منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-27 15:54:58    132 Views اسلام اور دماغی فنکشنز  /  صباءسعید

اسلام اور دماغی فنکشنز

فنکشن کے لحاظ سے انسانی دماغ کو تین حصوں میں کیٹگرائزڈ کیا جاتا ہے.

ریپٹیلین برین،

لِمبک برین اور

لاجیکل برین.

ریپٹیلین برین ریپٹائیلز یعنی رینگنے والے جاندار مثلاً کینچوا، کیکڑا، بچھو، سانپ وغیرہ کی دماغی صلاحیات صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہیں. خوراک اور جنسی اختلاط کے علاوہ انکی کوئی دوسری ضروریات نہیں. یہ جذباتی یا عقلی خصوصیات نہیں رکھتے. عموما دیکھا گیا ہے کہ یہ جانور اپنی پیدائش کے موسم میں ایک بڑی تعداد میں انڈوں سے نکلتے ہیں اور بغیر کسی گائیڈنس کے یہ اپنی دماغی خصوصیات کے لحاظ سے زندگی گزارنے لگتے ہیں. انسان کے دماغ کا یہ حصہ ریپٹائیلز کی طرح صرف جسمانی ضروریات کا احساس دلاتا ہے. بھوک و پیاس و دیگر جسمانی ضروریات کی انفارمیشن ریپٹیلین برین سے جاری کی جاتی ہیں. جو انسان کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے.
لِمبک یا میمیلِک برین میملز یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری، بندر، شیر، چیتا وغیرہ انکی ذہنی صلاحیتیں جسمانی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اموشنل یعنی جذباتی ضروریات پر بھی مشتمل ہوتی ہیں، خوراک، جنسی اختلاط اور دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان میں خوشی اور غمی کے تاثرات دینے اور سمجھنے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے. نر و مادہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرتے ہیں. جذباتی ضروریات انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہیں. یہ جانور قدرتی طور پر ماحول سے متاثر بھی ہوتے ہیں اورایک دوسرے کا احساس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں. اور نظر انداز کیے جانے کے احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں. انسانی دماغ بھی میملز کی طرح لِمبک نظام کی خصوصیت رکھتا ہے. دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ انسان کو اموشنل سیٹیسفیکشن کی بھی ضرورت ہوتی ہے. اگر اموشنل سیٹیسفیکشن نہ ملے تو انسان نتیجتاًہیجان اور دباؤ کی کیفیات کا شکار ہوجاتا ہے. جس سے دفاعی کمزوریاں جنم لیتی ہیں.

لاجیکل برین انسانی دماغ کا بڑا حصہ لاجیکل برین پر مشتمل ہوتا ہے. جس سے انسان کسی بھی چیز کے عقلی دلائل یا بصری مشاہدے کے بعد اُسے قبول یا رد کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے. عقل اور غوروفکر کی یہ صلاحیت اُسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے. اور اسی عقل کی بدولت وہ تمام تر جانداروں سے افضل ہے اور اشرف المخلوق کا درجہ رکھتا ہے. انسان ذہین ترین مخلوق ہے کیونکہ اسکی دماغی صلاحیت تمام تر جانداروں کی نسبت زیادہ ہے. یہ ناصرف عقل رکھتا ہے بلکہ اسکا بہترین استعمال بھی جانتا ہے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک بچے کو بنسبت ایک بالغ کے عقلی یا جسمانی ضروریات کی بجائے اموشنل سیٹیسفیکشن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے. اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے کا دماغ ماحول سے آہستہ آہستہ متاثر ہوتا ہے اور آغاز میں بچہ خود سوچنے سمجھنے کی بجائے ماحول پر انحصار کرتا ہے. اگر اس کی اموشنل نیڈز (جذباتی ضروریات) بروقت پوری نہ کی جائیں تو نتیجتاً وہ ضدی، چڑچڑے پن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے.

جیسے جیسے عمر گزرتی ہے مسلسل مشاہدے اور ماحول کے انفلوینس کی بدولت انسانی دماغ جذباتیت کی بجائے عقلی دلائل کو ترجیح دینے لگتا ہے اور عوامل کو بغیر وجہ کے قبول نہیں کرتا. اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت عطا کی اور اسی عقل کے درست یا غلط استعمال پر وہ رب کو جواب دہ ہے. دماغ کا وہ حصہ جو لاجیکل یعنی عقلی صلاحیتوں پر مشتمل ہوتا ہے. فرونٹل کورٹیکس کہلاتا ہے. فرونٹکل کورٹس کے لیے عربی میں ناصیہ کا لفظ موجود ہے. تو ہم کہہ سکتے ہیں ناصیہ ان تمام تر خصوصیات پر مشتمل عضو ہے. جو انسان کو تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ درست اور غلط کی پہچان کروانے کا ذریعہ بھی ہے. جدید سائیکلوجیکل سائنس کے مطابق فرونٹل کورٹیکس سچ اور جھوٹ، نیکی و بدی کو سمجھنے اور غلط یا درست راستہ منتخب کرنے کی صلاحیتوں پر مشتمل ہے. اگر کبھی آپ کے تجربہ یا نظر سے گزرا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پولیس یا دیگر ایجنسیز مجرم سے سچ اگلوانے کے لیے لائی ڈیٹیکٹر مشینز استعمال کرتے ہیں. لائی ڈیٹیکٹر مشین کو فرونٹل کارٹس یا ناصیہ سے اٹیچ کرنے کے بعد سوالات پوچھے جاتے ہیں. جھوٹ بولنے کی صورت میں دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے. جسے مشین ڈیٹیکٹ کرنے کے بعد آلارمنگ ساؤنڈ دیتی ہے. اور اس طرح مجرم کے سچ اور جھوٹ بولنے کا پتا لگایا جاسکتا ہے.

آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک ناصیہ کے بارے میں کیا کہتا ہے. سورہ العلق آیت ١٣ تا ١٦ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو ۔ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالٰی اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے ۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے ۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار