منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-21 08:52:05    85 Views کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟  /  محمد اسحاق قریشی

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟

کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا ؟
مستشرقین اور ان کے پروردہ  ملحدین اکثر یہ اعتراض بڑی شد و مد سے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا۔ یہ ایک ایسا مفروضہ ہے جس کی کوئی بنیاد ہی نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو بزور شمشیر مسلمان بنانا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان کا تعلق دل سے ہے۔ تلوار کا وار جسم پر اثر انداز ہوتا ہے دل پر نہیں ۔تلوار کے ذریعے کسی شخص کی زبان سے کلمہ تو پڑھوایا جا سکتا ہے لیکن تلوار میں اتنی طاقت نہیں ہوتی کہ وہ کسی کے دل میں عقیدہ توحید و رسالت کی تخم ریزی کر سکے۔جو شخص زبان سے کلمہ پڑھتا ہے اور اس کا دل توحید و رسالت کے عقیدے سے یکسر خالی ہے اسلامی اصطلاح میں وہ شخص مسلمان نہیں بلکہ منافق ہےاور منافق کو اسلام نے عام کافروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔یہ کون سی عقلمندی ہے کہ مسلمان لوگوں کو بزور شمشیر منافق بناتے رہیں؟منافقین حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے لیئے مکہ کے مشرکین اور مدینہ و خیبر کے یہود سے کم خطرناک نہ تھے ۔

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانے میں مسلمانوں کو نہ کوئی مذہبی فائدہ تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی فائدہ تھا۔اور نہ ہی اس طریقے سے ان کے سماجی مسائل حل ہو سکتے تھے ۔اسلام دین حکمت ہے اور وہ کسی بے مقصد کام کا حکم نہیں دے سکتا۔اسی لیئے اسلام نے اپنے پیروکاروں کو واضح ہدایات دیں کہ کسی کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں۔قرآن حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا:۔

"دین مین کوئی زبردستی نہیں ۔ اور بےشک ہدایت گمراہی سے واضح ہو چکی " البقرہ 256

قرآن حکیم وضاحت سے یہ بتاتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں بلکہ آپﷺ کا کام تو یہ ہے کہ حقیقت کے جو جلوے بذریعہ وحی آپ ﷺ کے قلب انور پر ظاہر ہوئے آپ لوگوں تک ان کی روشنی پہنچا دیں۔آپ ﷺ لوگوں کو بتا دیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا، جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا، جنت کی ابدی بہاروں کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے اور کون سا راستہ انسان کو جہنم کی گہرائیوں میں گرانے کا باعث بنے گا۔ان حقائق کی تبلیغ سے آپ ﷺ کی ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے۔ اب جس کی مرضی ہے وہ حقائق کی روشنی سے اپنے قلب کو منور کر لے اور جو چاہے باطل کی تاریکیوں میں دھکے کھاتا پھرے ۔چنانچہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے :۔
فَذَكِّرْ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ0 لَّسْتَ عَلَيْـهِـمْ بِمُصَيْطِرٍ

"پس آپ ﷺ انہیں سمجھاتے رہا کریں ، آپ ﷺ کا کام سمجھانا ہی تو ہے۔ آپ ﷺ انہیں جبر سے منوانے والے تو نہیں ہیں"  سورۃ الغاشیہ 21-22

قرآن حکیم نے ایک اور مقام پر واضح الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ :۔
نَّحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ ۖ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْـهِـمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ (ق:45)

"ہم خوب جانتے ہیں جو وہ کہتے ہیں۔اور آپ ﷺ ان پر جبر کرنےوالے نہیں۔ پس آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیئے اس قرآن سے ہر اس شخص کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔"

قرآن حکیم کی یہ آیات کریمہ واضح الفاظ میں رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کو حکم دے رہی ہیں کہ کسی کو مسلمان بنانے میں طاقت کا استعمال نہ کریں ۔ اور حضور اکرم ﷺ  اللہ تعالیٰ کے حبیب اور اولوالعزم  پیغمبر ہیں۔ آپ ﷺ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ آپ ﷺ  اللہ عزوجل کو راضی کرنے کے لیئے وہ کام کریں جس سے اللہ عزوجل نے آپ کو منع فرما دیا ۔حضور اکرم ﷺ نے اللہ عزوجل کے ایک ایک حکم پر عمل کیا اور فریضہ تبلیغ کما حقہ ادا کیا۔ اور تبلیغ کے بعد سننے والوں پر چھوڑ دیا کہ وہ اس بات کو قبول کریں یا اس کا انکار کر دیں۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایک آدمی کو بھی جبراََ مسلمان نہیں بنایا۔

امام محمد ابوزہرہ لکھتے ہیں کہ :۔ "یہ بات ثابت نہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے کسی کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا ہو۔ البتہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ بعض انصار نے زبردستی اپنے بچوں کو حلقہ اسلام میں داخل کرنا چاہا تو آپ ﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔" (خاتم النبیین جلد 2)

کسی کو بزور شمشیر مسلمان بنانا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی اسلام نے اس کی اجازت دی ہے۔اس لیئے  مسلمانوں پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہوں نے لوگوں کو جبراََ مسلمان کیا۔ البتہ جن لوگوں نے مسلمانوں کو محض مسلمان ہونے کے جرم میں ظلم کا نشانہ بنایا ، انہیں اپنے دین سے پھیرنے کی کوشش کی ، تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور حق کی آواز کو طاقت سے دبانے کی کوشش کی  اسلام نے ان لوگوں کے خلاف نہ صڑف جہاد کی اجازت دی بلکہ حکم دیا اور اس راستے میں جان کی قربانی کو مومن کا عمدہ ترین عمل قرار دیا۔مسلمانوں نے ایک طویل مدت تک مظالم سہنے کے بعد اللہ عزوجل کے حکم سے جہاد کیا۔ وہ انہی قوتوں کے خلاف برسرپیکار ہوئے جو تبلیغ اسلام کی راہ میں مزاحم ہوئے۔اس کی وجہ یہ تھی  کہ جو لوگ طاقت کی زبان بولنا چاہتے تھے انہیں دلیل سے قائل کرنا عبث تھا۔اذن جہاد کے بعد جو لوگ مسلمانوں کے خلاف آمادہ جنگ ہوئے ان کے خلاف مسلمانوں نے جہاد کیا۔جن لوگوں نے جنگ سے ہاتھ روک لیا ان سے مسلمانوں نے کوئی تعرض نہ کیا۔

اگر حضور اکرم ﷺ تلوار کے ذریعے اسلام پھیلانا چاہتے تو مختلف غزوات و سرایا میں جو جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگتے ان کی جان بخشی کی ایک ہی صورت ہوتی کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔جو لوگ حضور اکرم ﷺ کے قبضے میں آئے آپ ﷺ نے ان میں سے معدودے چند کو ان کے سیاہ اعمال کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا اور باقی اسیروں کو اپنی رحمت اللعالمینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رہا کر دیا یا  جو صاحب استطاعت تھے ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا۔اور جو آدمی آپ ﷺ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا، آپ ﷺ نے اس ارادے سے مطلع ہو کر بھی  اپنی رحمت سے اسے معاف کر دیا۔قریش مکہ نے بیس اکیس سال کا عرصہ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے ساتھ عداوت کی  لیکن جب اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو ان پر  غلبہ عطا فرمایا تو آپ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس دن عام معافی میں یہ شرط موجود ہی نہ تھی کہ جو مسلمان  ہو گا اسے معاف کر دیا جائے گا ۔ بلکہ اس دن معافی کا اعلان ان الفاظ میں ہواکہ جو شخص ہتھیار پھینک دے گا یا جو شخص ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے گھر پناہ لے لے گایا مسجد میں داخل  ہو جائے گا یا  اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا  اس کو امن دیا جائے گا۔اگر لوگوں کو تلوار کے زور پر مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو فتح مکہ جیسے تاریخی موقع کو اس لیئے استعمال نہ کیاجاتا؟

مستشرقین جو اعتراض اسلام پر اٹھاتے ہیں اس کی زد میں تو ان کا اپنا دین آتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ عیسائی پادری اور پوپ عیسائیت کو بزور شمشیر پھیلانا چاہتے تھےیہی وجہ ہے کہ جن جن علاقوں میں عیسائی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں سے ان تمام مذاہب کا خاتمہ ہو گیا جو اس سے پہلے وہاں موجود تھے۔مسلمانوں نے سپین پر آٹھ سو سال تک حکومت کی ۔ اس طویل دورانیئے کے باوجود وہاں سے عیسائی اور یہودی مذہب ختم نہیں ہوئے بلکہ ان کے ماننے والے پوری آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عمل کرتے رہے۔اور اسلامی حکومت میں مختلف عہدوں پر اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔لیکن جب سپین پر مسلمانوں کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور عیسائی حکومت قائم ہوئی تو مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے یا تو اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت قبول کر لیں یا اپنے دین کی خاطر بھڑکتے ہوئے شعلوں میں کودنے کے لیئے تیار ہو جائیں۔

اسلام اگر تلوار کے ذریعے پھیلا ہوتا تو جن ممالک میں پہلی صدی یجری سے لیکر آج تک مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے وہاں سے دیگر مذاہب کا مکمل صفایا ہو گیا ہوتا۔ اگر آج ہم مسلمانوں کی آبادی کے نقطہ نظر سے دنیا کے نقشے پر نظر ڈالیں تو یہ بات بلکل واضح اور روشن ہو جاتی ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے نہیں بلکہ اپنی تعلیمات کی کشش کے ذریعے پھیلا۔ کیونکہ آج مسلمانوں کی اکثریت ان علاقوں میں آباد ہے جہاں تک مسلمانوں کی تلوار نہیں پہنچی۔انڈونیشیا، ہندوستان، چین، براعظم افریقہ کے ساحلی علاقے اور افریقہ کے صحرا وہ علاقے ہیں جہاں آج کروڑوں کی تعداد میں مسلمان بستے ہیں۔ان علاقوں کے لوگوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگیں یا تو بلکل نہیں ہوئیں یا اتنی کم ہوئیں ہیں کہ یہ کہنا خلاف عقل ہے کہ ان جنگوں کی وجہ سے کروڑوں کی آبادی  اپنا آبائی مذہب ترک کر کے مسلمان ہو گئی۔

