منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-23 17:07:15    63 Views قرآنِ کریم کی پشین گوئی  /  صباءسعید

قرآنِ کریم کی پشین گوئی

کفار کے متعلق پیشین گوئی کہ وہ اسلام کی شمع کو گل کرنے کے لیے زر کثیر خرچ کریں گے لیکن ناکام رہیں گے کفار اسلام کو ختم کرنے کے لیے جہاں اپنی ساری سطوت وشوکت استعمال کر رہے تھے وہاں اس مقصد کے حصول کے لیے پانی کی طرح دولت بھی خرچ کر رہے تھے اللہ تعالی نے ان کے اس طرز عمل کے مسلسل جاری رہنے کی پیشین گوئی کی اور فرمایا

"بے شک کافر خرچ کرتے ہیں اپنے مال تاکہ روکیں(لوگوں کو) اللہ کی راہ سے- اور آئندہ بھی (اسی طرح) خرچ کریں گے- پھر ہوجائے گا یہ خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت وافسوس پھر وہ مغلوب کر دیے جائیں گے" سورہ الانفال ۳۶

اس آیت کریمہ کے ذریعے تین پیشین گوئیاں کی گیئں-

1-کافر اسلام کو مٹانے کے لیے اپنا مال خرچ کریں گے-

2-ان کی یہ جدوجہد اور مال کثیر خرچ کرنا ان کے لیے باعث حسرت ہوگا-

3-اپنے اس مقصد میں وہ ناکام رہیں گے-

اس پیشین گوئی کے پورا ہونے کی صحیح جھلک دیکھنے کے لیے اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ کا مطالعہ ضروری ہے-کیونکہ یہ پیشین گوئی صرف کسی ایک واقعے کی ذریعے پوری نہیں ہوئی بلکہ چودہ سوسالوں میں مسلسل پوری ہورہی ہے اور آج کے دور میں یہ پیشین گوئی بڑی عجیب شان سے پوری ہو رہی ہے- یہ پیشین گوئی اس وقت بھی پوری ہوئی تھی جب بدر واحد اور احزاب و حنین میں دشمنان اسلام نے زر کثیر صرف کر کے اسلام کی شمع کو بجھانے کی کوشش کیں لیکن ان کوششوں کی نتیجے میں انہیں سوائے حسرت و ذلت کے کچھ نہ ملا- اسلام روز افزوں ترقی کرتا رہا اور وہ حسرت و یاس کے ساتھ اپنی ناکامیوں پر کف افسوس ملتے رہے- اس پشیین گوئی کو اس وقت بھی چشم فلک پیر نے پورا ہوتے دیکھا جب قیصرو کسری نے زر کثیر صرف کر کے لشکر ہائے جرار تیار کیے لیکن مسلمانوں کر مقابلے میں نہ ان کی ٹڈی دل فوجیں ٹھہر سکیں اور نہ اموال کثیرہ کا صرف کرنا ان کے کام آسکا- اس پشین گوئی نے اس وقت بھی اپنی شان دکھائی جب یورپ بھر سے لاکھوں کی تعداد میں صلیبی شجر اسلام کی بیخ کنی کے لیے ارض اسلام پر ٹوٹے لیکن اپنی حسرتوں کے سمندر میں غرق ہوگئے-

ذرا اندازہ لگائیں کہ ایک ایک لشکر کی تیاری پر کتنا مال و زر صرف ہوا ہوگا یہ صلیبی حملہ ایک نہیں تھا بلکہ کئ صدیاں یہ حملے جاری رہے ان حملوں میں یہودو نصاری کے لاکھوں جنگجو لقمہ اجل بنے ان کی تجوریاں کھلیں اور اسلام کی مخالفت میں خالی ہوگئیں لیکن اسلام کا آفتاب اب بھی اسی آب و تاب سے چمک رہا ہے- قافلہ انسانیت کو اسلام کی راہ سے روکنے کے لیے مال خرچ کرنے والی پشین گوئی کو جس انداز میں مستشرقین اور ان کی ہمنوا تحریکوں نے پورا کیا ہے اس کی مثال شاید ماضی کی تاریخ میں نہ مل سکے اسلام کی کمزوریاں تلاش کرنے اور مناظرے کے میدان میں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے عربی علوم کے ادارے قائم کیے تمام اسلامی علوم کی کتابوں کو چھان مارا- ان کتابوں کے ترجمے کیے- اسلامی ممالک میں سکول کھولے- خیراتی ادارے بنائے - ہسپتال قائم کیے- انہوں نے یہ تمام کام اسلام کا مقابلہ کرنے کے لیے کیے- لیکن ان تمام میدانوں میں طویل جدوجہد کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کی اتنی کوششوں اور اتنے اموال خرچ کرنے کے بعد وہ کسی ایک سچے مسلمان کو اپنے دین سے برگشتہ نہ کر سکے-

کیا حسرت اور مغلوبیت کی اس سے بڑی مثال ملنا ممکن ہے؟

کیا اس قسم کی پشین گوئی صرف وہی ہستی نہیں کر سکتی جو علم الغیب والشہادہ ہے؟

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار