منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-08-05 10:10:56    126 Views حبِ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم  /  صباءسعید

حبِ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار