منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-30 16:32:03    114 Views امام غزالی رح کا نظریہ ذہنی صحت  /  صباءسعید

امام غزالی رح کا نظریہ ذہنی صحت

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار