بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ * لا الہٰ الا اللہ محمّد رسول اللہ * قُلْ هُوَ اللّـٰهُ اَحَدٌ - اَللَّـهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُوْلَدْ - وَلَمْ يَكُنْ لَّـهٝ كُفُوًا اَحَدٌ

مقبول ترین

دورِ حاضر میں پردہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج پردہ یا حجاب کی بہت سی صورتیں رائج ہیں جن میں سرِ فہرست سر کو اسکارف سے ڈھانپنا ہے۔ بعض خواتین سر تا پاوں عبایا یا برقع میں ملبوس ہوتیں ہیں حتی کہ ہاتھوں کو بھی دستانوں اور پیروں کو موزوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔ کچھ تو اسکن ٹائٹ زرق برق عبایا کو ہی پردہ گردانتی ہیں ، کچھ تو صرف دوپٹے سے سر ڈھانپ کر ہی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ پردہ ہوگیا اور کچھ ایسی ہیں جن کے نزدیک حج و عمرہ کا پردہ ہی پردہ ہے اور بعض ایسی ہیں جن کے نزدیک '' پردہ تو صرف آنکھوں کا ہوتا ہے'' ۔
اس طرح حجاب یا پردے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں ۔ 
اس مضمون میں ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل پردہ کیا ہے؟ 
عام طور پر ستر اور حجاب میں فرق نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ شریعت کی رو سے یہ مختلف ہیں ۔ 
حجاب اور ستر کے درمیان فرق : 
الستر (مصدر) کا بنیادی معنی محض کسی چیز کو چھپانا ہے۔ اور ستر اور سترۃ ہر اس چیز کو کہتےہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ مقاماتِ ستر سے مراد انسانی جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں شریعت نے دوسرے انسانوں سے ہر حالت میں چھپانا واجب قرار دیا ہے۔
مرد کا ستر اسکی ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ۔ اور عورت کا ستر پورا جسم ماسوائے شہرہ اور ہاتھوں کے ستر میں شمار ہوتیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا۔ میں نے کہا یہ تو میرا بھتیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حجاب دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی حائل ہونے والی چیز کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ اور جب تمہیں (نبی کی بیویوں سے) کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ سورہ احزاب ۳۳ 
گویا حجاب ستر کے علاوہ اضافی چیز ہے جس کا تعلق غیر محرم یا اجنبی مرد سے ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ستر فی نفسہ ضروری ہے چاہے کوئی موجود ہو یا نہ ہو جبکہ حجاب فی نفسہ ضروری نہیں جب تک دیکھنے وال غیر محرم موجود نہ ہو۔ 
اللہ تعالی نے سورہ احزاب اور سورہ نور کے ذریعے مسلمانوں کو احکامِ ستر و حجاب سے روشناس کروایا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں '' جلباب'' اور سورہ نور کی آیت 31 میں '' خمر '' کا ذکر ہوا ہے۔
جلباب کہتے ہیں بڑی چادر یا عبایا سے مشابہ چیز کو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے جبکہ خمر کے معنی چھوٹے دوپٹے کے ہیں جو کہ عورتیں گھروں میں اوڑھا کرتیں تھیں۔ 
سورہ احزاب آیات ٣٣ میں ارشاد باری تعالی ہے :

 وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا
اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے
۔

اس آیت میں پردے احکامات سب سے پہلے نبی ﷺ کے گھرانے کو دئیے گئے کیونکہ آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنا مقصود تھا۔ اور ویسے بھی اصلاح کا عمل دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے شروع کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں تنبیہہ کر دی گئی کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرائش نہ دکھاتی پھرو۔ اس کے لیے خاص لفظ استعمال کیا گیا ہے تبرج۔۔ 
تبرج کیا ہے ؟؟ 
تبرج میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔
اپنے جسم کے محاسن کی نمائش۔
 زیورات کی نمائش اور جھنکار۔
 پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش۔ 
 رفتار میں بانکپن اور نازو ادا۔ 
 خوشبویات کا استعمال ۔ 
ان سب باتوں سے منع فرما دیا گیا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں چہرے کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا :

يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ '' ید نین علیھن من جلا بیبھن '' سے مراد چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹنا ہے، تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے ''دنی یدنی'' کا معنی قریب ہونا بھی ہے اور جھکنا اور لٹکنا بھی۔ '' ادنی ''کے معنی ہیں قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا۔۔۔ اب اگر قرآن کے الفاظ ہوتے'' ادنی الیھن من جلا بیبھن'' تو ان میں اس بات کی گنجائش ہوتی کہ اس کے معنی اپنی چادروں کو اپنے جسموں کی طرف قریب کرلیں یا بکل مار لیں ۔۔ لیکن قرآن کے الفاظ ہیں'' یدنین علیھن من جلابیبھن'' جس کا معنی لا محالہ کسی چیز کو لٹکانا ہی ہو سکتا ہے ۔ ادنی کے ساتھ علی کا صلہ اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں میں مخصوص کر دیتاہے۔ جب لٹکانا یا نیچے کرنا معنی ہو تو اس کا مطلب چہرہ کا گھونگھٹ نکالنا ہی ہوگا۔
اس ضمن میں واقعہ افک سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے جو کہ بخاری میں مذکور ہے۔۔۔ میں اسی جگہ بیٹھی رہی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں ایک شخص صوان بن معطل اسلمی اس مقام پر آیا اور دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ اس نےمجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اتنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا۔ اس نے مجھ کو پہچان کر انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ گھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ ۔۔ الفاظ ہیں'' فخمرات وجھی بجلبابی''۔۔۔ اگر چہرہ خارج ہے تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے اس کا مطلب غلط سمجھا تھا؟
بعض افراد چہرہ اور ہاتھوں کے استثناء کے لیے سورہ نور کی آیت 31 وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا پیش کرتے ہیں لیکن یہ توجیہہ بھی اس صورت میں غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت میں حجاب کی رخصتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے نا کہ حجاب کی پابندیوں کا ۔۔۔ یعنی کن محرم رشتوں سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔ گویا اللہ تعالی عورتوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے کہ اگر بڑی چادر یا برقعہ کے باوجود کسی اتفاق سے عورت کی زینت ظاہر ہو جائے تو اسمیں مضائقہ نہیں ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت اس پر متفق ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے تو اس حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر چیز مانگ لیا کرو بلکہ کہا ہے من وراء حجاب یعنی حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ : عورت احرام کی حالت میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ نسائی
اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے حکم کے بعد عورتوں نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو چھپانا شروع کردیا تھا جبھی تو حالتِ احرام میں استثنی کا حکم جاری ہوا۔ اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو اس حکم کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی ۔ 
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے'وہ فرماتی ہیں کہ(حج کے دوران) قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے جلباب اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکالیتی تھیں اور جب وہ قافلے آگے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کو کھول دیتی تھیں۔ سنن ابی داود اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے عورت کو پسند کرنے کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔۔ اگر چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو اس اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی تھی۔ 
امہات المومنین رضی اللہ وعنہا چہرہ کا پردہ کرتی تھی حالانکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں تھیں اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح بھی نہ کر سکتا تھا۔ اگر ان کو چہرے کے پردے استثنی نہیں تھا تو پھرعام مسلمان عورتوں کو کیونکر ہو سکتا ہے؟ 
اگر اس ضمن میں مختلف آئمہ اکرام رحمتہ اللہ کے اقوال کا جائیزہ لیا جائے تو اگرچہ چہرے کے پردے کے بارے میں اختلافات موجود ہیں لیکن وہ صرف اس حد تک ہیں کہ چہرے کا پردہ لازم ہے یا شریعت کی رو سے موجب ثواب یا مسنون ہے۔ پردے سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے اور جو فقہا چہرے کے پردے کو لازمی قرار نہیں دیتے وہ بھی یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ چہرے یا ہتھیلی پر کوئی زینت کا سامان نہ ہو۔ اگر ہو تو اس کا چھپانا واجب قرار دیا گیا ہے۔ 
احکامِ ستر و حجاب کی استثنائی صورتیں درج ذیل ہیں : 
کسی قسم کے اتفاقیہ امر میں احکامِ ستر و حجاب لاگو نہ ہونگے۔ مثلاََ ہوا سے چہرہ ننگا ہو جانا یا کسی پر نظر پڑنا یا اتفاقاََ کسی مرد کا سامنے آ جانا۔ 
کسی لازمی ضرورت جیسے رشتہ کے لیے چہرہ دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔ یا علاج کروانے کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ عریاں کیا جاسکتا ہے۔ 
کسی اضطراری حالت مثلاََ پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدور کرنے کی صورت میں پردے نہ کرنے کی گنجائش ہے، کسی حادثے کی صورت میں یا جنگ کی صورت میں بھی پردہ نہ کرنے پر مواخذہ نہیں ۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالتِ احرام کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے احکام زمان اور مکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ۔ جیسے عرفہ میں ظہر و عصر کا ایک ساتھ پڑھنا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ عشاء کے وقت ادا کرنا ۔ اسی طرح شریعت نے دورانِ احرام پردے میں تخفیف کردی کہ عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے بلکہ کھلا رکھے ۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کہ البتہ کسی نامحرم کے سامنے آنے پر وہ اپنے چہرے کو چھپا لے تاکہ اس جگہ بدنگاہی اور بے پردگی نہ ہو۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا قطعاََ دشوار نہیں ہے کہ '' حجاب یا پردہ '' کی اصل صورت کیا ہے اور کن حالتوں میں اس سے استثنی ہے نیز ہم جو پردہ کرتے ہیں وہ کس حد تک اسلامی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
استفادہ 
قرآن پاک 
احکام ستر و حجاب ۔۔ مولانا عبدالرحمان کیلانی

مستشرقین کا قرآن حکیم پر یہ ایک بڑا مشہور اعتراض ہے کہ قرآن حکیم میں ایسی آیات موجود ہیں جو باہم ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔لیکن مسلمان یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ باہم متضاد نہیں بلکہ ان کا آپس میں تعلق ناسخ منسوخ کا ہے۔مستشرقین کہتے ہیں کہ مسلمان اس طرح قرآن حکیم پر ہونے والے ایک بڑے اعتراض سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔بلکہ وہ یہاں تک بھی اپنے اس مفروضے کو طول دینے سے باز نہیں آتے کہ تضادات سے بچنے کا یہ طریقہ خود حضور اکرم ﷺ نے وضع کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ قرآن میں آیات کو منسوخ کرنے یا ایک کو دوسری سے بدلنے کا ذکر ہے۔اپنے اس دعویٰ کے ثبوت کے طور پر وہ قرآن حکیم کی اس آیہ کریمہ کو پیش کرتے ہیں :۔
"جو آیت ہم منسوخ کر دیتے ہیں یا فراموش کرا دیتے ہیں تو لاتے ہیں (دوسری) بہتر اس  سے یا(کم ازکم) اس جیسی"۔ سورۃ البقرہ آیہ 106
جارج سیل اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمے میں لکھتا ہے کہ: "قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو باہم متضاد ہیں۔مسلمان علماء نسخ کے اصول کے ذریعے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کا تدارک کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں کچھ احکام صادر فرمائے جن کو بعد میں معقول وجوہات کی بناء پر منسوخ کر دیا گیا"
" صفحہ 52
The Koran"
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ نسخ کا لفظ نظر ثانی کے مترادف ہے۔اور حضرت محمد ﷺ قران میں نظرثانی و ترمیم کیا کرتے تھے۔اور قرآن کی ترتیب کو نئی شکل دیتے تھے۔مستشرقین کے ان تمام دعوؤں کی دلیل یہ ہے کہ قرآن اس بات کو بیان کرتا ہے کہ اس کی کچھ آیات دوسری آیات کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔اگر یہی حقیقت ہو تو پھر قرآن کوکلام الہٰی ماننے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ اگر اس نظریے کو قبول کر لیا جائے کہ حضور اکرم ﷺ قرآن میں ازخود ترمیم کر لیا کرتے تھے تو پھر قرآن کے منزل من اللہ ہونے کے عقیدے کی ضرورت ہی کیا ہے؟جو قرآن میں ترمیم کر سکتا ہے وہ قرآن کو تصنیف بھی کر سکتا ہے۔مستشرقین الفاظ کے ہیر پھیر سے اسی نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستشرقین کا یہ دعوی بلکل غلط اور باطل ہے۔ قرآن حکیم نہ تو حضور اکرم ﷺ کو قرآن کا مصنف کہتا ہے اور نہ ہی اس کی ترتیب اور نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف منسوب کرتا ہے۔قرآن حکیم اللہ عزوجل ہی کو اس کتاب کا نازل فرمانے والاقرار دیتا ہے اور اس میں نسخ کو بھی اسی ذات سے منسوب کرتا ہے۔نسخ کو حضور اکرم ﷺ کی طرف سے نظر ثانی قرار دینا نہ قرآن کا بیان ہے اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اسے تسلیم کیا ہے۔مستشرقین اپنے مزعومات کو قرآن حکیم اور مسلمانوں کے سر تھوپ کر اپنی روایتی علمی بددیانتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔مسلمان ساڑھے چودہ سو سال سے قرآن حکیم اور احادیث کی تشریح اور ان سے استنباط احکام کے لیئے نسخ کے اصول کو استعمال کرتے آئے ہیں۔

یہ اسلامیات کی ایک مستقل اصطلاح ہےجس کی اپنی مخصوص تعریف ہے اور اس کی کچھ شرائط ہیں۔نسخ کوئی قانون چھری نہیں کہ جس عقیدے کو چاہے باطل کر دےجس تاریخی بیان کو چاہے بدل دےجس قانون کو چاہے کالعدم قرار دے دےجس اخلاقی ضابطے کو چاہے ملیامیٹ کر دے۔ نہ اس کے لیئے زمانے کی پابندی ہو اور نہ مسئلے کی نوعیت اس قانون پر اثر انداز ہوتی ہو۔ بلکہ جس بات کو جب خلاف مصلحت سمجھا کالعدم قرار دے دیا۔ نسخ کے متعلق اس قسم کا کوئی بھی تصور درست نہیں۔یہ ایک شرعی اصطلاح ہے جو اپنے دائرے اور پابندیوں کے اندر نافذ العمل ہوتی ہے۔جدیدیت پسندوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن میں جہاں نسخ کا ذکر ہے اس سے مراد یہ ہے کہ قرآن حکیم سابقہ شریعتوں کو منسوخ کرتا ہے،قرآن کی آیات کے ذریعے دوسری آیات منسوخ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ۔لیکن ان کے موقف کی تائید نہ تو  متعلقہ قرآنی آیات کے الفاظ کرتے ہیں اور نہ ہی ملت اسلامیہ کی علمی تاریخ ان کی تصدیق کرتی ہے۔نسخ کا قانون مسلمانوں کے ہاں مسلم ہے اس کا انکار کر کے ہم قرآن حکیم کی کوئی خدمت نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی ہمیں اس کا انکار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ضروری نہیں کہ جس بات میں مستشرقین کو نقص نظر آتا ہو وہ لازماََ ناقص ہی ہو۔ان کو تو اسلام کی کسی بات میں کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔ان کی قلبی کیفیت کے بارے میں اللہ عزوجل ہمیں یوں آگاہ فرماتا ہے :۔
"اور ہرگز خوش نہ ہوں گے آپ سے یہودی نہ عیسائی،یہاں تک کہ آپ پیروی کرنے لگیں ان کے دین کی" سورۃ البقرہ آیہ 120۔

ذیل میں ہم نسخ کا وہ مفہوم پیش کرتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو سمجھایا اور جو ساڑھے چودہ سو سال سے امت مسلمہ میں مروج ہے۔

نسخ کا مفہوم:۔ نسخ کا لغوی معنیٰ زائل کرنا یا نقل کرنا ہے۔ جیسے کہ کہتے ہیں کہ " نَسَختِ الرَیخُ آثَارَ القَدَمِ اَی اَزَلَتہُ۔ہوا نے قدموں کے آثار مٹا دیئے یعنی ان کا ازالہ کر دیا"

اسی طرح جب ایک کتاب کے مندرجات کو دوسری کتاب میں نقل کیا جائے تو کہتے ہیں" نَسَختُ الکِتَابَ" اور اصطلاح میں نسخ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ:

  • " شارع کا ایک حکم شرعی کو کسی دوسری دلیل شرعی سے ساقط کر دینا"
    نسخ کا تعلق ایک طرف شارع سے ہے اور دوسری طرف امت کت مکلفین سے۔مکلفین کی نسبت سے تو نسخ کا یہ یہی مفہوم بنے گا کہ پہلے جو حکم موجود تھا اب وہ ساقط ہو گیا ہے اور اب اس کی جگہ ایک نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے ۔لیکن شارع کی نسبت اس میں رفع کا معنی موجود ہی نہیں  بلکہ اس نسبت سے اس کا مفہوم یہ ہے کہ شارع نے سابق حکم کے نفاذ کی مدت کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کی نگاہ قدرت سے نہ حال پوشیدہ ہے نہ مستقبل۔ یہ بات اس کے لامحدود علم میں ہے کہ کون سے حکم کی افادیت کس وقت تک رہے گیاور کب اس کی جگہ دوسرا حکم مفید رہے گا۔ نسخ کے ذریعے ایک حکم کے خاتنے اور دوسرے حکم کے نفاذ کا جو اعلان ہوتا ہے اس کا فیصلہ تو پہلے سے ہی ہو چکا ہوتا ہے۔لیکن چونکہ بندوں کو اس کا علم نہیں ہوتا اس لیئے جب ناسخ آیت کا نزول ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ پہلے حکم کو ساقط کر کے اس کی جگہ نیا حکم نافذ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ شارع کے علم کے مطابق یہ تبدیلی پہلے حکم کی مدت کے خاتمے اور دوسرے حکم کی مدت کے آغاز کا اعلان ہوتی ہے۔
    یہاں بعض لوگ یہ وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر مان لیا جائے کہ قرآن کی بعض آیات دوسری آیات کی ناسخ ہیں تو اس سے لازم آئے گا کہ پہلا حکم نازل کرتے وقت معاذاللہ ، اللہ عزوجل کو معلوم نہ تھا کہ یہ حکم مفید ہےاور جب تجربے کے ذریعے اس کے غیر مفید ہونے کا علم ہوا تب دوسرا حکم نافذ کر دیا گیا۔
    یہ محض وسوسہ ہے اس کا حقیقت سے کچھ تعلق نہیں ۔کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر مفید حکم ہر زمانے کے لیئے مفید ہو۔بلکہ حالات کے بدلنے سے حکم کی افادیت بدلتی رہتی ہے۔طبیب مرض کا علاج مرحلہ وار کرتا ہےپہلے مرحلے پر وہ جو دوا دیتا ہے وہ اسی مرحلے کے لیئے مفید ہوتی ہےلیکن اسی علاج کو مستقل کر دینا نہ طبابت ہے اور نہ عقلمندی۔طبیب ہر مرحلے کے بعد علاج کو تبدیل کرے گا اور یہی عقلمندی ہے۔اب اگر کوئی فلسفی مزاج مریض طبیب کی طرف سے نسخے کی تبدیلی پر یہ اعتراض کر دے کہ ڈاکٹر صاحب! پہلے آپ نے یہ علاج کیوں تجویز نہ کیا تھا کیا اس وقت آپ کو اس بات کا علم نہ تھا جو اب آپ کے نوٹس میں آئی ہے؟ تو ایسا مریض کسی طبیب کے علاج سے صحتیاب کیسے ہو گا؟یہ مثال محض وضاحت کے لیئے ہے اس مثال سے یہ حقیقت منکشف ہو چکی کہ نسخ کا مطلب یہ نہیں کہ شارع نے پہلے غلط حکم دے دیااور جب اس کی غلطی کا پتا چلا تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکم جب تک مفید تھا نافذالعمل رہا جب اس کی افادیت ختم ہو گئی تو اس کو دوسرے حکم سے بدل دیا
    نسخ کا اصول نہ نظری معاملات اور عقائد میں لاگو ہوتا ہے اور نہ خبر میں ۔نسخ کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام پہلے ایک عقیدے کا پرچار کرے اور پھر اس کی جگہ دوسر اعقیدہ پیش کر کے کہے کہ پہلا عقیدہ منسوخ ہو گیا ہے۔اور نہ ہی نسخ کا یہ مطلب ہے کہ پہلے قرآن ایک حقیقت یا خبر کو بیان کرے اور اور پھر اس کو منسوخ قرار دے دے۔بلکہ نسخ کا قاعدہ صرف عملی احکام میں لاگو ہوتا ہے مگر چند شرائط کے ساتھ۔۔۔!
    نسخ کی اس وضاحت سے مندرجہ ذیل احکام نسخ کے دائرہ کار سے خارج ہو جائیں گے:۔
    شریعت کے احکام کلیہ اور اصول عامہ جیسے امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ

ایسے احکام جن کے مشروع نہ ہونے کا احتمال ہی نہیں۔ جیسے وہ اصلی احکام جن کا تعلق عقائد سے ہے مثلاََ اللہ پر ایمان، فرشتوں ، کتابوں، رسولوں اور  یوم آخرت پر ایمان، ایسے احکام جو نیکی اور فضیلت کی بنیاد ہیں جیسے عدل، صداقت،امانت،والدین سے حسن سلوک، ایفائے عہد اور اسی قسم کے دیگر فضائل۔
ایسے احکام جن کی مشروعیت کا سرے سے احتمال ہی نہیں جیسے کفر اور دیگر اصلی رزائل مثلاََ ظلم، جھوٹ، خیانت، والدین کی نافرمانی، دھوکہ دہی وغیرہ کیونکہ یہ ایسی چیزیں جن کی قباحت بدل نہیں سکتی
ایسے احکام جن کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملحق ہو جو نسخ کے منافی ہومثلاََ اس حکم کے ساتھ یہ وضاحت بھی ہو کہ یہ حکم تاابد ہے ۔ اس کی مثال حضور اکرم ﷺ کی ازدواج مطہرات سے نکاح کی حرمت کا مسئلہ ہے۔

جیسے کہ قرآن حکیم نے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ :۔ وَمَا کَانَ لَکُم اَن تُوذُوا  رَسُولَ اللَّہِ وَلا اَن تَنکِحُوا اَزوَاجَہُ مِن بَعدِہِ اَبَدا------الاحزاب:53
اور تمہیں زیب نہیں دیتا کہ تم رسول اللہ ﷺ کو اذیت پہنچاؤ۔ اور تمہیں اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ ان کی ازدواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح کرو۔
اس آیہ کریمہ میں لفظ ابدا کے ساتھ اس بات کی صراحت کر دی گئی ہے کہ ازدواج رسول اللہ ﷺ سے نکاح ابدی طور پر حرام ہے ۔ اس حکم کو ابدی قرار دینا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہے۔ کیونکہ اگر  اس حکم میں نسخ کا امکان ہو تو یہ اس بات کے منافی ہو گا کہ یہ حکم ابدی طور پر مفید ہو ۔دوسرے قسم کے احکام وہ ہیں کہ جن کے ابدی ہونے کی صریح نص تو موجود نہیں مگر قرائن اس کی شہادت دیتے ہیں ۔ جیسے کہ ایسے احکام جن کا نسخ حضور اکرم ﷺ کی حیات ظاہری میں ثابت نہیں ۔ ایسے احکام بھی ابدی ہیں اور نسخ کو قبول نہیں کرتے کیونکہ نسخ کے لیئے قول رسول اللہ ﷺ ضروری ہےاور حضور اکرم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں کیونکہ آپ ﷺ خاتم الانبیاء و المرسلین ہیں ۔ اس طرح وہ احکام بھی نسخ کو قبول نہیں کرتے جن کا وقت متعین کر دیا گیا ہو۔کیونکہ ایسا حکم وقت گزرنے کے ساتھ خودبخود ساقط ہو جاتا ہے اور اس کو ختم کرنے کے لیئے کسی دوسرے حکم کی ضرورت نہیں پڑتی۔

نسخ کی شرائط:۔
نسخ کے مؤثر ہونے کی چند شرائط ہیں  جو درج ذیل ہیں:۔
منسوخ ہونے والا حکم شریعت کا ایسا جزئی اور عملی حکم ہو جو قرآن و سنت سے ثابت ہو اور اس حکم کے ساتھ نہ تو ابدیت کی شرط ہواور نہ ہی اس کی مدت متعین ہواور ساتھ ہی منسوخ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ناسخ سے مقدم ہو۔
ناسخ قرآن کی آیت یا حضور اکرم ﷺ کی قولی یا فعلی سنت ہو جو منسوخ سے متاخر ہو
نسخ کی صورتیں :۔
نسخ کی کئی صورتیں ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:۔
کبھی ایک حکم منسوخ ہوتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل نہیں ہوتا جیسے کہ پہلے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ کرنا لازم تھابعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم نازل نہیں ہوا۔
کبھی ایک حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ دوسرا ایسا حکم نازل کیا جاتا ہے جو جو تاکید اور شدت کے حساب سے منسوخ حکم کے برابر ہوتا ہے  جیسے بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کا حکم
کبھی ایک سخت حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ایک آسان حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے یہ حکم تھا کہ ایک مسلمان دس مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیااور اس کے بدلے ایک آسان حکم نازل ہو گیا کہ ایک مسلمان صرف دو مشرکوں کے مقابل صبر کا مظاہرہ کرے۔
کبھی آسان حکم کو منسوخ کر کے اس کی جگہ سخت حکم نافذ کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے حکم تھا کہ کفار کی اذیتوں پر صبر کیا جائےبعد میں اس حکم کو منسوخ کر کے ان سے جہاد و قتال کا حکم نازل کیا گیا۔ اسی طرح پہلے صرف یوم عاشورہ کا روزہ فرض تھا بعد میں اس فرضیت کو منسوخ کر کے پورے رمضان المبارک کے روزے فرض قرار دے دیئے گئے۔
کبھی قاعدہ نسخ کے ذریعے ممانعت کے حکم کو اباحت میں تبدیل کر دیا جاتا ہے جیسے کہ پہلے رمضان المبارک کے مہینے میں بعد از عشاء اور سونے سے قبل مباشرت کی ممانعت تھی  پھر اس حکم کو اس آیہ کریمہ کے ذریعے منسوخ کر دیا گیا:۔ "حلال کر دیا گیا تمہارے لیئے رمضان کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا" سورۃ البقرہ آیہ 187
کبھی نسخ صراحتاََ ہوتا ہے اور کبھی ضمناََ۔ پہلی صورت میں ناسخ حکم کی صراحت کر دی جاتی ہےکہ یہ حکم پہلے حکم کو منسوخ کر رہا ہےجیسے کہ پہلے قرآن حکیم نے حکم دیا:۔
" اے نبی ﷺ برانگیختہ کیجیئے مومنوں کو جہاد پر۔ اگر ہوں تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے تو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی تو وہ غالب آئیں گے ہزار پر۔ کیونکہ یہ کافر وہ لوگ ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے" سورۃ الانفال:65
بعد میں اس آیہ کریمہ کے حکم کو دوسری آیہ کریمہ کے حکم سے منسوخ کر دیا گیا۔ ارشاد خداوندی ہوا کہ :۔
" اب تخفیف کر دی ہے اللہ نے تم پر اور وہ جانتا ہے کہ تم میں کمزوری ہے۔ تو اگر ہوئے تم میں سے سو آدمی صبر کرنے والےتو وہ غالب آئیں گے دو سو پراور اگر ہوئے تم میں ہزار آدمی تو وہ غالب آئیں گے دو ہزار پراللہ کےحکم سے ۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے " سورۃ الانفال : 66
دووسری آیہ میں جو کہ ناسخ ہے الئنَ خفف اللہ عنکم کے الفاظ صراحت کر رہے ہیں کہ پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے
دوسری صورت میں شارع نسخ کی صراحت تو نہیں کرتا مگر ضمناََ نسخ کا پتا چل جاتا ہے۔ اس کی سورت یہ ہے کہ متاخر نص کا حکم مقدم نص کے حکم کے متضاد ہو۔ دونوں میں نہ تو تطبیق ممکن ہو اور نہ ہی ایک کو دوسری پر ترجیح دی جا سکتی ہو۔اس  صورت میں پتا چل جائے گاکہ دوسری نص پہلی نص کی ناسخ ہے۔
نسخ کا اصول شریعت محمدیہ ﷺ سے خاص نہیں :۔ مستشرقین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نسخ کا اصول مسلمانوں کی اختراع ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ نے تضادات قرآن کو جواز فراہم کرنے کے لیئے یہ طریقہ اختیار کیا تھالیکن یہ مستشرقین کی روایتی علمی بددیانتی ہے وہ ایک ایسی چیز کے ذریعے اسلام کو موردالزام ٹھہرانے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں جو ان کے ہاں بھی مروج العمل ہے۔ جس کی چند ایک مثالیں درج ذیل ہیں :۔

1۔  بائیبل کے بیان کے مطابق حضرت نوح علیہ السلام کی شریعت میں تمام سبزیوں اور تمام جانوروں کا کھانا حلال تھا۔کتاب پیدائش باب نمبر 9 آیہ نمبر 3 میں حضرت نوح علیہ السلام سے کہا جا رہا ہے کہ "سبزیوں کی طرح تمام حرکت کرنے والے جانور جو زندہ ہیں وہ تمہاری خوراک بن سکتے ہیں میں تمہیں وہ سب عطا فرماتا ہوں "
لیکن شریعت موسویہ میں اکثر جانوروں کو حرام قرار دے دیا گیا۔کتاب الاحبار کے باب نمبر 11 میں ان جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پیروکاروں کے لیئے حرام ہیں ۔ حضرت نوح علیہ اسلام کی شریعت میں تمام جانور حلال تھے اور حضرت موسی علیہ اسلام کی شریعت میں اکثر کی حرمت کا اعلان کر دیا گیا یہ نسخ نہیں تو اور کیا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟
2۔ شریعت موسویہ میں مرد کو کسی بھی سبب سے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا اختیار تھا ۔ اور مطلقہ عورت کے ساتھ کوئی بھی نکاح کر سکتا تھا  جیسا کی کتاب استثناء کے باب چوبیس کی پہلی اور دوسری آیت میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔ مگر شریعت عیسوی میں بدکاری کی علت کے علاوہ کسی وجہ سے بھی مرد کو طلاق دینے کی اجازت نہیں اور نہ ہی مطلقہ کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو شادی کی اجازت ہے۔متی کی انجیل کے پانچویں باب کی آیت نمبر 31 اور 32 کے الفاظ وضاحت کر رہے ہیں کہ اب پہلا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
3۔ کتاب پیدائش کے باب نمبر 17 کی آیت نمبر 14میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں ختنے کا ابدی حکم تھا ۔ یہ حکم حضرت اسماعیل و اسحاق علیہ السلام کی نسلوں میں مروج رہا۔شریعت موسوی میں بھی ختنے کا حکم تھا۔لوقا کی انجیل کے دوسرے باب کی آیت نمبر 21 کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کا بھی ختنہ ہوا۔ یہ حکم حضرت عیسی علیہ السلام کے رفع آسمانی تک جاری رہا۔گو حضرت عیسی علیہ السلام کی شریعت میں اس حکم کو منسوخ نہیں کیا گیا۔لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد جن "مقدسین" نے آپ کی شریعت کو بازیچہ اطفال بنائے رکھا انہوں نے اس ابدی حکم کو منسوخ کر دیا۔مسلمانوں کے نزدیک گو کہ کسی نبی کے بعد اس کے حکم کو منسوخ قرار دے دینا ناممکن ہے مگر جو عیسائی ان "مقدسین" کی وضع کردہ شریعت پر کاربند ہیں و ہ اس کو نسخ کے علاوہ کیا نام دیں گے ؟

4۔ ذبیحہ کے احکام شریعت موسویہ میں بے شمار تھے جو شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔

5۔ شریعت موسویہ کے بے شمار احکام شریعت عیسویہ میں منسوخ ہو گئے ۔ چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بعد سینٹ پال اور دوسرے "مقدسین" نے تورات کے اکثر احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔عبرانیوں کے نام پولس کے خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 18 میں درج ذیل الفاظ موجود ہیں :"یقیناََ سابقہ احکام کو ان کی کمزوری اور ان کے بے اثر ہونے کے سبب سے منسوخ کیا جاتا ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے آٹھویں باب میں بنو اسرائیل کے ساتھ خدا کے قدیم عہد کے بدلے ایک جدید عہد کا ذکر ہےاس باب کی آٰت نمبر 7 میں ہے کہ : " اگر پہلا عہد بےعیب ہوتا تو نئے عہد کی گنجائش نہ ہوتی"
اسی باب کی آیت نمبر 13 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "نئے عہد کا لفظ استعمال کر کے اس نے پرانے عہد کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب جس کو منسوخ قرار دے دیا گیا ہے اور جو پرانا ہو رہا ہے وہ مٹ جانے کے قریب ہے "
عبرانیوں کے نام خط کے ساتویں باب کی آیت نمبر 12 میں سینٹ پال نے ایک ایسا اصول وضع کر دیا ہے جس کے بعد عیسائیوں کے لیئے نسخ کو قبول نہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچتی۔سینٹ پال کہتا ہے کہ :۔
"جب امامت تبدیل ہو رہی ہو تو ضروری ہو جاتا ہے کہ شریعت بھی تبدیل ہو"۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ حقائق روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں کہ"۔
دوسری شریعتوں کے بعض احکام کو منسوخ کرنا شریعت اسلامیہ ہی کا خاصہ نہیں بلکہ سابقہ شریعتوں میں بھی یہ اصول مروج رہا ہے۔
تورات کے عملی احکام خواہ وہ ابدی تھے یا غیر ابدی شریعت عیسوی میں منسوخ ہو گئے۔
تورات کے احکام کے متعلق نسخ کا لفظ عیسائی کتابوں میں بھی موجود ہے ۔
سینٹ پال نے وضاحت کی ہے کہ امامت تبدیل ہونے سے قانون تبدیل ہونا ضروری ہے۔
سینٹ پال کا دعوی ہے کہ قدیم شئے فنا کے قریب ہوتی ہے ۔
مندرجہ بالا حقائق کے ہوتے ہوئے یہودی اور عیسائی اسلام پر یہ الزام کیسے لگا سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے قرآن حکیم کے تضادات کو رفع کرنے کے لیئے نسخ کا اصول وضع کیا ہے ۔۔۔۔؟
گزشتہ سطور میں ایک شریعت کے احکام کو دوسری شریعت کے احکام سے منسوخ کرنے کے دلائل دیئے گئے ۔ اب ہم ایک شریعت کے احکام کو اسی شریعت کے دوسرے احکام سے منسوخ کرنے کی مثالیں پیش کرتے ہیں :۔
1۔ کتاب پیدائش کے بائیسویں باب میں اس بات کی تفصیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ابراہیم علیہ اسلام کو حکم دیا کہ اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کو قربان کریں لیکن جب انہوں نے حکم کی تعمیل کا ارادہ کر لیا تو انہیں اللہ کی طرف سے یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان نہ کریں ۔
یہاں اگر پہلا حکم دوسرے حکم سے منسوخ نہیں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟
2۔ صموئل اول کے دوسرے باب میں ہے کہ " اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ امامت کا منصب بڑے پادری کے خاندان میں ہمیشہ رہے گا"لیکن بعد میں اللہ نے اس فیصلہ کو بدل دیا۔ مذکورہ باب کی آیت نمبر 30 کے الفاظ یہ ہیں کہ : "خدائے اسرائیل کا فرمان یہ ہے کہ : میں نے تمہارے اور تمہارے اسلاف کے گھرانے سے یہ کہا تھا کہ تم ہمیشہ میرے آگے آگے چلا کرو گے لیکن اب خدا کا  فرمان یہ ہے کہ جہاں تک میرا تعلق ہے یہ بات ناقابل تصور ہے کیونکہ جو میری تسبیح کرتے ہیں میں ان کا احترام کرتا ہوں اور جو میری توہین کرتے ہیں ان کی میرے نزدیک کوئی حثیت نہیں"
اسی باب کی آیت نمبر 35 میں ہے ک ہ:
"میں یقیناََ اپنے لیئے ایک وفادار پادری پیدا کروں گا جو وہی کرے گا جو میرے دل اور روح کے مطابق ہو گا"
کتاب صموئیل اول کی ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ نے پہلے بڑے پادری کے خاندان کو منصب امامت تاابد عطا فرمانے کا وعدہ کیا تھالیکن بعد میں اس فیصلے کو بدل دیا اور منصب امامت دوسروں کو تفویض کر دیا۔بائیبل کے مفسرین کہتے ہیں کہ" یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کے بڑے بیٹے "عازار" کو ہمیشہ کے لیئے عطا فرمایا تھالیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہو گیا" اظہار الحق جلد1 صفحہ 532
یہاں عیسائی تو خدا کے ابدی وعدے پر بھی نسخ کا اصول لاگو کر رہے ہیں جو کہ مسلمانوں کے نزدیک ناممکن العمل ہے۔وعدہ کر کے پورا نہ کیا جائے تو یہ نسخ نہیں وعدہ خلافی کہلاتا ہے اور مسلمان اللہ عزوجل کی ذات کو ان تمام عیوب سے مبرا مانتے ہیں ۔
3۔ کتاب الاحبار کے سترھویں باب میں ہے کہ بنو اسرائیل کا جو شخص کوئی جانور ذبح کرے وہ اپنی قربانی کو خدا کے حضور پیش کرنے کے لیئے خیمہ عبادت کے دروازے تک لائےجو ایسا نہ کرے وہ قابل گردن زدنی ہے ۔لیکن کتاب استثناء کے بارہویں باب میں ہے کہ جب جی چاہے اور جہاں جی چاہے جو جانور چاہو ذبح کرو اور کھاؤ۔
ان آیات کی تفسیر میں بائیبل کا ایک بہت بڑا مفسر ھورن لکھتا ہے کہ :۔  ان دونوں مقامات میں بظاہر تناقض نظر آتا ہے لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو پتا چلتا ہے کہ شریعت موسویہ میں بنی اسرائیل کے حالات کے مطابق کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔اور شریعت موسی ایسی نہ تھی کہ اس میں بوقت ضرورت تبدیلی نہ کی جا سکے۔
اس کے بعد مفسر مذکور لکھتا ہے کہ : حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی ہجرت کے چالیسویں سال فلسطین میں داخل ہونے سے پہلے اس حکم کو منسوخ کر دیا۔
مفسر مذکور نے یہاں نسخ کو بھی تسلیم کیا ہے اور حالات کے مطابق شریعت میں کمی بیشی کو بھی ۔ لیکن مقام حیرت یہ ہے کہ اسی نسخ کو یہود و نصاریٰ اسلام پر ایک بہت بڑے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔
4۔ کتاب گنتی کے چوتھے باب کی مختلف آیات میں خیمہ عبادت کے خادمین کی عمریں تیس اور پچاس سال کے درمیان مقرر کی گئی ہیں۔جبکہ اسی کتاب کے آٹھویں باب کی آیات چوبیس اور پچیس میں خدام کی عمروں کی حد پچیس سے پچاس سال متعین کی گئی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان میں سے ایک حکم منسوخ ہے اور دوسرا ناسخ۔
5۔ کتاب الاحبار کے چوتھے باب میں جماعت کی غلطی کا فدیہ صرف ایک بیل کی قربانی قرار دیا گیا ہے لیکن کتاب گنتی کے پندرہویں باب میں جماعت کی غلطی کا کفارہ ایک بیل کے علاوہ غلے، مشروبات اور بکری کے ایک بچے کی قربانی کو قرار دیا گیا ہے۔گویا دوسرے حکم نے پہلے حکم کومنسوخ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔!
ان دونوں اقسام کی مثالوں سے یہ بات بلکل واضح ہے کہ نسخ کا قانون ہر شریعت میں رائج رہا ہے۔اور عہد نامہ قدیم و جدید میں کچھ مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جو نسخ سے بھی کچھ زائد ہیں۔
اللہ تعالیٰ حکیم ہے اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔زمانہ کے بدلنے کے ساتھ ساتھ انسانی ضرورتیں اور تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں۔کسی حالت میں کوئی ایک حکم مفید ہوتا ہے تو دوسری حالت میں وہی حکم مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ایک حکم ایک زمانے میں قابل عمل ہوتا ہے اور دوسرے زمانے میں نہیں ۔کسی زمانے کے لوگ کسی حکم کے تقاضوں کو سمجھنے اور اسے بجا لانے کے قابل ہوتے ہیں جبکہ دوسرے زمانے کے لوگ نہ تو اس کے تقاضوں کو سمجھ پاتے ہیں اور نہ ہی اس حکم کو پورا کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔لہذا دانائی کا تقاضا یہی تھا کہ ہر زمانے  کے حالات کے مطابق احکامات نازل کیئے جاتے۔
الغرض ابو جہل سے لیکر کر سلمان رشدی لعین تک، مکہ کے کفار ومشرکین سے لے کر یورپ کے مستشرقین تک سب دشمن اس کو نقصان پہنچانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ لیکن اس دین متین کا جھنڈا نت نئی بلندیوں پر لہراتا نظر آتا ہے۔
یہ اللہ عزوجل کی قدرت اور دین اسلام کی صداقت کی منہ بولتی نشانی ہے۔کاش کہ دشمنان اسلام اس سے عبرت حاصل کریں ۔

لفظ رب کی علمی تحقیق یہ لفظ سورہ فاتحہ میں ذات باری تعالیٰ کی پہلی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے معنی مربی اور مالک کے ہیں۔ فاتحۃ الکتاب میں باری تعالیٰ کی شان الوہیت پر دلالت کرنے والے پہلے صفاتی نام کی حیثیت سے اس کے معنی و مفہوم کو مختلف جہتوں سے سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر مضمر اعلان ربوبیت درحقیقت توحید الٰہی کا سب سے کامل اور بین ثبوت ہے۔ کیونکہ دور جاہلیت کے کفار و مشرکین کی طرح انسانی زندگی میں شرک، تصور خالقیت کی راہ سے کم اور تصورِ ربوبیت کی راہ سے زیادہ داخل ہوا ہے۔ یہ امر ثابت اور مسلّم ہے کہ کفار و مشرکین عرب اللہ تعالیٰ کو نام خواہ کچھ بھی دیتے ہوں، اسے رب الارباب ضرور مانتے تھے۔ کائنات میں اس کی مطلق بڑائی سے کسی کو انکار نہ تھا۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ وہ اس بالادست ہستی کے نیچے کئی رب اور بھی مانتے تھے اور اسی عقیدے نے ان کی جبینوں کو متعدد خداؤں کی پرستش کے لیے جھکا دیا تھا۔ ربوبیت میں اس تصور شراکت نے عقیدہ توحید کے خالص اور نکھرے ہوئے چہرے کو ان کی نظروں سے اوجھل کردیا تھا۔ بنا بریں ہم لفظ رب کے معنی کا جائزہ علمی و عملی ہر دوگوشوں سے لینا چاہتے ہیں تاکہ اس کے حقیقی مفہوم اور تصور کی معرفت حاصل ہوسکے۔ اس کی مختصر تحقیق یہ ہے کہ یہ لفظ تربیت کے معنی میں اصلاً مصدر ہے مگر اس کا اطلاق و صفاً فائل کے معنی میں ہوتا ہے۔ جیسے عادل کے لیے مبالغۃ عدل کا اور صائم کے لیے صوم کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جس کا مفاد یہ ہے کہ فی الحقیقت رب صرف مربی کو نہیں بلکہ نہایت ہی کامل مربی کو کہا جاسکتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ جو خود ہر جہت سے کامل ہو وہی دوسرے کی کامل تربیت کرنے کا اہل ہوسکتا ہے۔ اس لیے تربیت کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : التربية هی تبليغ الشئي الي کماله شيا فشيا. تربیت سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ اس کے کمال تک پہنچانا ہے۔ (تفسيرأبی السعود، 1 : 13) بعض اہل علم کے نزدیک لفظ رب، مربی کے معنی میں خود نعت ہے۔ (جیسے نعمَّ۔ ینمّ۔ فھونمٌّ، ربّ، یربّ، فھو ربٌّ) لیکن دونوں صورتوں میں اصل مفہوم اور اس کی دلالت ایک ہی رہتی ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصل میں یہ لفظ راب تھا جس کی درمیانی الف حذف کردی گئی اور رجل بار سے رجل بر کی طرح راب سے لفظ رب رہ گیا۔ جیسا کہ ابوحیان کا قول ہے۔ بعض نے اسے مبالغہ پر اسم فاعل بھی قرار دیا ہے اور بعض نے صفت مشبہ کیونکہ وہ بسا اوقات فاعل کی صورت میں بھی پائی جاتی ہے مثلاً الخالق، المنعم اور الصاحب وغیرہ ہیں۔ تربیت اور ملکیت ائمہ تفسیر نے بالعموم رب کے معنی میں دو صفات کو شامل کیا ہے۔ ان دونوں کی اپنی اپنی جگہ معنوی حکمت و افادیت معلوم ہونی چاہئیے۔ تربیت : اس کی تعریف سے واضح ہے کہ یہ دو شرائط کا تقاضا کرتی ہے : i۔ تکمیل ii۔ تدریج تربیت کی مختصر تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : هوالتبليغ الي الکمال تدريجاً. یہ کسی شے کو تدریجا کمال تک پہنچانے کا نام ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مفہوم کو نہایت بلیغ انداز میں واضح کیاہے۔ وہ فرماتے ہیں : الرب في الاصل التربيه و هو انشاء الشيء حالا فحالًا اليٰ حد التمام. لفظ رب اصلاً تربیت کے معنی میں ہے اور اس سے مراد کسی چیز کو درجہ بدرجہ مختلف احوال میں سے گزارتے ہوئے آخری کمال کی حد تک پہنچا دینا ہے۔ (المفردات : 184) کمال سے یہاں مراد ہے ما یتم بہ الشیء فی صفاتہ یعنی یہ کسی چیز کی وہ حالت ہوتی ہے جہاں وہ اپنی جملہ صفات کے اعتبار سے انتہا کو پہنچ جائے۔ ان توضیحات سے معلوم ہوا کہ اگر تربیت پانے والا اپنے کمال یعنی صفاتی انتہا کو نہ پہنچے، تب بھی تربیت نامکمل رہی، اور اگر اس نے جملہ تدریجی اور ارتقائی مراحل طے نہ کیے ہوں تب بھی تربیت کامل نہ ہوئی۔ لہذا نظام تربیت کا کمال یہ ہے کہ مربوب (تربیت پانے والا) تدریجی اور ارتقائی منزلوں میں سے گزرتا ہوا اپنی صفات کی آخری حد کو پالے۔ اس تصور تربیت سے مزید دو باتوں پر روشنی پڑتی ہے : 1۔ حفاظت و کفالت اور ملکیت و قدرت 2۔ ارتقاء میں تسلسل اور استمرار حقیقی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مربوب کی تمام ضرورتوں کی صحیح کفالت اور اس کے جملہ مفادات کی صحیح حفاظت نہ ہو۔ اگر کسی بھی جہت سے مربوب کی کفالت یا حفاظت میں کوئی کمی رہ جائے تو اس کی تکمیل نا ممکن ہوجاتی ہے۔ اور کفالت و حفاظت کی جملہ شرائط اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتیں جب تک وہ شے کاملا ً مربی کے قبضہ و تصرف میں نہ ہو۔ اگر مربی بلا شرکت غیرے اپنے مربوب کا مالک ہو اور بحیثیت مالک اسے اپنے مربوب کے تمام معاملات میں مکمل تصرف اور قدرت حاصل ہو تو تبھی وہ بتمام و کمال کفالت و حفاظت کی ذمہ داری پوری کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں ا س کا کامل مربی ہونا واقعہ بن سکے گا اور اس کی تربیت حقیقی تربیت قرار پائے گی۔ اس لیے لفظ رب اس الوہی شان کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ کامل مربی و مالک ہے۔ وہی قادر اور جمیع امور میں حقیقی متصرف ہے۔ اس کی شان ربوبیت میں کوئی شریک ہے نہ دخیل۔ اس لیے اس کا رب ہونا علی الاطلاق ہے جبکہ اس عالم اسباب میں کئی افراد جو ایک دوسرے کے مربی ہوتے ہیں، انہیں جب مجازا رب کہا جاتا ہے تو ہمیشہ اضافت کی شرط کے ساتھ کہا جاتا ہے۔ مثلاً گھر اور گھوڑے کے مالک کو مجازا ً رب الدار او ر رب الفرس کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت یوسف علیہ السلام قید خانے میں ایک شخص سے بادشاہ مصر کے بارے میں فرماتے ہیں : اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ. اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا (شاہد اسے یاد آجائے) کہ ایک اور بے گناہ بھی قید میں ہے) مگر شیطان نے اسے اپنے بادشاہ کے پاس (وہ) ذکر کرنا بھلا دیا۔ (يوسف، 12 : 42) اسی طرح آپ ایلچی کو فرماتے ہیں : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللاَّتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ. اپنے بادشاہ کے پاس لوٹ جا اور اس سے (یہ) پوچھ (کہ) ان عورتوں کا (اب) کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔ (يوسف، 12 : 50) اسی طرح والدین کی نسبت بارگاہ ایزدی میں اس دعا کی تلقین فرمائی گئی ہے : وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب ! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔ (بني اسرائيل، 17 : 24) یہاں بھی رَبَّیٰنِی کا فعل رب مصدر سے والدین کے حق میں مجازاً استعمال کیا گیا ہے۔ الغرض جہاں بھی رب بطور مصدر یا کسی فرد کے لیے مجازاً استعمال ہوگا کسی نہ کسی اضافت کے ساتھ ہوگا۔ مطلقاً اس کا استعمال صرف اللہ تعالی کے لیے ہے کیونکہ حقیقی مربی اور مالک مطلق وہی ذات ہے اور اسی کی ملکیت و پرورش ساری کائنات کے لیے علی الاطلاق ہے۔ اس لیے وہی اکیلا قادر مطلق اور مسبب الاسباب ہے۔ اگر اس کی اس شان ربوبیت میں کوئی اور شریک ہوتا تو نظام کائنات اس حسن تدبیر کے ساتھ کبھی نہ چل سکتا۔ جیسا کہ خود قرآن اعلان فرماتا ہے : لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا. اگران دونوں (زمین و آسمان) میں اللہ کے سوا اور (بھی) معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہوجاتے۔ (الانبياء، 21 : 22) بنا بریں بعض مفسرین نے رب کا اطلاق مالک، نگران، مربی، مدبر، منعم، مصلح اور معبود کے معانی پر کیا ہے۔ اور بطور خاص حفظ اور ملک کو معنی ربوبیت کا لازمی حصہ تصور کیا ہے۔ دوسری بات جو معنی تربیت میں شامل ہے وہ تکمیل کے سلسلے میں تدریج و ارتقاء کا تسلسل اور استمرار ہے۔ تدریج باب تفعیل کے خواص میں سے ہے اور تدریج و ارتقاء کی صحت اس کے تسلسل اور استمرار پر منحصر ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ کمال کی طرف بڑھنے کا سلسلہ رفتہ رفتہ اور درجہ بدرجہ کسی مرحلے پر رکے بغیر جاری رہے تو تدریج کی صحت اور فوائد برقرار رہتے ہیں اور اگر درمیان میں انقطاع اور عدم تسلسل آجائے تو تکمیل متاثر ہوجاتی ہے۔ نظام ربوبیت اور تصور ارتقاء پر باقاعدہ گفتگو تو ذرا آگے چل کر ہوگی لیکن یہاں اسی قدر سمجھ لینا ضروری ہے کہ رب کے نظام پرورش میں تدریج و ارتقاء بھی ہے اور تسلسل و استمرار بھی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں واضح فرمایا گیا ہے : يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِO الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَO فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَO اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا؟ جس نے تجھے پیدا کیا، پھر اس نے تجھے درست اور سیدھا کیا، پھر وہ تیری ساخت میں متناسب تبدیلی لایا جس صورت میں بھی چاہا اس نے تجھے ترکیب دے دیا۔ (الانفطار، 82 : 6، 7، 8) اس آیت میں باری تعالیٰ نے اپنا ذکر شان ربوبیت سے فرمایا ہے اورساتھ ہی انسانی شخصیت کی جسمانی تکمیل کے سلسلے میں تدریج اور تسلسل کو بیان کیا ہے جس سے مذکورہ بالا تصور کو اجمالی تائید میسر آجاتی ہے اور لفظ رب کی اس معنوی خصوصیت کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔ ربوبیت اور اعانت میں فرق اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اقدس کو قرآن مجید میں کم و بیش نو سو اڑسٹھ (968) مرتبہ شان ربوبیت کے ذریعے بصراحت متعارف کرایا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی یہ شان مخلوقات عالم کے ہر وجود کو اپنے فیض سے نواز رہی ہے۔ فیضیاب تو کئی صورتوں میں لوگ ایک دوسرے سے ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً کوئی پیاسے کو پانی پلاتا ہے، کوئی بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے، کوئی محتاج کی مالی اعانت کرتا ہے، کوئی کمزور کا سہارا بنتا ہے، یہ ساری نفع بخشیاں اور فیض رسانیاں ایک دوسرے کی امداد و اعانت کی مختلف صورتیں اور احسان و انعام کی مختلف شکلیں ضرور ہیں مگر ربوببیت کے عنوان میں نہیں آسکتیں، کیونکہ ربوبیت سے مراد کسی کی پرورش کرنا اور پالنا ہے۔ مذکورہ بالا سب صورتیں اپنی نوعیت اور دائرہ کار کے لحاظ سے دو جہتی یاسہ جہتی اعانتیں ہیں، مگر ربوبیت ہمہ گیر و ہمہ جہت شے ہے۔ مزید یہ کہ دوسری تمام اعانتیں ہنگامی اور وقتی ہوسکتی ہیں مگر ربوبیت ایک مستقل اور مسلسل عمل ہے جو کبھی بھی منقطع نہیں ہوسکتا۔ وہ ہر حال میں ہر لحظہ جملہ سمتوں میں جاری رہتا ہے۔ عام اعانتوں احسانات و انعامات سے ضرورت مندوں کی ایک دو ضرورتوں اور حاجتوں کی تکمیل کا سامان ہوتا ہے۔ لیکن انسانی وجود کو اپنی پیدائش سے پہلے بطن مادر کے دور سے لے کر عالم شباب کو پہنچنے اور اس کے بعد ضعف و پیری کے مرحلوں میں سے گزرنے کے لیے ہر زمانے میں جو جو حاجت اور ضرورت ہوتی ہے ربوبیت اس کی کفیل ہوتی ہے۔ پھر حاجت و ضرورت کی تکمیل کے لیے عالم داخل اور عالم خارج میں جیسے جیسے حالات، تقاضے، تغیرات، عواطف و میلانات اور احوال و کیفیات درکار ہوتی ہیں ربوبیت انہیں بغیر کسی مطالبے بغیر کسی تاخیر کے از خود مہیا کرتی رہتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ یہ خوبی کسی ایسی ذات میں ہوسکتی ہے جو ہر وجود پر ابتداء سے انتہاء تک اپنے علم و قدرت کے ساتھ حاوی اور محیط ہو، اس کی مالک اور نگہبان ہو۔ اس کی ہر حالت اور ضرورت سے ہر وقت اچھی طرح واقف اور اس پر نہایت شفیق اور مہربان ہو۔ ہر قسم کی مدد واعانت پر مکمل طور پر قادر اور خود ہر حاجت و ضرورت سے کلیتہً بے نیا ز ہو اور تمام امور میں حقیقی متصرف اور مدبر ہو۔ یہ تمام خوبیاں چونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں نہیں ہوسکتی تھیں، اس لیے اس نے الحمدللہ فرما کر حقیقتاً خود کو مستحق حمد ٹھہرایا اور استحقاق حمد کی دلیل اپنی ربوبیت کو قرار دیا جو فی الحقیقت صرف اسی کی شان ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے : قُلْ أَغَيْرَ اللّهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ فرما دیجئے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر شے کا پروردگار ہے۔ (الانعام، 6 : 164) العالمین کا مفہوم باری تعالیٰ نے اپنی صفت ربوبیت کی اضافت و نسبت اس لفظ کے ساتھ کی ہے۔ اس لئے یہ جاننا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے کہ العالمین سے کیا مراد ہے؟ عالمین، عالم کی جمع ہے۔ یہ اسم جنس ہے اور خود بھی جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں، جیسے لفظ الناس جمع ہے مگر اس کا واحد کوئی نہیں۔ یہ ’’ع، ل، م،، سے مشتق ہے اور اسم آلہ ہے۔ اس کی مختصر ترین تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے : العالم اسم لما يعلم به. عالم وہ اسم ہے جس سے کسی کو جانا اور پہچانا جائے۔ (تفسير ابي السعود، 1 : 13) (تفسير روائع البيان، 1 : 24) گویا عالم وسیلہ علم ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس کو جاننے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ اس کا مختصر جواب اس تعریف میں مضمر ہے : انه من العلامة و هو يقوي قول أهل النظر فکأنه انما سمي عندهم بذالک لأنه دالٌّ علي وجود الخالق. ’’عالم،، کے علامت سے (مشتق) ہونے کی وجہ سے اہل نظر کا یہ قول برحق ثابت ہوتا ہے کہ اسے ’’عالم،، کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ (تفسير زاد المسير، 1 : 12) واضح رہے کہ کسی کو معلوم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے موجود ہو۔ موجود کی دو اقسام ہیں : 1۔ واجب الوجود 2۔ ممکن الوجود۔ واجب الوجود تو فقط باری تعالیٰ ہے اور ممکن الوجود اس کے سوا سب کچھ ہے۔ جوذات واجب الوجود ہے وہ ہمارے حواس و مشاہدات، عقلی ادراکات حتی کہ قلبی لطائف و اکتشافات سے بھی ماوراء ہے۔ اس کی حقیقت انسان کی ہر سطح کی نفسی استعداد کے حیطۂ ادارک سے بلند ہے۔ وہ موجود ہے لیکن غیر مرئی اور غیر محسوس۔ اس لیے اسے جاننے کے لیے کوئی ذریعہ اور وسیلہ چاہئیے۔ چنانچہ اس نے اپنی معرفت کے ذریعے اور وسیلے کے طور پر پوری کائنات کو تخلیق کیا، یہ کائنات ممکن الوجود ہے مگر واجب الوجود پر دلالت کر تی ہے، جو خود حادث ہے مگر قدیم پر دلالت کرتی ہے، جو خود عارضی مگر دائمی پر دلالت کرتی ہے، جو خود متغیر ہے مگر غیر متغیر پر دلالت کرتی ہے، جو خود اضافی ہے مگر حقیقی پر دلالت کرتی ہے، جو خود محدود و متناہی ہے مگر غیر محدود اور لا متناہی پر دلالت کرتی ہے۔ الغرض کائنات پس و بالا کے وجود کا ہر ذرہ اور اس کے نظام کا ہر گوشہ اپنے خالق و منتظم کی نشاندہی کرتا ہے۔ عالم ذریعہ علم ہے اور وہ ذات حق خود مقصود علم۔ حق یہ ہے کہ یہاں العالمین کا معنوی اطلاق اﷲ کی مخلوق کی کسی خاص نوع یا صنف سے مختص نہیں بلکہ جملہ مخلوقات کی تمام انواع و اصناف اور افراد و اجزاء کو شامل ہے۔ اس کائنات ہست و بود میں جس شے کی بھی دلالت ذات حق اور اس کی ربوبیت پر موجود ہے، وہ العالمین میں داخل ہے۔ کیونکہ اس کا وجود اس کے صانع کے وجود کی دلیل ہے اور یہی مفہوم عالم ہے۔ امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : العالم آلة في الدلالة علي صانعه. عالم اپنے بنانے والے کے وجود کے لیے آلہ دلالت ہے۔ (المفردات، 344) اسی قبیل سے علم ہے جس کے معنی جھنڈے کے ہیں۔ وہ بھی کسی ملک جماعت، عمارت، دفتر، شخصیت یا لشکر کی علامت ہوتا ہے۔ ا ندھیری رات میں اگر کہیں دیا جل رہا ہو جو وہاں کسی انسان کی موجودگی کا پتہ دے تو اسے بھی علم کہا جائے گا۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں اپنی (قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔ (حم السجدة، 41 : 53) مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : أَوَلَمْ يَنظُرُواْ فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّهُ مِن شَيْءٍ. کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں اور (علاوہ ان کے) جو کوئی چیز بھی اللہ نے پیدا فرمائی ہے (اس میں) نگاہ نہیں ڈالی۔ (الاعراف، 7 : 185) ایک اور مقام پر آسمان و زمین کی ساری کائنات کی ذات حق پر شان دلالت کا ذکر یوں کیا گیا ہے : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلاَفِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِّأُوْلِي الْأَلْبَابِO الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً. بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور شب و روز کی گردش میں عقل سلیم والوں کے لئے (اللہ کی قدرت کی) نشانیاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو (سراپا نیاز بن کر) کھڑے اور (سراپا ادب بن کر) بیٹھے اور (ہجر میں تڑپتے ہوئے) اپنی کروڑوں پر (بھی) اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ (آل عمران، 3 : 190، 191) جب یہ امر بالکل واضح ہے کہ کائنات ارض و سماء کی ہر شے اور مخلوقات و موجودات کا ہر فرد، وجود الٰہی، اس کی شان خلاقیت اور صفت ربوبیت کی دلیل و علامت ہے تو اس میں سے کسی بھی حصے کو اس جگہ عالمین کے دائرہ اطلاق سے خارج تصور کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ قرآن مجید خود بھی ایک مقام پر اس معنی کی تصریح ان الفاظ میں کرتا ہے : قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَO قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوقِنِينَO فرعون بولا اور پروردگار عالم کی حقیقت کیا ہے؟ (یعنی وہ ہے کیا) فرمایا (وہ) آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم لوگ یقین کرو۔ (الشعراء، 26 : 23، 24) یہاں قرآن مجید نے رب العالمین کی وضاحت میں خود ساری کائنات پست و بالا اور اس کے جملہ موجودات کو بیان کردیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قرآنی تصریح کے بعد رب العالمین کے مفہوم کو اس مقام پر صرف جن و انس یا بعض دیگر انواع خلق پر محصور و محدود کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں رہ جاتی۔ مذکورہ بالا آیت میں آسمانی اور زمینی کائنات اور اس کے جملہ موجودات کو العالمین میں شمار کر کے فرمایا گیا ہے ان کنتم مؤقنین یعنی اگر تم صاحب ایقان ہو۔ ایقان اس علم صحیح کو کہتے ہیں جو استدلال سے حاصل ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی شان میں موقن نہیں کہا جاتا بلکہ موقن مخلوق ہی ہوسکتی ہے کیونکہ وہ موجودات عالم اور ان کے نظام ہائے گوناگوں سے ان کے خالق و صانع پر استدلال کرتی اور اس کی ہستی پر یقین حاصل کرتی ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے فرمایا گیا : وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَO اور اسی طرح ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائبات خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لیے کہ وہ وعین الیقین والوں میں ہوجائے۔ (الانعام، 6 : 75) یہاں بھی زمین و آسمان کی ساری کائنات اور عوالم ارض و سماء کے تمام موجودات کے مشاہدے کو بنائے ایقان قرار دیا گیا ہے۔ جس سے باری تعالیٰ کی ربوبیت مطلقہ پر دلالت میسر آتی ہے۔ اس لیے رب العالمین میں العالمین کا مفہوم اور دائرہ صرف عالم انسانیت یا عالم جن و انس تک ہی مختص تصور نہیں کیا جانا چاہئیے، جیسا کہ بعض مترجمین اور مفسرین نے کیا ہے، بلکہ اس مقام پر اس لفظ کی معنوی وسعت میں جملہ عوالم اور ان کے موجودات کو شامل تصور کیا جانا ضروری ہے۔ درست ہے کہ قرآن مجید میں العالمین کا لفظ ہر جگہ اسی معنوی وسعت کے حوالے سے استعمال نہیں ہوا بلکہ مختلف وجوہ پر وارد ہوا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرہ اورسورۃ الجاثیہ میں ’’أَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ،، اور سورۃالدخان میں وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ کا اطلاق ایک مخصوص زمانے کی اقوام پر ہے۔ اسی طرح سورۃآل عمران میں وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ کا اطلاق ہے۔بَارَكْنَا فِيهَا لِلْعَالَمِينَ میں العالمین کا اطلاق جمیع اولاد آدم پر ہے۔ سَلَامٌ عَلَى نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ میں اطلاق اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) پر ہے۔ وَلَـكِنَّ اللّهَ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِينَ میں اطلاق جمیع اہل ایمان پر ہے۔ أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِمَا فِي صُدُورِ الْعَالَمِينَ میں اطلاق قوم منافقین پر ہے۔ الغرض ہر جگہ اس لفظ کے دائرہ اطلاق کا اندازہ خود ان آیات کے سیاق و سباق سے ہو جاتا ہے۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی لفظ اپنے اصل اطلاق اور انطباق کی وسعت سے ہٹ کر کسی خاص دائرے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کے لیے واضح قرینہ موجود ہوتا ہے اور جہاں ایسا خاص قرینہ موجود نہ ہو وہاں اسے اپنے اصل مفہوم کی وسعت پر ہی قائم رکھا جاتا ہے۔ اس آیت میں چونکہ جملہ حمد کے استحقاق کے لئے باری تعالیٰ نے اپنے العالمین کے رب ہونے کو بطور دلیل پیش فرمایا ہے۔ لہذا کائنات کی جو شے بھی رب کریم کے فیضان ربوبیت سے پروان چڑھ رہی ہے وہ بہر صورت العالمین کے دائرہ اطلاق میں داخل ہوگی۔ رَحمۃٌ للعالمین کے لئے العالمین کا استعمال مذکورہ بالا اصول کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے بھی اطلاق ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے قرآن مجید میں بھی العالمین کا لفظ دو طرح استعمال ہوا ہے : 1۔ العالمین بمعنی عالم انس و جان۔ 2۔ العالمین بمعنی موجودات کائنات۔ پہلا استعمال لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا۔ (الفرقان : 1) ’’تاکہ وہ دنیا جہان والوں کو (اللہ کی نافرمانی کے عواقب سے) ڈرانے والے ہوں،، یہاں عالمین کی معنوی وسعت، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان نذیریت کے حوالے سے متعین کی جائے گی۔ صاف ظاہر ہے کہ نذیر ہوناصرف اس ذوی العقول مخلوق کے لیے ہی ہوسکتا ہے جو بارگہ ایزدی میں اپنے اعمال پر جوابدہ ہو اور یہ مکلف مخلوق فقط عالم انس و جان کے افراد ہیں۔ اس لیے یہاں عالمین سے مراد تمام انسان اور جنات ہوں گے۔ تمام اقوام عالم بھی اس معنی میں شامل ہیں۔ العالمین کا دوسرا استعمال وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَO ’’(اے رسول محتشم) ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر،، (الانبیاء، 21 : 107) کی صورت میں کیا گیا ہے۔ یہاں اس کی معنوی وسعت کا تعین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان رحمت کے حوالے سے ہوگا۔ یہ امر ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان رحمت سے نہ صرف عالم انس و جان متمتع ہوئے ہیں بلکہ عالم ملائک، عالم ارواح، عالم اجسام، عالم نباتات و جمادات، عالم حیوانات، ذوی العقول، غیرذوی العقول حتی کہ دنیا و آخرت کے جملہ عوالم میں ہر کسی نے رحمت مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے اپنے حسب حال فیض حاصل کیا ہے، کر رہا ہے اور کرے گا۔ اس لیے کہ رحمت صرف بصورت ہدایت ہی نہیں اور بھی کئی صورتوں میں صادر ہوتی ہے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کمالات و معجزات سے تواتر اور صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ اس لیے یہاں العالمین کا دائرہ کائنات ارض و سماء کے جملہ موجودات کو محیط ہے۔ لہذا جہاں العالمین کی معنوی وسعت باری تعالی کی شان ربوبیت کے حوالے سے متعین ہوگی۔ اس کا دائرہ جملہ عوالم و موجودات کو کیوں محیط نہ ہوگا؟ العالمین کی ناقابل تصور وسعت یہ پہلوخاص طور پر قابل توجہ ہے کہ جب انواع خلق کے لحاظ سے ایک عالم پوری کائنات ہے توپھر عالمین کی وسعت کتنے عالموں اور کائناتوں کو محیط ہوگی۔ حضرت وہب رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں۔ اﷲ ثمانية عشر ألف عالم، الدنيا منها عالم واحد. اﷲ تعالیٰ کے تخلیق کردہ اٹھارہ ہزار (18,000) عالم ہیں اور دنیا ان میں سے ایک ہے۔ (الدرالمنثور، 1 : 13) (تفسيرأبي السعود، 1 : 14) حضرت کعب الاحبار فرماتے ہیں : لایحصیٰ عدد العالمین۔ عوالم کی تعداد کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن مجید میں ہے : وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ. اور آپ کے پروردگار کے لشکروں کو بجز اس کے کوئی نہیں جانتا۔ (المدثر، 74 : 31) یہاں لشکروں سے مراد مختلف انواع خلق ہیں جو ارض و سماء کی وسعتوں میں جدا جدا عالمین میں موجود ہیں۔ جن کی صحیح تعداد اور حتمی تفصیلات خالق کائنات کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں۔ اسی طرح ارشاد فرمایا گیا : وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَO اور وہ پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے۔ (النحل، 16 : 8) اس آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سلسلہ ازل سے جاری ہے اورہمیشہ جاری رہے گا۔ بنابریں اس کے تخلیق کردہ عوالم اس قدر ہیں کہ کسی کو ان کا اندازہ بھی نہیں۔ اس امر کی تائید اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے : يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ. وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے بڑھاتا جاتا ہے۔ (فاطر، 35 : 1) یہ سب مقامات بتاتے ہیں کہ نہ معلوم دن بدن اور لمحہ بہ لمحہ کتنی کائناتیں اور عوالم منصہ خلق پر ظہور پذیر ہورہے ہیں۔ بقول اقبال : یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون چنانچہ جن علماء نے مختلف عالموں کی تعداد کا ذکر کیا ہے وہ کسی نہ کسی خاص نسبت اور جہت سے کیا ہے : 1۔ اہل علم پر جوں جوں علوم وفنون منکشف ہوتے رہے ہیں وہ اپنی اپنی بساط اور ذوق و فہم کے مطابق عالمین کی اقسام بیان کرتے رہے ہیں۔ کوئی عالم اجسام اور عالم ارواح کی تقسیم اس طور پر بیان کرتا ہے کہ عالم اجسام میں پھر اجسام علویہ اور اجسام سفلیہ کے عوالم ہیں۔ اجسام علویہ میں شمس و قمر دیگر سیارات، افلاک وکواکب، عرش و کرسی، سدرۃ المنتہٰی، لوح و قلم اور جنت وغیرہ کے عالم شامل ہیں۔ اجسام سفلیہ میں کرہ ارض، کرہ ہوا اور کرہ نار ہیں۔ یہ سب اہل فلسفہ کے نزدیک اجسام بسیط کے عالم ہیں اور اجسام مرکبہ میں عالم نباتات، عالم معدنیات، عالم حیوانات وغیرہ شامل ہیں۔ اسی طرح عالم ارواح میں بھی علوی اور سفلی کی تقسیم ہے جن میں ملائکہ اور جن و انس کے عوالم آجاتے ہیں۔ 2۔ بعض اہل علم عالم اکبر اور عالم اصغر کی تقسیم کرتے ہیں۔ عالم اکبر سے مراد ساری خارجی کائنات ہے جس کی وسعتیں زمین وآسمان کو محیط ہیں اور عالم اصغر خود وجود انسانی ہے جو عالم اکبر کی جملہ حقیقتوں کا جامع ہے۔ عالم اکبر جن حقائق کی تفصیل ہے عالم اصغر ان سب کا اجمال ہے بایں طور کائنات عالم مفصل ہے اور انسان عالم مجمل ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَO وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَO اور (یوں تو) یقین رکھنے والوں کے لئے زمین میں (بے شمار) نشانیاںْ ہیں اور (اے لوگو) خود تمہارے نفسوں میں بھی (اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں) پھر کیا تم غور نہیں کرتے۔ (الذرايت، 51 : 20، 21) اسی طرح : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ. ہم عنقریب ان کو دنیا میں اور خود ان کی ذات میں (اپنی قدرت و حکمت کی) نشانیاں دکھائیں گے۔ (حم السجدة، 41 : 53) اس آیت میں واضح طور پر عالم انفس اور عالم آفاق کا ذکر ہے۔ دونوں میں فرق یہی ہے کہ جو آیات الہیہ عالم آفاق میں منتشر ہیں وہ سب عالم انسانی میں متجمع ہیں اس لیے کہا گیا ہے : من عرف نفسه فقد عرف ربه. جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا پس اس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔ (الحاوي للفتاويٰ، 2 : 412) (کشف الخفاء، 2 : 262) کیونکہ عالم انفس میں مخفی حقیقتیں سب رب کریم کی ذات و صفات کا پتہ دیتی ہیں۔ بقول اقبال : اگر خواہی خدا را فاش بینی خودی را فاش تر دیدن بیاموز 3۔ عالمین کی وسعت کا ایک ادنیٰ سا اندازہ وہ بھی ہے جو آج سائنسی انکشافات کے ذریعے حاصل ہورہا ہے۔ اس کا تذکرہ رب العالمین کے الفاظ میں پنہاں ربوبیت الہیہ کی بے کراں وسعتوں کو کسی حد تک اجمالاً سمجھنے میں یقیناً ممد ہوگا۔ ملحص از: لفظ رب العالمین کی علمی اور سائنسی تحقیق ۔۔ڈاکٹر طاہر القادری

اللہ کی اطاعت کس لیے؟
اسلام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی, رسم و رواج کی, دنیا کے لوگوں کی, غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرے.
اللہ اور اسکی رسول ﷺ کی اطاعت پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟
ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا محتاج ہے ؟ نعوذ باللہ کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانے کی خواہش رکھتا ہے کہ جیسے دنیا کے حاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور اسی طرح خدا بھی کہتا کہ میری اطاعت کرو؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے. وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے. دنیا کے حاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے. اس کو ہم سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں. اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور ہماری کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی حاجت نہیں. وہ پاک ہے. کسی کا محتاج نہیں. دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے. اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے. وہ ہم سے صرف اسلیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کی اس میں ہماری بھلائی ہے. وہ نہیں چاہتا کی جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا پھر کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کو سامنے سر جھکائے. وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے زمین پر اپنی خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہے. اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کے اَسفَلُ السّافِلِینَ میں جاگرے. اسلیے وہ فرماتا ہے کہ تم میری اطاعت کرو, اور ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اسکو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا. اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں عزت حاصل کر سکو گے.
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُ
وْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْم(256)
 اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)

دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے.
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ پاک ہی کی وہ ذات ہے جہاں سے روشنی مل سکتی ہے. اللہ علیم و بصیر ہے. وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے. وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ حقیقی نفع کس چیز میں ہے اور حقیقی نقصان کس میں. وہ بے نیاز بھی ہے. اسکی اپنی کوئی غرض ہے ہی نہیں. اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ ہمیں دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے. اسلیے وہ پاک بے نیاز جو کچھ بھی ہدایت دے گا. بے غرض دے گا اور صرف ہمارے فائدے کے لیے دے گا. پھر اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے. ظلم کا اس ذات پاک میں شائبہ تک بھی نہیں ہے. اسلیے وہ سراسر حق کی بنا پر حکم دے گا. اسکے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے. کہ ہم خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کر جائیں.

ملحدوں کے ایک گروپ میں آجکل ایک ملحد صاحب چند ذومعنی تاریخی روایات سے اپنے مرضی کے مطالب اور مفروضے نکالنے کو آرکیالوجی اور خود کوآرکیالوجسٹ سمجھے بیٹھے ہیں، صاحب مکہ اور کعبہ کے تاریخی وجود پر کرسچین مشنریز کا گھسا پٹا اعتراضی میٹریل اردو میں ٹرانسلیٹ کرکے اپنے نام سے پبلش کررہے ہیں اور اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق ، سب فری بلنکرز ان کے علم پر عش عش کررہے ہیں۔ ہم گزشتہ تین تحاریر میں مکہ ، کعبہ اور آب زم زم کے وجود پر تاریخی دلائل پیش کرچکے ہیں، اس تحریر میں ان علامہ ملحد صاحب کی تحقیقات کا سرسری جائزہ پیش ہے۔ ان چند چاولوں سے ہی ملحد صاحب کی پکائی کھچڑی کی پوری دیگ کا اندازہ ہو جائے گا۔

علامہ ملحد صاحب نے اپنے مقدمے کی بنیاد جس آیت پرکھی وہ سورۃ الشوریٰ کی آیت ہے جس میں قران مکہ کو “ام القریٰ” کے نام سے پکارتا ہے۔ اور اس آیت سے ان صاحب نے اخذ کیا کہ قران چونکہ مکہ کو شہروں کی ماں قرار دے رہا ہے اسکا مطلب ہے کہ قران مکہ کے قدیم ترین ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے ، اس سے انہوں نے جو مفروضے اور مطالب اخذ کیے انکی وہ کوئی دلیل نہیں پیش کرسکے لا سکے ۔ انکے ان دعووں کی کوئی صراحت قران سے بھی نہیں ملتی۔

سوال یہ ہے کہ قرآن نے کس بنیاد پر مکہ کو ام القری کہا ، علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں ” مکہ ام القریٰ اس لئے ہے کیونکہ یہ خدا کی نظر میں افضل ہے۔ کیونکہ بہت سے انبیاء یہاں تشریف لائے، نبیﷺ بھی یہاں ہی پیدا ہوئے اور خدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا گھر بھی اسی شہر میں تھا تو اسکی حرمت اور قدر تو خود ہی ہوگئی۔ (تفسیر ابن کثیر )

قران نے شراب کو ام الخبائث سے تعبیر کیا ہے۔ اب اگر اس سے کوئی استدلال کرے کہ قران کا مقصود یہ بتانا کہ شراب بہت پرانا مشروب ہے تو اسکے بارے میں خود ہی فیصلہ فرما لیں کہ وہ کس جگہ کھڑا ہے اور اس پہ بلند و بانگ دعویٰ جات۔۔اب آپ خود ہی اندازہ کرسکتے ہیں جس بندے کے مقدمے کی بنیاد ہی ایک علمی بد دیانتی پہ ہو وہ آگے کیا بیان کرے گا۔

ایک اور ملحد صاحب نے وہاں سورہ آل عمران آیت نمبر 96 ( ان اول بیت وضع للناس للذی ببکته) پیش کی کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کو قران قدیم ترین شہر قرار دے رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے قرآن نے یہاں بھی مکہ کے بارے میں بات نہیں کی۔ بلکہ اس آیت میں بھی صرف خانہ کعبہ کا ذکر فرما رہا ہے کہ اللہ کے لئے یہاں سب سے پہلا عبادت خانہ بنا…. کب؟ اس کی کوئی صراحت نہیں کی گئی .

 

جناب نے ایک قسط میں ابن اسحاق اور طبری کی ایک روائت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ (حضرت عبداللہ حضرت آمنہ کے پاس پہنچے تو باہر کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے ان پر کچھ مٹی لگی ہوئی تھی)… علامہ ملحد صاحب کا مسخرہ پن ملاحظہ کیے اس سے جناب نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اس سے مکہ شہر کا کوی زرعی شہر ہونے کا تاثر ابھرتا ہے جہاں چار سو کھیت اور فصلیں لہلہاتی ہوں جو کہ مکہ میں ممکن نہیں بلکہ پترا میں ممکن ہےلہذا وہ مکہ میں نہیں پترا میں آباد تھے …. یہ ہے انکی آرکیالوجیکل تحقیق کا معیار!!

بات یہ کہ مذکورہ روایت میں شہر کی زرعی حیثیت کا ذکر نہیں… بلکہ مزرعہ کی بات ہے.. ہر وہ جگہ جہاں چند کھجور کے درخت اور کچھ گھاس پھونس اگائی گئی ہو اسے مزرعہ کہتے ہیں…. اور خطہ عرب میں مزرعہ جات کوئی لمبے چوڑے مربع ایکڑ پر مشتمل زرعی میدان نہیں ہوتے… اور اس دور میں تجارت کے علاوہ فرصت کے دنوں میں یہی چھوٹا موٹا کام ہوا کرتا تھا…. اب ایسے کسی چھوٹے سے باغیچہ میں بھی کام کرنا ہو تو انسان پر مٹی کا لگنا ایک عام سی بات ہے… اس کے لئے کسی بڑے زرعی رقبہ میں کدال سے کام کرنے کی ضرورت ہی نہیں…

پھر جناب نے مکہ کے راستوں پر مفروضہ باندھا ہے کہ یہ مکہ کے داخلی راستے دروں کی صورت ہونے چاہئے تھے اور اس کی دیواریں ہونی چاہئیں تھیں.. اور یہ کہ مکہ میں کسی طرف سے بھی پہاڑ پر چڑھ کر درے کے ذریعے نیچے اترنے کی ضرورت نہیں ہے… جناب کا آرکیالوجیکل نالج ملاحظہ کیجیے جناب کو یہ بھی نہیں پتا درہ ہوتا کیا ہے اور کیسا ہوتا ہے ۔؟درہ دو پہاڑوں کے درمیان سے گزرے والا راستہ ہو تا ہے… نا کہ پہاڑ پر چڑھ کر واپس اترنا درہ کہلاتا ہے…

مکہ کے راستوں کے متعلق ایک روایت ملاحظہ کیجیے

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خاتم بن اسماعیل نے ہشام سے بیان کیا، ان سے عروہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ کے بالائی علاقہ کداءکی طرف سے داخل ہوئے تھے۔ لیکن عروہ اکثر کدیٰ کی طرف سے داخل ہوتے تھے کیونکہ یہ راستہ ان کے گھر سے قریب تھا۔(کداءبالمد ایک پہاڑ ہے مکہ کے نزدیک اور کدیٰ بضمِ کاف بھی ایک دوسرا پہاڑ ہے جو یمن کے راستے سے ہے۔)

مکہ کے بالائی اور زیریں راستے برساتی نالوں کے حساب سے ہی سمجھے جاتے ہیں… پہاڑوں میں وہ سمت جس طرف سے وادی (برساتی نالہ) آ رہا ہے وہ بالائی حصہ ہوتا ہے اور جس طرف کو یہ وادی جا رہی ہے وہ زیریں حصہ ہوتا ہے… اور یہ بات اٹل ہے کہ زمین کی زیریں حصہ سمندر کی طرف ہوتا ہے… اور سطح سمندر سے دور ہٹتے ہوئے ہم بالائی حصہ کی طرف جا رہے ہوتے ہیں.. لیکن اس صورت میں بھی س یہ بات بچگانہ سی ہے کہ بالائی درہ کوئی پہاڑ پر چڑھ کر اترنے کو کہتے ہیں

 

علامہ صاحب کا اک اور مفروضہ ملاحظہ ہو کہ جناب نے لکھا کہ مکہ کیونکہ ایک بڑا تجارتی شہر گردانا جاتا تھا جس میں اتنے بڑے بڑے تاجر تھے جن کے ایک وقت میں پچیس سو اونٹ تک قافلے میں شامل ہوتے تھے… اتنی بڑی آبادی میں مکہ کے لوگ کھاتے کیا تھے…. کیونکہ مکہ پہاڑوں میں گھرا ہو شہر ہے جس میں کوئی زراعت نہیں ہے…. اور اس شہر میں ایسا کیا پیدا ہوتا تھا جسے یہ لوگ مال تجارت کے طور پر دوسرے علاقوں میں بیچتے تھے….

پہلی بات کا جواب تو جناب کے سوال میں ہی ہے کہ مکہ والے تاجر تھے تو دوسرے ممالک سے اپنے لئے خوراک کا سامان لانا کوئی انہونی بات نہیں ہے… اس کے علاوہ جانوروں کی پرورش اور دودھ اور کھجور ان کی بنیادی غذا تھی… یہ اونٹ صرف بار برداری کے ہی نہیں ہوتے تھے، ان اونٹوں کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی، یہ جانور فروخت کرتے… وہاں سے ان کے عوض دیگر سامان تجارت خریدتے اور اس سامان کو آگے کی منڈیوں میں بیچ دیتے… ملحد صاحب کو اتنی عرق ریزی کے بعد اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ خوراک کے لئے اپنے ہی علاقہ میں ذراعت کوئی مسلمہ اصول نہیں ہے دنیا کا…. اگر ایسا ہوتا تو وینس شہر کا تو دنیا میں نام و نشان ہی نا رہتا… وہ لوگ تو بھوکے ہی مر جاتے… کیونکہ سمندر کی بیچ بسے اس شہر میں ذراعت کا تو ذکر بھی ممکن نہیں……

اور تجارت کے لئے مال کا بھی پہلے بتایا جا چکا ہے کہ پالے ہوئے جانور یعنی بھیڑ بکریاں اور اونٹ وغیرہ….اور دوسرے ممالک سے خریدا گیا سامان تجارت آگے کی منڈیوں میں فروخت کرنا، اس پر منافع کمانا اور اپنے لئے سامان خورد و نوش خریدنا… یہ سب مکہ والوں کی تجارت کا احوال تھا۔۔

 

علامہ آرکیالوجی ایک اور سوال پیش کرتے ہیں کہ مکہ والے پہلے تو دور سے گزر کر مدینہ کے شمال میں جاتے تھے، اور پھر مشرق کی طرف “بائیں” مڑ کر مدینہ کے شمال میں پہنچ کر گھوم کر مدینہ پر حملہ کرتے تھے.. یہاں جناب اندازہ لگوا رہے ہیں کہ حجاز کے ان دشوار گزار راستوں میں جہاں پانی کا ملنا انتہائی مشکل ہے مکہ کی فوج ریگستان میں چلتے ہوئے مدینہ کے شمال مشرق سے جاکر حملہ کرتے ہیں۔۔۔ علامہ صاحب نے بجائے کوئی مستند حوالہ دینے کے محض اپنے اس مفروضے سے کہ وہ مدینہ کے شمال سے حملہ آور ہوتے تھے’ یہ نتیجہ نکالا کہ قریش مکہ کے بجائے پترا کے رہائشی تھے ۔ ۔

ملحدوں نے آرکیالوجی کا بھی بیڑا غرق کرنے کی قسم اٹھائی ہوئی ہے۔۔بندروں کے ہاتھ استرا آگیا ہے۔۔

مکہ سے چلنے والا لشکر جس کی بنیادی ضرورت اس سفر میں پانی کا حصول اور نسبتا ہموار راستہ ہے جس پر وہ اپنے جانوروں اور سامان کے ساتھ چلتے ہوئے مدینہ پہنچ جائیں.. اس لشکر قریش نے مدینہ کے قریب جاتے ہوئے پہاڑوں سے بچنے اور نسبتا ہموار راستے پر چلتے ہوئے وادی العقیق کا انتخاب کیا… یہ برساتی نالہ ان کی پانی کی ضرورت کے لئے بھی بہتر تھا کیونکہ پہاڑوں میں ایسے برساتی نالوں میں تھوڑی سے کھدائی سے پانی حاصل کیا جا سکتا ہے….

وادی العقیق کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے لشکر کفار مدینہ کے مغرب سے گزرتے ہوئے شمال مغرب میں پہنچا… جہاں وادی العقیق اور وادی قناة جو کہ مدینہ کی طرف سے آ رہی ہے اکٹھا ہوتی ہیں… اور آگے یہ دونوں مل کر وادی الحمض کی شکل آگے نکل جاتی ہیں… وہاں سے وادی العقیق کو چھوڑ کر انہوں نے وادی قناة کے ساتھ ساتھ واپس مدینہ کی طرف سفر شروع کیا اور مشرکین نے شمال مغرب سے بل کھاتے ہوئے مڑ کر جنوب مغرب میں چلتے ہوئے وادی کے ساتھ ساتھ سفر کیا… اس وادی کے ساتھ آگے بائیں گھوم کر جنوب مشرق کی سمت چلتے ہوئے موجودہ العیون کے مغرب سے گزر کر جبل احد کے جنوب میں پہنچ گیا جو کہ مدینہ کے شمال میں واقع ہے… اس طرح لشکر مکہ شمال مغرب سے جبل احد کے دامن میں داخل ہوا… اور لشکر مدینہ جنوب سے شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے میدان احد پہنچا… وہ دور افواج کی حرکت کے لئے اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں وغیرہ پر انحصار کرنے کا تھا… پیرا ٹروپنگ کا تصور بھی نہیں تھا، اس لئے مکہ سے چلنے والا لشکر مدینہ کے تین اطراف پھیلے پہاڑوں پر چڑھنے کی غلطی کرکے مرنے کی بجائے ان وادیوں (برساتی نالوں) کے ساتھ ساتھ لمبا چکر کاٹ کر گھومتا ہوا ہموار راستے سے مدینہ کی طرف اترا اور بھاگنے کے لئے بھی انہیں اسی راستے پر جانا تھا… ناکہ پہاڑوں ہر چڑھ کر پتھروں میں مر جاتے..

ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ ملحد صاحب نے جو نقشہ بنا کہ احد کی جنگ کو دکھایا ہے اسمیں احد پہاڑ کو اٹھا کہ وہ کوسوں دور لے گئے ہیں تاکہ انکے گوگلی امر کی وضاحت ہوسکے۔۔۔ حالانکہ احد پہاڑ اور مدینہ بلمقابل ہیں اور موصوف نے جو نقشہ پیش کیا ہے اسکے مطابق مدینہ وہ کہاں پیچھے جبکہ احد کا میدان بہت آگے نکل جاتا ہے۔۔۔۔ تھوڑا عرصہ ہے موصوف اس پہاڑ کو جلد پترا واپس پہنچا کہ دم لیں گے، جنگ احد کا یہ نقشہ کسی نا سمجھ بچے کے لئے تو شائد قابل قبول ہو، کسی بھی سمجھدار انسان کے لئے ہنسنے کا ہی مقام ہے… جناب لشکر قریش کا جو روٹ دکھا رہے ہیں وہ موجودہ مدینہ کی مکمل آبادی سے باہر سے نکال کر لائے ہیں اور جبل احد کی شمالی سمت جا کر پہاڑ کے پار میدان جنگ سجا دیا ہے… جبکہ میدان جنگ جبل احد کی جنوبی سمت مدینہ کی طرف ہے… اپنی لائن ڈرا کرتے ہوئے حاجی صاحب یہ بھول گئے کہ جنگ احد دسمبر 2015 میں نہیں لڑی جا رہی جو محترم کفار کے روٹ کو موجودہ مدینہ کی آبادی سے باہر نکال کر جبل احد کے بھی پار پہنچا رہے ہیں… بلکہ اس وقت مدینہ کی مرکزی بستی موجودہ مسجد نبوی کے رقبہ کے ہی برابر تھی… اور باقی بستیاں الگ الگ تھیں جو مختلف قبائل کا مسکن تھیں… اور قریش مدینہ کی مرکزی بستی پر حملہ آور تھے جہاں خود محمد الرسول اللہ موجود تھے..

اسی طرح صاحب نے جنگ خندق کا نقشہ پیش کیا ہے ،اسکے میدان جنگ کے حوالے سے صرف اپنی مرضی کی کانٹ چھانٹ کر کے چند چیزیں دکھائیں اور ان پر مفروضہ باندھ لیا…ہمیں اس کا جواب دینا بھی ایک بچگانہ عمل اورملحدوں کی چولیات کو بلاوجہ کی اہمیت دینے جیسا لگتا ہے۔۔

 

ملحد صاحب کے مکہ پہ اعتراض کے سلسلے میں پٹالومی کا ذکر کیا ، پٹالومی کے حوالے سے مشہور ہے کہ اس نے اپنے نقشے میں جس شہر کا ذکر کیا جسے اس نے مکروبہ کا نام دیا تھا۔ وہ شہر اصل میں مکہ تھا۔ اس پر گزشتہ تحاریر میں ہم تفصیل پیش کرچکے مزید پانچ تاریخ دانوں کی شہادتوں کے حوالے پیش ہیں۔

Cyril Glassé: The New Encyclopedia of Islam By Cyril Glassé page 302

(Ilya Pavlovich Petrushevsky (1898–1977): Islam in Iran by I. Pavlovich Petrushevsky page 3

Michael Wolfe:One Thousand Roads to Mecca: Ten Centuries of Travelers Writing about the Muslim pilgrimage Michael Wolfe introduction xv

Paul Wheatley:Paul Wheatley The Origins and Character of the Ancient Chinese City: volume 11 page 288

Mogens Herman Hansen: A Comparative Study of Thirty City-state Cultures: An Investigation, Volume 21 by Mogens Herman Hansen page 248 NOTE 24

 

بقول علامہ ملحد صاحب کہ یہ تمام عیسائی مورخین تھے اور ایک پروپگنڈہ کے طور پہ انہوں نے یک زبان جھوٹ لکھا۔ اور علامہ صاحب چونکہ ملحد ہیں اس لیے وہ سچے مفروضے قائم کررہے ہیں یہ مکہ والی حقیقت ابھی چند سالوں پہلے کھلی ہے کیونکہ اسوقت ابھی سٹلائٹ ایمجری اور دوسری سہولیات میسر نہی تھیں۔۔۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اتنی بھی کم سہولیات نہیں تھیں۔ مکروبہ کے بارے میں انکا کہنا تھا یہ کوئی بستی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے۔ اس لئے مکروبہ مکہ نہیں ہے۔ مکہ کے تاریخی وجود کے متعلق چند اور مورخین کا حوالہ دیکھیے

Reverend Charles Augustus Goodric: Whatever discredit we may give to these, and other ravings of the Moslem imposter concerning the Caaba its high antiquity cannot be disputed; and the most probable account is, that it was built and used for religious purposes by some of the early patriarchs; and after the introduction of idols, it came to be appropriated to the reception of the pagan divinities. Diodorus Siculus, in his description of the cost of the Red Sea, mentions this temple as being, in his time, held in great veneration by all Arabians; and Pocoke informs us, that the linen or silken veil, with which it is covered, was first offered by a pious King of the Hamyarites, seven hundred years before the time of Mahomet۔

(Religious Ceremonies and Customs, Or: The Forms of Worship Practised by the several nations of the known world, from the earliest records to the present time, Charles Augustus Goodrich [Hartford: Published by Hutchinson and Dwine 1834] page 124)

 

John Reynell Morell:…historically speaking, Mecca was a holy city long before Mohammed. Diodorus siculus, following agatharcides, relates that not far from the red sea, between the country of the Sabeans and of the Thamudites there existed a celebrated temple, venerated throughout Arabia.

(Turkey, Past and Present: Its History, Topography, and Resources By John Reynell Morell page 84)

 

Colin Macfarquhar: The reign of the heavenly orbs could not be extended beyond the visible sphere; and some metaphorical powers were necessary to sustain the transmigration of the souls and the resurrection of bodies: a camel was left to perish on the grave, that he might serve his master in another life; and the invocation of departed spirits implies that they were still endowed with consciousness and power. Each tribe, each family, each independent warrior, created and changed the rites and the object of this fantastic worship; but the nation in every age has bowed to the religion as well as to the language, of Mecca. The genuine antiquity of the Caaba extends beyond the Christian era: in describing the coast of the Red Sea, the Greek historian Diodorus has remarked, between the Thamaudites and the Sabeans a famous temple, whose superior sanctity was revered by ALL THE ARABIANS: the linen or silken veil, which is annually renewed by the Turkish Emperor, was first offered by a pious King of the Homerites, who reigned 700 years before the time of Mahomet.“

(Encyclopaedia Britannica: Or, A Dictionary of Arts, sciences and Miscellaneous Literature Constructed on a Plan Volume 2, by Colin Macfarquhar page 183 – 184)

Andrew Crichton: “From the celebrity of the place, a vast concourse of pilgrims flocked to it from all quarters. Such was the commencement of the city and the superstitions fame of Mecca, the very name of which implies a place of great resort. Whatever credit may be due to these traditions, the antiquity of the Kaaba is unquestionable; for its origin ascends far beyond the beginning of the Christian era. A passage in Diodorus has anobvious reference to it, who speaks of a famous temple among the people he calls Bizomenians, revered as most sacred by all Arabians.”

(The history of Arabia, ancient and modern Volume 1 [second edition] By Andrew Crichton page 100)

 

یہ آٹھ سے نو مورخین اور جغرافسٹ ایک بات کر رہے ہیں جو ملحد صاحب کو اپنے الحاد اور مفروضوں کے خلاف سازش محسوس ہورہی ہے۔

جہاں تک پٹالومی میں ذکر نا آنے کی بات ہے پہلے تو یہ واضح ہو کہ پٹالومی کے کوآرڈینٹس کو آج کے کئی جغرافسٹ جھٹلا چکے ہیں۔ اسکے کوآڈینیٹس صحیح نہیں تھے۔ اسکے علاوہ اس نے جو نقشہ بنایا وہ نقشہ بھی خود دیکھ کہ نہیں بلکہ قافلوں سے معلومات اور مطالعے کے بعد ترتیب دیا تھا۔ اس بنیاد پہ پٹالومی کے نقشے پہ انکو انکے صحیح مقام پہ ڈھونڈنا بے فائدہ ہے۔ اس سلسلے میں ملحد صاحب ہی کا ایک کمنٹ ملاحظہ ہو۔

/////پٹالمی کے نقشے کو صیحح کرکے پڑھنے میں سینکڑوں سال لگ گیے ، انیس سو پچاس سے کئی عیسائی آرکیا کوجسٹس نے بائیبل میں موجود مقامات کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، اور ان کے پاس سواۓ اس ایک نقشے اور مختلف قدیم تاریخ دانوں کے بیان کردہ لوکشنوں کے علاوہ کچھ نہیں تھا ، ان سب کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ، لیکن جب سے اس نقشے کو اچھی طرح ٹرانسلیٹ کیا گیا اوراور اس کی زمینی پیمائش کو کومپیوٹر کے توسط سے صحیح کیا گیا ہے ، تب سے ہمیں اس نقشے میں موجود شہروں کی جغرافیائی لوکیشنوں ڈھونڈنے میں آسانی ہو رہی ہے ، پٹولمی نے عرب کے علاقوں کو تین حصوں میں تسیم کیا تھا ، پٹالمی نے یہ سب نقشے خود ہر جگہہ دیکھنے کے بعد نہیں بنائے بلکہ اس نے مختلف سوداگروں سیاحوں وغیرہ کی انفرمیشن سے ان کو بنایا تھا ، اور ان نقشوں کو بناتے وقت کئی غلطیاں کیں اور کونفیگریشن درست نہ ہونے کی وجہ سے وہاں پر بہتے دریاؤں کی لوکیشزکو بہت زیادہ شمال کی طرف دھکیل دیا گیا ، اس کا تقریبن ہر نقشہ پہلے ولے سے تھوڑا مختلف ہے ،جیسا کہ اوپر نقشے میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مقروبا کے اوپر ایک دریا نظر آ رہا ہے لیکن یہ دریا کبھی یہاں تھا ہی نہیں یہ دریا نیچے یمن وا لے ایریے میں بہتا ہے ا، لیکن ان غلطیوں کو سدھار نے کے لئے ماڈرن آرکیالوجسٹس نے طریقے نکال لئے ہیں////

اس تنقیدی سلسلے میں ملحد صاحب نے دو دلائل دیے۔

اول: پٹالومی کے نقشے کو دوبارہ جغرافسٹ نے محنت سے صحیح ترتیب دیا ہے۔

اسکا مطلب ہے کہ صیح ترتیب شدہ نقشے پہ مکہ اب موجود نہی ہے۔ عمدہ بہت عمدہ، اسی طرح کے بہت سے ترتیب شدہ نقشے موجود ہیں جن پہ نبیﷺ سے بہت پہلے مکہ کی موجودگی کا ذکر موجود ہے۔ وہ بھی ترتیب شدہ ہے۔

دوم: مکہ پہاڑیوں کے بیچ موجود ہے وہ پہاڑیوں سے باہر رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ ملحد صاحب اپنی بات میں خود مان چکے ہیں کہ پٹالمی نے مکروبہ کے اوپر ایک دریا دکھایا تھا لیکن یہ دریا کبھی بھی یہاں نہیں تھا بلکہ یہ دریا بہت نیچے یمن کے علاقہ میں بہتا ہے، اس ہزاروں کلومیٹر کے فرق کو ملحد صاحب بیک جنبش کی بورڈ نظر انداز فرما دیتے ہیں لیکن جہاں بات مکہ کی آتی ہے تو ملحد صاحب اس بات پہ اٹکے ہوئے ہیں کہ مکروبہ پہاڑوں سے باہر دکھایا گیا ہے جبکہ موجودہ مکہ پہاڑوں کے اندر وادی ہے اور یہ کوسٹل بیلٹ سے اسی پہاڑی سلسلہ سے الگ ہوتی ہے۔۔

یہاں صاحب کا مکر اور ضد ملاحظہ ہو کہ یمن کا دریا مکروبہ سے اوپر دکھانے کی غلطی کوئی معنی نہیں رکھتی لیکن مکروبہ کو پہاڑوں کے اندر دکھانے کی بجائے باہر دکھایا گیا ہے اس لئے مکروبہ مکہ ہے ہی نہیں……

جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کر

پٹالومی کو آرڈینیٹس میں غلطی کا شکار تھا کیونکہ اس نے بہت سے قافلے والوں کی مدد سے اس نقشے کو ترتیب دیا تھا۔ اس سے مکروبہ کی جگہ آگے پیچھے تو ہوسکتی ہے لیکن اسکے وجود کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ مکروبہ ضرور موجود تھا ‘ پلاٹومی سے اسے نقشے پہ رکھنے میں غلطی سرزد ہوگئی۔ اس لئے نقشے میں اسکا ذکر تو آیا لیکن اسکی جگہ صحیح متعین نہ ہوسکی۔

پٹالمی کے کوآرڈینیٹس کی غلطی اس کے علاوہ بھی دیکھی جاسکتی ہے ، مثلا مشرق کی سمت پورا خطہ عرب ہزاروں کلومیٹر اوپر نیچے کیا ہوا ہے.. آج کے جدید نقشہ جات سے خلیج فارس و عمان کو دیکھا جائے تو عمان اور متحدہ عرب امارات کا حصہ کچھ سمندر میں آگے کو بڑھا ہوا نظر آتا ہے اس سے آگے خلیج پھر تھوڑی سی چوڑی ہوتی نظر آتی ہے… لیکن پٹالمی نے اپنے نقشہ میں موجودہ متحدہ عرب امارات کے علاقہ میں خلیج کو ایک نہائت تنگ آبی گزرگاہ دکھایا یے جو آگے جا کر دوبارہ تقریبا دائرے کی صورت کھل جاتی ہے…. یہ بہت بڑا بلنڈر ہے اس نقشہ کا اور یہ نقشہ ثابت کرتا ہے کہ یہ سب سنی سنائی باتوں پر ہی مشتمل تھا اسی لیے اس میں ایسی جغرافیائی غلطیاں تھیں۔

لفظ مکروبہ کی بحث:

اس سلسلے میں مکروبہ کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مکروبہ کے مطلب اصل میں بنتا ہے “خدا کا گھر” اس بنا پہ اس لفظ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں یہ بحث ملاحظہ ہو

” claiming that Macoraba is derived from Makka-Rabba which means great Makkah is untrue. The correct translation is “Lord’s Makkah” or “Allah’s Makkah”; because the root “mkk” consists of consonant letters meaning “house” in Babylonian and “Rabba” meaning “the Lord” or “Allah” in Southern Arabia, that is, “Allah’s House”. This linguistic structure is a possessive form and not a derivative one”

 

جناب نے ایک اور یہ دعوی کیا کہ اس دور (نبیﷺ سے پہلے) کے اور بھی بہت سے جغرافیہ دان تھے جنہوں نے مکہ کا ذکر نہی کیا۔۔

اس پر ہم گزشتہ تحاریر میں بھی تبصرہ پیش کرچکے ، مزید عرض ہے کہ مکہ ایک دشوار گذار راستے پہ پہاڑیوں کے درمیان گھری ہوئی جگہ ہے۔ مکہ تک پہنچ جانا ہر کسی کے بس کے بات نہی اور ابراہیم ء السلام سے پہلے تک تو یہ بیابان تھی۔ اس وجہ سے بہت کم لوگ اس تک پہنچ سکے۔ یہاں تک کہ ابراہیم ء سے پہلے کوئی مشہور عبادت (زمانے کے حساب سے مشہور) گاہ بھی نہی تھی۔تاریخ کی کتابوں میں تفصیل سے ذکر ہے کہ ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے اپنی بیوی ہاجرہ اوربچے اسماعیل کو اس بیابان میں چھوڑ گئے تھے ، یہاں سے زم زم کا چشمہ نکلا اور چند قبائل یہاں سے گزرتے ہوئے آب زم زم کا پانی دیکھ کے ٹھہر گئے اور اس کے گرد بس گئے۔بعد میں حضرت ابراھیم ؑ اورحضرت اسماعیل ؑ نے اللہ کی طرف سے غیبی امداد و نشاندہی سے کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا، یہ اس جگہ آبادی کا ابتدائی دور تھا ۔ یہاں ملحد صاحب نے دوبارہ تجارتی مشہور مقام ہونے اور اسکے تجارتی گذر گاہ ہونے کوبطور دلیل پیش کیا حالانکہ یہ بہت بعد کی باتیں ہیں ، ایک جگہ جو ابراہیم کے آنے کے ایک عرصے کے بعد آباد ہوئی، پھر انکی تجارت شروع ہوئی ، پھر بعد میں کہیں جا کے اسکا تعلق مہذب دنیا سے جڑا اور تجارتی گزر گاہ اور مقدس مرکز بنا ، اس لیے ملحد صاحب کا یہ فرمانا رہے کہ یہ تجارتی شہر ابراھیم ؑ کے دور کے تاریخ دانوں کو کیوں نظر نہیں آیا، کم عقلی کی بات ہے۔۔ دور ابراھیم کے بعد یہ عبادت گاہ ضرور تھی اور حج بھی ہوتا تھا لیکن اسکا حج اور طواف وہیں کے لوگ کرتے تھے یا جو قبائل اسکے گرد آباد تھے اور بعد میں انہی قبائل کی یہ آماجگاہ بن گیا۔

اس سارے سلسلے میں ملحد صاحب نے اپنے طور پر آرکیالوجی کو حتمی حجیت کے طور پہ پیش کیا ہے اور سارے مقدمے کا بوجھ اسکے کندھوں پہ لاد دیا۔ ہم انکی نظر آرکیالوجی کی بہن پیلونٹولوجی کی مثال پیش کرتے ہیں جس کا طریق تحقیق ملتا جلتا ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں کہ وہ کیسے خود اپنی حجیت کا منہ چڑا رہی ہیں۔

“1922 میں امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے ڈائریکٹر، ہنری فیئر فیلڈ اوسبورن نے اعلان کیا کہ اس نے مغربی نبراسکا میں اسنیک بروک کے قریب سے ڈاڑھ (molar tooth) کا رکاز دریافت کیا ہے جو پلیوسینی عصر (Pliocene Period) سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ دانت مبینہ طور پر بیک وقت انسان اور گوریلوں کی مشترکہ خصوصیات کا حامل دکھائی دیتا تھا۔ اس کے بارے میں سائنسی دلائل کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ بعض حلقوں نے کہا کہ یہ دانت ’’پتھے کن تھروپس ایریکٹس‘ ‘(Pithecanthropus Erectus) سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ کہتا تھا کہ یہ دانت، جدید انسانی نسل کے زیادہ قریب ہے۔ مختصراً یہ کہ اس ایک دانت کے رکاز کی بنیاد پر زبردست بحث شروع ہوگئی اور اسی سے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کے تصور نے بھی مقبولیت حاصل کی۔ اسے فوراً ہی ایک عدد ’’سائنسی نام‘‘ بھی دے دیا گیا: ’’ہیسپیروپتھے کس ہیرلڈ کوکی‘‘!متعدد ماہرین نے اوسبورن کی بھرپور حمایت کی۔ صرف ایک دانت کے سہارے ’’نبراسکا آدمی‘‘ کا سر اور جسم بنایا گیا۔ یہاں تک کہ نبراسکا آدمی کی پورے گھرانے سمیت تصویر کشی کردی گئی۔

1927ء میں اس کے دوسرے حصے بھی دریافت ہوگئے۔ ان نودر یافتہ حصوں کے مطابق یہ دانت نہ تو انسان کا تھا اور نہ کسی گوریلے کا۔ بلکہ یہ انکشاف ہوا کہ اس دانت کا تعلق معدوم جنگلی سؤروں کی ایک نسل سے تھا جو امریکہ میں پائی جاتی تھی، اور اس کا نام ’’پروستھی نوپس‘‘ (Prosthennops) تھا۔”

ان علوم سے استفادہ کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن اسے حتمی حجت کے طور پہ پیش کرنا ایک علمی بد دیانتی ہے جسکا منہ بولتا ثبوت آپکے سامنے موجود ہے۔

تحریر و تحقیق: میاں عمران، محمد حسنین اشرف

غیر مشرقی لوگوں کا مشرقی زبانوں، تہذیب، فلسفے، ادب اور مذہب کے مطالعے میں مشغول ہو جانے کا نام استشراق ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہر وہ غیر مشرقی عالم جو اپنے آپ کو مشرقی علوم کے لیئے وقف کرے گا اسے مستشرق کہا جائے گا۔
آکسفورڈ کی جدید ڈکشنری کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی علوم و آداب میں مہارت حاصل کرے
المنجد کے مطابق مستشرق وہ ہے جو مشرقی زبانوں، آداب اور علوم کا عالم ہو اور اس علم کا نام استشراق ہے
ان تعریفوں میں کوئی بھی تعریف ایسی نہیں جو تحریک استشراق کے مقاصد اور عملی پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہو۔مشرق کا لفظ بذات خود وضاحت طلب ہے۔ مشرق و مغرب کے مفہوم میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ قرون وسطی میں بحیرہ روم کو دنیا کا مرکز قرار دیا جاتا تھا اور جہتوں کا تعین اسی سے ہوتا تھا۔ اس کے مشرقی علاقوں کو مشرق اور مغربی علاقوں کو مغرب سے تعبیر کیا جاتا تھا اگر ہم مشرق کے اس مفہوم کو تسلیم کر بھی لیں تب بھی مستشرق کی مندرجہ بالا تعریف جامع نہیں رہتی اس تعریف کی رو سے دین عیسوی کا تعلق بھی مشرق سے ہے اور اس حساب سے جو عالم حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان، معاشرت، مذہب اور سیرت کے مطالعے کے لیئے خود کو وقف کر دے اسے بھی مستشرق قرار دیا جانا چاہیئے مگر عملی طور پر ایسا نہیں ہے۔ بائبل کے دونوں حصوں عہد نامہ قدیم و جدید میں اکثر واقعات کا تعلق مشرق سے ہے مگر بائبل کے عالم کو کوئی بھی مستشرق نہیں کہتا۔ ایک حیران کن حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ علمی مصادر جو مستشرقین کی مساعی کا نتیجہ ہیں یا تو وہ اس تحریک کے متعلق کلیتہ خاموش ہیں یا اگر کہیں ذکر ملتا بھی ہے تو وہ ناکافی اور مبہم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنا چاہتے ہیں ۔
یہ تحریک صدیوں مصروف عمل رہی مگر اس کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ اربری کہتا ہے کہ
Orientalist کا نام پہلی دفعہ 1630 ء میں مشرقی یا یونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیئے استعمال ہوا۔ روڈنسن کہتا ہے کہ Orientalism یعنی استشراق کا لفظ پہلی دفعہ انگریزی زبان میں 1779 ء میں داخل ہوا۔ فرانس کی کلاسیکی لغت میں استشراق کے لفظ کا اندراج 1838 ء میں ہوا۔ حالانکہ عملی طور پر تحریک استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آ چکی تھی اور پورے زور و شور سے مصروف عمل تھی۔ جن لوگوں نے تحریک استشراق کا تفصیلی جائزہ لیا ہے ان کے اغراض و مقاصد، ان کی تاریخ اور ان کے علمی کارناموں کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے انہوں نے مستشرقین کے مختلف نظریات اور مساعی کے پیش نظر استشراق کی کچھ تعریفیں بیان کی ہیں ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب رویۃ الاسلامیہ لاستشراق میں کچھ تعریفیں لکھی ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ ذیل ہیں :۔
1۔ استشراق مغربی اسلوب فکر کا نام ہے جس کی بنیاد مشرق و مغرب کی نسلی تقسیم کے نظریہ پر قائم ہے۔ جس کی رو سے اہل مغرب کو اہل مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری حاصل ہے یہ تعریف گو کہ ہر مستشرق کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے لیکن اگر اس تعریف کی رو سے دیکھا جائے تو آج سارا یورپ ہی مستشرق نظر آئے گا۔ کیونکہ جب سے انہوں نے صنعتی و عسکری میدان میں ترقی کی ہے اسی وقت سے سارا یورپ اسی انداز سے سوچتا ہے ۔اس صورت میں یہ تعریف استشراق کو سمجھنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتی۔
2۔ استعماری مغربی ممالک کے علماء اپنی نسلی برتری کے نظریے کی بنیاد پر، مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے اس کی تاریخ، تہذیبوں، ادیان، زبانوں، سیاسی اور اجتماعی نظاموں، ذخائز دولت اور امکانات کا جو تحقیقی مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے بھیس میں کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔
3. استشراق اس مغربی اسلوب کا نام ہے جس کا مقصد مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیئے اس کی فکری اور سیاسی تشکیل نو کرنا ہے ۔
آخری دو تعریفیں گو کہ مستشرقین کے استعماری اور استحصالی ارادوں کا پتا دیتی ہیں لیکن ان کے سینوں میں چھپی ہوئی اس حقیقی خواہش کا پتا نہیں دیتیں جس کا پردہ ہمارے علیم و خبیر پروردگار عالم نے صدیوں پہلے چاک کر دیا تھا :۔

وَدَّتْ طَّـآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ ؕ وَمَا يُضِلُّوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُـمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ (69)
بعض اہلِ کتاب دل سے چاہتے ہیں کہ کسی طرح تم کو گمراہ کردیں، اور (وہ) گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے نفسوں کو اور نہیں سمجھتے۔

ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے مندرجہ بالا تعریفیں بمع تبصرہ نقل کرنے کے بعد استشراق کی جو تعریف خود کی ہے وہ مندرجہ ذیل ہے :۔
" مغربی اہل کتاب، مسیحی مغرب کی اسلامی مشرق پر نسلی اور ثقافتی برتری کے زعم کی بنیاد پر، مسلمانوں پر اہل مغرب کا تسلط قائم کرنے کے لیئے مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شکوک کا شکار کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے، مسلمانوں کے عقیدہ، شریعت، ثقافت، تاریخ، نظام اور وسائل و امکانات کا جو مطالعہ غیر جانبدارانہ تحقیق کے دعوے کے ساتھ کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے ۔"
یہ تعریف مستشرقین کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پوشیدہ عزائم کو ظاہر کرتی ہے لیکن اس میں خامی یہ ہے کہ اس کی رو سے تمام مستشرقین ایک ہی زمرے میں شمار ہو جاتے ہیں جبکہ مستشرقین کو کئی گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں ایک خامی اور ہے کہ جو مستشرقین اسلام کے علاوہ دیگر مشرقی علوم اور تہذیبوں کے میدان عمل میں مصروف ہیں وہ مستشرقین کے دائرہ کار سے نکل جاتے ہیں۔ حالانکہ معروف معنوں میں وہ مستشرق ہیں۔
ڈاکٹر محمد ابراہیم رودی بارت کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مستشرقین کے عرف میں لفظ مشرق کا جغرافیائی مفہوم مراد نہیں بلکہ ان کے ہاں مشرق سے مراد وہ خطے ہیں جہاں اسلام کو عروج حاصل ہوا۔ گویا مستشرقین دنیائے اسلام کو مشرق کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
مشرق کے اس مفہون کے تحت، مستشرقین کی عملی جدوجہد جن خفیہ مقاصد کی غمازی کرتی ہے ان کو اور مستشرقین کے بے شمار علمی کارناموں اور طبقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مستشرقین کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے :۔
" اہل مغرب بلعموم اور یہود و نصاری بالخصوص، جو مشرقی عوام خصوصا ملت اسلامیہ کے مذاہب، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ، ادب، انسانی قدروں، ملی خصوصیات، وسائل، حیات اور امکانات کا مطالعہ معروضی تحقیق کے لبادے میں اس غرض سے کرتے ہیں کہ ان اقوام کو اپنا ذہنی غلام بنا کر ان پر اپنا مذہب اور تہذیب مسلط کر سکیں اور ان پر غلبہ پا کر ان کے وسائل حیات کا استحصال کر سکیں ان کو مستشرقین کہا جاتا ہے اور جس تحریک سے یہ لوگ وابستہ ہیں اسے تحریک استشراق کہا جاتا ہے۔"

راحت علی ہاسپٹل کے زچہ بچہ وارڈ کے باہر بڑی بے چینی سے کھڑے تھے ۔ ان کی زندگی میں بہار آنے والی تھی اور انہیں اس بہار کا بے صبری سے انتظار تھا ۔ الٹراساؤنڈ کے ذریعے انہیں پہلے ہی پتہ تھا کہ آنے والا کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ننھی پری ہو گی ۔ مگر وہ خوش تھے ۔ بہت خوش ۔ اپنی حیثئیت سے بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے میں مصروف تھے ۔ معمولی نوکری تھی ۔ جمع پونجی کچھ خاص نہیں تھی ۔ جو بچی ابھی اس دنیا میں آئی نہیں تھی اس کے کپڑے خریدے جا چکے تھے ۔ اس کے فیڈر سے لے کر پیمپرز تک ہر چیز خریدی جا چکی تھی ۔ دوائیوں اور ہسپتال کے سارے اخراجات ملا کر اب تک قریباً بیس ہزار روپے خرچ ہو چکے تھے ۔ انہوں نے دس ہزار تک کا تخمینہ لگایا ہوا تھا ۔ مزید پیسے ایک دوست سے ادھار پکڑے تھے ۔ کوئی بات نہیں خوشی کے موقعوں پر اتنا خرچہ تو ہو ہی جاتا ہے ۔ پھر ایک خوش خبری اور ساتھ ہی نرسوں اور آیاؤں کی قطار ۔ سب کی تھوڑی تھوڑی خدمت ضروری تھی ۔ سب کو مٹھائی کے پیسے دیئے تو ایک ننھی منی سی پری کو گود میں لینا نصیب ہوا ۔ گود میں لیتے ہی کلیجے کو ٹھنڈ پڑ گئی ۔ پیسے پورے ہو گئے ۔

آج راحت علی صاحب کی بیٹی کی پہلی سالگرہ تھی ۔ زیادہ خرچہ افورڈ نہیں کر سکتے تھے ۔ آفس سے کچھ پیسے ایڈوانس پکڑ کر ایک چھوٹی سی پارٹی رکھی تھی ۔ کچھ اپنے رشتے دار کچھ بیگم کے اور بس ۔ اس وقت وہ کھلونوں کی دکان میں کھلونے دیکھنے میں مصروف تھے ۔ محدود پیسوں میں انتخاب اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ کم قیمت کے کھلونے ان کو پسند نہیں آ رہے تھے ۔ جو پسند آرہے تھے وہ مہنگے بہت تھے ۔ آخر ایک پنک کلر کی گڑیا پہ ان کی نگاہیں ٹک گئیں ۔ میری بیٹی کو یہ بہت پیاری لگے گی ۔ تھوڑی مہنگی تھی مگر بہت پیاری تھی ۔ ایک سال کی سارہ پنک کلر کے فراک میں اپنی سالگرہ پہ بالکل پری لگ رہی تھی ۔ پنک کلر کی گڑیا دیکھ کر اس کا چہرہ دمک اٹھا اور راحت علی صاحب کے پیسے پورے ہو گئے ۔

 سارہ چار سال کی ہو چکی تھی ۔ اس کی عمر کی تمام بچیوں نے اسکول جانا شروع کر دیا تھا ۔ وہ بھی فرمائش کرنے لگی تھی ۔ "بابا ! میرا یونیفارم کب لائیں گے ؟" "آج ہی لاؤں گا بیٹا ۔" وہ اپنے دوست کی دکان پہ موجود تھے ۔ کچھ قرضہ درکار تھا ۔ ان کا دوست ان کو کبھی مایوس نہیں کرتا تھا ۔ بعد میں وہ تھوڑا تھوڑا کر کے چکا دیتے ۔ اگلی صبح ان کی پیاری بیٹی نئے یونیفارم اور نئی کتابوں کے ساتھ اسکول جا رہی تھی ۔ سارہ بہت خوش تھی ۔ راحت علی صاحب کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ تھی ۔ ان کے پیسے پورے ہو گئے تھے ۔

 ہر سال نئے اخراجات ہر سال نئی کتابیں ۔ پھر سارہ کی ننھی منی خوشیاں پوری کرنے کے لئے اضافی اخراجات ۔ گھر کے دیگر اخراجات اس کے علاوہ تھے ۔ مگر راحت علی صاحب اپنی بیٹی کی خوشی دیکھ کر اپنی ہر مجبوری و غربت بھول جاتے تھے ۔ منازل پہ منازل طے کرتی سارہ آج کالج پہنچ چکی تھی ۔

"آپ کی سارہ کو محبت ہو گئی ہے ۔" بیگم کے جملے نے راحت علی صاحب کو چونکا دیا ۔ بچیاں کتنی جلدی بڑی ہو جاتی ہیں ۔ "کون ہے وہ ؟" انہوں نے پوچھا ۔ "غلام مصطفیٰ کا بیٹا احسن ۔ اس کے کالج میں ساتھ پڑھتا ہے ۔" بیگم نے نام بتایا اور راحت علی صاحب کے قدموں تلے سے جیسے زمین نکل گئی ۔ غلام مصطفیٰ ان کے محلے کا سب سے بدنام شخص تھا ۔ پرائز بونڈ کی پرچیوں کے حرام کاروبار سے پنپنے والا یہ شخص آج دنیا میں ایک مقام حاصل کر چکا تھا ۔ "سارہ کو پیار سے سمجھا دو ۔ مجھے یہ رشتہ منظور نہیں ۔" انہوں نے فیصلہ سنایا ۔

"بابا ! آپ کون ہوتے ہیں میری قسمت کا فیصلہ کرنے والے ؟ احسن میری محبت ہے اور میں اپنی محبت پہ کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ میں نئے زمانے کی پڑھی لکھی لڑکی ہوں ۔ کوئی بھیڑ یا بکری نہیں جسے آپ اپنی مرضی سے کسی بھی کھونٹے سے باندھ دیں گے ۔ اگر آپ اپنی مرضی سے میری شادی احسن سے نہیں کریں گے تو میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گی ۔" سارہ کا جواب دو ٹوک تھا ۔ ایک پڑھی لکھی بیٹی کے آگے باپ لاجواب ہو چکا تھا ۔ زبان گنگ تھی ۔ سارہ اپنا فیصلہ سنا کر واپس اپنے کمرے میں جا چکی تھی اور راحت علی صاحب کو ہکا بکا چھوڑ گئی تھی ۔ اگلے دن صبح لوگوں کو کمرے سے ایک باپ کی لاش ملی ۔ جس کی زندگی کا سارا سرمایہ ڈوب چکا تھا ۔ موت کا سبب دل کی دھڑکن کا بند ہو جانا تھا ۔ لاش کے پاس ایک گڑیا پڑی تھی

 

پنک کلر کی گڑیا ۔

خصوصیاتِ رمضان

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ماہ مقدس نیکیوں کی موسلادھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔
عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔
انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔
تقویٰ نام ہی اس چیز کا ہے کہ تمام برائیوں سے انسان نفرت کرنے لگے اور نیکیوں کی طرف لپک کر جائے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ سے کسی نے پوچھا کہ اے امیر المومنین تقویٰ کیا ہے؟ آپ رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا کیا تیرا گزر کبھی خاردار جھاڑیوں سے ہوا ہے؟ تو وہاں سے کیسے گزرتا ہے؟
عرض کی کہ اپنے دامن کو سمیٹ کر، کانٹوں سے بچ کر گزرتا ہوں کہ کہیں خاردار کانٹوں کی وجہ سے میرا جسم زخمی نہ ہو جائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالے عنہ نے فرمایا یہی تقویٰ ہے کہ مسلمان اس دنیا میں گناہوں سے اپنے دامن کو بچا کر گزر جائے اور آخرت کا رختِ سفر باندھ لے.
روزوں کی فرضیت کے بیان میں.
* يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْن
َسورہ البقرہ(183)
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر فرض کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔
* ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا." مجھے بتایے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنے روزے فرض کیے ہیں. تو آپ ص نے فرمایا: "رمضان کے مہینے کے" (بخاری : 1891)
روزوں کی فضیلت کے بیان میں.
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان(یعنی جنت) کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں". (بخاری : 1899- مسلم : 1079)
* ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا " جو شخص ایمان کے ساتھ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں " (بخاری : 2014- مسلم 709)
*ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے، اس لیے نہ تو بری بات کرے اور نہ جہالت کی بات کرے اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوچ کرے تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں، دوبار کہہ دے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے وہ کھانا پینا اور اپنی مرغوب چیزوں کو روزوں کی خاطر چھوڑ دیتا ہے اور میں اس کا بدلہ دیتا ہوں اور نیکی دس گنا ملتی ہے۔
(صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 1776)
* ’’روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔‘‘
(صحیح الجامع،حدیث 3866 )
* ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب) دور کر دیتا ہے۔‘‘
(صحیح البخاری، الجھاد والسیر ، باب فضل الصوم فی سبیل اللہ، ح ۰ 284 وصحیح مسلم، الصیام، فضل الصیام فی سبیل اللہ۔۔۔ح:1153)
*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جنت (کے آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام ’’ رَیّان‘‘ ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔‘‘
(صحیح البخاری، الصوم، باب الریان للصائمین، ح : 1896وکتاب بدء الخلق، ح: 3257 وصحیح مسلم، باب فضل الصیام،ح: 1152)
روزہ کی اہمیت:
*روزہ اسلامی ارکان میں سے چوتھا رکن ہے۔
*روزے جسمانی صحت کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ اسے بڑھاتے ہیں۔
*روزوں سے دل کی پاکی، روح کی صفائی اورنفس کی طہارت حاصل ہوتی ہے۔
*روزے ، دولت مندوں کو،غریبوں کی حالت سے عملی طور پر باخبر رکھتے ہیں۔
*روزے ، شکم سیروں اور فاقہ مستوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دینے سے قوم میں مساوات کے اصول کو تقویت دیتے ہیں۔
*روزے ملکوتی قوتوں کو قوی اور حیوانی قوتوں کو کمزور کرتے ہیں۔
*روزے جسم کو مشکلات کا عادی اور سختیوں کا خوگر بناتے ہیں۔
*روزوں سے بھوک اور پیاس کے تحمل اور صبر و ضبط کی دولت ملتی ہے۔
*روزوں سے انسان کو دماغی اور روحانی یکسوئی حاصل ہوتی ہے۔
*روزے سے بہت سے گناہوں سے انسان کو محفوظ رکھتے ہیں۔
*روزے نیک کاموں کیلئے اسلامی ذوق و شوق کو ابھارتے ہیں۔
*روزہ ایک مخفی اور خاموش عبادت ہے جو ریاونمائش سے بری ہے۔

نئی تحریریں

غامدی صاحب نے نبی و رسول کے درمیان منصب اور درجے کے لحاظ سے امتیاز کرتے ہوئے یہ گوہرافشانی کی ہے کہ  اللہ عزوجل کے نبیوں کو ان کی قوم بعض اوقات قتل کر دیتی تھی لیکن کبھی کسی قوم کے ہاتھوں کوئی رسول قتل نہیں ہوا۔ اس امر کو وہ ایک اصول ایک عقیدہ اور قانون الٰہی مانتے ہیں کہ نبی کے لیئے وفات پانے یا قتل ہونے کی دونوں صورتیں ممکن ہیں  مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہو سکتا۔

چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ :۔
رسولوں کے بارے میں اس اہتمامکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زمین پر خدا کی کامل حجت بن کر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم بارہا ان کی تکذیب ہی نہیں کرتی بلکہ ان کے قتل کے درپے بھی ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے متعلق اللہ کا قانون اس سے مختلف ہے۔
(میزان حصہ اول ص21 مطبوعہ 1985)

مزید کہتے ہیں کہ
نبی اپنی قوم کے مقابلے میں ناکام ہو سکتا ہے لیکن رسولوں کے لیئے غلبہ لازمی ہے
(میزان جلد اول ص 23 مطبوعہ 1985)

غامدی صاحب کا یہ مؤقف جسے وہ قانون الٰہی بھی قرار دینے سے نہیں چوکتے ، قرآن کے بلکل متضاد ہے ۔ قرآن کے مطابق نہ صرف نبی بلکہ رسول بھی قتل کیئے جاتے رہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد الٰہی ہے کہ :۔
اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَـرْتُـمْ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُـمْ وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ (87)

البقرہ
جب تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لایا جسے تمہارے دل نہیں چاہتے تھے تو تم اکڑ بیٹھے، پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کیا۔

اس آیت سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں کئی رسول قتل ہوئے۔

مزید ایک جگہ ارشاد ہے :۔
لَقَدْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ وَاَرْسَلْنَـآ اِلَيْـهِـمْ رُسُلًا ۖ كُلَّمَا جَآءَهُـمْ رَسُوْلٌ بِمَا لَا تَـهْوٰٓى اَنْفُسُهُـمْ فَرِيْقًا كَذَّبُوْا وَفَرِيْقًا يَّقْتُلُوْنَ (مائدہ:70)

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ وعدہ لیا تھا اور ان کی طرف کئی رسول بھیجے تھے، جب کبھی کوئی رسول ان کے پاس وہ حکم لایا جو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو (رسولوں کی) ایک جماعت کو جھٹلایا اور ایک جماعت کو قتل کر ڈالا۔

 

اس آیت سے بھی صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اللہ عزوجل کے بھیجے ہوئے کئی رسولوں کو قتل کیا۔

مزید سورہ آل عمران میں بنی اسرائیل کے لیئے ارشاد ہوا :۔
اَلَّـذِيْنَ قَالُوٓا اِنَّ اللّـٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَآ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّـٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُـهُ النَّارُ ۗ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِىْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّـذِىْ قُلْتُـمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُـمْ اِنْ كُنْتُـمْ صَادِقِيْنَ (آل عمران:183)

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں حکم فرمایا تھا کہ ہم کسی پیغمبر پر ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس قربانی لائے کہ اسے آگ کھا جائے، کہہ دو مجھ سے پہلے کتنے رسول نشانیاں لے کر تمہارے پاس آئے اور یہ نشانی بھی (لے کر آئے) جو تم کہتے ہو، پھر انہیں تم نے کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو۔

 

 

اس مقام پر واضح طور پر ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ عقیدہ تھا  کہ اللہ عزوجل نے ان سے عہد کر رکھا ہے کہ وہ کسی ایسے رسول پر ایمان نہ لائیں جو ان کے سامنے قربانی کو آسمانی آگ سے جلا کر نہ دکھائے۔

اللہ عزوجل نے اس دعوے کا یہ جواب دیا ہے کہ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دیں اگر یہی بات ہے تو جو رسول ان کے پاس مذکورہ معجزہ لاتے رہے  انہیں تم نے کیوں قتل کیا۔

یہ قرآن مجید کی واضح ترین نصوص ہیں جن کے مطابق رسول بھی قتل ہوتے رہے۔ بالخصوص بنی اسرائیل نے کئی رسولوں کو جھٹلایا اور کئی رسولوں کو قتل کیا۔ مذکورہ دلائل و براہین کے بعد یہ دعویٰ کرنے کی کیا گنجائش بچتی  ہے کہ قانون الٰہی ہی یہی رہا ہے کہ کوئی رسول قتل نہیں ہوا؟
 

آگاہ رہیں 
دین اسلام واحد دین ہے جو بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک ہو بہو ویسا ہی پہنچا ہے جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے دور میں تھا۔
یہ وہ واحد دین ہے جسے اللہ نے کامل و اکمل کیا اور وہ واحد دین ہے جس پر اللہ عزوجل راضی ہوا۔
" اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِىْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا" 
(سورۃ المائدہ:3)
یہ وہ واحد دین ہے جو اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں مقبول ہے اور اس کے علاوہ سبھی ادیان و مذاہب مردود ہیں
وَمَنْ يَّبْتَـغِ غَيْـرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُۚ وَهُوَ فِى الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ (آل عمران:85)
اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین چاہے تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا، اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
تو زرا سوچیئے 
ایسا دین جس کی خود اللہ عزوجل تکمیل فرما رہا ہو، جس سے خود رب کائنات راضی ہو اور جس کے علاوہ کوئی بھی دین بارگاہ الٰہی میں مقبول نہ ہو، کیا اس میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ہو سکتی ہے ؟
کیا ایسے دین کے بنیادی عقائد و معاملات اور عبادات و احکامات میں کسی بھی قسم کی تحریف اور تغیر و تبدل ممکن ہے َ؟
ایک ایسا دین جو ساڑھے چودہ سو سال سے چلا آرہا ہے جس میں ذرہ بھر بھی تغیر و تبدل وقوع پذیر نہ ہوا نہ ہو گا اور نہ ہو سکے گا، اس کی حقانیت میں شبہہ ممکن ہے؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والے اپنے اپنے عہد کے صادق ترین اور سب سے بڑھ کر متقی و پرہیزگار لوگ تھے جن کی زبانیں کذب جیسے فعل سے ساری زندگی پاک و صاف رہیں، وہ تحریف شدہ ہو سکتا ہے ؟
ایک ایسا دین جس کے ہم تک پہنچانے والوں کی اول تا آخرمکمل سوانح حیات محفوظ ہے ان کی ثقاہت و فقاہت، حفظ و عدالت اور صادق و امین ہونے کی ہزارہا گواہیاں موجود ہیں وہ جھوٹا ہو سکتا ہے ؟
اس قدر متقی و پرہیزگار سلف صالحین اور خلف پر جھوٹ باندھ کر کبھی ان کی خدمات کو تشکیک کی نظر سے دیکھنا اور کبھی انہیں معاذ اللہ مجوسی سازش قرار دینا ظلم نہین تو اور کیا ہے ؟
اور حد یہ کہ دین اسلام کے نماز جیسے بنیادی اور اہم ترین رکن کی حثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرنا اور یہ باور کرانے کی مذموم کوشش کرنا کہ نماز جیسا اہم ترین رکن دین معاذ اللہ زرتشت مذہب سے لیا گیا، یہ ذہنی پسماندگی، دل کے اندھے پن اور بے جا تعصب کی کارستانی نہیں تو اور کیا ہے ؟
کیا اللہ عزوجل یہ گوارا کر سکتا ہے کہ اس کے کامل و اکمل اور محبوب دین جس سے وہ راضی ہوا اس میں مشرکوں اور کفار کی رسومات بطور دین رواج پا جائیں اور پوری کی پوری امت مسلمہ اجماعی طور پر ان کا اہتمام کرے اور ان پر دین کے نام سے عمل پیرا ہو ؟
ہرگز نہیں !
ایسا ہر گز ممکن نہیں 
اس لیئے منکرین حدیث نام نہاد اہل قرآن کے بھیس میں چھپے نیم ملحدوں کے گھناؤنے کردار سے آگاہ رہیں اور دین کے متعلق ان کی پھیلائی گئی تشکیک سے ذہن کو آلودہ مت ہونے دیں 
آگاہ رہیں کہ وہ دین جو اللہ کا محبوب دین ہے اس میں کبھی شرکیہ اور کفریہ اعمال بطور دین رواج نہین پا سکتے 
آگاہ رہیں اور آگاہ کرتے رہیں !!!

معاشرے میں رہنے والے ہر انسان کی ذہنی استعداد دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ ہر ایک کا علمی مقام، ذہنی صلاحیتیں اور سوچنے کا انداز دوسرے سے مختلف ہے۔ اس وجہ سے معاشرے کے افراد کا بعض اوقات آپس میں اتفاق رائے ممکن نہیں ہوتا۔ ہر ایک شخص یا گروہ اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق مسائل کا استنباط کرتا ہے اور رہن سہن کا طریقہ وضع کرتا ہے۔ اور یہ انسان کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ دوسروں کی رائے سے اتنی آسانی کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا۔ وہ دنیا کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اختلاف کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ بعض اختلاف محمود ہوتے ہیں اور بعض مبغوض۔ کسی معاملے میں دلیل کے ساتھ اختلاف محمود ہے لیکن حق واضح ہو جانے اور مخالف دلیل کے باوجود اختلاف مبغوض ہے۔
فہم دین کے متعلق اختلاف صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین بعض معاملات میں اپنے اپنے علم و فہم کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ لیکن اس اختلاف کے باوجود کبھی بھی انہوں نے دوسروں کو مطعون نہیں کیا اور نہ ہی دوسروں پر اپنے فہم کے مطابق عمل کرنے پر زور دیا۔صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے اختلاف کی ایک مثال دیتا ہوں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلاف کیسا ہونا چاہیئے ۔
بخاری شریف باب فضائل اصحاب النبی ﷺ میں روایت ہے :۔
حدثنا ابن أبي مريم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا نافع بن عمر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثني ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قيل لابن عباس هل لك في أمير المؤمنين معاوية،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فإنه ما أوتر إلا بواحدة‏.‏ قال إنه فقيه‏.
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ امیرالمؤمنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں، انہوں نے وتر کی نماز صرف ایک رکعت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ خود فقیہ ہیں۔ 
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین رکعت وتر کےقائل تھے ۔ جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک رکعت وتر ادا کیا کرتےتھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل کے برخلاف حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر طعن نہیں کیا بلکہ ان کو فقیہہ قرار دیا اور ان کی تحسین فرمائی ۔ یہ ہے ختلاف کا طریقہ کار۔۔۔!
افسوس اس بات کا ہے کہ ہم نے سلف سے دین تو لے لیا اس پر عمل کا طریقہ کار تو لے لیا لیکن سلف سے اخلاقیات نہ لے سکے سلف کے ورع و تقویٰ اور حسن معاملہ کے بیان تو جھوم جھوم کر سن لیتے ہیں لیکن اس سے سبق حاصل نہیں کرتے۔ 
آج ہم اختلاف دلیل سے نہیں تذلیل سے کرتے ہیں ۔ ہم یہ نہیں سوچتے کہ دوسرا شخص جو ہماری رائے سے اختلاف کر رہا ہے ہو سکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی دلیل ہو جو ہم سے مخفی ہو۔ ہو سکتا ہے کہ اس کا فہم فائق تر ہو ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم ہر معاملے میں اپنے آپ کو ہی عقل کل سمجھتے ہوئے دوسروں کو اس بات کا پابند سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے فہم پر ہی عمل کرے دوسری صورت میں بسا اوقات یا تو دائرہ اسلام سے ہی خارج قرار دے دیتے ہیں یا اس قدر طعن و تشنیع اور مغلظات سے نوازتے ہیں کہ کوئی بھی شریف النفس انسان برداشت نہیں کر سکتا۔
سلف تو اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی تعریف و تحسین کرتے رہے اور ہم اختلاف کے ساتھ تذلیل کرنا اپنا فرض سمجھے ہوئے ہیں ۔
اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں نہ صرف سلف و خلف کے فہم دین بلکہ سلف و خلف کی اخلاقیات اور حسن معاملہ پر بھی عمل پیرا ہونے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ اور دوسروں کی رائے اور اختلاف کا احترام کرنے اور برداشت کرنے کو حوصلہ عطا فرمائے
آمین ثم آمین 

 
بے شک سب سے عظیم ترین گناہ شرک ہے۔ سب گناہ معاف ہو سکتے ہیں لیکن شرک کی کوئی معافی نہیں اس کا مرتکب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے جہنمی ہے جہنمی ہے جہنمی ہے اور اس میں زرہ بھر شک و شبہہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں بلکہ جو مشرک کے عذاب اور جہنمی ہونے میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے !

چنانچہ حضرت لقمان علیہ السلام اپنے بیٹے کو کی گئی نصیحتوں میں سے ایک سب سے اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

٭٭ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
(سورہ لقمان)

ترجمہ :۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ۔ بے شک شرک ظلم عظیم ہے۔

بے شک شرک ایسا گناہ ہے جو تمام گناہوں پر بھاری ہے۔ اگر ایک میزان میں باقی تمام گناہ اور دوسری طرف صرف شرک کا گناہ رکھا جائے تو شرک کے گناہ کا پلڑہ سب گناہوں پر بھاری ہو گا۔
---------------------------------------------------------------------------------------------------
اسلام اخوت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔ اور اپنے مومن بھائیوں سے بدگمانی، تجسس اور اس کی غیبت ایسی چیزیں ہیں جو پیغام اخوت و محبت کے لیئے زہر قاتل کی سی حثیت رکھتی ہیں ۔ اس لیئے قرآن عظیم  میں اللہ عزوجل نے  مومن کے متعلق زیادہ گمان   کرنے سے منع فرمایا ۔ کیونکہ بعض اوقات یہ انسان دوسرے کے متعلق وہ گمان کر لیتا ہے جو اس میں ہے ہی نہیں ۔ چنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ :۔

٭٭ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ
(سورۃ الحجرات)

ترجمہ :۔ اے ایمان والو! بہت سی بدگمانیوں سے بچتے رہو، کیوں کہ بعض گمان تو گناہ ہیں، اور ٹٹول بھی نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی سے غیبت کیا کرے، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے سو اس کو تو تم ناپسند کرتے ہو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا نہایت رحم والا ہے۔
بدگمانی، دوسروں کے معاملات میں بے جا تجسس اور غیبت کی قباحت بیان کرتے ہوئے ان گناہوں سے باز آنے  اور ان گناہوں کی بابت اللہ عزوجل سے ڈرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان گناہوں سے توبہ کرنے والے کو بخشش اور رحم کی بشارت سنائی گئی ہے !
--------------------------------------------------------------------------------------------------

یہ بات اخلاق سے کس قدر گری ہوئی ہے کہ انسان کوئی گناہ یا خطا کرے  خود اور اس کا الزام دوسرے کے سر لگا دے ۔ چنانچہ اس کی قباحت کو بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل کا ارشااد پاک ہے کہ :۔
٭٭ وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْ‌مِ بِهِ بَرِ‌يئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا۔
 (النساء)

ترجمہ:۔ اور جو شخص کوئی گناه یا خطا کر کے کسی بے گناه کے ذمے تھوپ دے، اس نے بہت بڑا بہتان اٹھایا اور کھلا گناه کیا

انسان اگر کوئی خطا یا گناہ کرتا ہے تو اس میں اتنی اخلاقی جرات ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے اس گناہ یا  خطا کا اعتراف کر سکے ۔ اپنی خطاؤں پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------
کسی بے گناہ پر الزام لگانے سے اس کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ وہی جانتا ہے ۔ یہ اس قدر گھناؤنا اور گھٹیا فعل ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہے ۔ کسی انسان کو ایسے فعل کا مرتکب ٹھہرانا جو اس نے کبھی کیا ہی نہ ہو اخلاقی پستی کی بدترین مثال ہے ۔ اس گھناؤنے فعل کی مذمت میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ :۔

 

٭٭ وَمَنْ قَالَ فِى مُؤْمِنٍ مَا لَيْسَ فِيهِ أَسْكَنَهُ اللَّهُ رَدْغَةَ الْخَبَالِ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ
 (سنن ابی داؤد:3599)

ترجمہ :۔ اور جس نے کسی مؤمن کے بارے میں کوئی ایسی بات کہی جوا س میں نہیں تھی تو اللہ اس کا ٹھکانہ جہنمیوں میں بنا ئے گا یہاں تک کہ اپنی کہی ہوئی بات سے تو بہ کر لے

یعنی کسی بے گناہ پر جھوٹا الزام لگانا اس قدر قبیح فعل ہے کہ جب تک وہ اس سے توبہ نہ کر لے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہاں مقام غور ہے ان لوگوں کے لیئے جو دوسروں پر بلاوجہ  اس کام کا الزام لگاتے ہیں جو کبھی انہوں نے کیا ہی نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا سوچا تک ہوتا ہے !!!


 

  

اللہ سبحان و تعالٰی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت 

عبادت کی بہترین قسم اُس ذاتِ باری تعالٰی سے محبت ہے جس کے قبضہ قدرت میں ہر ایک کی جان ہے. وہ خالق ہے مالک ہے رازق ہے اس سے محبت کیے بنا گزارا ہی نہیں.اللہ کی محبت کے بغیر اللہ کی عبادت گویا کہ ایک ایسا جسم ہے جو لا شعوری حرکات کرتا رہتا ہے ، ایسی حرکات جن کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات نقصان ہوتا ہے ،
اس لیے ہر اِیمان والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اِیمان کی تکمیل کے لیے اور اپنی عبادات کا حقیقی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اپنے دِل و جاں میں اپنے اللہ کی محبت جگائے اور بڑھائے رکھے اور اللہ سے اپنے لیے محبت حاصل کرنے کی سر توڑ کوشش کرتا رہے 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
* وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ      
(البقرۃ:165)
(اور جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ تعالی ہی سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں)

محبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حُبِ الہی کی شاخ ہے. اللہ کی محبت پانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور انکی اطاعت کی جائے. پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو دل میں سب سے زیادہ مقدم رکھا جائے. اپنا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا، بچھونا غرض زندگی کے ہر معاملہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کی جائے. 

چنانچہ اللہ پاک قرآن پاک میں فرماتے ہیں. 
* قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ﴾ 
(آل عمران:31) 
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا. 

* يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ (٢٠)
سورۃ الانفال آیت ٢٠
اے ایمان والو! تم اللہ کی اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی مت کرو حالانکہ تم سن رہے ہو.

* اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أنْفُسُہِمْ وَ أزْوَاجُہ أمَّہَاتُھُمْ ﴾ ( الاحزاب:۶)
ترجمہ : ایمان والے اپنی جانوں سے زیادہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے لگاؤ رکھتے ہیں. اور اس کی عورتیں ان کی مائیں ہیں۔“

* قُلْ اِنْ کَانَ آبَائُکُم وَ اَبْنَاءُ کُمْ وَاخْوَانُکُمْ وَازْوَاجُکمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡھَا وَتِجَارَةُ تَخْشَوْنَ کَسَادَھَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَھَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِہ وَجِھَادٍ فِیْ سَبِیْلِہ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللهُ بِاَمْرِہ وَاللهُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ۔“ (التوبة:۲۴)
ترجمہ:”تو کہہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور برادری اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور سوداگری جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو اور حویلیاں جن کو پسند کرتے ہو ،تم کو زیادہ پیاری ہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور لڑنے سے اس کی راہ میں تو انتظار کرو یہاں تک کہ بھیجے اللہ اپنا حکم اور اللہ راستہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو۔“

رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اللہ تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہیں. وہ اخلاق و کردار کے بلند ترین مرتبہ پر فائز ہیں. ہمارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی خون کا رشتہ تو نہیں ہے لیکن جو رشتہ انکے امتی ہونے کی وجہ سے ہمارا اُن سے ہے وہ کسی بھی خونی رشتے یا مادی شے سے بڑھ کر ہے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دین و دنیا کے ہر معاملہ میں بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے ہم اگر آنکھ بند کر کے کسی کی کہی بات پر یقین کرنا چاہیں یا کسی کو صادق و امین کی بلندیوں پر دیکھنا چاہیں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسری مثال نہ ملے گی. پھر روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شفاعت کا وعدہ اور امت کی بخشش کی دعا کرنا. ایسی مہربان اور مشفق ہستی سے کیوں نہ محبت کی جائے؟  اللہ اور رسول کے ساتھ محبت اور ایسا تعلق ہے جس کے بغیر ایمان کبھی مکمل نہیں ہوتا۔خاص طور پر جب تک نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم  کی پوری عزت، احترام، وقار اور محبت دل کے اندر نہ ہو، اسلام اور ایمان کا کوئی تصور نہیں.
اللہ پاک ہم سب کو اپنی اور اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت عطا فرمائیں اور بہترین اطاعت کرنے والوں میں شامل فرما لیں. اللھم آمین

وجود باری تعالیٰ :۔
یہ بات بلکل بدیہی اور اظہر من الشمس ہے کہ عالم میں جو بھی شئے مشاہدے میں ہے، وہ جسم ہے یا قائم بالجسم اور جسم دو حال سے خالی نہیں وہ متفرق ہو گا یا مجتمع ، اگر متفرق ہے تو اس میں ترکیب و تالیف کا امکان یقینی ہے۔ اور اگر مجتمع ہے تو اس کے اندر بھی اختراق ممکن ہے۔اور یہ دونوں (یعنی اختراق مع احتمال الترتیب یا اجتماع مع احتمال الاختراق) چونکہ لازم و ملزوم ہیں اس لیئے ایک کے معدوم ہونے سے دوسرا بھی معدوم ہو جائے گا۔

جب دو جزو اختراق کے بعد مجتمع ہوں تو ان کا یہ اجتماع حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی شکل پہلے سے نہ تھی۔اسی طرح اجتماع کے بعد اگر اختراق واقع ہو تو یہ اختراق بھی حادث ہو گا اس لیئے کہ یہ اجتماعی اور اختراقی شکل پہلے سے نہ تھی بلکہ بعد میں پیدا ہوئی۔جب عالم میں موجود ہر شئے کا یہی حال ہے کہ اس پر حدوث طاری ہوتا ہے تو ان مشاہداتی اشیاء کی جنس میں سے جو اشیاء مشاہد نہیں تو ان کا بھی حکم معلوم ہو گیا کہ وہ بھی حدوث سے خالی نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر کوئی شئے مجتمع ہے تو کسی مؤلف کی تالیف(ترکیب) کی وجہ سے ہی وہ اس شکل میں ہے۔ اور اسی طرح اگر متفرق ہے تو کسی مفرق کی تفریق ہی کے سبب ہے۔ اور یہ مؤلف و مفرق ایسی ذات ہی ہو سکتی ہے جو ان تمام حدوث سے پاک ہو جو ان پر واقع ہوتے ہیں۔یعنی اجتماع و اختراق کا وقوع اس پر جائز نہ ہو اور وہ واحد و قہار ذات ہے جو تمام مختلفات کو جامع ہے اور اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

ان دلائل سے حتمی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان اشیاء کی مجتمع یا متفرق صورت بنانے والااور ان کا محدث ہر چیز سے پہلے وجود رکھتا تھا۔سو لیل و نہار، زمان و ساعات سب حادث ہیں اور ان کا محدث وہ ہے جو ان کے وجود سے قبل ہی ان میں تدبیر و تصرف کرتا تھا۔اس لیئے یہ بات ناممکن ہے کہ اشیاء حادث موجود ہوں اوران سے پہلے ان کا محدث موجود نہ ہو۔
اللہ عزوجل کا یہ قول اس پر نہایت مضبوط و قوی دلیل ہے :۔
"کیا انہوں نے اونٹ کی طرف نہیں دیکھا کہ اس نے کیسے اس کو بنایا ہے۔اور آسمان کی طرف کہ اس نے اس کو کیسا بلند کیا۔ اور پہاڑوں کی طرف کہ اس نے انہیں کیسا نصب کیا۔ اور زمین کی طرف کہ اس نے اسے کیسے بچھایا۔"
(سورۃ الغاشیہ آیت 17-20)

یہ دلیل اس شخص کے لیئے ہے جو اپنی عقل کا استعمال کرے اور غور وفکر کرےاور ان کے ذریعے باری تعالیٰ قدیم اور محدث ہونے پر استدلال کرے  نیز ان اشیاء کے علاوہ جو ان کی ہم جنس ہیں ان کے حادث ہونے پر اور اس پر کہ ان سب کی خالق ایک ایسی ذات ہے جو ان کے مشابہ نہیں اس پر بھی استدلال کرے ۔

اللہ عزوجل نے ان اشیاء یعنی اونٹ، پہاڑ اور زمین وغیرہ کا جو ذکر فرمایا ہے ، ابن آدم ان پر باربرداری کرنا، منتقل کرنا، کھودنا، چھیلنا، گرانا وغیرہ وغٰرہ جیسے تصرفات کرتا ہے ان میں سے کوئی بھی تصرف ممتنع نہیں ۔لیکن ان سب تصرفات کے باوجود ابن آدم ان میں سے کسی بھی چیز کی تخلیق پر قادر نہیں ۔ جو تخلیق سے عاجز ہو وہ اپنی ذات کے حق میں بھی محدث نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ ان اشیاء کے مثل بھی کوئی چیز ان کے لیئے مؤجد نہیں ہو سکتی۔ پس حقیقت یہ ہے کہ ان کی مؤجد ایک ایسی ذات ہے جس کے ارادہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔اور نہ کسی چیز کا احداث اس کے لیئے ممتنع ہے۔پس وہ اللہ عزوجل کی ذات ہے ۔
وحدانیت باری تعالیٰ:۔
اگر کوئی شخص اشیاء کے وجود کو کسی قدیم کا فعل مانے لیکن قدیم کے واحد ہونے کا انکار کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ :۔
جب ہم اپنے وجود کی طرف نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں محیر العقول نظام اور مسلسل اور متصل تدابیر و تصرفات نظر آتے ہیں اور تخلیقی ڈھانچہ انتہائی کامل دکھائی دیتا ہے۔لہذا اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر تدبیر و تصرف کرنے والے دو ہوں تو ان میں اتفاق ہو گا یا اختلاف، اگر اتفاق ہو گا تو یہ بلکل ایک ہی ہوگااور دونوں کا معنی ایک ہی ہوگا۔ جبکہ قائل نے ازخود ایک کو دو قرار دے دیا جو خلاف عقل ہے ۔ یہ ضروری نہیں کہ دو میں ہر جگہ اتفاق ہی ہو کہیں نہ کہیں اختلاف بھی بہرحال موجود رہتا ہے۔ اور اگر اختلاف ہو وجود خلق احسن اور کامل نہ ہواور نہ ہی اس میں تدبیر و تصرف منظم پیمانے پر ممکن ہو۔اس لیئے کہ ہر ایک کا فعل دوسرے کے خلاف ہوگا۔ان میں سے ایک جب کسی کو زندہ کرے گاتو دوسرا اسے موت سے ہمکنار کرے گا۔اگر ایک کسی چیز کو ایجاد کرے گا تو دوسرا اسے فنا کر دے گا۔اس کشمکش میں یہ محال و ناممکن ہے کہ کسی شئے کا وجود صحیح سلامت پایا جائے۔لہذا تمام نظام خلق کا اس احسن و منظم پیمانے پر ہوناذات قدیم کے واحد ہونے کی بدیہی اور مشاہداتی دلیل ہے۔

اسی حقیقت کا اللہ عزوجل نے قرآن حکیم میں ذکر فرمایا:۔
"اگر آسمان و زمین میں کئی خداہوتے تو یہ دونوں تباہ و فنا ہو جاتے۔پس اللہ تعالیٰ کو کہ رب عرش ہےان تمام چیزوں سے پاک ہے جو یہ مشرکین بیان کرتے ہیں۔"
(سورۃ الانبیاء آیہ 22)

ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:۔
"اللہ نے کسی کو اپنی اولاد قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور اللہ ہےاگر ایسا ہوتا تو ہر اللہ اپنی بنائی ہوئی چیز کو جدا کر لیتا اور دوسرے پر چڑھائی کر دیتا۔ لیکن اللہ اس چیز سے پاک ہے جو یہ (مشرکین )بیان کرتے ہیں۔وہ پوشیدہ اور ظاہر تمام چیزوں کا جاننے والااور ہر قسم کے شریک سے بلند و برتر اور پاک ہے ۔"

(سورۃ المؤمنون آیت 91-92)
یہ دونوں آیات اہل شرک کے دعوی کے بطلان پر مختصر و بلیغ ترین حجت اور مضبوط ترین دلیل ہیں۔ان کا حاصل یہی ہے کہ اگر زمین پر ماسوائے اللہ کئی اللہ ہوتے تو ان میں اتفاق ہوتا یا اختلاف۔ اتفاق ہونے کی صورت میں قدیم کے دو ہونے کا قول باطل ٹھہرتا ہے اور اختلاف ہونے کی صورت میں آسمان و زمین میں فساد و فنا لازم آتااس لیئے کہ ایک اگر کسی چیز کو پیدا کرتا تو دوسرا اس کی مخالفت کی بناء پر معدوم و فنا کرنے کی کوشش کرتا۔ کیونکہ دونوں کے افعال ایک دوسرے سے مختلف ہوتے جیسے آگ کا کام گرم کرنا ہے اور برف کا کام ٹھنڈا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور اعتبار سے بھی یہ قول باطل ہے  کہ اگر دو قدیم مان لیئے جائیں تو وہ دونوں دو حال سے خالی نہ ہوں گے دونوں قوی ہوں گے یا دونوں عاجز۔ اگر عاجز ہوں تو ہر ایک اپنے مقابل کی نسبت عاجز ہو گا۔ اس لیئے کہ مقابل کو ہم نے قوی تسلیم کر لیا تو دوسرے کا عجز لازم آئے گااور ایک اگر اپنے مقابل پر قوی ہو تو مغلوب اپنے ساتھی کی قوت کے سامنے عاجز و بے بس ہو گا اور عجز و بے بسی اللہ کے منافی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ قدیم واحد کا تسلیم کرنا ضروری ہےوگرنہ ہر صورت مین محال کو تسلیم کرنا لازم آتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اہل شرک کی افتراء پردازیوں سے پاک و صاف اور منزہ ہے

ان تمام عقلی و نقلی دلائل سے یہ معلوم ہو گیا کہ اشیاء کا خالق تھا اور اس حال میں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا نہ تھااور اسی نے اشیاء کو پیدا کیا۔

 

 

میں اکثر یہ بات سوچتا ہوں کہ اگر مستشرقین نہ ہوتے تو آج کل کے ملحدین کا کیا بنتا ۔ موسمی ملحدین جن کی اپنی کوئی علمی حثیت نہیں وہ تو یتیم ہو کر رہ جاتے ۔ یہ انہی مستشرقین کی دین ہے کہ موسمی ملحدین صدیوں قبل ان کے کیئے گئے اعتراضات بار بار دہراتے رہتے ہیں اور ہر بار عزت افزائی کے ساتھ جواب دیا جاتا ہے ۔ لیکن چین ان کو پھر بھی نہیں آتا ۔حال ہی میں ملحدین کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے نسب مبارک پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے نہیں تھے نعوذو باللہ !
یہ وہ اعتراض ہے جو مستشرقین نے اٹھایا اور اس کا تسلی بخش جواب دے کر ان کا تو منہ بند کر دیا گیا لیکن علمی یتیم اور عقل سے بے بہرہ ملحدین کا حال بندر کے ہاتھ میں ماچس کی ڈبیا جیسا ہو گیا  اور انہیں اس پر اپنی دکانداری چلانے کا موقع مل گیا ۔اپنی دانست میں موسمی ملحدین نے یہ اعتراض دہرا کر بہت بڑا کارنامہ کیا ہے جسے بڑے فخر سے وہ بطور چیلنج دہراتے پھر رہے ہیں !
مستشرقین کے اس اعتراض کے سارق ملحدین کی خارشی طبع کی تسلی کے لیئے مستشرقین کے اس اعتراض کا جواب مستشرقین کی اپنی ہی زبانی پیش خدمت ہے :۔
٭ انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کا مقالہ نگا رجیمز ہیسٹنگز لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ ایک اسماعیلی تھے۔جنہوں نے اپنے ہم وطنوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ دین ابراہیمی کی طرف رجوع کریں  اور ان خدائی وعدوں سے بہرہ یاب ہوں جو نسل اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ کیئے گئے ہیں۔"
(انسائیکلوپیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس  جلد 8)
٭ گبن وہ مشہور مؤرخ ہے جس کو پورا مغرب قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کی حثیت اہل مغرب کے ہاں مسلم ہے ۔ وہ بھی اسلام کے خلاف معاندانہ جذبات رکھتا ہے۔ لیکن مستشرقین نے جس طرح حضور اکرم ﷺ کے نسب نامہ کو  جس طرح مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :۔
"حضرت محمد ﷺ کی اصل کو حقیر اور عامیانہ ثابت کرنے کی کوشش عیسائیوں کی ایک غیر دانشمندانہ تہمت ہے ۔ جس سے ان کے مخالف کا  مقام گھٹنے کے بجائے بڑھا ہے ۔"
اس کے علاوہ گبن اپنی اسی کتاب کے فٹ نوٹ پر لکھتا ہے کہ :۔ "تھیوفینز جو کہ پرانے زمانے کے یونانیوں میں سے ہے وہ تسلیم کرتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام میں سے تھے ۔"
اس کے علاوہ مزید لکھتا ہے کہ :۔ "ابولفداء  اور گیگنیئر نے اپنی اپنی کتابوں میں حضرت محمد ﷺ کا جو نسب نامہ لکھا ہے وہی مستند ہے۔"
یاد رہے کہ یہ وہی نسب نامہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کے نسل اسماعیل میں سے ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
(ایڈورڈ گبن: دی ڈیکلائین اینڈ فال آف رومن ایمپائر جلد 5)

٭ مسٹر فاسٹر بھی اس بات کی گواہی دیتا نظر آتا ہے ۔ چنانچہ لکھتا ہے کہ :۔
"----خاص عرب کے لوگوں کی یہ قدیمی روایت ہے کہ قیدار اور اس کی اولاد ابتداء میں حجاز میں آباد ہوئی تھی ۔چنانچہ قوم قریش اور خصوصاََ مکہ کے بادشاہ اور کعبہ کے متولی ہمیشہ اس بزرگ کی نسل سے ہونے کا دعوی کرتے تھے۔ اور خاص کر حضرت محمد ﷺ نے اسی بنیاد پر کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور قیدار کی اولاد میں سے ہیں ، اپنی قوم کی دینی و دنیوی عظمتوں کے استحقاق کی تائید کی ہے۔"
(بحوالہ : سیرت محمدی ﷺ  از سرسید احمد خان)

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین اور ان کے سارق ملحدین چاہے جتنی مرضی کوششیں کر لیں جتنا مرضی پروپیگنڈہ کر لیں  اپنی پوری طاقت صرف کر لیں لیکن حضور اکرم ﷺ کے اس فرمان عالیشان کو جھٹلانا ان کے بس سے باہر ہے :۔
"حضور اکرم ﷺ نے فرمایا:۔ اللہ عزوجل نے اولاد ابراہیم میں سے اسماعیل کو چنا، اولاد اسماعیل سے کنانہ کو چنا، بنی کنانہ سے قریش کو چنا ، قریش سے بنی ہاشم کو چنا اور بنی ہاشم سے مجھے چنا۔"
(سنن الترمذی)

عربوں میں بے شمار خامیاں تھیں  وہ لوگ جہالت، بربریت، بدکاری  اور نخوت و تکبر کی دلدل میں سرتاپا ڈوبے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود ان میں کچھ خوبیاں بھی تھیں جو انہیں دیگر اقوام عالم سے ممتاز بناتی ہیں ۔یہ قوم جرات و بہادری میں اپنی مثال آپ تھی۔ ان کی قوت حافظہ بھی مثالی تھی ۔ اس کے علاوہ اپنے خیالات کے اظہارانہیں جو قدرت حاصل تھی وہ صرف انہی کا خاصہ ہے ۔اپنی اس قوت حافظہ کو انہوں نے اپنے نسب نامے حفظ کرنے کے لیئے دل کھول کر استعمال کیا تھا ۔ہر کوئی نہ صرف اپنا نسب نامہ یاد رکھتا بلکہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کو بھی اپنی یادداشت میں محفوظ کر لیتا ۔ تاکہ وقت آنے پر وہ دیگر قبائل کے نسب ناموں کی کمزوریوں کو واضح کر کے اپنی نسبی برتری ثابت کر سکے ۔
اس کے علاوہ عرب جھوٹ بولنے سے بھی سخت نفرت کرتے تھے اور انہیں یہ بات بلکل بھی گوارا نہ تھی کہ ان کی شہرت ایک جھوٹے کی حثیت سے ہو۔اسی لیئے ہرقل کے دربار میں ابوسفیان خواہش کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے خلاف کوئی جھوٹی بات نہ کر سکے ۔ عربوں کی یہ روایتیں کسی بھی تاریخی روایت کے مقابل مستند قرار دی جا سکتی ہیں اور ان روایات کے مطابق خانہ کعبہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا۔ اور عربوں کی ایک قسم جو "عرب مستعربہ" کہلاتی تھی وہ حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے تھی ۔قریش اسی عربی النسل کا ایک قبیلہ تھا جس ایک معزز ترین شاخ بنو ہاشم تھی ۔اس دور میں تمام عرب قریش کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی وجہ سے احترام کرتا تھا اور کسی کو بھی ان کے اسماعیل علیہ السلام کی نسل مین سے ہونے میں کوئی شبہہ نہ تھا۔
(ضیاء النبی ﷺ جلد7)
علاوہ ازیں اگر حضور اکرم ﷺ نسل اسماعیل علیہ السلام سے نہ ہوتے تو یہود مدینہ آپ ﷺ پر سب سے پہلے ایمان لاتے ۔ یہود مدینہ کا آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا صرف اور صرف اسی وجہ سے تھا کہ آپ ﷺ نسل اسماعیل میں سے تھے ۔ اور نبوت یہود سے چھن کر نسل اسماعیل میں منتقل ہو چکی تھی ۔ جو کہ یہود کی سیاسی و مذہبی برتری پر ایک کاری ضرب تھی ۔

الغرض
حضور اکرم ﷺ کا نسل اسماعیل میں سے ہونے کی حقیقت کو مشکوک قرار دینے کی کوشش کرنا نہ صرف روایات عرب کے برخلاف ہے بلکہ خود مستشرقین کی تحقیق بھی اس کے منافی ہے ۔ اس لیئے ملحدین سے گزارش ہے کہ دوسروں کا تھوکا چاٹنے کے بجائے  کچھ اپنی عقل کا استعمال کریں تاکہ ان کی علمی حثیت اور اوقات بھی واضح ہو سکے !!!
  

 

غزالی رح کے نزدیک انسانی شخصیت جسمانی اور روحانی قوتوں کا مجموعہ ہے انسان کا مقصد ذات کی تلاش ہے. ذات جسمانی حوائج کی تکمیل کے لیے حسی اور حرکی تحریکات کا سہارا لیتی ہے. جسمانی قوتیں مثلاً بھوک اور غصہ فرد کی جسمانی ضروریات کی تکمیل میں مددگار ثابت ہوتے ہیں بھوک اور غصے کے نتیجے میں تحریک فرد کو اور اس کے جسم کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ جسمانی فعالیت کو سر انجام دے پائے. 
انسان میں ادراک کی اہلیت اندرونی اور بیرونی حسیات پر مشتمل ہے جو کہ انسانوں میں بہت اعلی درجے کی ہے. اندرونی حسیات، تفکر، تخیل اور حافظہ پر مشتمل ہیں جبکہ بیرونی حس بصری، سمعی، لمسی اور شامی حسیات پر مبنی ہیں. انسانی کردار انسانی دماغ کے مختلف حصوں کے ساتھ وابستہ ہے. دماغ میں ہر انسانی فعل کو ضابطہ میں لانے کے لیے مخصوص علاقے ہیں مثلاً حافظہ کا تعلق عقبی فص (Lobe) کے ساتھ جب کہ تخیل کا تعلق جہی فص کے ساتھ اور ردِ عمل کا تعلق درمیانی فص کے ساتھ مربوط ہے. ہمارا ذہن دماغ کا تفاعل ہے یہ تمام قوتیں انسان کو کنٹرول کرنے اور چلانے کے لیے اہم ہیں. لیکن  ذات یعنی قلب ان قوتوں پر حاوی ہے. صحت مند شخصیت کی تشکیل کے لیے ابتدائی بچپن، خاندان اور ہمجولی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں. غزالی کے نزدیک مجرمانہ کردار والدین اور معاشرے کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ہر فرد کے اندر مثبت اور منفی قوتیں موجود ہوتی ہیں. مثبت قوتیں فرد کو صحت کی جانب جبکہ منفی قوتیں ذہنی بیماری کی طرف لے جاتی ہیں. ذہنی صحت خُدا سے نزدیکی جبکہ ذہنی بیماری خُدا سے دوری ہے. 
علم کی دو اقسام ہیں پہلا مادی علم اور دوسرا روحانی علم ہے. روحانی علم اعلی قسم کا علم ہے جبکہ مادی علم ادنی قسم کا علم ہے. غزالی رح کے نزدیک پیغمبر اعلی ترین ہستیاں ہیں جو خُدا سے الہامی علم حاصل کرتی ہیں. علم کا حتمی مقصد خُدا کی پہچان ہے. ذات ہی وہ قوت ہے جو خُدا تک پہنچاتی ہے. اور ذات ہی کے ذریعے خود آگاہی سے خدا آگاہی تک پہنچا جاسکتا ہے. 
جہالت ایک ذہنی مرض ہے جبکہ علم صحت ہے. خدا کی ذات کا علم اعلی ترین علم ہے. ذات اور اسکی قوتوں کا علم ذات باری تعالٰی کی تلاش کے لیے انتہائی ضروری ہے. 
غزالی رح نے بیماری کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے. 
1- جسمانی(Physical ) امراض
2- تفاعلی (Functional) امراض
جسمانی خرابیاں جو کہ جسم کا کام ہیں انکا علاج آسانی سے کیا جاسکتا ہے. جبکہ تفاعلی امراض جہالت کا نتیجہ ہوتے ہیں. ذہنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ خُدا سے دوری ہے غزالی رح نے تفاعلی امراض کی کئی مثالیں دی ہیں. مثلاً العمل (خاص عمل) ایک تفاعلی مرض ہے جو شک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بغض ایک تفاعلی مرض ہے جو کہ دولت، طاقت اور رتبے کی بدولت جنم لیتا ہے. جہل بھی روحانی مرض ہے جو کے جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے. بزدلی کی وجہ سے روحانی مرض جبن پیدا ہوتا ہے. جفا بھی ایک روحانی مرض ہے جو ظلم وجہالت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح روحانی مرض ہوس جو مادی اشیاء کے ساتھ بے پناہ لگاؤ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اسی طرح وسوسہ، حسد اور طمع بھی روحانی امراض ہیں. 
غزالی رح کے نزدیک تفاعلی روحانی امراض بہت شدید ہوتے ہیں. حقیقت تو یہ ہے کہ فرد منفی قوتوں کو جدوجہد کے ذریعے مغلوب کر سکتا ہے. تفاعلی روحانی امراض کو اللہ تعالٰی کا شکر بجا لا کر دور کیا جا سکتا ہے.

قادیانی کی دلیل کا رد :۔ 
قادیانی:۔ 
محتر م ہم تو پہلے سے ہی سورۃ - ا لنساء - 70 - کے مطا بق جیسا کہ اس آ یت میں بتا یا گیا ہے کہ جو لو گ اللہ تعا لی اور ( ا س ر سو ل ) یعنی محمد ر سو ل اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی کا مل ا طا عت کر نے و ا لے ہو نگے - ان میں سے نبی بھی ہونگے ' صد یق بھی ہو نگے ' شہید بھی ہونگے اور صا لحین میں سے بھی ہو نگے یعنی وہ سب اللہ کے کے ا نعا م یا فتہ عا لی مرا تب کے حا مل ہو نگے - یعنی ا یسے سب مد ا رج اللہ اور ر سول اللہ کی خو شنو دی سے ہی حا صل ہو سکتے ہیں -

لیکن منکر ین میں تو تم لو گ ہو - یعنی جب کہ تمہیں قر ا نی آ یا ت سے د لا ئل بھیجے جا تے ہیں ' تو تم لو گ ان آ یا ت کا ا نکا ر کر دیتے ہو - - اور جو بھی ر سول اللہ پر نازل ہو ئ کتا ب کی آ یا ت کا ا نکا ر کر تے ہیں ' تو وہ گو یا اس ر سول اللہ کا بھی ا نکار کر نے وا لے ہیں - 
اس کے بعد اور کیا د لیل ہو سکتی ہے ؟ ؟ ؟ //
جواب:۔ 
قرآن کی من مانی تاویلات اور قرآنی الفاظ کو من چاہے معنی پہنانے کا کا م تو قادیانیوں کا من پسند کام ہے ۔ قرآن کو من چاہے معنی پہنا کر اس معنی کے منکر کو بڑے آرام سے منکر قرآن کہہ دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سادہ لوح لوگ ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں ۔ لیکن صاحب علم جانتے ہیں کہ یہ کس قدر بددیانت اور خائن ہیں جو قرآن جیسی لاریب کتاب تک میں تحریف معنوی سے باز نہیں آتے۔
مذکوہ بالا دلیل بھی اسی معنوی تحریف کی بدترین مثال ہے ۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ قادیانی کا حوالہ ہی غلط ہے یہ آیہ سورہ نساء کی 70 نہیں بلکہ اس سے قبل 69 نمبر آیہ ہے ۔
دوسرا قادیانی کے من چاہے معنی کے پوسٹ مارٹم کے لیئے میں آپ کے سامنے اس آیہ کے عربی الفاظ اور ان کا لفظ بہ لفظ ترجمہ رکھتا ہوں تاکہ اس کا دجل و فریب آشکار ہو سکے ۔
آیہ یہ ہے :۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّـذِيْنَ اَنْعَمَ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ مِّنَ النَّبِيِّيْنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا (سورۃ النساء 69)
اب اس آیہ کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں :۔
وَمَنْ :۔ اور جو
يُّطِعِ :۔ اطاعت کرے
اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ :۔ اللہ اور رسول ﷺ کی 
فَاُولٰٓئِكَ :۔ پس یہی لوگ
مَعَ الَّـذِيْنَ :۔ ان لوگوں کے ساتھ
اَنْعَمَ :۔ انعام کیا
اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ :۔ اللہ نے ان پر
مِّنَ :۔ سے (یعنی)
النَّبِيِّيْنَ :۔ انبیاء 
وَالصِّدِّيْقِيْنَ :۔ اور صدیق
وَالشُّهَدَآءِ :۔ اور شہداء
وَالصَّالِحِيْنَ ۚ :۔ اور صالحین
وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيْقًا :۔ اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں۔ 
لفظ بہ لفظ اس ترجمے کو دیکھیں اور اس کے بعد قادیانی کے بتائے گئے ترجمے کو دیکھیں تو اس کا دجل و فریب اور منافقت آشکار ہو جاتی ہے ۔
قادیانی کہتا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی کامل اطاعت کرنے والے ہوں گے ان میں سے نبی بھی ہوں گے صدیقین و شہدا اور صالحین بھی معاذ اللہ 
قرآن کی اس آیہ کے ترجمے میں سے وہ ان الفاظ سے چشم پوشی کر گیا جو اس کے ساری دلیل کا ہی ستیاناس کر دیتے ہیں ۔ اس آیت کا درست ترجمہ یہ ہے کہ :۔ 
" اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کا فرمانبردار ہو تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا جو نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں میں سے ہیں، اور یہ رفیق کیسے اچھے ہیں۔"
قرآن یہ کہتا ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو گا جن پر اللہ نے انعام فرمایا اور پھر بتاتا ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا تو وہ لوگ انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں ۔ قرآن کی اس آیہ کا یہ مفہوم ہر گز نہین بنتا کہ کامل اطاعت کرنے والوں میں سے انبیاء ہونگے ۔
قادیانی کی یہ دلیل باطل ہے ۔ اور اپنی ہی پیش کردہ دلیل کے تحت قادیانی خود منکر قرآن اور منکر رسالت ہے ۔

فنکشن کے لحاظ سے انسانی دماغ کو تین حصوں میں کیٹگرائزڈ کیا جاتا ہے.

ریپٹیلین برین،

لِمبک برین اور

لاجیکل برین.

ریپٹیلین برین ریپٹائیلز یعنی رینگنے والے جاندار مثلاً کینچوا، کیکڑا، بچھو، سانپ وغیرہ کی دماغی صلاحیات صرف جسمانی ضروریات پوری کرنے تک محدود ہیں. خوراک اور جنسی اختلاط کے علاوہ انکی کوئی دوسری ضروریات نہیں. یہ جذباتی یا عقلی خصوصیات نہیں رکھتے. عموما دیکھا گیا ہے کہ یہ جانور اپنی پیدائش کے موسم میں ایک بڑی تعداد میں انڈوں سے نکلتے ہیں اور بغیر کسی گائیڈنس کے یہ اپنی دماغی خصوصیات کے لحاظ سے زندگی گزارنے لگتے ہیں. انسان کے دماغ کا یہ حصہ ریپٹائیلز کی طرح صرف جسمانی ضروریات کا احساس دلاتا ہے. بھوک و پیاس و دیگر جسمانی ضروریات کی انفارمیشن ریپٹیلین برین سے جاری کی جاتی ہیں. جو انسان کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے.
لِمبک یا میمیلِک برین میملز یعنی اپنے بچوں کو دودھ پلانے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری، بندر، شیر، چیتا وغیرہ انکی ذہنی صلاحیتیں جسمانی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اموشنل یعنی جذباتی ضروریات پر بھی مشتمل ہوتی ہیں، خوراک، جنسی اختلاط اور دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان میں خوشی اور غمی کے تاثرات دینے اور سمجھنے کی بھی صلاحیت موجود ہوتی ہے. نر و مادہ اپنے بچوں سے بے انتہا پیار کرتے ہیں. جذباتی ضروریات انہیں ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہیں. یہ جانور قدرتی طور پر ماحول سے متاثر بھی ہوتے ہیں اورایک دوسرے کا احساس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں. اور نظر انداز کیے جانے کے احساس کو بخوبی سمجھتے ہیں. انسانی دماغ بھی میملز کی طرح لِمبک نظام کی خصوصیت رکھتا ہے. دیگر جسمانی ضروریات کے ساتھ انسان کو اموشنل سیٹیسفیکشن کی بھی ضرورت ہوتی ہے. اگر اموشنل سیٹیسفیکشن نہ ملے تو انسان نتیجتاًہیجان اور دباؤ کی کیفیات کا شکار ہوجاتا ہے. جس سے دفاعی کمزوریاں جنم لیتی ہیں.

لاجیکل برین انسانی دماغ کا بڑا حصہ لاجیکل برین پر مشتمل ہوتا ہے. جس سے انسان کسی بھی چیز کے عقلی دلائل یا بصری مشاہدے کے بعد اُسے قبول یا رد کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے. عقل اور غوروفکر کی یہ صلاحیت اُسے فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے. اور اسی عقل کی بدولت وہ تمام تر جانداروں سے افضل ہے اور اشرف المخلوق کا درجہ رکھتا ہے. انسان ذہین ترین مخلوق ہے کیونکہ اسکی دماغی صلاحیت تمام تر جانداروں کی نسبت زیادہ ہے. یہ ناصرف عقل رکھتا ہے بلکہ اسکا بہترین استعمال بھی جانتا ہے. لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک بچے کو بنسبت ایک بالغ کے عقلی یا جسمانی ضروریات کی بجائے اموشنل سیٹیسفیکشن کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے. اسکی وجہ یہ ہے کہ بچے کا دماغ ماحول سے آہستہ آہستہ متاثر ہوتا ہے اور آغاز میں بچہ خود سوچنے سمجھنے کی بجائے ماحول پر انحصار کرتا ہے. اگر اس کی اموشنل نیڈز (جذباتی ضروریات) بروقت پوری نہ کی جائیں تو نتیجتاً وہ ضدی، چڑچڑے پن اور ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے.

جیسے جیسے عمر گزرتی ہے مسلسل مشاہدے اور ماحول کے انفلوینس کی بدولت انسانی دماغ جذباتیت کی بجائے عقلی دلائل کو ترجیح دینے لگتا ہے اور عوامل کو بغیر وجہ کے قبول نہیں کرتا. اللہ نے انسان کو عقل کی نعمت عطا کی اور اسی عقل کے درست یا غلط استعمال پر وہ رب کو جواب دہ ہے. دماغ کا وہ حصہ جو لاجیکل یعنی عقلی صلاحیتوں پر مشتمل ہوتا ہے. فرونٹل کورٹیکس کہلاتا ہے. فرونٹکل کورٹس کے لیے عربی میں ناصیہ کا لفظ موجود ہے. تو ہم کہہ سکتے ہیں ناصیہ ان تمام تر خصوصیات پر مشتمل عضو ہے. جو انسان کو تحقیق کرنے کے ساتھ ساتھ درست اور غلط کی پہچان کروانے کا ذریعہ بھی ہے. جدید سائیکلوجیکل سائنس کے مطابق فرونٹل کورٹیکس سچ اور جھوٹ، نیکی و بدی کو سمجھنے اور غلط یا درست راستہ منتخب کرنے کی صلاحیتوں پر مشتمل ہے. اگر کبھی آپ کے تجربہ یا نظر سے گزرا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ پولیس یا دیگر ایجنسیز مجرم سے سچ اگلوانے کے لیے لائی ڈیٹیکٹر مشینز استعمال کرتے ہیں. لائی ڈیٹیکٹر مشین کو فرونٹل کارٹس یا ناصیہ سے اٹیچ کرنے کے بعد سوالات پوچھے جاتے ہیں. جھوٹ بولنے کی صورت میں دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے. جسے مشین ڈیٹیکٹ کرنے کے بعد آلارمنگ ساؤنڈ دیتی ہے. اور اس طرح مجرم کے سچ اور جھوٹ بولنے کا پتا لگایا جاسکتا ہے.

آئیے دیکھتے ہیں قرآن پاک ناصیہ کے بارے میں کیا کہتا ہے. سورہ العلق آیت ١٣ تا ١٦ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ؕ۱۳﴾اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ۱۵﴾ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ۱۶﴾ بھلا دیکھو تو اگر یہ جھٹلاتا ہو اور منہ پھیرتا ہو تو ۔ کیا اس نے نہیں جانا کہ اللہ تعالٰی اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔ یقیناً اگر یہ باز نہ رہا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر گھسیٹیں گے ۔ ایسی پیشانی جو جھوٹی خطا کار ہے ۔

اعتراضات پر مبنیٰ جوابات

 جزیہ ایک ٹیکس ہے جو اسلامی مملکت کے غیر مسلم شہریوں سے وصول کیا جاتا ہے ۔جو اسلامی مملکت کی بالادستی کو قبول کرتے ہوئے ایک پر امن شہری کی طرح وہاں آباد ہونے کا معاہدہ کریں ۔دشمنان اسلام نے جزیہ کی وجہ سے اسلامی نظام سیاست پر اعتراضات کی بوچھاڑ کی ہےاور اسلام کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں غلط تصورات پیدا کرنے کی مساعی ناپاک کی ہے۔اس لیئے یہ ضروری ہے کہ جزیہ کے متعلق زرا تفصیل سے لکھا جائے تاکہ معترضین کے اعتراضات کی حقیقت طشت از بام کی جا سکےاور اسلام کے اس بے لاگ انصافی کے نظام کے متعلق شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جا سکے۔ اسلامی مملکت کے باشندوں کوہم دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں ٭مسلم رعایا ٭ غیر مسلم رعایا غیر مسلم رعایا کی بھی آگے دو قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جنہوں نے جنگ کیئے بغیر صلح کی اور صلح نامے کے مطابق اسلامی مملکت کی شہریت قبول کر لی اور دوسرے وہ جنہوں نے جنگ میں شکست کھانے کے بعد گھٹنے ٹیکے اور اسلامی مملکت میں پر امن شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گئے ۔ان دونوں قسموں کو آسانی سے ہم اہل ذمہ کے نام سے موسوم کر سکتے ہیں ۔ مملکت اسلامیہ میں سکونت پذیر ان تینوں طبقات کی جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اسلامی حکومت پرعائد ہوتی ہے ۔یہ ذمہ داری صرف قول کی حد تک نہین بلکہ عملی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا اسلامی حکومت کا دینی فریضہ ہے۔ غیر مسلم رعایاکی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیئے ہادی برحق ﷺ نے جو تاکیدی ارشادات فرمائے ان کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں سے پتھر دل بھی پسیج جاتے ہیں اور رعونت سے اکڑی گردنیں جھک جاتی ہیں ۔
ان ان گنت فرامین میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :۔
٭ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک صحابی حضرت عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو اہل ذمہ سے جزیہ وصول کرنے کو بھیجا ۔ جب وہ بارگاہ رسالت سے رخصت لے کر روانہ ہوئے تو نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے انہیں اپنے پاس بلایا اور ارشاد فرمایا:۔ "اے عبد اللہ ! ! جس نے بھی کسی معاہد (اہل ذمہ) پر ظلم کیا، یا اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دی ،یا اسے نقصان پہنچایا، یا اس کی رضامندی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کا گریبان پکڑوں گا ۔"
(کتاب الخراج امام ابو یوسف یعقوب بن ابراہیم ص 150)
غور فرمایئے جو شخص حضور اکرم ﷺ کو اپنا نبی اور ہادی تسلیم کرتا ہے کیا وہ برداشت کر سکتا ہے کہ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کرے جس کے باعث روز قیامت شفیع المذنبین ﷺ اس کا گریبان پکڑ کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پیش کریں۔اس سے بلیغ تر اسلوب ناممکن ہے ۔
٭ حضرت نافع حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ "آپ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے دنیا سے انتقال فرماتے ہوئے جو آخری بات فرمائی وہ یہ تھی کہ میں نے جن لوگوں کی جان و مال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس کی لاج رکھنا اور اس پر آنچ نہ آنے دینا۔"
(ابو یعلی محمد بن الحسین الفراء الحنبلی، الاحکام السلطانیہ ص 154)
کیا شان ہے اس نبی رحمت ﷺ کی کہ آخری وقت میں بھی مملکت اسلامیہ کی غیر مسلم رعایا کا اتنا خیال رہا اور اپنی امت کو وصیت کی اور اس طرف توجہ دلائی کہ کسی غیر مسلم پر زیادتی کر کے تم یہ نہ سمجھو کہ تم نے غیر مسلم پر صرف زیادتی کی ہے بلکہ درحقیقت تم نے میرے عہد کو توڑا ہے۔جس کے ایفاء کی میں نے ذمہ داری قبول کی تھی ۔اس کی سنگینی اور سزا کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ پہلی حدیث کے ذریعہ سے بھی مسلمانوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف دلائی کہ اگر تم نے اسلامی مملکت کے کسی غیر مسلم شہری کی جان و مال عزت و آبرو پر دست درازی کی تو تم یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے مسلمان ہونے یا اعمال حسنہ کی وجہ سے پردہ پوشی کر لی جائے گی ۔ ہر گز نہیں بلکہ میں خود روز قیامت تمہارا گریبان پکڑ کر بارگاہ ایزدی میں تمہارے خلاف مقدمہ دائر کروں گا ! حضور نبی کریم روؤف الرحیم ﷺ کے خلفاء راشدین نے بھی اس حکم نامے کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھا ۔یہاں تک کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بھی جو آخرئ وصیت فرمائی اس کا تعلق بھی غیر مسلم رعایا سے تھا ۔آپ شدید زخمی ہیں زندگی کے آخری لمحے ہیں اس وقت آپ نے جو گفتگو فرمائی وہ بھی ملاحظہ فرمائیں تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اسلامی سلطنت کی غیر مسلم رعایا کی جان و مال عزت و آبرو کی اسلام کے نزدیک کیا قدر ومنزلت ہے! قاضی امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :۔
" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت جو گفتگو فرمائی وہ یہ تھی کہ میں اپنے بعد منصب خلافت کے لیئے مقرر ہونے والے خلیفہ کو رسول اللہ ﷺ کے ذمہ کی وصیت کرتا ہوں ۔ یعنی اہل ذمہ کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے وہ اسے پورا کرے۔اگر ان پر بیرونی یا اندرونی دشمن حملہ آور ہو تو اپنی فوجوں سے ان کا دفاع کرے ۔اور ان پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالے جس کو اٹھانے کی ان میں طاقت نہ ہو۔"
(کتاب الخراج 149)
اسلام کا فوجداری اور دیوانی قانون مسلم و غیر مسلم کے لیئے بلکل یکساں ہے ۔یعنی اگر کوئی مسلمان کسی ذمی کو قتل کرے گا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے گی بلکہ اس سے اسی طرح قصاص لیا جائے گا جیسے مسلم مقتول کا لیا جاتا ہے ۔ چنانچہ ایک دفعہ عہد رسالت میں ایک مسلمان نے ایک ذمی کو قتل کر دیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس قاتل کو قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا ۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "میں سب سے زیادہ اس بات کا حق دار ہوں کہ اپنی ذمہ داری کو پورا کروں۔"
(العنایہ شرح الہدایہ امام محمد بن محمود البابرتی)
اسی طرح سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے زمانے میں بھی ایک مسلمان نے ذمی کو قتل کر دیا مقتول کے بھائی نے قاتل کو معاف کر دیا۔ لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اطمینان نہ ہوا آپ نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ شاید ان لوگوں نے تمہیں ڈرایا ہو یا دھمکی دی ہو اور اس لیئے تم نے قصاص معاف کر دیا ہو۔ اس نے عرض کی اے امیر المؤمنین!میں نے اپنے مقتول بھائی کی دیت لے لی ہے اور میں نے اس کا خون معاف کر دیا ہے۔ تب آپ نے اس قاتل کو رہا کر دیا اور ایک ایسا جملہ ارشاد فرمایاجس میں اسلام کے قانون کا خلاصہ بیان کر دیا گیا ۔ فرمایا: " ان لوگوں نے اس لیئے ذمی کے معاہدے کو قبول کر لیا ہے تاکہ ان کا مال ہمارے مالوں کی طرح اور ان کے خون ہمارے خونوں کی طرح ہو جائیں "
(برہان شرح مواہب الرحمان)
یہ ہے اپنی غیر مسلم رعایا کے بارے میں اسلام کا طرز عمل ! کیا دنیا کا کوئی اور نظام اس کی ہمسری کا دعویٰ کر سکتا ہے ؟ جب مملکت اسلامیہ کے ہر شہری کی جان و مال عزت و آبرو کی ذمہ داری اسلامی حکومت کی ہے تو ہر محب وطن شہری پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق بیت المال میں حصہ داخل کرے تاکہ اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت اور اندرون ملک امن و امان برقرار رکھنے کے لیئے اخراجات برداشت کر سکے ۔مسلمان رعایا بیت المال میں جو رقم جمع کراتی ہے اسے زکوٰۃ و عشر کہتے ہیں ۔یہ زکوٰۃ و عشر مردوو عورت اور بچوں(بچوں پر صرف عشر) سب پر فرض ہے۔اور ذمی رعایا جو رقم بیت المال میں جمع کراتی ہے اسے جزیہ کہتے ہیں ۔یہ وہ جزیہ ہے جس کے بارے میں اسلام کے سیاسی حریفوں نے کہرام مچا کر رکھا ہوا ہے۔اسلام کے رخ زیبا کو شکوک و شبہات کی گرد سے غبار آلود کرنے میں اپنی ساری قوتیں صرف کر رہے ہیں ۔کبھی کہتے ہیں کہ غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے ۔ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے نہیں کیا جاتا۔ ایک مملکت کا شہری ہونے کے ناطے دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک ہونا چاہیئے تھالیکن اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا ہے ۔ کبھی ہتے ہیں کہ غیر مسلموں کی مالی مشکلات بڑھانے کے لیئے ان پر جزیہ کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے ۔ ان کے تمام اعتراضات کی تان اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ جزیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں پر یہ مالی تاوان لگا کر انہیں مجبور کیا جائے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ! ان اعتراضات کا حقائق کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں :۔
کہا جاتا ہے کہ جزیہ صرف غیر مسلموں سے وصول کیا جاتا ہے مسلمانوں سے وصول نہیں کیا جاتا۔اور یہ ناروا سلوک ہے۔ اس کے بارے میں عرض ہے کہ یہ بلکل جھوٹا الزام ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا مسلمان بھی اپنے کمائے ہوئے مال سے حصہ دیتے ہیں جسے زکوٰۃ و عشر کہا جاتا ہے ۔اور وہ مقدار میں جزیہ سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ نیز اگر مسلمانوں کے پاس مویشی ہوں بھیڑ ، بکریاں، گائے، بھینس، گھوڑے اور اونٹ تو ان کی بھی زکوٰۃ مسلمانوں کوا دا کرنی پڑتی ہے۔حالانکہ ذمی رعایا سے مویشیوں پر کسی بھی قسم کا لگان یا ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا۔ مسلمان عورت اگر صاحب نصاب ہو یا بچہ اگر اگر صاحب نصاب ہو تو اس کو بھی لازمی طور پر اپنے اموال کی زکوٰۃ و عشر دینا پڑتا ہے۔اس کے برعکس کسی ذمی عورت اور بچے سے کوئی جزیہ نہیں لیا جاتا۔خود ہی سوچیئے کہ اسلام نے مالی ذمہ داریوں کے نقطہ نظر سے ذمیوں کو کس قدر مراعات سے بہرہ ور کیا ہے۔ بجائے اس کے کہ ان حقائق کو سمجھا جاتا ، اعتراف کیا جاتا، اور اسلام کی فیاضی کا شکریہ ادا کیا جاتا، الٹا یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ اسلام غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔اب خود ہی فیصلہ کریں کہ یہ الزام کس حد تک درست ہے ؟ دوسرا یہ الزام کے جزیہ ایک مالی تاوان ہےجس سے اسلامی حکومت اپنی غیر مسلم رعایا کو زیر بار کرتی ہےاور ان کو مالی دشواریوں سے دوچار کرتی ہےاس کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ اگر آپ جزیہ کی مقدار سے آگاہ ہو جائیں تو یہ الزام خود بخود کالعدم ہو جائے گا ۔
امام اعظم امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق غیر مسلموں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ دولت مند طبقہ متوسط طبقہ فقراء امراء پر اڑتالیس درہم سالانہ یعنی چار درہم ماہوار، متوسط طبقہ پر چوبیس درہم سالانہ یعنی دو درہم ماہوار اور تیسرے طبقہ پر بارہ درہم سالانہ یعنی ایک درہم ماہوار ! اب آپ خود سوچیئے کہ کیا یہ اتنا بڑا "بوجھ" ہے جو ان کے لیئے ناقابل برداشت ہے ؟؟؟ اور ان کو طرح طرح کی مالی پریشانیوں میں مبتلاء کرنے کا باعث بن سکتا ہے ؟یہ ایک نہایت قلیل اور حقیر سی رقم ہے جو قطعاََ بوجھ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آخری تہمت کہ جزیہ وصول کرنے کا مقصد یہ ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جائے ۔ اس کے سراسر کذب و افتراء ہونے میں کوئی شک و شبہہ نہیں ۔جس دین کا بنیادی اصول ہی ہو "لا اکراہ فی الدین" ، اس دین کے پیروکار کسی پر جبر کر کے اسے مسلمان بنانے میں کیوں اپنی طاقت اور وقت صرف کریں گے ؟کیا عقیدہ اتنی حقیر اور کم مایہ چیز ہے کہ اتنی قلیل سی رقم کی ادائیگی سے بچنے کے لیئے انسان اپنے پہلے عقیدے کو چھوڑ کر ایک نیا عقیدہ قبول کر لے جس کو اس کا ضمیر تسلیم نہیں کرتا ۔لوگ تو اپنے عقیدہ کے لیئے وطن چھوڑ دیتے ہین اپنی عمر بھر کی کمائی پر لات مار دیتے ہیں اور اپنے عقیدہ کی راہ میں سر کٹانا پڑے تو اس کو بھی بصد مسرت قبول کر لیتے ہیں ۔ عقیدہ اتنی سستی اور ارزاں چیز نہیں کہ لوگ اتنی حقیر اور قلیل رقم کے بدلے تبدیل کر لیں ۔
یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ہر غیر مسلم پر جزیہ کی ادائیگی لازم نہیں بلکہ اس کے لیئے کچھ شرائط کاپایا جانا ضروری ہے ۔ اگر ان شرائط میں سے کوئی شرط نہیں پائی جائے گی تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ جزیہ ادا کرنے کی شرائط درج ذیل ہیں ٭ عاقل و بالغ ہو اور مرد ہو۔ ٭ جسمانی عوارض سے محفوظ ہو ۔ یعنی اپاہج، اندھا، پیر فرتوت اور دائم المرض نہ ہو۔ ٭ آزاد ہو ٭ ایسا مفلس نہ ہو جو بے روزگار ہو۔ ان شرائط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نابالغ، دیوانہ، بچہ ، عورت، اپاہج، اندھا، پیر فرتوت، دائم المرض، غلام اور بے روزگار سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتایہ سب لوگ جزیہ کے حکم سے مستشنیٰ ہیں۔اگر جزیہ کا مقصد غیر مسلموں کو جبراََ مسلمان بنانا ہوتا تو ان سب پر ضرور جزیہ لگایا جاتا۔کم از کم نابالغ بچے اور عورت سے تو ضرور جزیہ وصول کیا جاتا کیونکہ نابالغ مسلمان بچے اور عورت سے بھی زکوٰۃ اور عشر لیا جاتا ہے ان تمام افراد کو مستشنیٰ کرنے سے کیا ان لوگوں کے اس الزام کی تردید نہیں ہو جاتی کہ جزیہ کا مقصد لوگوں کو جبراََ مسلمان بنانا ہے ؟ اور یہ صرف نظریات ہی نہیں بلکہ مسلمانوں نے اپنے عہد اقتدار میں ان احکامات پر عمل بھی کیا ہے ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ اپنی کتاب الخراج میں فرماتے ہیں کہ : حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے جن غیر مسلم قوموں اور قبیلوں سے صلح کی ان کو صلح نامے لکھ کر دیئے ان میں یہ جملہ موجود ہے کہ "اگر کوئی بوڑھا کام کرنے کے قابل نہ رہے یا بدنی بیماریوں میں سے اسے کوئی بیماری لگ جائےیا پہلے وہ غنی تھا اب محتاج ہو گیا اور اس کے مذہب والے اس کو صدقہ و خیرات دینے لگیں، ان حالات میں اس سے جزیہ ساقط ہو جائے گا۔اور اس کا اور اس کے اہل و عیال کا خرچ بیت المال سے ادا کیا جائے گا جب تک سلطنت اسلامیہ میں سکونت پذیر رہے ۔" جزیہ کی اصل وجہ :۔ جزیہ کے متعلق اسلام کے سیاسی حریفوں کے پیدا کیئے شکوک و شبہات کے طشت ازبام ہونے کے بعد یہ بات تو بلکل واضح ہو چکی کہ جزیہ کا مقصد نہ تو غیر مسلم رعایا سے امتیازی سلوک ہے نہ انہیں زیربار لانا ہے اور نہ ہی زبردستی اسلام قبول کرانا۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے ؟ مسلم اور غیر مسلم سے جو الگ الگ رقم وصول کی جاتی ہے اس کے مختلف ناموں کی وجہ یہ ہے کہ زکوٰۃ یا عشر جو مسلمانوں کے ذمہ واجب الادا ء ہےیہ اسلام کی دوسری عبادتوں کی طرح ہی ایک عبادت ہے۔اور غیر مسلم رعایا جو اسلام کو نہیں مانتی ان کی ادا کی گئی رقم کو زکوٰۃ یا عشر سے موسوم کرنا قرین انصاف نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام ان کو اپنے نظام عبادات پر عمل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جو اس کی سچائی کو مانتے ہی نہیں ۔یہ کتنی بے انصافی کی بات ہے کہ ان غیر مسلموں کو اسلام کے پیش کردہ نظام عبادات کا پابند بنایا جائے۔ اسلام کی عادلانہ روح اس چیز کو قبول نہیں کر سکتی۔ اس لیئے ان کے ذمہ جو واجبات ہیں ان کو الگ نام دیا گیا اور ان کی مقدار بھی کم رکھی گئی تاکہ مسلمانوں کے واجبات اور غیرم مسلم ذمیوں کے واجبات کے درمیان امتیاز باقی رہے۔ اس قدر عادلانہ اور انسانی حقوق کے پاسدار دین کی مخالفت کرنا سورج کو چراغ دکھانے اور چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے !

احادیث طیبہ کی اہمیت و حجیت کے متعلق چند قرآنی آیات:۔
٭ قُلْ اِنْ كُنْتُـمْ تُحِبُّوْنَ اللّـٰهَ فَاتَّبِعُوْنِىْ يُحْبِبْكُمُ اللّـٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
سورۃ آل عمران (31)

کہہ دو اگر تم اللہ کی محبت رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو تاکہ تم سے اللہ محبت کرے اور تمہارے گناہ بخشے، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔


اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کو ہی اللہ سے محبت کے دعویٰ کی واحد دلیل قرار دے رہاہے۔اور ساتھ ہی ان لوگوں کو اپنی محبوبیت اور گناہوں کی بخشش کا مژدہ سنا رہا ہےجو حضور اکرم ﷺ کی اتباع کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی اتباع جو محبت خدا کے لیئے بھی ضروری ہے اور جو گناہوں کی بخشش کا بھی ذریعہ ہے، وہ حدیث رسول اللہ ﷺ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے بغیر ممکن ہی نہیں کیونکہ اتباع  کا مفہو م یہ ہے کہ:۔
"کسی کے فعل کی اتباع کا یہ معنی ہے کہ اس کے فعل کو عین اسی طرح کیا جائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اسی لیئے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے"

(ضیاء القرآن جلد 1)
اتباع کی اس تشریح سے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ حضور اکرم ﷺ نے جو کام  کیئے ہیں وہ بعینہ اسی طرح کیئے جائیں اور اس لیئے کیئے جائیں کیونکہ آپ ﷺ نے کیئے۔ ہم مستشرقین اور ان کے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ کیا قرآن حکیم کے اس ارشاد پر احادیث طیبہ کی مدد کے بغیر عمل کرنا ممکن ہے ؟ قطعاََ نہیں ۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ جو کام کیا کرتے تھے اور جس طرح کیا کرتے تھے اس کا پتا ہمیں صرف احادیث ہی سے ملتا ہے۔اس لیئے ہم قرآن حکیم کے اس ارشاد پر عمل کرنے اور اس ارشاد خداوندی میں جن انعامات کا تذکرہ ہے انہیں حاصل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭  قُلْ اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۖ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّـٰهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِـرِيْنَ
سورۃ آل عمران(32)

کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔

یہ آیت کریمہ اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے  رہی ہے۔اللہ عزوجل کی اطاعت کے حکم پر تو ہم قرآن مجیدکی تعلیمات کو اپنا کر عمل کر سکتے ہیں ۔ لیکن حضور اکرم ﷺ کی اطاعت تبھی ممکن ہے جب آپ ﷺ کے اقوال و افعال اور تقاریر کی تفصیلات ہمارے سامنے ہوں۔اور یہ تمام تفصیلات ہمیں صرف احادیث طیبہ ہی سے ملتی ہیں۔ اس لیئے قرآن حکیم کے اس حکم پر ہم احادیث طیبہ کے بغیر عمل نہیں کر سکتے۔

٭   تِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ ۚ وَمَنْ يُّطِــعِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ يُدْخِلْـهُ جَنَّاتٍ تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِـهَا الْاَنْـهَارُ خَالِـدِيْنَ فِيْـهَا ۚ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْـمُ
سورۃ النساء(13)

یہ اللہ کی قائم کی ہوئی حدیں ہیں، اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر چلے (اللہ) اسے بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اس حقیقت عظمیٰ سے آگاہ فرما رہا ہے کہ انسان کی اصل اور حقیقی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہواور دنیا سے کوچ کرنے کے بعد وہ جنت کی ابدی بہاروں سے بہرہ ور ہو۔ساتھ ہی اللہ عزوجل نے اس حقیقت کو بھی واضح فرما دیا ہے کہ اس کامیابی کو حاصل کرنے کا واحد طریقہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت چونکہ احادیث طیبہ کے بغیر ممکن ہی نہیں اس لیئے مسلمانوں کے لیئے اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں احادیث طیبہ سے بے اعتنائی ممکن نہ تھی۔مستشرقین کی اکثریت زندگی کی مادی تشریح کی عادی ہے۔ان کے لیئے شاید یہ سمجھنا ممکن ہی نہیں کہ کس طرح مسلمان دنوی نعمتوں سے بے نیاز ہو کر اخروی زندگی کی کامیابی کے لیئے کوشاں تھے۔مسلمانوں نے کسی بھی مادی مفاد کے بغیر اپنی جائیدادیں، اپنا گھر بار، اپنے عزیز و اقارب اور اپنی اولاد سب کچھ چھوڑ دیا اور وقت آنے پر اپنی جان کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی ان قربانیوں کو مستشرقین کی عقل تسلیم نہیں کرتی اس لیئے وہ مسلمانوں کی تاریخ کو خلاف عقل قرار دینے سے بھی باز نہیں آتے۔وجہ یہ ہے کہ مستشرقین مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کی کوئی مادی توجیہ نہیں کر سکتے۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ان بے مثال قربانیوں کے پیچھے کوئی مادی مقصد تھا بھی نہیں ۔ وہ تو یہ قربانیاں اس کامیابی کو حاصل کرنے کے لیئے دے رہے تھے جسے ان کے رب نے فوز عظیم قرار دیا تھا۔ جب مسلمانوں کی ساری قربانیاں اس فوز عظیم کی خاطر تھیں تو پھر وہ اطاعت خدا  اور اطاعت رسول ﷺ کیسے نظر انداز کر سکتے تھے جسے ان کے پروردگار نے اس کامیابی کے حصول کی اولین شرط قرار دیا تھا۔

٭  يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
سورۃ المجادلہ( 9 )

مومنو! جب تم آپس میں سرگوشیاں کرنے لگو تو گناہ اور زیادتی اور پیغمبر کی نافرمانی کی باتیں نہ کرنا بلکہ نیکوکاری اور پرہیزگاری کی باتیں کرنا۔ اور خدا سے جس کے سامنے جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہنا
اسلام مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنے قومی امور باہم مشورہ سے طے کیا کریں لیکن یہ آیت کریمہ انہیں یہ بتا رہی ہے کہ باہم مشورہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ تم جو چاہو کروبلکہ مسلمانوں کے لیئے یہ ضروری ہے کہ جب وہ باہم کوئی فیصلہ کریں تو یہ فیصلہ گناہ، حدود  سے تجاوز اور رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کے زمرے میں نہ آتا ہو۔احکام خدا کی خلاف ورزی گناہ ہے۔خدا کی مقرر کردہ حدود اے تجاوز عدوان ہےاور سنت رسول ﷺ کی مخالفت معصیت الرسول ہے۔ مسلمانوں کی پارلیمانی تنظیموں اور مشاورتی اداروں کو یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ خبردار! قومی امور میں مشاورت کے وقت وہ مادر پدر آزادی کا مظاہرہ نہ کریں۔وہ قومی امور کے متعلق فیصلے کرتے وقت مغربی جمہوریت کی نقل نہ کریں جو کثرت رائے سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال تک قرار دے دیتی ہے۔ یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو متبنہ کر رہی ہے کہ تمہارا جو اجتماعی یا اکثریتی فیصلہ احکام خدا و رسول ﷺ کے خلاف ہو گا ناجائز ہو گا اور اس کے لیئے تمہیں روز قیامت جواب دہ ہونا پڑے گا۔مسلمان، خصوصاََ عہد صحابہ کے مسلمان اپنے معاملات ہمیشہ باہمی مشاورت سے طے کرتے رہے ہیں ۔ ان کی جب بھی باہمی مجلس مشاورت منعقد ہوتی تھی یقیناََ یہ آیہ کریمہ ان کی نظروں کے سامنے رہتی تھی اور انہیں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی ایسا مشورہ جو حکم خدا اور حکم رسول ﷺ کے منافی ہو گاوہ خدا کی نافرمانی کے زمرے میں آئے گا۔اگر احادیث طیبہ ان کے پاس محفوظ نہ ہوتیں تو انہیں کیسے معلوم ہوتا کہ وہ جو مشورہ کر رہے ہیں وہ فرمان رسول ﷺکے مطاق ہے یا مخالف؟ اس لیئے اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ اگر مسلمانوں کے پاس ذخیرہ حدیث محفوظ نہ ہوتا تو وہ اس آیہ کریمہ پر عمل نہ کر سکتے

٭ قَاتِلُوا الَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَلَا يُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّـٰهُ وَرَسُوْلُـهٝ وَلَا يَدِيْنُـوْنَ دِيْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّـذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتَابَ حَتّـٰى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَّدٍ وَّهُـمْ صَاغِرُوْنَ
سورۃ التوبہ(29)

ان لوگوں سے لڑو جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اسے حرام جانتے ہیں جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اور سچا دین قبول نہیں کرتے ان لوگوں میں سے جو اہل کتاب ہیں یہاں تک کہ عاجز ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

 

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل مسلمانوں کو اہل کتاب سے جنگ کرنے کا حکم دے رہا ہے اور اہل کتاب پر جو فرد جرم عائد کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہ لوگ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیااور نہ ہی وہ دین حق کے پیروکار ہیں۔گویا مسلمانوں کو یہ حکم ہے کہ جو لوگ ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے جن کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے حرام قرار دیا تو وہ ان کے خلاف جنگ کریں ۔اگر مسلمانوں کے پاس احادیث طیبہ کا مجموعہ نہ ہو تو انہیں کیسے پتا چلے کہ رسول اللہ ﷺ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا۔ اس لیئے احادیث طیبہ کے بغیر مسلمانوں کے لیئے اس آیہ کریمہ پر عمل کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔

٭  وَمَآ اٰتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ (7)
سورۃ الحشر
اور جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو، اور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

یہ آیہ کریمہ حکم دے رہی ہے کہ امور حیات میں رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کام کرنے کا حکم دیں اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور جس چیز سے روکیں اس کے قریب بھی مت پھٹکو۔ حضور اکرم ﷺ کے اوامر و نواہی کا علم احادیث طیبہ کے بغیر ممکن نہیں ۔اس لیئے مسلمان قرآن حکیم کی اس آٰہ پر بھی عمل کرنے کے لیئے احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔
٭ يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَىِ اللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ ۖ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ سَـمِيْعٌ عَلِـيْمٌ
سورۃ الحجرات(1)

اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے پہل نہ کرو، اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

علامہ ابن جریر لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے پیشوا یا امام کے ارشاد کے بغیر ہی امر و نہی کے نفاذ میں جلدی کرے تو عرب کہتے ہیں کہ :" فلاں یقدم بین یدی امامہ" یعنی فلاں شخص اپنے امام کے آگے آگے چلتا ہے۔علامہ ابن کثیر  نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی تفسیر یوں بیان کی ہے کہ :
"عن ابن عباس لا تقولوا خلاف الکتاب والسنۃ" کہ کتاب و سنت کی خلاف ورزی نہ کرو۔
حق تو یہ ہے کہ اللہ عزوجل اور اس کے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کے بعد کسی کو بھی یہ حق ہی نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے رب اور رسول اللہ ﷺکے ارشاد کے علی الرغم کوئی بات کہے یا کوئی کام کرے۔جب انسان اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے تو وہ ساتھ اس امر کا بھی اعلان کر رہا ہوتا ہے کہ آج کے بعد اس کی مرضی، اس کی خواہش اور اس کی ہر مصلحت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے  ہر حکم پر بلا تامل قربان کر دی جائے گی۔یہ حکم اہل اسلام کی فقط انفرادی اور شخصی زندگی تک نہیں بلکہ قومی و اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں، سیاسی ، اقتصادی اور اخلاقی کو بھی محیط ہے۔نہ کسی مقنّنہ کو حق پہنچتا ہے کہ وہ کوئی ایسا قانون بنائے جو قرآن و سنت کے خلاف ہواور نہ ہی کسی عدالت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ شریعت کے برعکس کوئی فیصلہ دے۔
یہ آیہ کریمہ مسلمانوں کو حکم دے رہی ہے کہ زندگی میں کوئی کام کرنے سے قبل یہ معلوم کر لو کہ آیا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس کام کے کرنے کی اجازت بھی دی ہے کہ نہیں۔ہم مستشرقین کے شاگردوں سے وضاحت چاہتے ہیں کہ اگر مسلمان احادیث طیبہ کو نظر انداز کر دیں تو کیا وہ اس آیہ کریمہ پر عمل کر سکتے ہیں جو ہر کام سے قبل اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا معلوم کرنے کا حکم دے رہی ہے۔

 

٭  فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
سورۃ النساء(65)

سو تیرے رب کی قسم ہے یہ کبھی مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں پھر تیرے فیصلہ پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور خوشی سے قبول کریں۔

اس آیہ کریمہ کا حکم صرف عہد نبوی ﷺ کے مسلمانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے سب مسلمانوں کے لیئے ہے۔یہ آیہ کریمہ اعلان کر رہی ہے کہ جو لوگ اپنے امور حیات میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہ مانیں یا فرمان رسول ﷺ پر عمل کرتے ہوئے ان کے دل تنگی محسوس کریں تو ان کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ مومن کی ساری متاع حیات ہی ایمان ہے اسی قوت ایمانی کے سہارے وہ زندگی کی سختیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔جب اطاعت رسول ﷺ کے بغیر ایمان ہی معتبر نہیں تو پھر ایک مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے بغیر دین کے باقی احکام پر کیسے عمل پیرا ہو سکتا ہے؟حضور اکرم ﷺ کے فیصلوں کا علم ہمیں احادیث طیبہ سے ملتا ہے ۔ اس لیئے ایک مسلمان کبھی بھی کسی بھی حالت میں بھی احادیث طیبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔کیونکہ احادیث طیبہ کے مطابق ہی اس کا عمل اس کے مومن ہونے کی نشانی ہے اور احادیث طیبہ پر عمل کے بغیر بارگاہ خداوندی میں اس کا ایمان ہی غیر معتبر ہے۔

٭  يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَطِيْعُوا اللّـٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَلَا تُبْطِلُوٓا اَعْمَالَكُمْ
سورۃ محمد(33)

اے ایمان والو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اپنے اعمال کو ضائع نہ کرو۔
یہ آیت کریمہ اللہ عزوجل کی اطاعت کے ساتھ ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا بھی حکم دے رہی ہے ۔اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کر رہی ہے کہ خبردار! اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں کوتاہی کی تو تم اپنے اعمال ضائع کر بیٹھو گے ۔ اللہ عزوجل کی اطاعت تو قرآن حکیم کے احکامات پر عمل سے  ہو جائے گی رسول اللہ ﷺ کی اطاعت احادیث طیبہ کے بغیر کیسے ممکن ہے ؟

٭  وَاِنْ تُطِيْعُوا اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ لَا يَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ
الحجرات(14)

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو تو تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا، بے شک اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔

اس آیہ کریمہ میں اللہ عزوجل اپنی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرنے والے کو یقین دہانی کرا رہا ہے کہ جو کوئی بھی اللہ عزوجل اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا  اس کو اس کے اعمال حسنہ کا اجر ضرور ملے گا۔ اور اس کے اعمال ضائع نہ ہونگے۔یعنی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہی اعمال کے قبول ہونے کی ضامن ہے۔
کسی بھی مذہب کے پیروکار جب مذہب کے حلقے میں داخل ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ اس مذہب کا نجات اخروی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔گو کہ کوئی بھی سچامذہب دنیوی فوز و فلاح کو بھی نظر انداز نہین کرتا، لیکن مذہب کی نظر میں دنیوی زندگی چند روزہ ہوتی ہےاور حقیقی زندگی اخروی زندگی ہی ہوتی ہے۔اس لیئے ہر مذہب اخروی زندگی کی فلاح و کامرانی کے لیئے اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔اسلام ایک سچا مذہب ہے اور وہ اپنے پیروکاروں کو اعمال صالحہ کا حکم دیتا ہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتاتا ہے کہ اعمال صالحہ ہی روز قیامت کام آئیں گے۔ایمان کے بعد مومن کی سب سے بڑی متاع اعمال صالح ہیں۔یہ آیات ہمیں بتا رہی ہیں کہ اعمال صالحہ انہی لوگوں کے قبول اور مؤثر ہوں گے جن کی زندگیاں اطاعت خدا اور اطاعت رسول ﷺ کے رنگوں میں رنگی ہوں گی۔اور جو لوگ اطاعت رسول ﷺ کو چھوڑ کر صرف اطاعت خدا ہی کو کافی سمجھیں گے ان کے دفتر عمل روز قیامت انہیں نیکیوں سے خالی نظر آئیں گے۔وہ مسلمان جنہوں نے اپنی زندگیوں میں اعمال صالح کے علاوہ کوئی اور کمائی نہیں کی مستشرقین کے شاگردوں کو ان سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیئے کہ وہ کوئی ایسا کام کریں گے جس سے ان کے اعمال صالح برباد ہو جائیں۔
چونکہ اطاعت رسول ﷺ ہی مومن کے اعمال صالح کی حفاظت کی ضامن ہے اس لیئے مسلمان اطاعت رسول ﷺ کے معاملے میں غفلت نہیں برت سکتے ۔اور اطاعت رسول ﷺ کے لیئے وہ احادیث طیبہ کے محتاج ہیں۔لہذا احادیث طیبہ ان کے لیئے ایک بیش بہا سرمایہ ہیں۔اور اس سرمائے کی حفاظت کے لیئے ان کا ہر ممکن کوشش کرنا ایک قدرتی بات ہے۔
قرآن حکیم کی مذکورہ بالا آیات پر تو احادیث طیبہ کے بغیر عمل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ لیکن احادیث طیبہ کی ضرورت اور اہمیت صرف انہی آیات قرآنی پر عمل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ بے شمار قرآنی احکامات جو اللہ عزوجل کی طرف سے بندوں کے لیئے نازل کیئے گئے ، ان پر بھی حضور اکرم ﷺ کی قولی یا عملی راہنمائی لیئے بغیر عمل کرنا ممکن نہیں۔
وما علینا الاالبلاغ المبین

اللہ کی اطاعت کس لیے؟
اسلام اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا نام ہے اور آدمی مسلمان بن ہی نہیں سکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کی, رسم و رواج کی, دنیا کے لوگوں کی, غرض ہر ایک کی اطاعت چھوڑ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی اطاعت نہ کرے.
اللہ اور اسکی رسول ﷺ کی اطاعت پر اس قدر زور کیوں دیا جاتا ہے؟
ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ کیا خدا ہماری اطاعت کا محتاج ہے ؟ نعوذ باللہ کہ وہ ہم سے اس طرح اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے ؟ کیا نعوذ باللہ خدا بھی دنیا کے حاکموں کی طرح اپنی حکومت چلانے کی خواہش رکھتا ہے کہ جیسے دنیا کے حاکم کہتے ہیں کہ ہماری اطاعت کرو اور اسی طرح خدا بھی کہتا کہ میری اطاعت کرو؟
اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جو انسان سے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے وہ انسان ہی کی فلاح اور بہتری کے لیے کرتا ہے. وہ دنیا کے حاکموں کی طرح نہیں ہے. دنیا کے حاکم اپنے فائدے کے لیے لوگوں کو اپنی مرضی کا غلام بنانا چاہتے ہیں مگر اللہ تمام فائدوں سے بے نیاز ہے. اس کو ہم سے ٹیکس لینے کی حاجت نہیں. اسے کوٹھیاں بنانے اور موٹریں خریدنے اور ہماری کمائی سے اپنے عیش کے سامان جمع کرنے کی حاجت نہیں. وہ پاک ہے. کسی کا محتاج نہیں. دنیا میں سب کچھ اسی کا ہے. اور سارے خزانوں کا وہی مالک ہے. وہ ہم سے صرف اسلیے اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے کی اس میں ہماری بھلائی ہے. وہ نہیں چاہتا کی جس مخلوق کو اس نے اشرف المخلوقات بنایا ہے وہ شیطان کی غلام بن کر رہے یا پھر کسی انسان کی غلام ہو یا ذلیل ہستیوں کو سامنے سر جھکائے. وہ نہیں چاہتا کہ جس مخلوق کو اس نے زمین پر اپنی خلافت دی ہے وہ جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتی رہے. اور جانوروں کی طرح اپنی خواہشات کی بندگی کر کے اَسفَلُ السّافِلِینَ میں جاگرے. اسلیے وہ فرماتا ہے کہ تم میری اطاعت کرو, اور ہم نے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے جو روشنی بھیجی ہے اسکو لے کر چلو پھر تم کو سیدھا راستہ مل جائے گا. اور تم اس راستہ پر چل کر دنیا میں بھی عزت اور آخرت میں عزت حاصل کر سکو گے.
لَآ اِكْـرَاهَ فِى الدِّيْنِ ۖ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ فَمَنْ يَّكْـفُرْ بِالطَّاغُ
وْتِ وَيُؤْمِنْ بِاللّـٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى لَا انْفِصَامَ لَـهَا ۗ وَاللّـٰهُ سَـمِيْعٌ عَلِـيْم(256)
 اَللَّـهُ وَلِىُّ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يُخْرِجُـهُـمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۖ وَالَّـذِيْنَ كَفَرُوٓا اَوْلِيَآؤُهُـمُ الطَّاغُوْتُ يُخْرِجُوْنَـهُـمْ مِّنَ النُّـوْرِ اِلَى الظُّلُـمَاتِ ۗ اُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ (257)

دین کے معاملے میں زبردستی نہیں ہے، بے شک ہدایت یقیناً گمراہی سے ممتاز ہو چکی ہے، پھر جو شخص شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے.
اللہ ایمان والوں کا مددگار ہے اور انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے، اور جو لوگ کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں، یہی لوگ دوزخ میں رہنے والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ پاک ہی کی وہ ذات ہے جہاں سے روشنی مل سکتی ہے. اللہ علیم و بصیر ہے. وہ ہر چیز کی حقیقت کو جانتا ہے. وہی ٹھیک ٹھیک بتا سکتا ہے کہ حقیقی نفع کس چیز میں ہے اور حقیقی نقصان کس میں. وہ بے نیاز بھی ہے. اسکی اپنی کوئی غرض ہے ہی نہیں. اسے اسکی ضرورت ہی نہیں ہے کہ معاذ اللہ ہمیں دھوکا دے کر کچھ نفع حاصل کرے. اسلیے وہ پاک بے نیاز جو کچھ بھی ہدایت دے گا. بے غرض دے گا اور صرف ہمارے فائدے کے لیے دے گا. پھر اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے. ظلم کا اس ذات پاک میں شائبہ تک بھی نہیں ہے. اسلیے وہ سراسر حق کی بنا پر حکم دے گا. اسکے حکم پر چلنے میں اس بات کا کوئی خطرہ نہیں ہے. کہ ہم خود اپنے اوپر یا دوسرے لوگوں پر کسی قسم کا ظلم کر جائیں.

کافی عرصہ سے میں بہت ہی میٹھی بنی ہوئی ہوں مطلب کہنے کا یہ ہے اصلاح ہی اصلاح لکھ رہی ہوں... لیکن اخلاقی و کردار کی اصلاح اب کچھ دن سے کچھ احباب کا تقاضہ تھا کہ کچھ خالصتاً اسلام کے لیے لکھا جائے خاص کر  "منکرین احادیث" کے لیے لیکن اس پر ماشاء اللہ میرے بہن بھائی کام کر رہے ہیں ہیں اور بہترین کر رہے ہیں... تو اس پر بس اپنا ما فی الضمیر بیان کروں گی.... جب میں پڑھتی کہ فلاں صاحب علم صاحب نے اپنے علم کے زعم میں انکار کردیا.... بہت حیرت بھی ہوتی ہے مگر  اب نہیں ہورہی کیونکہ ابھی ابھی میں ایک موضوع پڑھا منافق کا اور سچ بات  یہ ہے کہ پڑھ کر ایک یہ بات واضح ہوگئ منافق  اور منکرین احادیث دونوں یک صفات کے حامل ہیں...... 
کہ یہ صاحب علم و استدلال ان کے لیے صرف ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے... "علم و دولت سنبھالنا سب کے بس کی بات نہیں اوقات کیسے نہ کیسے دکھائی جاتی ہے دولت میں سدھ بدھ کھولتی ہے اور علم کے زعم میں شعور" 
اور یہی حال اُن صاحبِ علم و دانشور  منافق اسکالرز کاہے جیسا کہ 
قرآن پاک کی روشنی میں منافقین کی تقریبا6 اقسام بیان کی گئیں ہیں
منافقین کی اَقسام
#پہلی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے برحق ہونے کے قائل تھے لیکن اس کی خاطر نہ اپنے مفادات کی قربانی کے لئے تیار تھے اور نہ مصائب و آلام کو برداشت کرنے کے لئے لہذا کچھ خود غرضی و مفاد پرستی اور کچھ بزدلی ان کے سچا مسلمان ہونے کے راستے میں حائل تھی۔
#دوسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو دل سے قطعاً اسلام کے منکر تھے اور محض سازش اور فتنہ و شر کے لئے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے۔ یہ اسلام کے بہت بڑے دشمن تھے۔

#تیسری_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کے اقتدار و حکومت کے باعث مفاد پرستانہ خواہشات کے تحت اسلام سے وابستہ ہو گئے تھے۔ لیکن مخالفینِ اسلام سے بھی اپنا تعلق بدستور قائم رکھے ہوئے تھے تاکہ دونوں طرف سے حسبِ موقع فوائد بھی حاصل کر سکیں اور دونوں طرف کے خطرات سے بھی محفوظ رہیں۔

#چوتھی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو ذہنی طور پر اسلام اور کفر کے درمیان متردد تھے۔ نہ انہیں اسلام کی حقانیت پر کامل اعتماد تھا اور نہ وہ اپنی سابقہ کفر یا جاہلیت پر مطمئن تھے وہ اوروں کی دیکھا دیکھی مسلمان ہو گئے تھے لیکن اسلام ان کے اندر راسخ نہیں ہوا تھا۔

#پانچویں_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو حق سمجھے ہوئے دل سے اس کے قائل تو ہو چکے تھے لیکن پرانے اوہام و عقائد اور رسم و رواج کو چھوڑنے، دینی اور اخلاقی پابندیوں کو قبول کرنے اور اوامر و نواہی کے نظام پر عمل پیرا ہونے کے لئے ان کا نفس تیار نہیں ہو رہا تھا
#چھٹی_قسم ایسے منافقین کی تھی جو اسلام کو توحید، احکامِ الٰہی اور آخرت وغیرہ پر ایمان لانے کی حد تک تو تسلیم کرتے تھے لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی اور وفاداری سے گریزاں تھے۔ نہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و سیادت دل سے ماننے کو تیار تھے اور نہ آپ کی حاکمیت و شفاعت۔ اس میں وہ اپنی ہتک اور ذلت محسوس کرتے تھے۔ چنانچہ وہ تعلق نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بغیر ذاتِ ربانی تک رسائی حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔( بحوالہ. منافق کی علامات) 
اب  قرآن کی روشنی میں موجود علامات ان آج کے  اسکالرز(غامدی،  کاری واری وغیرہ) میں مل رہی ہے  یہ وہ منافق ہیں جو اسلام کو جانتے بھی ہیں پہچانتے بھی ہیں مگر ان کا عَالمْ "منافق ِ وقت" ہونے کے ساتھ ساتھ "عَالمِ ابلیس" کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ ابلیس بھی سب جانتا تھا "توحید" کو بھی "درجہ آدم علیہ السلام" کو بھی تب بھی منکرِ سجدہ ہوا تھا... اور منافقین کا بھی یہی عمل رہا سب کچھ جانتے تھے پہچانتے تھے مگر دل کو  راسخ ایمان نہ کرسکے..... اور یہی حال ان ماڈرن اور نیم ماڈرن اسلامک اسکالرز کا ہے کہ  
  بے چارے اسلام کے دامن میں پناہ گزین بھی ہیں، اسلام سے استفادہ بھی لیتے ہیں، اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں، اپنے آپ کو پیشواِ اسلام کہتے ہوئے اسی اسلام کے نام پر پلتے بھی ہیں، اور پھر کم ظرفی، صفت ابلیس، بےایمانی و منافقت دکھاتے ہوئے اسی اسلام میں غلطیاں نکالنے لگتے ہیں..... کیا کہنے ان کے... اس اسلام سے روشناس کروانے والے نبی علیہ الصلاۃ التسلیم کی زبان مبارک سے ادا ہوئے کلمات کا انکار کر کے صاحب علم بن کر  تعریفات سمیٹتے ہیں......

قرآن پاک میں ارشاد ہے 
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا.

النساء، 4: 115

‘‘اور جو شخص رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی مخالفت کرے اس کے بعد کہ اس پر ہدایت کی راہ واضح ہو چکی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ کی پیروی کرے تو ہم اسے اسی (گمراہی) کی طرف پھیرے رکھیں گے جدھر وہ (خود) پھر گیا ہے اور (بالآخر) اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےo’’

یہ آیت ویسے تو بنیادی طور پر پر اجماع پر دلالت کرتی ہے  آیتِ متذکرہ اور مندرجہ بالا احادیث سب اجماعِ اُمت کے واجب ہونے کی متقاضی ہیں۔ اس لیے اہلِ اسلام کے نزدیک متفقہ طور پر قرآن و سنت کے بعد ‘‘اجماع’’ کو تیسرے ماخذِ شرعی ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اجماع اُمت یا مسلمانوں کے اکثریتی طبقے کے اتقاقِ رائے سے مراد امت کے جہلاء اور محض عوام ہی کے اکثریت کا بغیر دلیل کے کسی مسئلے پر مجتمع ہونا نہیں ہے۔ کیونکہ عوام کو ازخود مسائل کا صحیح علم بھی نہیں ہوتا جب اُمت کا اکثریتی طبقہ کسی دینی موقف پر متفق ہوتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی بنیاد علماء راسخین اور مجتہدینِ اُمت کی تحقیق و تصریح یا اہلِ علم کا تعامل و تواتر ہی ہوتا ہے۔ اہلِ علم کے قبولِ عام کی بنا پر اس شرعی مؤقف کو امتِ مسلمہ کی اکثریت بھی قبول کر لیتی ہے۔
لہٰذا اس مسئلے پر ذہن با لکل صاف ہونا چاہیے کہ اُمّتِ مسلمہ کے اکثریتی طبقے کا اجماع ازخود واقع نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اجماع ہمیشہ اہلِ علم و اجتہاد کی اکثریت کے نزدیک کسی مسئلے پر ‘‘تلقی بالقبول’’ کی بنا پر واقع ہوتا ہے یہی وجہ ہلے کہ اجماعِ امت یا سوادِ اعظم پر مبنی مذہب کو شریعت نے مذہبِ حق قرار دیا ہے۔
 اجماعِ صحابہ یا صحابہ کے اکثریتی طبقے کا اتفاق رائے اس لیے آج بھی شرعاً حجت ہے کہ اس کی بنیاد بھی اہلِ علم صحابہ کا اجتہاد ہوتا تھا۔ جو ہمیشہ قرآن و سنت کی روشنی میں واقع ہوتا۔ جب اسے تمام یا اکثر صحابہ قبولِ عام ہو جاتا تو وہی اجتہاد، اجماع قرار پاتا۔ اور اسی کو سوادِاعظم کا مسلک کہا جاتا تھا تعاملِ صحابہ یا آثارِ تابعین کے متعدد نظائر و شواہد اسی طور واقع ہوئے ہیں۔
لہٰذا اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اکثریتی طبقے کو قرآن و سنت کے خلاف اور گمراہ تصور کرنا دراصل اپنی آمریت کو قرآن و سنت یا اسلام کا نام دے کر دوسروں پر مسلط کرنے کی خواہش ہے۔ اس لیے اسے قرآن مجید نے منافقت قرار دیا۔

فلهذا دور حاضر کے قابل اسکالرز میرا کہنے کا مطلب ہے  منافق ِ وقت، ان کی خود کی نظر میں دانشور ِ وقت سے کہنا یہ کہ 

اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْا اِنَّا مَعَکُمْ.
کی تفسیر بغور مطالعہ فرمائیں(اپنی خود کی کی ہوئی تفسیر نہیں پڑھنی....) اور سورہ بقرہ کے دوسرے رکوع کو بھی پڑھ لیں..... اور پھر 
اپنے نفس کو سمجھائیں جو آپ کو شیطان بن کر ملتا ہے اور آپ نفس کی تسکین یا دیگر جو بھی مفادات ہیں  ان سے قاطع نظر دین اسلام کے لیے کام کریں نہ کہ 
 اپنے مفادات کی خاطر مسلمانوں کے ذہن و ایمان خراب کرنے کی کوشش کی جائے....

ابنِ تمیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں '' عبادت سے مراد اللہ تعالی کی تمام پسندیدہ و محبوب، ظاہری و باطنی اقوال و افعال ہیں '' 
یاد رہے تمام پسندیدہ و محبوب ، چاہے ظاہری ہوں یا باطنی ''اقوال و افعال''
کچھ لوگوں کے نزدیک نماز ادا کرنا، روزہ رکھنا ، حج کرنا اور دیگر فرائض ادا کرنا ہی عبادت ہے جبکہ کچھ لوگ صرف '' انسانیت '' کی خدمت کرنے کو ہی عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ 
عبادت یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا سے کٹ کر کونوں کھدروں میں اللہ اللہ کی مالا جپی جائے بلکہ اپنی پوری زندگی کو اللہ اور اس کے حکم کے مطابق بسر کرنے کا نام عبادت ہے۔
ہماری عبادت کی انتہا یہ ہے کہ ہماری انگلی کی جنبش بھی اللہ کے مقرر کردہ حکم کے مطابق ہو۔ اپنے اختیار و اقدارکو اللہ کے حکم کے مطابق سر انجام دینا، جائیز و ناجائیز کی حدود کا خیال رکھنا، رستہ سے پتھر یا کانٹا ہٹا دینا، بیمار کی خدمت ، اس کے بندوں کی خدمت کرنا، کسی کی دل آزاری سے بچنا، غیبت و جھوٹ سے بچنا سب عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ 
اپنا محاسبہ کرنے بیٹھے تو ہم نے صرف نماز، روزہ، زکوۃ اور دیگر فرائض کی ادائیگی کو عبادت سمجھ لیا ہے ، اور ان کی ادائیگی کے بعد سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض ادا ہوگیا جبکہ اصل عبادت تو یہ ہے کہ ہم دنیا ہر کام کو عبادت سمجھ کر سر انجام دیں خواہ اس کا تعلق مذہب سے ہو یا معاشرے سے، معشیت سے ہو یا سیاست سے ، انفرادی زندگی سے یا اجتماعی زندگی سے۔
گویا عبادت اس کیفیت کا نام ہے جو پوری زندگی کے اعمال و افعال پر محیط ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

دورِ حاضر میں پردہ ایک فیشن کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ آج پردہ یا حجاب کی بہت سی صورتیں رائج ہیں جن میں سرِ فہرست سر کو اسکارف سے ڈھانپنا ہے۔ بعض خواتین سر تا پاوں عبایا یا برقع میں ملبوس ہوتیں ہیں حتی کہ ہاتھوں کو بھی دستانوں اور پیروں کو موزوں سے ڈھانپا ہوتا ہے۔ کچھ تو اسکن ٹائٹ زرق برق عبایا کو ہی پردہ گردانتی ہیں ، کچھ تو صرف دوپٹے سے سر ڈھانپ کر ہی مطمئن ہو جاتی ہیں کہ پردہ ہوگیا اور کچھ ایسی ہیں جن کے نزدیک حج و عمرہ کا پردہ ہی پردہ ہے اور بعض ایسی ہیں جن کے نزدیک '' پردہ تو صرف آنکھوں کا ہوتا ہے'' ۔
اس طرح حجاب یا پردے کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتیں ہیں ۔ 
اس مضمون میں ان سوالات کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اصل پردہ کیا ہے؟ 
عام طور پر ستر اور حجاب میں فرق نہیں کیا جاتا حالانکہ یہ شریعت کی رو سے یہ مختلف ہیں ۔ 
حجاب اور ستر کے درمیان فرق : 
الستر (مصدر) کا بنیادی معنی محض کسی چیز کو چھپانا ہے۔ اور ستر اور سترۃ ہر اس چیز کو کہتےہیں جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ مقاماتِ ستر سے مراد انسانی جسم کے وہ حصے ہیں جنہیں شریعت نے دوسرے انسانوں سے ہر حالت میں چھپانا واجب قرار دیا ہے۔
مرد کا ستر اسکی ناف سے لیکر گھٹنے تک ہے ۔ اور عورت کا ستر پورا جسم ماسوائے شہرہ اور ہاتھوں کے ستر میں شمار ہوتیں ہیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے بھتیجے عبداللہ بن طفیل کے سامنے زینت کے ساتھ آئی تو آپ ﷺ نے اسے نا پسند فرمایا۔ میں نے کہا یہ تو میرا بھتیجا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ اپنے جسم میں سے کچھ ظاہر کرے سوائے چہرے کے اور سوائے اس کے یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنی کلائی پر اس طرح ہاتھ رکھا کہ آپﷺ کی گرفت کے مقام اور ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی بھر جگہ باقی تھی۔
حجاب دو چیزوں کے درمیان کسی ایسی حائل ہونے والی چیز کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اوجھل ہوجائیں۔
ارشاد باری تعالی ہے : ترجمہ اور جب تمہیں (نبی کی بیویوں سے) کوئی چیز مانگنا ہو تو پردے کے باہر سے مانگو۔ سورہ احزاب ۳۳ 
گویا حجاب ستر کے علاوہ اضافی چیز ہے جس کا تعلق غیر محرم یا اجنبی مرد سے ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ستر فی نفسہ ضروری ہے چاہے کوئی موجود ہو یا نہ ہو جبکہ حجاب فی نفسہ ضروری نہیں جب تک دیکھنے وال غیر محرم موجود نہ ہو۔ 
اللہ تعالی نے سورہ احزاب اور سورہ نور کے ذریعے مسلمانوں کو احکامِ ستر و حجاب سے روشناس کروایا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں '' جلباب'' اور سورہ نور کی آیت 31 میں '' خمر '' کا ذکر ہوا ہے۔
جلباب کہتے ہیں بڑی چادر یا عبایا سے مشابہ چیز کو جو پورے جسم کو ڈھانپ لے جبکہ خمر کے معنی چھوٹے دوپٹے کے ہیں جو کہ عورتیں گھروں میں اوڑھا کرتیں تھیں۔ 
سورہ احزاب آیات ٣٣ میں ارشاد باری تعالی ہے :

 وَقَرْنَ فِىْ بُيُوْتِكُنَّ وَلَا تَبَـرَّجْنَ تَبَـرُّجَ الْجَاهِلِيَّـةِ الْاُوْلٰى ۖ وَاَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَاٰتِيْنَ الزَّكَاةَ وَاَطِعْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ ۚ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّـٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْـرًا
اور اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور گزشتہ زمانہ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار دکھاتی نہ پھرو، اور نماز پڑھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے اس گھر والو تم سے ناپاکی دور کرے اور تمہیں خوب پاک کرے
۔

اس آیت میں پردے احکامات سب سے پہلے نبی ﷺ کے گھرانے کو دئیے گئے کیونکہ آپ ﷺ کو اسوہ حسنہ بنا کر پیش کرنا مقصود تھا۔ اور ویسے بھی اصلاح کا عمل دوسروں کی بجائے اپنے آپ سے شروع کرنا زیادہ موثر ہوتا ہے۔ اس آیت میں تنبیہہ کر دی گئی کہ زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی زینت و آرائش نہ دکھاتی پھرو۔ اس کے لیے خاص لفظ استعمال کیا گیا ہے تبرج۔۔ 
تبرج کیا ہے ؟؟ 
تبرج میں پانچ چیزیں شامل ہیں۔
اپنے جسم کے محاسن کی نمائش۔
 زیورات کی نمائش اور جھنکار۔
 پہنے ہوئے کپڑوں کی نمائش۔ 
 رفتار میں بانکپن اور نازو ادا۔ 
 خوشبویات کا استعمال ۔ 
ان سب باتوں سے منع فرما دیا گیا۔
سورہ احزاب کی آیت 59 میں چہرے کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا :

يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِْهِنَّ ۚ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا
اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے مونہوں پر نقاب ڈالا کریں، یہ اس سے زیادہ قریب ہے کہ پہچانی جائیں پھر نہ ستائی جائیں، اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے

اب جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ '' ید نین علیھن من جلا بیبھن '' سے مراد چادر لٹکا کر گھونگھٹ نکالنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد چادر کو اپنے جسم کے گرد اچھی طرح لپیٹنا ہے، تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ لغوی لحاظ سے ''دنی یدنی'' کا معنی قریب ہونا بھی ہے اور جھکنا اور لٹکنا بھی۔ '' ادنی ''کے معنی ہیں قریب کرنا ، جھکانا اور لٹکانا۔۔۔ اب اگر قرآن کے الفاظ ہوتے'' ادنی الیھن من جلا بیبھن'' تو ان میں اس بات کی گنجائش ہوتی کہ اس کے معنی اپنی چادروں کو اپنے جسموں کی طرف قریب کرلیں یا بکل مار لیں ۔۔ لیکن قرآن کے الفاظ ہیں'' یدنین علیھن من جلابیبھن'' جس کا معنی لا محالہ کسی چیز کو لٹکانا ہی ہو سکتا ہے ۔ ادنی کے ساتھ علی کا صلہ اس میں ارخاء یعنی اوپر سے لٹکانے کے معنوں میں مخصوص کر دیتاہے۔ جب لٹکانا یا نیچے کرنا معنی ہو تو اس کا مطلب چہرہ کا گھونگھٹ نکالنا ہی ہوگا۔
اس ضمن میں واقعہ افک سے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہہ کا بیان ہے جو کہ بخاری میں مذکور ہے۔۔۔ میں اسی جگہ بیٹھی رہی اتنے میں میری آنکھ لگ گئی۔ اتنے میں ایک شخص صوان بن معطل اسلمی اس مقام پر آیا اور دیکھا کہ کوئی سو رہا ہے۔ اس نےمجھے دیکھتے ہی پہچان لیا کیونکہ حجاب کا حکم اتنے سے پہلے اس نے مجھ کو دیکھا تھا۔ اس نے مجھ کو پہچان کر انااللہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میری آنکھ گھل گئی تو میں نے اپنا چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپ لیا۔ ۔۔ الفاظ ہیں'' فخمرات وجھی بجلبابی''۔۔۔ اگر چہرہ خارج ہے تو کیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسرے صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم نے اس کا مطلب غلط سمجھا تھا؟
بعض افراد چہرہ اور ہاتھوں کے استثناء کے لیے سورہ نور کی آیت 31 وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا پیش کرتے ہیں لیکن یہ توجیہہ بھی اس صورت میں غلط ثابت ہوتی ہے کہ اس آیت میں حجاب کی رخصتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے نا کہ حجاب کی پابندیوں کا ۔۔۔ یعنی کن محرم رشتوں سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہو جائے۔ گویا اللہ تعالی عورتوں کو تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چاہتے کہ اگر بڑی چادر یا برقعہ کے باوجود کسی اتفاق سے عورت کی زینت ظاہر ہو جائے تو اسمیں مضائقہ نہیں ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت اس پر متفق ہے۔ 
سوال یہ ہے کہ اگر عورت کے چہرے کا پردہ ضروری نہیں ہے تو اس حکم کی کیا ضرورت رہ جاتی تھی کیونکہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا ہے کہ گھر کے باہر کھڑے ہو کر چیز مانگ لیا کرو بلکہ کہا ہے من وراء حجاب یعنی حجاب کے پیچھے سے مانگا کرو۔
رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ترجمہ : عورت احرام کی حالت میں نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ نسائی
اس حدیث سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پردے کے حکم کے بعد عورتوں نے اپنے منہ اور ہاتھوں کو چھپانا شروع کردیا تھا جبھی تو حالتِ احرام میں استثنی کا حکم جاری ہوا۔ اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو اس حکم کی بالکل بھی ضرورت نہیں تھی ۔ 
'حضرت عائشہ رضی اللہ عنہہ سے روایت ہے'وہ فرماتی ہیں کہ(حج کے دوران) قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تھے اور ہم اللہ کے رسولﷺ کے ساتھ حالتِ احرام میں ہوتی تھیں، پس جب وہ ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنے جلباب اپنے سر سے اپنے چہرے پر لٹکالیتی تھیں اور جب وہ قافلے آگے گزر جاتے تو ہم اپنے چہرے کو کھول دیتی تھیں۔ سنن ابی داود اگر چہرے کے پردے کا رواج نہ ہوتا تو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟؟
اس کے ساتھ ساتھ شادی کے لیے عورت کو پسند کرنے کے لیے اسے دیکھنے کی اجازت دی گئی۔۔ اگر چہرے کا پردہ نہ ہوتا تو اس اجازت کی بھی ضرورت نہیں رہ جاتی تھی۔ 
امہات المومنین رضی اللہ وعنہا چہرہ کا پردہ کرتی تھی حالانکہ وہ تمام مسلمانوں کی مائیں تھیں اور نبی ﷺ کی وفات کے بعد ان سے کوئی نکاح بھی نہ کر سکتا تھا۔ اگر ان کو چہرے کے پردے استثنی نہیں تھا تو پھرعام مسلمان عورتوں کو کیونکر ہو سکتا ہے؟ 
اگر اس ضمن میں مختلف آئمہ اکرام رحمتہ اللہ کے اقوال کا جائیزہ لیا جائے تو اگرچہ چہرے کے پردے کے بارے میں اختلافات موجود ہیں لیکن وہ صرف اس حد تک ہیں کہ چہرے کا پردہ لازم ہے یا شریعت کی رو سے موجب ثواب یا مسنون ہے۔ پردے سے انکار کسی کو بھی نہیں ہے اور جو فقہا چہرے کے پردے کو لازمی قرار نہیں دیتے وہ بھی یہ شرط عائد کرتے ہیں کہ چہرے یا ہتھیلی پر کوئی زینت کا سامان نہ ہو۔ اگر ہو تو اس کا چھپانا واجب قرار دیا گیا ہے۔ 
احکامِ ستر و حجاب کی استثنائی صورتیں درج ذیل ہیں : 
کسی قسم کے اتفاقیہ امر میں احکامِ ستر و حجاب لاگو نہ ہونگے۔ مثلاََ ہوا سے چہرہ ننگا ہو جانا یا کسی پر نظر پڑنا یا اتفاقاََ کسی مرد کا سامنے آ جانا۔ 
کسی لازمی ضرورت جیسے رشتہ کے لیے چہرہ دیکھنے کی ممانعت نہیں ۔ یا علاج کروانے کے لیے اپنے جسم کا کوئی حصہ عریاں کیا جاسکتا ہے۔ 
کسی اضطراری حالت مثلاََ پیٹ پالنے کے لیے محنت مزدور کرنے کی صورت میں پردے نہ کرنے کی گنجائش ہے، کسی حادثے کی صورت میں یا جنگ کی صورت میں بھی پردہ نہ کرنے پر مواخذہ نہیں ۔
اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ حالتِ احرام کا پردہ ہی اصل پردہ ہے تو ان کے لیے عرض یہ ہے کہ بعض مرتبہ شریعت کے احکام زمان اور مکان کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں ۔ جیسے عرفہ میں ظہر و عصر کا ایک ساتھ پڑھنا اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ عشاء کے وقت ادا کرنا ۔ اسی طرح شریعت نے دورانِ احرام پردے میں تخفیف کردی کہ عورت چہرے پر نقاب نہ ڈالے بلکہ کھلا رکھے ۔ جیسا کہ بخاری کی حدیث ہے کہ البتہ کسی نامحرم کے سامنے آنے پر وہ اپنے چہرے کو چھپا لے تاکہ اس جگہ بدنگاہی اور بے پردگی نہ ہو۔
قرآن و سنت کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا قطعاََ دشوار نہیں ہے کہ '' حجاب یا پردہ '' کی اصل صورت کیا ہے اور کن حالتوں میں اس سے استثنی ہے نیز ہم جو پردہ کرتے ہیں وہ کس حد تک اسلامی احکامات سے ہم آہنگ ہے۔
اللہ تعالی ہمیں دینِ اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین
استفادہ 
قرآن پاک 
احکام ستر و حجاب ۔۔ مولانا عبدالرحمان کیلانی

آج کل مختلف فورمز پر یہ بات تواتر سے پڑھنے کو مل رہی ہے کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' اس کے ساتھ یہ بیان دینے والے اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ '' اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔'' لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ '' جب کسی انسان نے کلمہ پڑھ لیا وہ مسلمان ہے، گناہ ثواب جزا سزا سب کچھ اللہ اور اس انسان کا معاملہ ہوگیا۔ ''
ہے نا دلچسپ بات ہے کہ ایک ہی لمحہ میں '' اسلام '' کو مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے اور دوسری ہی لمحہ اس کی نفی کی جاتی ۔
آج کے دور کر بلا شبہ دورِ فتن کہنا مناسب ہے۔ آئے روز نت نئے نظریات سامنے آتے ہیں جو عقل کو دنگ کر دیتے ہیں۔۔۔
لیکن جب ان کی گہرائی کو جانچا جائے تو ہم آسانی سے پتا چلا سکتے ہیں کہ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ ان کے ڈانڈے پرانے نظریات سے جا ملتے ہیں۔
کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے اصول و ضوابط اور اخلاقی اقدار بنیاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔ انسان کے بنائے ہوئے قوانین کسی بھی لحاظ سے مکمل قرار نہیں دئیے جا سکتے کہ یہ انسان کی فطرت کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، ایسے میں مذہب ہی ہے جو ایک فرد کو زندگی گزارنے کے رہنما اصول و ضوابط فراہم کرتا ہے اس کے اندر احساسِ ذمہ داری پیدا کرتا ہے اور اسے اس کےحقوق کے ساتھ ساتھ فرائض یاد دلاتا ہے کیونکہ مذہب صرف اصول و ضوابط یا قانون کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے کردار و عمل کو مذہب کے مطابق ڈھال لینے کا نام ہے۔
ہمارے سامنے ایسے معاشروں کی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے مذہب کو '' ذاتی '' معاملہ کہا لیکن کیا ان معاشروں کو مثالی کہا جاسکتا ہے؟؟؟
ان معاشروں کی مثال ایسی ہے جیسے کہ کچرے کے ڈھیر کے اوپر خوشنما قالین ڈال دیا جائے ۔
'' تھیوکریسی '' کے ردِ عمل میں اپنایا جانے والا نظریے سیکولر ازم کے بانی ہولی اوک کے مطابق ''سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جسکا تعلق دنیا سے متعلق فرائض سے ہے ، جسکی غایت خالصتاََ انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیات کو نامکمل یا ناکافی ، ناقابلِ اعتبار یا فضول اور بے معنی سمجھتے ہیں۔''
دوسرے الفاظ میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیکولر ازم اس وقت بطور نظریہ سامنے آتا ہے جب انسان مذہب سے غیر متعلق ہونا شروع کردے۔ اسے مذہب میں اپنے مسائل کا حل نہ ملے یا پھر وہ یہ سمجھے کہ مذہبی عقائد ناقابلِ یقین ہیں ۔
اسی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے امریکی مفکر رابرٹ گرین نے سیکولر ازم کو '' انسانیت کا مذہب قرار دیا ۔''
اسی سیکولر ازم کی بنیاد پر قائم جمہوری حکومتیں جن کے نزدیک صرف اپنے ملک میں بسنے والے انسان کو ''انسانیت'' کے پیمانے پر پورا اترتے ہیں ، اور باقی دنیا کے انسان اس پیمانے سے خارج ہیں جس کا ثبوت بوسنیا، شام، فلسطین، کشمیر، برما میں ہونے والے وحشیانہ مظالم ہیں ۔ پوری دنیا کو ''انسانیت'' کا درس دینے والوں کے ہی ہاتھوں انسانیت تڑپ ، سسک اور مظالم کا شکار ہے۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں؟؟؟
اسلام اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لیے '' کھیتی '' قرار دیتا ہے جس کا بدلہ فرد کو بعد از موت ملے گا۔ اسلیے مسلمانوں کے ہاں دین اور دنیا میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو ایسے ہر کام سے منع کیا گیا ہے جس کے لیے اسلامی شریعت اجازت نہیں دیتی اور اسی طرح حکومت کے معاملات بھی کسی کی شخصی خواہش کے مطابق نہیں چلائے جاتے بلکہ اللہ کے احکامات کے مطابق چلائے جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جو انسان کی معاشرتی، اخلاقی ، معاشی، سیاسی ہر پہلو سے رہنمائی کرتا ہے۔
اب یہ بہت عجیب بات ہوگی کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہو لیکن اس کا اطلاق صرف فرد کی ذات تک محدود رہے اور وہ زندگی کے باقی شعبوں کے لیے '' سیکولر ازم '' کا سہارا لے۔۔۔۔
مثل مشہور ہے جو زہر سے نہ مرے اسے شہد سے مارو۔۔۔ آج اسلام کے مکمل ضابطہ حیات قرار دینے والے جب اس میں تڑکہ لگاتے ہیں کہ '' مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے '' تو اسکا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ سیکولر ازم کی کی زہریلی گولی کو انسانیت کے شہد میں لپیٹ کر کھانے کا کہہ رہے ہیں۔
آج اگر کچھ مفاد پرست عناصر مسجد منبر کے تقدس کا خیال کئے بغیر مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار '' دینِ اسلام '' ہر گز نہیں بلکہ یہ مفاد پرست عناصر ہیں جو اپنی ذاتی مفاد اور اسلام دشمنوں کی ایما پر ایسا کر رہے ہیں۔
دین اسلام سے زیادہ انسانوں کی عظمت اور انسانیت کی بھلائی اور محبت کی بات کرنے والا کون ہے؟؟
"سورہ المائدہ کی آیت ۳۲ ترجمہ : 'ایک انسان کا ناحق قتل پوری انسانیت کا قتل کرنے کے مترادف ہے۔''
ضرورت صرف اس کی ہے کہ ہم اسلام کو اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
اللہ تعالی ہمیں اسلام کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے ۔ آمین

اعتراض : قرآن حکیم میں جدت کا فقدان ہے
جواب:۔ مستشرقین نے قرآن حکیم کے متعلق یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کی تعلیمات میں کوئی چیز نئی نہیں ۔ مستشرقین میں عام طور پر یہ فقرہ مشہور ہے کہ " قرآن حکیم میں جو کچھ جدید ہے وہ صحیح نہیں اور جو صحیح ہے وہ جدید نہیں "
مستشرقین کہنا یہ چاہتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کی جو تعلیمات یہود و نصاریٰ سے اخذ کی ہیں وہ صحیح ہیں لیکن جو باتیں آپ ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کی ہیں وہ صحیح نہیں ۔وہ اپنے اسی نظریے کو ذہن میں رکھ کر قرآن حکیم  کی تعلیمات کا منبع تلاش کرنے کے لیئے عہدنامہ قدیم و جدید کا مطالعہ کرتے ہیں۔جب انہیں قرآن حکیم کی کوئی بات سابقہ صحف سماویہ کے مطابق نظر آتی ہے تو بڑی خوشی سے اعلان کرتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ بات فلاں جگہ سے اخذ کی ہے تاکہ قاری یہ محسوس کرے کہ قرآن حکیم اللہ کا نازل کردہ کلام نہیں بلکہ محمد ﷺ نے دیگر کتب سماویہ سے نقل کر کے اس کو تصنیف کیا ہے۔مستشرقین صحف سماویہ کے علاوہ زمانہ جاہلیت کے عربوں کی روایات، مکی زندگی کے رسوم و رواج اور جاہلی عرب شاعری میں بھی ایسے مقامات تلاش کرتے ہیں جن کو قرآن حکیم کا منبع قرار دیا جاسکے۔
مستشرقین سے ایک سوال ہے کہ انہوں نے یہ اصول کہاں سے حاصل کیا کہ سچ وہی ہوتا ہے جو نیا ہو یا دین وہی سچا ہوتا ہے جو اپنے سے پہلے انسانی معاشرے میں موجود تمام عقائد، نظریات، روایات اور معمولات کو یکسر ملیامیٹ کر دے ۔اور پھر ان کے کھنڈروں پر عمارت نو تعمیر کرے؟ کیا اصلاحی تحریکیں وہی سچی ہوتی ہیں جو جو معاشرے کی ہر قدر کو ،صحت و سقم کی تمیز کے بغیرملیامیٹ کر دیں اور پھر نظریات، اخلاق، اقدار اور روایات کا وہ مجموعہ پیش کریں جس کی پہلے کہیں نظیر نہ ملتی ہو؟

یہ بات سچ ہے کہ اسلام کی بہت سی باتیں ایسی ہیں جو نئی نہیں مگر یہ بات بھی غلط ہے کہ اسلام نے یہ سب کسی انسانی ذریعے سے حاصل کیں۔ اسلام نے یہ دعوی کب کیا ہے کہ جو تعلیمات اس نے پیش کیں وہ اس سے پہلے کسی نبی یا رسول نے پیش نہیں کیں؟ اسلام کا تو دعوی ہی یہی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضور اکرم ﷺ تک تمام انبیاء و رسل عظام ایک ہی پیغام کے علمبردار رہے۔ حق ناقابل تغیر ہوتا ہے وہ زمانے کے بدلنے سے نہیں بدلتا۔جو بات حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں بھی حق تھی ۔جو بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں حق تھی وہی بات حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں بھی حق تھی ۔چونکہ تمام انبیاء کرام علیھم السلام حق ہی کے علمبردار تھے تو ان کے پیغامات میں موافقت ایک قدرتی بات ہے۔

دور حاضر میں موجودقرآن کے علاوہ دیگر صحف سماویہ میں جو تضاد نظر آتا ہے وہ اس لیئے نہیں کہ پیغمبران کرام ایک دوسرے سے متضاد پیغامات لے کر آئے تھے بلکہ اس لیئے ہے کہ یہود و نصاریٰ نے صدیوں اپنے صحائف کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔اگر آج بھی اصل انجیل، زبور اور تورات مل جائیں تو ان کی بنیادی تعلیمات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات میں سرمو فرق نظر نہ آئے۔تفصیلات کے معمولی اختلافات زمانے کے تقاضوں کے مطابق ضروری ہیں۔اور ان میں عین حکمت ہے۔
قرآن حکیم تو بار بار اعلان فرما رہا ہے کہ وہ باقی صحف سماویہ کی تصدیق کرنے والا ہے۔اگر اس کی تعلیمات اور اس سے قبل صحف سماویہ کی تعلیمات میں فرق ہو تو یہ ان کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے؟ اسلام میں تو ایمان بالرسات اور ایمان بالکتب کا مطلب ہی یہی ہے کہ رسالت کے پورے ادارے اور الہامی کتابوں کے مکمل سلسلے پر ایمان لایا جائے۔کوئی بھی مسلمان صرف حضور اکرم ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر ایمان بالرسالت کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا بلکہ اسے دیگر تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا پڑتا ہے ۔ اسی طرح ایمان بالکتب  کے لیئے صرف قرآن پر ایمان لانا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان مجملاََ یہ عقیدہ رکھے کہ سابق انبیاء و رسل پر جو نازل ہوا وہ بھی برحق ہے۔گویا اسلام کے ایمان بالرسالت اور ایمان بالکتب کاتقاضا ہی یہی ہے کہ تمام انبیاء و رسل ایک ہی دین کے علمبردار ہوں اور تمام کتب سماوی کا منبع ایک ہی ہو۔

اگر مستشرقین کے اعتراض کے مطابق کسی کتاب کے منز ل من اللہ ہونے کا یہ معیار ہو کہ اس کی تعلیمات کسی دوسری کتاب کی تعلیمات سے مشابہ نہ ہوں تو ایمان بالکتب ممکن ہی نہیں رہتا۔اس صورت میں تو ایمان بالکتب کے لیئے یہ نئی اصطلاح استعمال کرنی ہو گی کہ تمام انبیاء و رسل کے پیروکار صرف ایک ہی کتاب پر ایمان رکھیں۔اس سے نہ صرف مسلمان متاثر ہوں گے بلکہ خود مستشرقین کے لیئے بھی مسئلہ بن جائے گا۔
ہم مستشرقین سے پوچھتے ہیں کہ اگر انہیں اناجیل کی کوئی بات تورات سے مشابہ نظر آ جائے تو کیا وہ اس بنا پر اناجیل کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر دیں گے اور اسے تورات سے نقل شدہ کتاب قرار دیں گے ؟؟؟
اگر نہیں اور یقیناََ نہیں تو کیا وجہ ہے کہ انجیل کی تعلیمات کی سابقہ کتب سے مشابہت کے باوجود اس کے کلام الٰہی ہونے پر کوئی حرف نہ آئے اور اگر قرآن میں کوئی بات سابقہ صحف سماوی سے مشابہ نظر آ جائے تو اس کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کر کے اسے سابقہ کتب کی نقل قرار دے دیا جائے ؟؟؟

ہمارا ایمان ہے کہ تمام کتب جو انبیاء و رسولوں پر نازل ہوئیں سب برحق تھیں سب کا پیغام اور تعلیمات ایک تھیں ۔ ان میں سے کوئی بھی کتاب کسی دوسری کتاب کی نقل نہ تھی ۔بلکہ ہر کتاب بذریعہ وحی اللہ عزوجل نے اپنے ایک برگزیدہ بندے اور رسول پر نازل فرمائی تھی۔

مستشرقین اگر ایک اصول بنا کر اسے تمام کتابوں پر لاگو کر دیں تو انہیں اعتراض کرنے کا قطعاََ کوئی موقع نہ ملے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ قرآن حکیم پر اعتراض کرنے کے لیئے مستشرقین جو اصول وضع کرتے ہیں ان اصولوں سے وہ ان کتابوں کو مستشنٰی سمجھتے ہیں جو ان کے عقیدے کے مطابق منزل من اللہ ہیں۔یہ دوغلی پالیسی نہ علم ہے نہ معروضیت ۔ اس لیئے مستشرقین کے یہ جانبدارانہ اور یک طرفہ فیصلے قطعاََ درخو اعتناء نہیں ۔

ویڈیو کالم