منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-08-03 04:04:39    105 Views وجود و وحدانیت باری تعالیٰ  /  محمد اسحاق قریشی

وجود و وحدانیت باری تعالیٰ

وجود باری تعالیٰ :۔
یہ بات بلکل بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ عالم میں جو بھی شئے مشاہدے میں ہے، وہ جسم ہے یا قائم بالجسم اور جسم دو حال سے خالی نہیں وہ متفرق ہو گا یا مجتمع ، اگر متفرق ہے تو اس میں ترکیب و تالیف کا امکان یقینی ہے۔ اور اگر مجتمع ہے تو اس کے اندر بھی اختراق ممکن ہے۔اور یہ دونوں (یعنی اختراق مع احتمال الترتیب یا اجتماع مع احتمال الاختراق) چونکہ لازم و ملزوم ہیں اس لیئے ایک کے معدوم ہونے سے دوسرا بھی معدوم ہو جائے گا۔

جب دو جزو اختراق کے بعد مجتمع ہوں تو ان کا یہ اجتماع حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی شکل پہلے سے نہ تھی۔اسی طرح اجتماع کے بعد اگر اختراق واقع ہو تو یہ اختراق بھی حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی اور اختراقی شکل پہلے سے نہ تھی بلکہ بعد میں پیدا ہوئی۔جب عالم میں موجود ہر شئے کا یہی حال ہے کہ اس پر حدوث طاری ہوتا ہے تو ان مشاہداتی اشیاء کی جنس میں سے جو اشیاء مشاہد نہیں تو ان کا بھی حکم معلوم ہو گیا کہ وہ بھی حدوث سے خالی نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی شئے مجتمع ہے تو کسی مؤلف کی تالیف(ترکیب) کی وجہ سے ہی وہ اس شکل میں ہے۔ اور اسی طرح اگر متفرق ہے تو کسی مفرق کی تفریق ہی کے سبب ہے۔ اور یہ مؤلف و مفرق ایسی ذات ہی ہو سکتی ہے جو ان تمام حدوث سے پاک ہو جو ان پر واقع ہوتے ہیں۔یعنی اجتماع و اختراق کا وقوع اس پر جائز نہ ہو اور وہ واحد و قہار ذات ہے جو تمام مختلفات کو جامع ہے اور اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

ان دلائل سے حتمی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان اشیاء کی مجتمع یا متفرق صورت بنانے والااور ان کا محدث ہر چیز سے پہلے وجود رکھتا تھا۔سو لیل و نہار، زمان و ساعات سب حادث ہیں اور ان کا محدث وہ ہے جو ان کے وجود سے قبل ہی ان میں تدبیر و تصرف کرتا تھا۔اس لیئے یہ بات ناممکن ہے کہ اشیاء حادث موجود ہوں اوران سے پہلے ان کا محدث موجود نہ ہو۔
اللہ عزوجل کا یہ قول اس پر نہایت مضبوط و قوی دلیل ہے :۔
"کیا انہوں نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیسے اس کو بنایا ہے۔اور آسمان کی طرف کہ اس نے اس کو کیسا بلند کیا۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ اس نے انہیں کیسا نصب کیا۔ اور زمین کی طرف کہ اس نے اسے کیسے بچھایا۔"
(سورۃ الغاشیہ آیت 17-20)

یہ دلیل اس شخص کے لیئے ہے جو اپنی عقل کا استعمال کرے اور غور وفکر کرےاور ان کے ذریعے باری تعالیٰ قدیم اور محدث ہونے پر استدلال کرے  نیز ان اشیاء کے علاوہ جو ان کی ہم جنس ہیں ان کے حادث ہونے پر اور اس پر کہ ان سب کی خالق ایک ایسی ذات ہے جو ان کے مشابہ نہیں اس پر بھی استدلال کرے ۔

اللہ عزوجل نے ان اشیاء یعنی اونٹ، پہاڑ اور زمین وغیرہ کا جو ذکر فرمایا ہے ، ابن آدم ان پر باربرداری کرنا، منتقل کرنا، کھودنا، چھیلنا، گرانا وغیرہ وغٰرہ جیسے تصرفات کرتا ہے ان میں سے کوئی بھی تصرف ممتنع نہیں ۔لیکن ان سب تصرفات کے باوجود ابن آدم ان میں سے کسی بھی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں ۔ جو تخلیق سے عاجز ہو وہ اپنی ذات کے حق میں بھی محدث نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کے مثل بھی کوئی چیز ان کے لیئے مؤجد نہیں ہو سکتی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ ان کی مؤجد ایک ایسی ذات ہے جس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اور نہ کسی چیز کا احداث اس کے لیئے ممتنع ہے۔پس وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے ۔
وحدانیت باری تعالیٰ:۔
اگر کوئی شخص اشیاء کے وجود کو کسی قدیم کا فعل مانے لیکن قدیم کے واحد ہونے کا انکار کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ :۔
جب ہم اپنے وجود کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں محیر العقول نظام اور مسلسل اور متصل تدابیر و تصرفات نظر آتے ہیں اور تخلیقی ڈھانچہ انتہائی کامل دکھائی دیتا ہے۔لہذا اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر تدبیر و تصرف کرنے والے دو ہوں تو ان میں اتفاق ہو گا یا اختلاف، اگر اتفاق ہو گا تو یہ بلکل ایک ہی ہوگااور دونوں کا معنی ایک ہی ہوگا۔ جبکہ قائل نے ازخود ایک کو دو قرار دے دیا جو خلاف عقل ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ دو میں ہر جگہ اتفاق ہی ہو کہیں نہ کہیں اختلاف بھی بہرحال موجود رہتا ہے۔ اور اگر اختلاف ہو وجود خلق احسن اور کامل نہ ہواور نہ ہی اس میں تدبیر و تصرف منظم پیمانے پر ممکن ہو۔اس لیئے کہ ہر ایک کا فعل دوسرے کے خلاف ہوگا۔ان میں سے ایک جب کسی کو زندہ کرے گاتو دوسرا اسے موت سے ہمکنار کرے گا۔اگر ایک کسی چیز کو ایجاد کرے گا تو دوسرا اسے فنا کر دے گا۔اس کشمکش میں یہ محال و ناممکن ہے کہ کسی شئے کا وجود صحیح سلامت پایا جائے۔لہذا تمام نظام خلق کا اس احسن و منظم پیمانے پر ہوناذات قدیم کے واحد ہونے کی بدیہی اور مشاہداتی دلیل ہے۔

اسی حقیقت کا اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں ذکر فرمایا:۔
"اگر آسمان و زمین میں کئی خداہوتے تو یہ دونوں تباہ و فنا ہو جاتے۔پس اللہ تعالیٰ کو کہ رب عرش ہےان تمام چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔"
(سورۃ الانبیاء آیہ 22)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔
"اللہ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور اللہ ہےاگر ایسا ہوتا تو ہر اللہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو جدا کر لیتا اور دوسرے پر چڑھائی کر دیتا۔ لیکن اللہ اس چیز سے پاک ہے جو یہ (مشرکین )بیان کرتے ہیں۔وہ پوشیدہ اور ظاہر تمام چیزوں کا جاننے والااور ہر قسم کے شریک سے بلند و برتر اور پاک ہے ۔"

(سورۃ المؤمنون آیت 91-92)
یہ دونوں آیات اہل شرک کے دعوی کے بطلان پر مختصر و بلیغ ترین حجت اور مضبوط ترین دلیل ہیں۔ان کا حاصل یہی ہے کہ اگر زمین پر ماسوائے اللہ کئی اللہ ہوتے تو ان میں اتفاق ہوتا یا اختلاف۔ اتفاق ہونے کی صورت میں قدیم کے دو ہونے کا قول باطل ٹھہرتا ہے اور اختلاف ہونے کی صورت میں آسمان و زمین میں فساد و فنا لازم آتااس لیئے کہ ایک اگر کسی چیز کو پیدا کرتا تو دوسرا اس کی مخالفت کی بناء پر معدوم و فنا کرنے کی کوشش کرتا۔ کیونکہ دونوں کے افعال ایک دوسرے سے مختلف ہوتے جیسے آگ کا کام گرم کرنا ہے اور برف کا کام ٹھنڈا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور اعتبار سے بھی یہ قول باطل ہے  کہ اگر دو قدیم مان لیئے جائیں تو وہ دونوں دو حال سے خالی نہ ہوں گے دونوں قوی ہوں گے یا دونوں عاجز۔ اگر عاجز ہوں تو ہر ایک اپنے مقابل کی نسبت عاجز ہو گا۔ اس لیئے کہ مقابل کو ہم نے قوی تسلیم کر لیا تو دوسرے کا عجز لازم آئے گااور ایک اگر اپنے مقابل پر قوی ہو تو مغلوب اپنے ساتھی کی قوت کے سامنے عاجز و بے بس ہو گا اور عجز و بے بسی اللہ کے منافی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قدیم واحد کا تسلیم کرنا ضروری ہےوگرنہ ہر صورت مین محال کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اہل شرک کی افتراء پردازیوں سے پاک و صاف اور منزہ ہے

ان تمام عقلی و نقلی دلائل سے یہ معلوم ہو گیا کہ اشیاء کا خالق تھا اور اس حال میں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہ تھااور اسی نے اشیاء کو پیدا کیا۔

 

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار