منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-27 07:47:54    87 Views اِسلامی سپین میں تہذیب و سائنس کا اِرتقا  /  منطق ریسرچ ونگ

اِسلامی سپین میں تہذیب و سائنس کا اِرتقا

برِاعظم یورپ کے جنوب مغربی کنارے پر موجود جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) جو ’کوہستانِ پیرینیز‘ (Pyrenees) کی وجہ سے باقی برِاعظم سے کافی حد تک کٹا ہوا ہے اور آجکل سپین (Spain) اور پرتگال (Portugal) نامی دو ممالک پر مشتمل ہے، مسلمانوں نے اُس پر تقریباً 800 برس تک حکومت کی۔ اِسلامی تاریخ میں اس ملک کو ’اندلس‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اندلس جو کبھی اپنی وُسعت میں پھیلتا ہوا موجودہ سپین اور پرتگال کے ساتھ ساتھ فرانس کے جنوبی علاقوں اربونہ (Narbonne)، بربنیان (Perpignan)، قرقشونہ (Carcassonne) اور تولوشہ (Toulouse) وغیرہ تک جا پہنچا تھا، دورِ زوال میں اُس کی حدُود جنوب مشرقی سمت میں سکڑتے ہوئے محض ’غرناطہ‘ (Granada) تک محدُود ہو گئیں۔ تاریخِ اندلس جہاں ہمیں عروج و زوال کی ہوش رُبا داستان سناتی ہے وہاں قرونِ وُسطیٰ میں مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارہائے نمایاں سے بھی نقاب اُلٹتی نظر آتی ہے، اور اِس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ موجودہ سائنسی ترقی کی بنیادوں میں دراصل قرونِ وُسطیٰ کے مسلمان سائنسدانوں ہی کا ہاتھ ہے اور اِسلامی سپین کے سائنسدان بغداد کے مسلمان سائنسدانوں سے کسی طور پیچھے نہ تھے۔ سپین میں سائنسی علوم و فنون اور تہذیب و ثقافت کے ذکر سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اَحوال اُس کی فتح اور اَدوارِ حکومت کے حوالے سے بھی بیان کر دیئے جائیں تاکہ قارئین کو اُس کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو۔ اَدوارِ حکومت اِسلامی سپین کی تاریخ درج ذیل بڑے اَدوار میں منقسم ہے : فتوحات و عصرِ وُلاۃ 19جولائی 711ء تا 773ء دورِ بنو اُمیہ 773ء تا 1008ء دورِ ملوکُ الطوائف 1008ء تا 1091ء دورِ مرابطون 1091ء تا 1145ء دورِ موحّدون 1147ء تا 1214ء طوائفُ الملوکی 1214ء تا 1232ء دورِ بنونصر (غرناطہ) 1232ء تا 2 جنوری 1492ء فتحِ سپین ولید بن عبدالملک کے دورِ خلافت (705ء تا 715ء) میں موسیٰ بن نصیر کو شمالی افریقہ کی گورنری تفوِیض ہوئی۔ اُس دور میں سپین کی سیاسی و معاشی حالت اِنتہائی اَبتر تھی۔ عیش کوش ’گاتھ‘ حکمرانوں نے غریب رِعایا کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔ عیش و عشرت کے دِلدادہ بدمست اُمراء اور پادریوں نے عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا رکھا تھا۔ یہودیوں کی حالت سب سے بری تھی۔ اُنہیں کوئی دَم سکھ کا سانس نہیں لینے دیا جاتا تھا۔ ظلم و بربریت کے اُس نظام سے تنگ آ کر بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی سوچی اور وہاں سے فرار ہو کر موسیٰ بن نصیر کے زیرِ اِنتظام شمالی افریقہ میں پناہ لینا شروع کر دی جہاں اِسلامی نظامِ حکومت کے باعث لوگ پُرامن زندگی بسر کر رہے تھے۔ جب معاملہ حد سے بڑھا اور مہاجرین بڑی تعداد میں سمندر پار کرکے افریقہ آنے لگے تو موسیٰ نے سپین کی مظلوم رِعایا کو بدمست حکمرانوں کے چنگل سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا۔ سپین پر باقاعدہ حملے سے قبل دُشمن کی فوجی طاقت کے صحیح اندازے کے لئے موسیٰ نے اپنے ایک قابل غلام ’طریف‘ کی کمان میں جولائی 710ء میں 100 سواروں اور 400 پیادوں کا دستہ روانہ کیا، جس نے سپین کے جنوبی ساحل پر پڑاؤ کیا، جسے آج تک اُس کی یاد میں ’طریفہ‘ کہا جاتا ہے۔ آس پاس کے علاقوں پر کامیاب یلغار کے بعد ’طریف‘ نے موسیٰ کو اِطلاع دی کہ فضاء سازگار ہے، اگر حملہ کیا جائے تو جلد ہی عوام کو ظالم حکمرانوں کے پنجۂ تسلط سے نجات دِلائی جاسکتی ہے۔ موسیٰ بن نصیر نے اگلے ہی سال 711ء بمطابق 92ھ معروف بربر جرنیل ’طارق بن زیاد‘ کو 7,000 فوج کے ساتھ سپین پر لشکر کشی کیلئے روانہ کیا۔ افریقہ اور یورپ کے درمیان واقع 13 کلومیٹر چوڑائی پر مشتمل آبنائے کو عبور کرنے کے بعد اِسلامی لشکر نے سپین کے ساحل پر جبل الطارق (Gibraltar) کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ ’طارق‘ کا سامنا وہاں سپین کے حکمران ’راڈرک‘ کی ایک لاکھ سے زیادہ اَفواج سے ہوا۔ تین روز گھمسان کی لڑائی جاری رہی مگر فتح کے آثار دِکھائی نہ دیئے۔ چوتھے دِن طارق بن زیاد نے فوج کے ساتھ اپنا تاریخی خطاب کیا، جس کے اِبتدائی الفاظ یوں تھے : أيها النّاسُ! أين المفرّ؟ البحر مِن ورائِکم و العدوّ أمامکم، و ليس لکم و اﷲِ إلا الصّدق و الصبر. (دولةُ الاسلام فی الاندلس، 1 : 46) اے لوگو! جائے فرار کہاں ہے؟ تمہارے پیچھے سمندر ہے اور سامنے دُشمن، اور بخدا تمہارے لئے ثابت قدمی اور صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ شریف اِدریسی نے اپنی کتاب ’’نُزھۃُ المشتاق‘‘ میں لکھا ہے کہ اِس خطاب سے قبل ’طارق‘ نے سمندر میں کھڑی اپنی کشتیاں جلادی تھیں تاکہ فتح کے سوا زِندہ بچ نکلنے کے باقی تمام راستے مسدُود ہو جائیں۔ چنانچہ مسلمان فوج بے جگری سے لڑی اور 19جولائی711ء کے تاریخی دِن ’وادئ لکہ‘ کے مقام پر ہسپانوی اَفواج کو شکستِ فاش سے دوچار کیا، جس میں گاتھ بادشاہ فرار ہوتے ہوئے دریا میں ڈوب کر مر گیا۔ اِس بڑے معرکے کے بعد جہاں عالمِ اِسلام خصوصاً افریقہ میں مسرّت کی لہر دوڑ گئی وہاں سپین کے عوام نے یومِ نجات منایا۔ اس کے بعد اکتوبر 711ء میں اِسلامی اندلس کا نامور شہر قرطبہ (Cordoba) ’مغیث رومی‘ کے ہاتھوں فتح ہوا اور دُوسرے شہر بھی یکے بعد دیگرے تیزی سے فتح ہوتے چلے گئے۔ بعد اَزاں جون 712ء میں ’موسیٰ بن نصیر‘ نے خود 18,000 فوج لے کر اندلس کی طرف پیش قدمی کی اور ’اشبیلیہ‘ (Seville) اور ’ماردہ‘ (Merida) کو فتح کیا۔ دونوں اِسلامی لشکر ’طلیطلہ‘ (Tledo) کے مقام پر آن ملے جو پہلے ہی کسی مزاحمت کے بغیر فتح ہو چکا تھا۔ اِسلامی لشکر جن شہروں کو فتح کرتا وہاں کے مفلوک الحال مقامی باشندے خصوصاً یہودی مسلمانوں کا بھرپور ساتھ دیتے۔ عوامی پذیرائی کچھ اِس قدر بڑھی کہ مسلمان تھوڑے سے وقت میں پورا سپین فتح کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ طارق بن زیاد کی فتوحات میں سے آخری فتح ’خلیج بسکونیہ‘ (Bay of Biscay) پر واقع شہر ’خیخون‘ (Gijon) کی تھی، جس کے بعد فتوحات کا سلسلہ روک کر ملکی اِنتظام و اِنصرام کی طرف توجہ دی گئی۔ (دولۃُ الاسلام فی الاندلس، 1 : 51) اِسی اثناء میں موسیٰ بن نصیر کو خلیفہ ولید بن عبدالملک کی طرف سے پیغام موصول ہوا کہ وہ اور طارق بن زیادہ اس مہم کو یہیں چھوڑ کر دِمشق چلے آئیں۔ دو سال کی قلیل مدّت میں کم و بیش سارا سپین فتح ہو چکا تھا، موسیٰ نے وہاں سے واپسی سے پہلے اُس کے اِنتظام حکومت کا اِہتمام کیا۔ قرطبہ (Cordoba) کو اندلس کا دارالحکومت قرار دیا، اپنے بیٹے ’عبدالعزیز‘ کو وہاں کا حاکم بنایا اور خلیفہ کے حکم کے مطابق دِمشق کی طرف عازمِ سفر ہوا۔ عصرِ وُلاۃ ’موسیٰ بن نصیر‘ اور ’طارق بن زیاد‘ کی واپسی کے بعد 714ء سے 756ء تک 43 سالوں میں ملک سیاسی حوالے سے عدم اِستحکام کا شکار رہا۔ اُس دوران میں کل 22گورنر اندلس میں مقرر ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی اور تہذیبی اِرتقاء کے ضمن میں اُس دور میں کوئی خاص پیش رفت نہ ہو سکی۔ اندلس کی تاریخ میں یہ دور کافی حد تک غیر واضح ہے۔ اُس دَور کو اِسلامی سپین کی تاریخ میں عصرِ وُلاۃ (یعنی گورنروں کا دَور) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ دورِ بنواُمیہ 40 ہجری سے 132 ہجری تک عالمِ اِسلام پر حکمرانی کے بعد جب اُموی دورِ خلافت کا خاتمہ ہوا اور بنو عباس نے غلبہ پانے کے بعد شاہی خاندان کے اَفراد کو چن چن کر قتل کرنا شروع کیا تو اُموی خاندان کے چند اَفراد بمشکل جان بچا سکے۔ اُنہی بچ نکلنے والوں میں سے ’ہشام بن عبدالملک‘ کا 20 سالہ نوجوان پوتا ’عبدالرحمن بن معاویہ‘ بھی تھا جس کی ماں ’قیوطہ‘ افریقہ کے بربری قبیلہ ’نفرہ‘ سے تعلق رکھتی تھی۔ عبدالرحمن نے عباسیوں کے مظالم سے بچنے کیلئے افریقہ کا رُخ کیا جہاں اُس کیلئے پناہ کے مواقع ایشیا کی نسبت بہت زیادہ تھے۔ وہ افریقہ سے گزرتا ہوا 5سال بعد اندلس کے ساحل تک جا پہنچا۔ جہاں اُموی دور کی شاہی اَفواج موجود تھیں۔ کچھ ہی دنوں میں عبدالرحمن نے اُن میں اِتنا اثر پیدا کر لیا کہ اُنہوں نے اُسے اپنا کمانڈر بنا لیا۔ یہ فوج شمال کی سمت چلی اور چند ہی سالوں میں تمام اندلس اُس کے زیرِ قبضہ آگیا۔ مقامی اُمراء اور عوام نے اُس کی اِطاعت قبول کر لی اور پورا ملک آزاد اُموی ریاست کی صورت اِختیار کر گیا۔ تاریخ اُسے ’عبدالرحمن الداخل‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ اُس نے اندلس پر 756ء سے 788ء تک کل 32 سال حکومت کی۔ اس دوران میں اُس نے مقامی اُمراء کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے علاوہ فرانس کے بادشاہ ’شارلیمان‘ کا حملہ بھی بری طرح پسپا کیا۔ اُس کے بعد اُس کا بیٹا ’ہشام‘ تختِ سلطنت پر بیٹھا۔ اُس کے عہد میں مسلمانوں نے جنوبی فرانس کے بہت سے شہروں کو فتح کیا۔ یہ وہ دور تھا جب فقہ مالکی کو ریاست میں قانون کی بنیاد کے طور پر نافذ کیا گیا۔ 822ء میں ’عبدالرحمن دُوم‘ تخت نشین ہوا۔ اُس کے 30 سالہ دورِ حکومت میں ملک اِنتظامی طور پر مضبوط ہوا۔ علوم و فنون کی ترقی کا آغاز ہوا، سائنسی علوم کی تروِیج عام ہونے لگی۔ صنعت و حرفت نے بھی بہت زیادہ ترقی کی اور تجارت دُور دراز ممالک تک پھیل گئی۔ اندلس کی بحری طاقت بڑھ جانے سے تجارت کو خوب فروغ حاصل ہوا۔ یہ دَور تعمیرات اور دولت کی فرانوانی کا دَور تھا۔ (آگے چل کر ہم اس کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔) دُوسری طرف یہی وہ دَور ہے جس میں یورپ میں اِسلام کے خلاف باقاعدہ طور پر مسیحی تحریک کا آغاز ہوا۔ جس نے بعدازاں صدیوں تک سپین کے مسلمانوں کو جنگوں میں اُلجھائے رکھا اور بالآخر جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) سے نکال کر دَم لیا۔ اِسلامی سپین کی تاریخ میں سب سے عظیم حکمران ’عبدالرحمن سوم‘ تھا۔ اُس نے 21 برس کی عمر میں 912ء میں اپنے دادا ’عبداللہ‘ کی وفات کے بعد سلطنت کا اِنتظام سنبھالا۔ یہ وہ دَور تھا جب اندلس میں مسلمان رُوبہ زوال تھے اور صلیبی تحریک خوب زور پکڑ چکی تھی۔ اُس نے ہر طرح کی داخلی بدامنی اور خارجی شورشوں کو کچل کر معاشرے کا امن بحال کیا اور ایک نئے دَور کی بنیاد رکھی۔ یہ اندلس کا پہلا حکمران تھا جس نے ’الناصر لدین اﷲ‘ کے لقب کے ساتھ اپنی خلافت کا اِعلان کیا۔ اپنے 912ء سے 961ء تک 49 سالہ دورِ حکومت میں اُس نے نہ صرف بہت سی عیسائی ریاستوں کو اپنا زیرِنگیں کر لیا بلکہ ملک کو عظیم اِسلامی تہذیب و تمدّن کا گہوارہ بنا دیا۔ اُس کے دَور میں علوم و فنون کو عروج ملا جس سے اندلس اپنے دَور کی ایک عظیم ویلفیئر سٹیٹ بن کر اُبھرا۔ ’عبدالرحمن سوم‘ کے بعد ’حکم ثانی‘، ’ہشام‘ اور ’مظفر‘ تخت آرائے خلافت ہوئے مگر اُن کے بعد 1010ء میں سلطنت کا اِنتظام بکھرنا شروع ہوا اور پورا اندلس خانہ جنگی کی لپیٹ میں آگیا۔ 1010ء سے 1031ء تک 21 سالوں میں کل 9 خلفاء تخت نشین ہوئے مگر کوئی بھی حالات کے دھارے کو قابو میں نہ لاسکا۔ 1031ء میں اِنتشار اِس حد تک بڑھا کہ اُس کے نتیجے میں اندلس سے اُموی خلافت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا، سلطنت بہت سے حصوں میں بٹ گئی اور ہر علاقے میں مقامی سرداروں اور ملوک نے حکومت شروع کر دی۔ تاریخ اُن سرداروں کو ’ملوکُ الطوائف‘ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ دَورِ مرابطون شمالی افریقہ کے بربری خاندان اور تحریکِ مرابطین کے زیرِ اِنتظام قائم حکومت کے تیسرے حکمران ’یوسف بن تاشفین‘ کا دورِحکومت 1091)ء تا 1106ء ( شمالی افریقہ کے بہترین اَدوار میں سے ایک ہے۔ اُس کے کارہائے گراں مایہ کے اِعتراف میں بغداد کی خلافت کی طرف سے اُسے ’امیر المسلمین‘ کے خطاب سے بھی نوازا گیا تھا۔ جب اندلس میں طوائفُ الملوکی حد سے بڑھی اور عیسائی حکومتوں کی طرف سے مسلمان ریاستوں پر حملوں کا آغاز ہوا اور اِسلامی سپین کی سرحدیں سُکڑنا شروع ہوئیں تو ملوکُ الطوائف کو اپنے اِنجام سے خطرہ لاحق ہوا۔ ایسے میں اُنہیں ہمسایہ مسلمان ریاست کا فرمانروا ’یوسف بن تاشفین‘ اپنی اُمیدوں کے آخری سہارے کی صورت میں دِکھائی دیا۔ اندلس کے سفیروں نے ’یوسف بن تاشفین‘ کو اندلسی مسلمانوں پر ہونے والے عیسائیوں کے مظالم کی لرزہ خیز داستان سنائی اور اُسے صلیبی حملوں کے خلاف اِمداد کے لئے بلایا، جس کے نتیجے میں وہ 1086ء میں 100 جہازوں کے بیڑے کے ساتھ 12 ہزار کی فوج لے کر افریقہ کی بندرگاہ ’سبتہ‘ سے اندلس روانہ ہوا۔ ملوکُ الطوائف بالخصوص معتمد اشبیلیہ (Seville) کے 8,000 اَفواج بھی اُس کے ساتھ آن ملیں۔ یوں 20,000 اَفواج کے ساتھ اُس نے ’سرقسطہ‘ (Zaragoza) کے مقام پر ’لیون‘ (Leon) کے حملہ آور باشادہ ’الفانسوششُم‘ کے 80,000 سپاہیوں کو تہِ تیغ کیا، جن میں سے بمشکل چند سو سپاہی جان بچا کر اپنے وطن واپس لوٹ سکے۔ جنگ زلّاقہ کے نام سے معروف یہ لڑائی اِس اِعتبار سے سپین کی تاریخ میں اہم مقام رکھتی ہے کہ عیسائیوں کی طرف سے مسلمانوں کو جو زبردست خطرہ لاحق ہو گیا تھا وہ ایک طوِیل عرصے کے لئے ٹل گیا۔ اگر یوسف بن تاشفین عیسائیوں کا پیچھا کرتا تو اُن کی طاقت کو مستقل طور پر ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر سکتا تھا مگر اُس نے واپسی کا اِرادہ کیا اور اپنی 3,000 فوج اشبیلیہ (Seville) کی حفاظت کے لئے چھوڑ کر باقی لشکر کے ساتھ عازمِ افریقہ ہوا۔ ’یوسف بن تاشفین‘ تو ’الفانسو‘ کو شکست سے دوچار کرنے کے بعد واپس افریقہ چلا گیا مگر اندلس کے ملوک اِس قدر بگڑے ہوئے تھے کہ اُن کا اِتحاد کسی صورت نہ رہ سکا اور ملک میں پھر سے اَمن و امان کا مسئلہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ چنانچہ یوسف نے چند سال بعد اندلسی علماء اور عوامُ الناس کے بھرپور اِصرار پر1091ء میں اندلس کو اپنی افریقی ریاست کے ساتھ مدغم کر لیا، یہیں سے ’مرابطین کے دور کا آغاز‘ ہوا۔ اُس دَور میں اندلس کا امن اور خوشحالی ایک بارپھر عود کر آئی تاہم یہ کوئی زیادہ طویل دَور نہ تھا۔ مرابطون کا دورِ حکومت صرف 54 سال تک قائم رہنے کے بعد 1145ء میں ختم ہو گیا۔ صدیوں پر محیط اندلس کی تاریخ میں اِس مختصر دَور کو فلاحِ عامہ کے نکتۂ نظر سے اِنتہائی اچھے لفظوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ دورِ مؤحِّدُون مغربِ اَقصیٰ (موجودہ مراکش) سے 1120ء میں ایک نئی اِصلاحی تحریک نے جنم لیا، جس کا بانی ’ابوعبداللہ محمد بن تومرت‘ تھا۔ مہدیت کے دعوے پر مشتمل اُس کی تبلیغ مَن گھڑت عقائد و نظریات کے باوُجود بڑی پُراثر تھی، جس کے نتیجے میں نہ صرف ہزاروں کی تعداد میں لوگ اُس کے مُرید ہونے لگے بلکہ جلد ہی وہ افریقہ کی ایک عظیم سیاسی قوت کی صورت میں اُبھرا۔ اُس کے مریدین مؤحّدوں کہلاتے تھے۔ ’محمد بن تومرت‘ کے جانشین ’عبدالمومن علی‘ کے دَور میں اُس تحریک نے اپنی سیاسی قوت میں بے پناہ اِضافہ کیا، جس کے نتیجے میں 1145ء میں مرابطون کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ جن دِنوں مؤحّدون نے مرابطون کا خاتمہ کیا سپین کے صلیبی حکمران ’الفانسوہفتم‘ نے ’قرطبہ‘ (Cordoba) اور ’اشبیلیہ‘ (Seville) سمیت اندلس کے بہت سے شہروں پر قبضہ کر لیا۔ چنانچہ اندلس میں مؤحّدون کے دَور کا آغاز ایک سُکڑی ہوئی ریاست کے طور پر ہوا۔ اس کے باوُجود عبدالمؤمن کے جانشینوں نے نہ صرف صلیبی حملوں کا پُرزور مقابلہ کیا بلکہ ریاست کی تمدّنی ترقی کی طرف بھی خصوصی توجہ دی۔ بہت سی مساجد، محلات، فوجی مدرسے، قلعے، پل اور سڑکیں اُسی دَور میں تعمیر ہوئیں۔ اُس دَور میں بندرگاہوں کی توسیع بھی عمل میں آئی اور جہاز رانی کے کارخانے قائم ہوئے۔ صنعت و حرفت کو خوب فروغ ملا اور تجارت نے بھی ترقی کی۔ 1214ء میں مؤحّدون کے آخری فرمانروا ’ابوعبداللہ محمدالناصر‘ نے ’الفانسونہم‘ کی زیرقیادت حملہ آور قشتالہ، لیون، نبرہ اور ارغون کی مشترکہ اَفواج سے ’العقاب‘ کی جنگ میں شکست کھائی۔ یہ جنگ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوئی اور آئندہ کہیں بھی وہ عیسائیوں کے خلاف جم کر نہ لڑ سکے اور اُن کی عظمت و شکوہ کا سکہ پامال ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جس کے نتیجے میں اندلس ایک بار پھر طوائفُ الملوکی میں گھِرگیا جو 1232ء تک جاری رہی۔ دورِ بنو نصر مؤحّدون کے بعد ملک میں چھانے والی طوائفُ الملوکی کے دوران اندلس کی حدُود تیزی سے سمٹنے لگیں اور بہت سی مسلم ریاستیں یکے بعد دِیگرے عیسائی مقبوضات میں شامل ہوتی چلی گئیں۔ حتیٰ کہ ’خاندانِ بنو نصر‘ کے آغاز سے قبل اِسلامی سپین محض 700 میل کے لگ بھگ رقبے پر مشتمل رہ گیا، جس میں غرناطہ (Granada)، المریہ (Almeria)، مالقہ (Malaga)، قادِس (Cadiz)، بیضاء (Baza) اور جیان (Jaen) کے مشہور شہر شامل تھے۔ غرناطہ کا خاندانِ بنو نصر جس نے 1232ء سے 1492ء تک 260 سال حکومت کی، تاریخِ اندلس میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اُس خاندان نے اِتنے طوِیل عرصے تک اپنے محدُود ریاستی وسائل کے باوُجود یورپ بھر کی اِجتماعی یلغار کو روکے رکھا۔ 1423ء میں صحیح معنوں میں ریاست کے زوال کا آغاز ہوا جو بالآخر 2 جنوری 1492ء کے تاریخی دِن اپنے اِنجام کو جاپہنچا۔ عیسائی قابضین نے غرناطہ (Granada) کے مسلمان عوام کے ساتھ کئے گئے جان، مال، عزت و آبرو اور مذہبی آزادی کے وعدے کے برخلاف اُن پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور اُنہیں تبدیلی مذہب یا جلاوطنی میں سے ایک پر مجبور کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں سپین سے مکمل طور پر مسلمانوں کا خاتمہ ہو گیا۔ اِسلامی سپین کے چند عظیم سائنسدان سپین کی سرزمین اِسلام کی علمی تاریخ میں بڑی زرخیز ثابت ہوئی ہے۔ اُس کا مقام مردم خیزی میں کسی طرح بھی بغداد (Baghdad) اور دِمشق (Damascus) کی یونیورسٹیوں سے کم نہیں۔ اندلس کی کوکھ سے جن عظیم سائنسدانوں نے جنم لیا یہ اُنہی کا کسبِ کمال تھا جس کی بدولت قرطبہ (Cordoba) جیسا عظیم شہر قرونِ وُسطیٰ میں رشکِ فلک بنا۔ اندلس کی تمدّنی زندگی کے پیچھے اُس کے جلیل القدر سائنسدانوں ہی کا ہاتھ تھا۔ قرونِ وُسطیٰ کی بہت سی نامور شخصیات اندلس ہی سے تعلق رکھتی تھیں۔ چنانچہ عظیم مفسرِ قرآن اِمام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ ، مشہورِ عالم سیاح اِبنِ بطوطہ اور اِبنِ جبیر، موجدِ سرجری و ماہرِاَمراضِ چشم ابوالقاسم الزہراوِی، معروف فلسفی و طبیب اِبنِ باجّہ، خالق فلسفۂ وحدتُ الوُجود اِبنِ عربی، عظیم فلسفی و طبیب اِبنِ رُشد، بطلی موسی نظریۂ کواکب کا دلائل کے ساتھ ردّ کرنے والے عظیم اِسلامی ماہرینِ فلکیات اَبواِسحاق الزّرقالی اور اَبواِسحاق البطرُوجی، تاریخ و عمرانیات کے اِمام اِبنِ خلدون، نامور طبیب یونس الحرانی، معروف جغرافیہ نگار و ماہرِ فلکیات شریف اِدریسی، ہوائی جہاز کا موجد عباس بن فرناس، نامور طبیب اِبنِ الہیثم، ماہرِ فلکیات و الجبراء نصیر الدین طوسی اور دِیگر بے شمار علمی و ادبی شخصیات کا تعلق سپین ہی کی عظیم سرزمین سے تھا۔ اِن مسلمان سائنسدانوں نے علم کو صرف اِسلام ہی کی دولت سمجھتے ہوئے محدُود کرنے کی بجائے اپنے دروازے ہر مذہب کے ماننے والوں کے لئے کھلے رکھے اور علم کو بنی نوع انسان کا مشترکہ وِرثہ قرار دیا۔ چنانچہ سپین کی یونیورسٹیوں میں عیسائی اور یہودی طلباء بھی بڑی تِعداد میں تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ حتیٰ کہ مسلمان سائنسدانوں کے یہودی و عیسائی شاگرد بعد میں نامور سائنسدان ہوئے اور اپنی قوم میں سائنسی تعلیم کی تروِیج کا باعث بنے۔ یہیں سے سپین کا علمی سرمایہ مغربی اور وسطی یورپ منتقل ہونا شروع ہوا۔ معروف مستشرق ’منٹگمری واٹ‘ اِس سلسلے میں رقمطراز ہے : Already when the fortunes of the Muslims were in the ascendant, their learning had attracted scholars of all faiths. Spanish Jews in particular were -- including the great Maimonides (1135-1204) -- sat at the feet of Arabic-speaking teachers and wrote their books in Arabic. (W. Montgomery Watt A History of Islamic Spain P.157) ترجمہ : ’’جب مسلمانوں کی قسمت اپنے عروج پر تھی تو اُن کی تعلیمات نے تمام مذاہب کے ماننے والے طلباء کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا۔ سپین کے یہودی بطورِ خاص عرب فکر سے متاثر ہوئے، اور (عظیم میمونائیڈز سمیت) اُن میں سے بیشتر نے عربی بولنے والے اساتذہ سے زانوئے تلمّذ طے کیا اور عربی زبان میں کتابیں لکھیں‘‘۔

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار