منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-23 17:11:28    133 Views قدیم فلاسفر اور تصورِ خُدا  /  صباءسعید

قدیم فلاسفر اور تصورِ خُدا

فلسفہ کو مذہب پر فوقیت دینے والے فلسفے کی ابتدائی زمین سے یا تو باخبر نہیں یا پھر انکارِ خدا کو اپنا فرض سمجھتے ہیں. جبکہ فلسفہ کے ابتدائی موجد اس کی زمین کو مذہب کے لیے ہموار کرتے رہے جو انکی تعلیمات میں واضح ہے. سقراط, افلاطون اور ارسطو کی تعلیمات میں واضح طور پر خُدا کا اقرار نظر آتا ہے.

درج ذیل اسکی کچھ مثالیں دی جارہی ہیں:

ایک مغربی فلاسفر برٹنرڈ رسل (Bertrand Russell) اپنی کتاب میں سقراط(Socrates) ,افلاطون(Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے فلسفے میں تصورِ خُدا کے بارے میں لکھتا ہے: 

سقراط The apology میں خدا کا تذکرہ یوں کرتا ہے "خدا کی طرف سے میں جس کام کے لیے چنا گیا ہوں وہ بہترین ہے".

دوسری جگہ ایتھنز کے لوگوں اور حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہتا ہے " ایھتنز کے لوگوں میں تم سے پیار کرتا ہوں لیکن اس سے زیادہ میں خدا کی اطاعت کرتا ہوں".

افلاطون اپنے تصنیف The republic میں خدا کے بارے میں کہتا ہے. "جو بستر پر آپ قائم کرتے ہو اور سوچتے ہو اور کہتے ہو وہ آپکی رائے (Opinion) ہوسکتی ہے لیکن علم (Knowledge) نہیں. علم صرف خدا کی طرف سے عطا کردہ ہے".

افلاطون چونکہ سقراط کا شاگرد تھا اور سقراط کے فلسفے سے متاثر تھا لہذا وہ The republic میں سقراط کی زندگی کے آخری ایّام کی تفصیل لکھتا ہے. جب اس کی موت کا فیصلہ سنا دیا جاتا ہے اور اسے اپنے ساتھیوں اور شاگردوں سے بات کرنے کی اجازت دی جاتی ہے. افلاطون سقراط کی زبانی لکھتا ہے. " ایک فلاسفر کبھی موت سے نہیں ڈرتا لیکن خودکشی کو حرام سمجھتا ہے"(یاد رہے ایتھنز میں خودکشی کو حرام نہیں سمجھا جاتا تھا)

جب اس کے ساتھی اس سے پوچھتے ہیں کہ خودکشی حرام کیسے ہے. تو وہ جواب دیتا ہے. "جب ایک مالک اپنے مویشیوں کو چرائے اور انہیں سیدھے رستے پر چلنے کا کہے ایسے میں ایک مویشی رستے سے آزادی اختیار کرے تو مالک کا غصہ بجا ہے وہ ناراض ہوگا. مویشی اور مالک کا رشتہ بندے اور خدا کا ہے. اگر بندا خدا کے بتائے رستے سے ہٹ کر چلے اپنی مرضی کرے تو خدا ناراض ہوگا لہذا خودکشی حرام ہے اسلیے بندے کو چاہیے کہ وہ اس وقت کا انتظار کرے جب اسکا خدا چاہتا ہے کہ بندا اسکے پاس آئے جیسے کہ میرا خدا مجھے بُلا رہا ہے اور موت کا وقت آگیاہے".

پھر افلاطون Cosmology کے بارے میں کہتا ہے "یہ کائنات انسانی حسیات سے ماورا ہے انسان اسے نہیں تخلیق کرسکتا اور یہ کائنات ازخود وجود میں نہیں آسکتی اور خُدا کی تخلیق کردہ ہے".

ایک اور جگہ کہتا ہے. "کائنات چار بنیادی ایلیمنٹس آگ, پانی , ہوا اور مٹی سے ملکر بنی. اور خُدا نے ان چار اشیاء سے اس کائنات کو تخلیق کیا".

پھر ایک اور جگہ کہتا ہے "خُدا نے پہلے روح کو بنایا پھر جسم کو".

ارسطو کا تصورِ خُدا کچھ یوں ہے. "کائنات کی ہر چیز متحرک ہے. اور ہر متحرک چیز کے پیچھے محرک ہے جو اسے حرکت پر مجبور کرتا ہے. یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے. چونکہ حرکت کو دوام نہیں ہے اسے کہیں نہ کہیں رُکنا ہے. لہذا تمام متحرک اشیاء جو حرکت میں ہیں ان کے آغاز میں ایک ایسا محرک ضرور ہوگا جو ساکن ہے جسے کوئی حرکت نہیں دے سکتا اسکی ایک حقیقت ہے اور وہ خُدا ہے. اس متحرک زندگی کا تعلق اسی سے ہے وہ حیی(living being )ہے وہ ابدی (Eternal ) ہے".

پھر وہ کہتا ہے "تقریباً 47 سے 57 غیر متحرک ایسے ہیں جو محرک ہیں. انہیں وہ چھوٹے اسباب یا Small causes کا نام دیتا ہے اور ان تمام small causes کا ایک فائنل کاز ہے جسے وہ خُدا کہتا ہے.اور ساری حرکتیں اسکے حکم سے وجود میں آتی ہیں اور ہر چیز اس فائنل کاز یعنی خُدا کی محبت کی وجہ سے متحرک ہے".

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار