منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-08-07 06:43:38    99 Views شرک، بدگمانی اور جھوٹے الزام کی قباحت  /  محمد اسحاق قریشی

شرک، بدگمانی اور جھوٹے الزام کی قباحت

 
بے شک سب سے عظیم ترین گناہ شرک ہے۔ سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک کی کوئی معافی نہیں اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنمی ہے جہنمی ہے جہنمی ہے اور اس میں زرہ بھر شک و شبہہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں بلکہ جو مشرک کے عذاب اور جہنمی ہونے میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے !

چنانچہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک سب سے اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

٭٭ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(سورہ لقمان)

ترجمہ :۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔

بے شک شرک ایسا گناہ ہے جو تمام گناہوں پر بھاری ہے۔ اگر ایک میزان میں باقی تمام گناہ اور دوسری طرف صرف شرک کا گناہ رکھا جائے تو شرک کے گناہ کا پلڑہ سب گناہوں پر بھاری ہو گا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------
اسلام اخوت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ اور اپنے مومن بھائیوں سے بدگمانی، تجسس اور اس کی غیبت ایسی چیزیں ہیں جو پیغام اخوت و محبت کے لیئے زہر قاتل کی سی حثیت رکھتی ہیں ۔ اس لیئے قرآن عظیم  میں اللہ عزوجل نے  مومن کے متعلق زیادہ گمان   کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ بعض اوقات یہ انسان دوسرے کے متعلق وہ گمان کر لیتا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ :۔

٭٭ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
(سورۃ الحجرات)

ترجمہ :۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
بدگمانی، دوسروں کے معاملات میں بے جا تجسس اور غیبت کی قباحت بیان کرتے ہوئے ان گناہوں سے باز آنے  اور ان گناہوں کی بابت اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان گناہوں سے توبہ کرنے والے کو بخشش اور رحم کی بشارت سنائی گئی ہے !
--------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ بات اخلاق سے کس قدر گری ہوئی ہے کہ انسان کوئی گناہ یا خطا کرے  خود اور اس کا الزام دوسرے کے سر لگا دے ۔ چنانچہ اس کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشااد پاک ہے کہ :۔
٭٭ وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْ‌مِ بِهِ بَرِ‌يئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔
 (النساء)

ترجمہ:۔ اور جو شخص کوئی گناه یا خطا کر کے کسی بے گناه کے ذمے تھوپ دے، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناه کیا

انسان اگر کوئی خطا یا گناہ کرتا ہے تو اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے اس گناہ یا  خطا کا اعتراف کر سکے ۔ اپنی خطاؤں پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
کسی بے گناہ پر الزام لگانے سے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے ۔ یہ اس قدر گھناؤنا اور گھٹیا فعل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ کسی انسان کو ایسے فعل کا مرتکب ٹھہرانا جو اس نے کبھی کیا ہی نہ ہو اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے ۔ اس گھناؤنے فعل کی مذمت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ :۔

 

٭٭ وَمَنْ قَالَ فِى مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
 (سنن ابی داؤد:3599)

ترجمہ :۔ اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جوا س میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنا ئے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے تو بہ کر لے

یعنی کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا اس قدر قبیح فعل ہے کہ جب تک وہ اس سے توبہ نہ کر لے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہاں مقام غور ہے ان لوگوں کے لیئے جو دوسروں پر بلاوجہ  اس کام کا الزام لگاتے ہیں جو کبھی انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچا تک ہوتا ہے !!!


 

  

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار