنے پر زور دیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے اختلاف کی ایک مثال دیتا ہوں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کیسا ہونا چاہیئے ۔
بخاری شریف باب فضائل اصحاب النبی ﷺ میں روایت ہے :۔
حدثنا ابن أبي مريم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا نافع بن عمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثني ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قيل لابن عباس هل لك في أمير المؤمنين معاوية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإنه ما أوتر إلا بواحدة‏.‏ قال إنه فقيه‏.
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین رکعت وتر کےقائل تھے ۔ جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رکعت وتر ادا کیا کرتےتھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل کے برخلاف حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن نہیں کیا بلکہ ان کو فقیہہ قرار دیا اور ان کی تحسین فرمائی ۔ یہ ہے ختلاف کا طریقہ کار۔۔۔!
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے سلف سے دین تو لے لیا اس پر عمل کا طریقہ کار تو لے لیا لیکن سلف سے اخلاقیات نہ لے سکے سلف کے ورع و تقویٰ اور حسن معاملہ کے بیان تو جھوم جھوم کر سن لیتے ہیں لیکن اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ 
آج ہم اختلاف دلیل سے نہیں تذلیل سے کرتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ دوسرا شخص جو ہماری رائے سے اختلاف کر رہا ہے ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جو ہم سے مخفی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا فہم فائق تر ہو ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ہر معاملے میں اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھتے ہوئے دوسروں کو اس بات کا پابند سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے فہم پر ہی عمل کرے دوسری صورت میں بسا اوقات یا تو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیتے ہیں یا اس قدر طعن و تشنیع اور مغلظات سے نوازتے ہیں کہ کوئی بھی شریف النفس انسان برداشت نہیں کر سکتا۔
سلف تو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی تعریف و تحسین کرتے رہے اور ہم اختلاف کے ساتھ تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھے ہوئے ہیں ۔
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں نہ صرف سلف و خلف کے فہم دین بلکہ سلف و خلف کی اخلاقیات اور حسن معاملہ پر بھی عمل پیرا ہونے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ اور دوسروں کی رائے اور اختلاف کا احترام کرنے اور برداشت کرنے کو حوصلہ عطا فرمائے
آمین ثم آمین 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار