منطق

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

2017-07-19 11:39:19    73 Views نیوٹن اور ملحد سائنس دان  /  محمد اسحاق قریشی

نیوٹن اور ملحد سائنس دان

قرون وسطیٰ میں چرچ کی زندگی کے ہر شعبے میں بالا دستی قائم تھی ۔ بادشاہ وقت بھی چرچ کا مطیع و فرمانبردار تھا اور چرچ کے فیصلوں کے خلاف جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس زمانے میں جب کائناتی و فلکیاتی تحقیقات شروع ہوئیں  تو انہیں چرچ کی جانب سے سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔سائنسی تحقیقات کو قابل سزا جرم قرار دے دیا گیا اور ہزاروں سائنس دانوں کو اس جرم کی سزا کے طور پر زندہ جلوا دیا گیا۔چرچ کے انسانیت سوز مظالم کی وجہ سے سائنس دانوں کی بڑی تعداد مذہب سے متنفر ہو کر دہریہ بن گئی ۔لیکن کچھ سائنس دان اب بھی ایسے تھے جو اللہ کے وجود  اور اس کی عظمتوں کے قائل تھے ۔ ان میں سر آئزک نیوٹن ، جینز کالسن، ایڈنگٹن وغیرہ سرفہرست ہیں۔
ایک دفعہ آئز ک نیوٹن اپنے کمرے میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مشغول تھا۔ اس کے سامنے  نظام شمسی کا ایک دھاتی نمونہ پڑا تھا جس کو کسی کاریگر نے انتہائی مہارت اور قابلیت سے بنایا تھا۔ اس کو جب گھمایا جاتا تو تمام سیارے اپنی اپنی رفتار کے تناسب سے گھومنے لگتے تھے۔ بظاہر یہ بڑا عجیب منظر پیش کرتا تھا۔نیوٹن کا ایک سائنس دان دوست جو اس وقت کے حالات سے متاثر ہو کر دہریہ اور اللہ کا منکر بن گیا تھا ، نیوٹن کے کمرے میں داخل ہوا اور نظام شمسی کے اس نمونے کو دیکھ کر بے اختیار پوچھنے لگا کہ  "اس کو کس نے بنایا ہے؟"
نیوٹن نے سوال سن کر اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا "کسی نے بھی نہیں "
سائنس دان نے کہا "آپ نے میرا مطلب نہیں سمجھا"
نیوٹن نے کتاب پر سے نظر ہٹا کر اپنے دوست سے کہا :۔ " نہیں اسے کسی نے بھی نہیں بنایا۔ جس چیز کو تم اتنی حیرت سے دیکھ رہے ہو  اس نے "خود بخود" اپنی یہ شکل اختیار کر لی ہے۔"
نیو ٹن کے اس جواب میں طنز تھا۔ مگر اس جواب نے سائنس دان کو مضطرب کر ڈالا۔ اس نے جھلاتے ہوئے پوچھا
"کیا تم مجھے بے وقوف سمجھ رہے ہو ۔ بے شک اس کو کسی نے بنایا ہے اور وہ بے انتہا  ماہر کاریگر ہے میں اس کا نام جاننا چاہتا ہوں۔"
اپنی کتاب کو بازو میں رکھتے ہوئے نیوٹن کھڑا ہو گیا اور اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا" یہ نمونہ ایک ادنیٰ ترین نقل ہےاس شاندار نظام کائنات یعنی نظام شمسی کی جس کے قانون سے تم بھی واقف ہو۔اور میں اس قابل نہیں کہ تم کو قائل کر سکوں کہ یہ معمولی کھلونا خود بخود وجود میں آیا۔"
نیوٹن نے اپنے دوست سے کہا "تم مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ تم اس نظریے پر کیسے پہنچے کہ اس قدر شاندار نظام بغیر خالق کے وجود میں آگیا ہے۔"
نیوٹن کا دوست سوائے خاموشی کے کوئی جواب نہ دے سکا۔
نیوٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اپنے دوست کو بتایا کہ:۔ "اس شاندار نظام کائنات کا خالق اللہ ہے۔جو اس کے وجود کو اللہ کے بغیر سمجھتے ہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔
یہ معمولی سی مثال خالق کائنات کے وجود کا زبردست ثبوت پیش کرتی ہے۔

 

جگہ براۓ اشتہار

جگہ براۓ اشتہار