اسلام کے تلوار کے ذریعے نہ پھیلنے اور اپنی پرکشش تعلیمات کے ذریعے پھیلنے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ جو پوری دنیا میں اپنی چودھراہٹ قائم کیئے ہوئے ہےاور کوئی ایک بھی ایسا اسلامی ملک نہیں جس کی داخلہ و خارجہ پالیسیوں پر امریکہ براہراست اثر انداز نہ ہوتا ہو، اور کوئی ایک بھی اسلامی حکومت اس قابل نہیں کہ یورپ کے شہریوں کو تلوار کے زور پر یا طاقت کے بل بوتے پر اسلام قبول کرنے پر مجبور کر سکے ۔ لیکن اس کے باوجود اسلام  امریکہ اور یورپ میں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ یور پ کا کوئی ایک بھی شہر  یا ملک ایسا نہیں جہاں اذان کی آواز نہ گونجتی ہو ۔ دنیا کی کوئی ایک بھی قوم ایسی نہیں جس کے کثیر افراد نے کلمہ پڑھ کر دامن اسلام میں پناہ نہ لی ہو۔

تھامس کارلائل جو خود بھی ایک مستشرق تھا وہ دین اسلام پر اس اعتراض کی تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔

"اس بات کو بہت ہوا دی گئی ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دین کو تلوار کے ذریعے پھیلایا۔اگر دین اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا تھا تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ تلوار آئی کہاں سے تھی۔ہر نئی رائے اپنے آغاز میں اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے۔ابتداء میں صرف ایک شخص اس پر یقین رکھتا ہے ۔ وہ اکیلا شخص ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت ایک طرف۔ان حالات میں اگر وہ اکیلا شخص ہاتھ میں تلوار لے کر کھڑا ہو جائے اور اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے ذریعے شروع کر دے تو وہ کچھ نہیں کر سکے گا۔پہلے تلوار حاصل کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ مختصراََ یہ کہ ابتداء میں ہر چیز اپنی استطاعت کے مطابق اپنا پرچار خود کرتی ہے۔عیسائی مذہب کے متعلق بھی تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ جب اس کے ہاتھ میں تلوار آ گئی تو اس نے ہمیشہ کے لیئے اس کا استعمال ترک کر دیا۔ شارلیمان نے سیکسن قبائل کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی نہیں بنایا تھا۔"

(Heroes an Hero Worship By Thomas Carlyle)

اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ امت مسلمہ کے ہاتھ میں جب طاقت آ گئی تو انہوں نے اس طاقت کو اپنے دین کی اشاعت کے لیئے استعمال کیا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ جو لوگ اشاعت اسلام کی خاطر تلوار کا استعمال کر رہے تھے ان کے مسلمان ہونے سبب کیا تھا؟یویناََ ان کے مسلمان ہونے کا سبب تلوار نہ تھی بلکہ اسلامی تعلیمات کے حسن اور کشش نے انہیں دامن اسلام میں پناہ لینے پر مجبور کیا تھا۔اس دین کی تعلیمات نے ان کے اذہان و قلوب کو اس قدر متاثر کیا تھا کہ وہ اپنا گھر بار، اولاد، رشتہ دار، وطن  سب کچھ لٹانے پر آمادہ ہو گئے تھے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس طاقت نے ابتدائی دنوں میں لوگوں کو اسلام کا شیدائی اور گرویدہ بنایا تھا وہی طاقت ہر دور میں اسلام کے سرعت کے ساتھ پھیلنے کا سبب بنتی رہی ہے۔

دین کی تبدیلی یا تلوار کسی بھی دور میں مسلمانوں کا نعرہ نہیں رہا۔بلکہ مسلمانوں کو ان کے دین کی طرف سے حکم تھا کہ جب بھی کسی دشمن کے خلاف برسرپیکار ہوں تو اس کے سامنے تین چیزیں رکھیں  پہلی یہ کہ وہ اسللام قبول کر کے ملت اسلامیہ کا حصہ بن جائے۔ دوسری یہ کہ وہ جزیہ دے کر ان تمام حقوق سے متمتع ہو جن سے ایک مسلمان متمتع ہوتا ہے۔ اگر یہ دونوں باتیں قبول نہ ہوں تو ان کے درمیان تلوار فیصلہ کرے گی۔
یہ بات خود مستشرقین کے اپنے ادیان کے خلاف جاتی ہے  اس کو بھی مستشرقین نے اسلام کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ ان کی سیاہ کاریوں پر کسی کی نظر ہی نہ جائے۔لیکن حق بات تو یہ ہے کہ اسلام کے پاک دامن پر دیگر جھوٹے اعتراضات کی طرح ان کا یہ اعتراض بھی کذب، دروغ گوئی اور جھوٹ پر مشتمل ہے ۔ اور اسلام کا دامن دیگر اعتراضات کی طرح اس اعتراض سے بھی پاک ہے !

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار