منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-19 14:02:33    66 Views مدح قرآن علامہ بوصیری رحمہ اللہ  /  محمد اسحاق قریشی

مدح قرآن علامہ بوصیری رحمہ اللہ

مدح قرآن از  صاحب قصیدہ بردہ شریف علامہ بوصیری رحمۃ اللہ علیہ  
دعنى ووصفى آىات له ظهرت
ظهور نار القرى
ٰ لىلا على علم

اب مجھے رسول اللہ ﷺ کے معجزات بیان کرنے دیجیئے جو اتنے نمایاں اور ایسے مشہور ہیں جیسے رات کے وقت پہاڑ پر جلائی جانے والی ضیافت کی آگ۔

فالدریزداد حسنا  و ھوا منتظم

ولیس ینقص قدرا غیر منتظم

جب موتی کو ایک لڑی میں پرو دیا جائے تو اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے نہ پرویا جائے تو اس کے حسن میں کمی واقع نہیں ہوتی۔

لم تقترن بزمان و ھی  تخبرنا

عن المعاد وعن عاد وعن ارم

قرآن کے الفاظ و معانی قدیم ہیں اس لیئے اس کی آیات کسی زمانے کے ساتھ وابستہ نہیں ہیں۔ یہ ہمیں امور آخرت ، قوم عاد کی تاریخ اور اس کے مقام و سکونت اور باغات وغیرہ کی خبر دیتی ہیں۔

دامت لدینا ففاقت کل معجزۃ

من النبیین اذجاء ت ولم تدم

آیات قرآنی کو دوام نصیب ہوا۔ اس لیئے وہ دوسرے انبیاء کرام کے معجزوں سے بڑھ گئیں۔ جب کہ ان کے معجزے وقتی طور پر ظاہر ہوئے اور انہیں دوام حاصل نہ ہوا۔

محکمات فما یبقین  من شبہ

لذی شقاق ولا یبغین من حکم

یہ آیات قرآنی واضح ہیں اور کسی مخالف کے لیئے کسی قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش نہیں چھوڑتیں۔اور نہ کسی منصف کے فیصلے کی محتاج ہیں۔

ماحوربت قط الاعاد من حرب

اعدی الاعادی  الیھا  ملقی السلم

قرآن کے خلاف جب بھی  جنگ چھیڑی گئی تو اس کا بدترین دشمن بھی صلح پر مائل  ہوا۔(یعنی اسے اپنے عجز کا اعتراف کرنا پڑا)

ردت بلاغتھا دعوی معارضھا

رد الغیور ید الجانی عن الحرم

اس کی فصاحت و بلاغت نے مخالفوں کے  بے بنیاد دعوں کو یوں رد کر دیا جیسے ایک غیور شخص کسی بدکار کے ہاتھ کو اپنے اہل خانہ سے دور کرتا ہے

لھامعان کموج  البحرفی مدد

وفوق جوھرہ  فی الحسن والقیم

اس کے معانی اپنی وسعت اور پھیلاؤ میں سمندر کی موجوں کی مانند ہیں۔اور حسن و قیمت میں سمندر کے موتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہیں۔

فماتعد ولا تحصی عجائبھا

ولا تسام  علی الاکثاربالسام

اس کے عجیب و غریب نکات نہ تو شمار کیئے جا سکتے ہیں اور نہ انہیں سمیٹا جا سکتا ہے۔مزید برآں ان اسرار و رموز کی کثرت قاری پر بار گراں نہیں بنتی۔

قرت بھا عین قاریھا فقلت لہ

لقد ظفرت بحبل اللہ فاعتصم

اس کی تلاوت پڑھنے والے کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنتی ہے۔میں نے (اس کے قاری کو) کہا تو نے اللہ کی رسی کو پا لیا ہےسو اس کے ساتھ اپنا مضبوط تعلق استوار رکھ۔

ان تتلھا خیفۃمن حرنار لظی

اطفات حر لظی من وردھاالشبم

اگر تم دوزخ کی آگ کے خوف سے قرآن کی تلاوت کرو گے تو اس کے خنک اثرات سے اس کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بجھا دو گے۔

کانھا الحوض  تبیض الوجوہ بہ

من العصاۃ وقد جاء وہ کالحمم

قرآن حکیم گویا حوض کوثر ہے جس کے پانی سے گنہگاروں کے سیاہ چہرے دھل کر اجلے اور سفید ہو جاتے ہیں۔

وکالصراط وکالمیزان معدلۃ

فالقسط من غیر ھافی الناس لم یقم

یہ کتاب عدل و انصاف کے باب میں صراط اور میزان کا درجہ رکھتی ہے۔اس سے ہٹ کر لوگوں میں کوئی عدل و انصاف قائم نہیں ہو سکتا

لا تعجبن لحسود راح ینکرھا

تجاھلا وھو عین الحاذق الفھم

اگر کوئی حاسد اور دشمن ماہر اور سمجھدار  ہونے کے باوجود جان بوجھ کر جاہل بن جائے اور قرآن کی خوبیوں کا انکار شروع کر دے تو آپ کو تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔

قد تنکر العین ضوء الشمس من رمد

و ینکر الفم طعم الماء من سقم

کیونکہ کبھی کبھی آشوب چشم کی وجہ سے سورج کی روشنی اچھی نہیں لگتی اور بیماری کی وجہ سے منہ کا ذائقہ بگڑ جاتا ہے۔ حتیٰ کہ میٹھا پانی بھی تلخ محسوس ہوتا ہے۔!

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار